نئی نسل کے عقائد میں بگاڑ کے اسباب۔۔۔۔سمیع اللہ حامد

ہم بازار جاتے ہیں تو کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے دو تین دکانوں سے چیز کا معیار اور قیمت معلوم کرتے ہیں یہاں تک کہ ایک سستی سی سبزی یعنی آلو بھی خریدنے ہوں تو دو تین ٹھیلوں کا چکر لگاتے ہیں تاکہ بے خبری میں ہمیں کوئی ‘چونا’ نہ لگا جائے۔ لیکن عقائد کے معاملے میں ہم بہت لاپروا واقع ہوئے ہیں۔ حالانکہ علماء کرام فرماتے ہیں کہ عقائد جڑ اور اعمال شاخوں اور پتوں کی مثل ہیں۔ اگر عقائد فاسد ہوں گے تو اعمال کام نہیں آئیں گے۔ جڑ سوکھ جائے تو شاخیں کہاں ہری ہوں گی اور پتے کیسے اگیں گے؟آج کی نوجوان نسل اپنے عقائد کہاں کہاں سے اخذ کرتی ہے آئیے ایک جائزہ لیتے ہیں۔

1۔ سب سے پہلا نمبر والدین کا ہے۔ جس گھر میں ہماری پیدائش ہوئی اور جو کچھ ہمارے ماں باپ نے ہمیں بتایا، بیشتر لوگ مرتے دم تک انہیں عقائد و اعمال پر کاربند رہتے اور اسی کو کامیابی کی کلید سمجھتے ہیں ۔ بھلے والدین جتنے بھی دین کے معاملے میں کورے ہوں۔ دنیا کمانے کے لیے نت نئی راہیں ڈھونڈی جاتی ہیں، لیکن چونکہ دلوں میں عقائد کی اہمیت نہیں اس لیے اس بارے میں کوئی سعی نہیں کی جاتی۔ یہاں تک کہ جس طرح مجہول طریقے سے قرآن کریم پڑھا ساری عمر اسی طریقے پر پڑھتے رہتے ہیں تلفظ اور مخارج کی درستی کا خیال تک نہیں آتا۔ گویا جو بچپن میں وہی پچپن میں۔

2۔ ہم اپنے عقائد چند واعظین کے بیانات بلکہ ان کے بیانات کے چند ٹکڑے سن کر اخذ کرتے ہیں۔ پورا بیان سننے کا وقت نہیں ہوتا شاید۔ واعظ صاحب اپنے مطلب کا عقیدہ بیان کرنے کے لیے ایک آیت پڑھتے ہیں (عموماًًً  اس کا ترجمہ تک نہیں کیا جاتا)۔ پھر کوئی ضعیف ترین حدیث اٹھاتے ہیں (حالانکہ ضعیف احادیث عقائد کے بارے میں قابل قبول نہیں) پھر اس کی تشریح کرتے ہوئے کوئی واقعہ سناتے ہیں اور آخر میں کسی صوفی بزرگ کا شعر۔ لیں جناب عقیدہ ثابت ہوگیا۔

3۔ ہم ان پیشہ ور واعظوں کو پسند کرتے ہیں جو فرقہ وارانہ، جوشیلی، ترنم اور لے کے ساتھ تقریر کرتے ہیں۔ ان نام نہاد واعظوں کا کام مخالف کی خوب بھد اڑانا، مخالفین کو فحش گالیاں بکنا، قرآن و حدیث کم اور موضوع قصص زیادہ بیان کرنا، ہر تقریر میں تعلیمات بالکل بھی بیان نہ کرنا صرف شان بیان کرنا اور اس میں انتہاء درجے کا غلو کرنا، فروعی اختلافات کو خوب اچھالنا اور اپنی تقریروں کا ریٹ مقرر کرنا ہے۔ ایک ایک تقریر کا ریٹ پچاس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے ہے۔ اور تقریر گھنٹہ دو گھنٹے کی ہوتی ہے۔ گویا ان کے فی منٹ چارجز ہوتے ہیں۔ اور جب تقریر کر کے جاتے ہیں تو بقول شاعر
آٹھ دس کی آنکھ پھوٹی، آٹھ دس کا سر کھلا
لو خطیب شہر کی تقریر کا جوہر کھلا۔۔۔۔

4۔ ہمارا زیادہ انٹرسٹ فرقہ وارانہ مواد میں ہوتا ہے۔ اصلاحی تقاریر اور بیانات سن کر ہم بور ہو جاتے ہیں۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہم سب کے اندر ایک مناظر چھپا ہوا ہے جو صرف جیت ہار سے ہی خوش ہوتا ہے۔ ہلا گلا ہمیں پسند ہے۔ مناظرے میں پہلی خواہش ہی یہی ہوتی ہے کہ دوسرے کو بے عزت کر کے ہرایا جائے۔ اصلاح کی نیت تک نہیں ہوتی۔ انا پورے جوبن پر ہوتی ہے۔ ایسے میں عقائد کی اصلاح کیا ہوتی، الٹا بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔

5۔ سوشل میڈیا پہ بھانت بھانت کی تحریریں بھی ہمارے عقائد کے بگاڑ کا سبب ہیں۔ عجیب اور مشکوک قسم کا مواد بکھرا پڑا ہے اور ان تحاریر کے پیچھے کس کا چہرہ ہے ہمیں نہیں معلوم۔ جو حدیث کوڈ کی گئی ہے وہ حدیث ہے بھی یا نہیں؟ ہمیں نہیں پتا۔ لیکن چونکہ وہ ہمارے نظریے سے میل کھاتی ہے اس لیے ہم اسے سند کے طور پر لے کر شئیر کرتے ہیں۔ اختلافی ابحاث پڑھتے رہتے ہیں۔ مخالف نظریے والے نے اگر دلیل کا رسہ لٹکا رکھا ہو، ہمیں وہ تار عنکبوت نظر آتا ہے اور ہم نظریہ اگر دھاگہ لٹکا دے، ہم لوہے کا زنجیر سمجھ کر اس سے لٹک جاتے ہیں۔

6۔ ہمیں اپنے عقائد سے زیادہ دوسروں کے عقائد کی فکر رہتی ہے۔ اپنی اصلاح سے زیادہ دوسروں کی اصلاح کی فکر رہتی ہے۔ فلاں مشرک، فلاں گستاخ، فلاں کافر۔ دوسروں کے عقائد کی کھوج میں لگے رہنے کے سبب ہم خود سے غافل ہو چکے ہیں۔ علماء کرام سے ہم دوسروں کے بارے میں سوالات کرتے ہیں کہ فلاں ایسا کررہا ہے یا کہہ رہا ہے۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اپنے بارے میں نہیں پوچھتے کہ میں ایسے کر رہا ہوں کیا یہ ٹھیک ہے؟ یہاں تک کہ نماز تک کے مسائل ہم نے کبھی وقت نکال کر نہیں سیکھے۔ وہی بات کہ جو بچپن میں وہی پچپن میں۔

7۔ قرآن و احادیث کے تراجم ہر جگہ دستیاب ہیں لیکن اول تو ہم پڑھتے ہی نہیں۔ اگر کبھی ترجمہ والا قرآن سامنے آجائے تو جو اللہ پاک نے فرمایا، جبرائیل علیہ السلام لے کر آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو لکھوایا اور یاد کرایا، اس پہ یقین نہیں کرتے بلکہ حاشیہ دیکھتے ہیں کہ حاشیے میں کیا لکھا ہوا ہے۔ جس آیت کا اصل ترجمہ ہمارے عقیدے سے میل نہیں کھاتا، ہم اس کے حاشیے پر لکھی گئی عبارت پر ایمان لے آتے ہیں۔ گویا نعوذباللہ اللہ نے جو الفاظ اتارے وہ ٹھیک نہیں، کیونکہ وہ ہمارے عقیدے کے مطابق نہیں۔ البتہ آیت کی تشریح کے نام پر حاشیے میں جو عبارت چودہویں صدی کے کسی مولانا نے لکھی ہے وہ ٹھیک ہے کیوں کہ وہ ہمارے عقیدے کے مطابق ہے۔ ترجمہ پڑھتے جاتے ہیں اور جو آیات ہمارے نام نہاد عقیدے کے مخالف نظر آتی ہیں ان کی تاویلیں کرتے جاتے ہیں۔ سب سے بڑی تاویل یہ ہے کہ جب اتنے بڑے بڑے علماء نے ان آیات کا ترجمہ تو یہی کیا لیکن ان سے عقیدہ اخذ نہیں کیا لہذا ‘ بیچ میں کچھ تو بات ہو گی’۔ اور توحید خالص کی آیات کا ترجمہ پڑھ کر چپ چاپ آگے نکل جاتے ہیں کیونکہ ہمارے واعظین نے یہ فرما دیا ہے کہ یہ آیات بتوں کے بارے میں ہیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں۔

8۔ ہم لوگ اپنا عقیدہ درست کرنے کے لیے مطالعہ بالکل بھی نہیں کرتے۔ اپنے مسلک کے علماء کی کتب بھی پڑھنا گوارا نہیں کرتے۔ پورا ڈائجسٹ پڑھ لیتے ہیں۔ دو تین گھنٹے کی فلم دیکھ لیتے ہیں لیکن اسلامی لٹریچر کو ہاتھ تک نہیں لگاتے۔ زیادہ سے زیادہ تاریخی واقعات پڑھ لیتے ہیں۔ تاریخ سے کہاں عقائد درست ہوتے ہیں بلکہ اور بگاڑ کا اندیشہ ہے۔
ان سب مسائل کا حل میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ ہم اللہ پاک سے مدد کی درخواست کر کے سب سے پہلے بغیر حاشیے کے قرآن مجید کا مکمل ترجمہ پڑھیں۔ الحمد سے لے کر والناس تک۔ کوئی حاشیہ نہیں، کوئی تفسیر نہیں۔ کسی بھی مسلک کے عالم نے لکھا ہو، مضائقہ نہیں۔ بلکہ ہر شخص اپنے اپنے مسلک کے کسی ترجمان کا ترجمہ پڑھے تاکہ شکوک شبہات ذہن میں نہ آسکیں۔ جب مکمل ہو جائے تو ایک بار اور پڑھیں۔ پھر ایک بار اور پڑھیں۔ تین بار پڑھنے سے ان شاء اللہ ہمارا ذہن کھل جائے گا اور ہماری سمجھ میں کافی کچھ آجائے گا کہ اللہ پاک ہمیں کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟ اس کے بعد آپ تفسیر پڑھنا چاہیں، تو کسی مستند عالم کی تفسیر پڑھیں۔ ان شاء اللہ عقائد مکمل طور پر درست ہو جائیں گے۔ پھر کوئی نام نہاد خطیب، مولوی یا واعظ آپ کو کم از کم عقائد کے نام پر گمراہ نہیں کرسکے گا۔ آزمائش شرط ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *