شکوہ چھوٹو بنام حکومت پاکستان۔۔۔بلال حسن

“چھوٹو اٹھو صبح ہوگئی” اسی طرح کے جملوں کے ساتھ میری صبح کا آغاز ہوجاتا ہے۔۔ اور آنکھ کھلتے ہی مجھے احساس ہوتا  ہے کہ آج کا دن بھی مصروف گزرے گا۔ صبح اٹھو اسکول جاو اور پھر گھر آجاؤ ۔ مگر اصل مسئلہ تو گھر واپس آکر شروع ہوتا ہے۔ جہاں دنیا بھر کی پیاس میرا انتظار کرتی ہے۔ ایک منٹ میں بتا دوں  کہ  میرا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے  ہے ، مگر بدقسمتی سے میں گھر میں سب سے چھوٹا ہوں۔ تو سارے چھوٹے چھوٹے کام میرے  ذمہ   ہیں ،کسی کو پیاس لگے یا کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے وہ سب کرنا میری ذمہ داری ہے۔ حکومت وقت نے بڑے زوروشور سے چائلڈ لیبر کے خلاف آواز اٹھائی ہے مگر افسوس میرے جیسے لیبرز کو سب نظرانداز کر دیتے ہیں۔

آخر کو ایم این اے اور ایم پی اے کے  بھی تو گھر میں چھوٹی اولادیں ہوتی ہیں وہ بھی ان سے کام لیتے ہونگے تو میرے حق میں آواز کون اٹھائے گا ؟
حکومت وقت ہر چیز کا چندہ  مانگ رہی ہے کاش میرے لئے بھی چندہ  مانگ کر ایک نوکر سرکاری طور پر رکھ لیا جائے آخر پیاس تو مجھے بھی لگتی ہے اور ویسے بھی سارا دن بڑوں کو پانی پلا پلا کر تھک جاتا ہوں اب خود اپنے لئے اٹھ کر پانی پینے کا کس بیوقوف کا دل چاہتا ہے؟

وزیراعظم صاحب بس زیادہ نہیں تو  پہیوں والا کولر ہی گھر میں لگوادیں  تا کہ جس کو بھی پیاس لگے وہ کولر اس کے پاس خود چلا جائے۔عمران خاں صاحب اگر آپ سمجھ رہے   ہیں یہ ایک انتہائی بے تکا نقطہ ہے جو میں نے اٹھایا ہے تو یقین  کیجیے آپ غلط ہیں۔
ہم واقعی مظلوم ہیں ۔۔ ارے دکانوں پر کام کرنے والے چھوٹے کم از کم کام کرکے اور گالیاں کھا کر چند پیسے ہی کما لیتے ہیں اور ایک ہم ہیں جو کام کر کے گالیاں کھا کر صرف اور صرف اچھے بچے کہلائے جاتے ہیں اور سونے پر سہاگہ یہ کہ  اگر کبھی کسی مہمان کے سامنے ہم تھوڑا سا احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کسی کام سے انکاری ہوجائیں یہ سوچتے ہوئے کہ  شاید آنے والا مہمان ہماری طرف داری کرے گا تو ہمیں ایک تو خاندان بھر میں بدتمیز کا لقب الگ ملتا ہے اور جوتے الگ۔۔

اس ملک کے سبھی چھوٹوں کا یہ حال ہے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ  وہ چھوٹا کتنا بڑا ہوجاۓ رہتا وہ چھوٹا ہی ہے یعنی یہ مسئلہ میرے لئے زندگی بھر کا ہے۔۔ اب آپ نے تبدیلی کا نعرہ بلند کیا ہی ہے تو   ذرا تبدیلی کی ہوا اس مسئلے پر بھی چلائیں اور ہمیں اس بغیر آمدنی والی نوکری سے تھوڑا سا ریلیف دیں۔۔ حکومتی سطح پر ہفتے میں چند ایک دن تو ایسے مقرر کر دیں جس میں گھر کے سب سے چھوٹوں سے کام کرانا غیر قانونی قرار دیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والے گھر کے بڑوں کے خلاف سخت قانونی کروائی جائے۔ اور ہفتے کے باقی دن جس میں چھوٹوں سے کام کرانے کی اجازت ہو اس میں بھی چند شرائط ہوں جس میں اول نمبر پر یہ شرط ہو کہ  کام کے بدلے ہمیں ہمارا من پسند معاوضہ دیا جائے دوئم یہ کہ  کام سے انکار کرنے پر کچھ نہ  بولا جائے اور سوم یہ کہ کام کرنے کی چھوٹوں سے گزارش کی جائے نہ کہ  ڈانٹ ڈپٹ کر کے ان پر رعب جمایا جائے۔

اس کے علاوہ اگر ہوسکے تو  سرکاری طور پر ہمیں گریڈ دئیے جائیں آخر کو ہم بھی قوم کی ماؤں بہنوں کو پانی پلا رہے ہیں۔۔

“بیٹا پانی لانا”۔۔۔
چلو بھئی گھر میں سب کو پیاس لگنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور میرے کام کا وقت بھی۔۔اب مجھے اجازت دیجئے۔
آپ کے ملک کا معصوم
اپنے گھر کا سب سے چھوٹا فرد!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *