سو سالہ زندگی ۔۔۔۔ مجاہد افضل

چند دن پہلے میری دادی اماں نے لگ بھگ سو یا ایک سودس سال کی عمر میں انتقال فرمایا وہ ایک ان پڑھ خاتون تھیں’مگر انہوں نے اپنی ساری کی ساری زندگی بھر پور طریقے سے گزاری’ اپنا بچپن انہوں نے ہندو اور سکھ مذہب کے ماننے والی سہیلیوں کے آس پڑوس میں گزارا’مجھے آج بھی اچھی طرح سے یاد ہے وہ بتایا کرتی تھیں ہمارے گھروں میں ہندوں اورسکھوں کے بچے کھیلتے اور مسلمان بچے ہندوؤں اور سکھوں کے گھروں میں کھیلتے تھے ۔
جب بھی کبھی ہندو اور سکھ عورتیں باتیں کر رہی ہوتیں ‘ اس دوران اذان شروع ہوجاتی تو وہ اس کے احترام میں چپ کر جاتیں اور گھر کے بچوں کو بھی چپ کرواتی تھیں ‘مگر آجکل کے پڑھے لکھے نوجوان جن کو زیادہ احساس ذمہ داری ہونا چاہیے تھا ‘وہ سونونگم بن کے کہتے پائے جاتے ہیں کہ اذان ہماری نیند خراب کرتی ہے ۔
وہ آس پڑوس میں رہنے والے رادھا کشن ،مایاوتی ،جوار لال ،با و رون اور سونی کور کو یاد کرتے ہوئے اکثر بتاتی تھیں’ جب کبھی ان کا کوئی اہم تہوار ہوا کرتا تھا یہ لوگ ہمیں مٹھائی اور تحفے تحائف بھیجا کرتے تھے’
مگر ہم وہ کھانے والی چیز کبھی بھی استعمال نہیں کرتے تھے ان سے لینے کے بعد ‘ انکو باہر پھینک دیا کرتے تھے’ میں ان سے ہمیشہ ایک ہی بات پوچھا کرتا تھا اگر آپ نے وہ سب ضائع ہی کرنا ہوتا تھا’ تو آپ لیتے ہی کیوں تھے ؟

آج کل کے دور میں میرے جیسے پڑھے لکھے لوگ ایسے سوالات کو اپنا حق سمجھتے ہوئے سب کو مشورے دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ان کا جواب میرے لیے ہمیشہ سے حیران کن رہا تھا ‘ہم اس لئے لے لیتے تھے’ تاکہ ان کا دل نہ دکھے ‘پترکسی کا دل نہیں توڑنا چاہیے دلوں میں تو اللہ رہتا ہے ‘مگر حیران کن طور پر ہم جیسے لوگوں کے لیے دلوں سے زیادہ چیزیں اہمیت رکھتی ہیں ‘ چونکہ  میں نے یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے اور یونیورسٹی میں پڑھے ہونے کی وجہ سے ہم تو یہی سمجھتے ہیں ہم سے زیادہ سمجھدار بندہ کوئی بھی نہیں ہوتا ‘اس بنا پر میں ان سے پوچھا کرتا تھابے بے جی ہندو کے دلوں میں بھی اللہ رہتا ہے کیا؟ وہ پیار سے جواب دیتیں ‘پتر اللہ تو سب کا خدا ہے ‘ہندو’ سکھوں اور مسلمانوں سب کا اللہ تو وہی ایک ذات پاک ہے’ ہم جیسے کئی لوگوں کے ماننے نہ ماننے سے اللہ کی ذات کو کوئی فرق نہیں پڑسکتا ۔

ہم جانتے ہیں کہ گائے کا گوشت ہندو نہیں کھاتے’ وہ بتاتی ہیں اس وقت بھی مسلم گائے اور بھینس کا گوشت کھاتے  تھے’ جب ہندو,مسلمان سب مل کر رہتے تھے ‘اور کوئی دنگا فساد نہیں ہوتا تھا مگر آپ دیکھ لیجیے ترقی کی منازل جیسے جیسے طے  ہو رہی ہیں’ انسان شعوری لحاظ سے آگے بڑھ رہا ہے اس دور میں بھی گائے کے ذبح کرنے پر جھارکھنڈ بھارت کی عدالت نے 11 مسلمانوں کو عمر قید کی سزا سنادی’ جب کہ کچھ عرصہ پہلے 23 مسلمانوں کو گا ئے کے گوشت کی وجہ سے قتل کر دیا جاتا ہے’جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل تھے ‘ انسانی طاقت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ انسان خود سری کو زیادہ تیزی سے پہنچتا جا رہا ہے’اس خودسری کے نتیجے میں ساری دنیا ایک دن آپس کی لڑائی میں تباہ و برباد ہو جائیگی اور انسانی ترقی کے کارواں کی موت واقع ہو جائے گی ۔

دادی امی کی وفات سے مجھے یوں لگتا ہے’ میری زندگی میں دعاؤں کا ایک دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا وہ مجھے آتے جاتے بغیر سوچے سمجھے دعائیں دیتی نظر آتی تھیں ‘ یہ وہ دعائیں ہوتی ہیں جو ہمیں زندگی بھر آگے بڑھنے کا حوصلہ دیے رکھتی ہیں ‘ اپنی زندگیوں میں دعاؤں کے دروازوں کی قدرکیجئے’اس سے پہلے کہ وہ ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *