مُلا صدرا اپنی ’اسفار‘کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ یہ مجھ پر الہام ہوئی ہے (فالھمنی)، اور جب یہ وحدت الوجود اور اصالتِ وجود کی بات کرتے ہیں تو وہاں بھی کہتے ہیں کہ یہ الہام ہوا ہے۔ ہیراکلتس سے لئے گئے حرکتِ جوہری کے تصور کو بھی اپنا مکاشفہ قرار دیتے ہیں← مزید پڑھیے
سید سلیمان ندوی اپنی کتاب “سیرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ” عنہا میں لکھتے ہیں “آج مسلمانوں کے اس دور انحطاط میں، ان کے انحطاط کا بحصہ رسدی آدھا سبب “عورت” ہے ۔ وہم پرستی، قبر پرستی، جاہلانہ مراسم، غمی یا← مزید پڑھیے
فرض کیجئے کہ آپ کشتیوں کی ایک ریس میں شرکت کر رہے ہیں۔ ایک سو کشتیوں میں آپ نے دس میل کا فاصلہ طے کرنا ہے اور جیتنے والے کو بڑا انعام ملے گا۔ آدھا فاصلہ طے کرتے وقت آپ← مزید پڑھیے
آج سے تیس برس پیچھے جائیں تو سوویت یونین کے ٹوٹ جانے پر وہاں سے تقریبا ً دس لاکھ یہودیوں نے اسرائیل ہجرت کی تھی اورجنگ سے فرار ہزاروں یوکرینی یہودیوں کو اسرائیل نے اپنے ہاں آباد کرنے کے لیے← مزید پڑھیے
عوام کی سلیکشن۔۔محمد عدنان/9 اور 10 اپریل کی درمیانی شب تاریخ کی وہ سیاہ رات تھی جب پاکستان میں بیرونی دباؤ اور اندرونی مدد سے ایک منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا۔عوام کے منتخب وزیراعظم نے آخری وقت تک سامراج کا مقابلہ کیا← مزید پڑھیے
بات شروع کرتے ہیں بھٹو صاحب سے جن کے کان میں ترویدی نے سرگوشی کی کہ مجیب غدار ہے اور اگر اقتدار میں آیا تو ملک ٹوٹ جائے گا۔ شاید اسی لئیے بنگلہ قتل عام پہ بھٹو صاحب پکارے، خدا← مزید پڑھیے
جانیوالا چلا گیا لیکن ایک سوچ اور ایک مشن دیکر گیا ہے۔ یہ نظام قدرت ہے، اللہ پاک اس کے اگلے مراحل آسان فرمائے، اسے راحت و سکون عطا کرے، خان صاحب نیک کاموں سے زیادہ بہت سے نیک جذبات قوم کو دے کر گئے۔← مزید پڑھیے
ستر کی دہائی کو “فرد کی دہائی” کہا جاتا ہے۔ انفرادیت پسندی کا عروج اس وقت میں آیا۔ سماجی سائنس میں ہونے والی تبدیلیاں بھی اسی کے ساتھ ہی۔ مثال کے طور پر، سماجی نفسیات میں fairness کے لئے کی← مزید پڑھیے
پارٹی بیانیہ سے نکل کر قومی بیانیہ دیجئے۔۔انجینئر عمران مسعود/نوجوان نسل کو ستر ،اسّی کی دہائی کی سیاسی تاریخ کا غیر جانبدارانہ مطالعہ ضرور کرنا چاہیے ۔ تب بھی جوش تھا جنون تھا امریکی خط تھا اور امریکی سازش بھی← مزید پڑھیے
فروری2020 کی کسی تاریخ کو انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان سندھ کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر خادم منگی صاحب نے انجمن کے واٹس ایپ گروپ میں اُن چنیدہ لوگوں کی فہرست لگائی جوانجمن کے ججیز کے مطابق ،جن کے فن پارے← مزید پڑھیے
ایک نوجوان بائیولوجسٹ جارج ولیمز 1955 میں دیمک کے ماہر کا لیکچر سن رہے تھے۔ لیکچر دینے والے کا دعویٰ تھا کہ دیمک کی طرح ہی کئی جانور ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں اور مددگار ہوتے ہیں۔ بڑھاپا اور← مزید پڑھیے
زندگی درجہ بہ درجہ تنظیم ہے۔ جین کروموزوم میں ہیں۔ کروموزوم خلیے میں ہیں۔ خلیے جاندار میں ہیں۔ جاندار خاندان یا معاشرے یا دوسرے گروہوں میں ہے۔ اس تنظیم کے ہر حصے میں مقابلہ ہے۔ اخلاقیات کی سٹڈی ان میں← مزید پڑھیے
مندرجہ ذیل جوناتھن ہائیٹ اپنا ذاتی واقعہ بتاتے ہیں۔ “گیارہ ستمبر 2001 کے واقعے کے بعد میرا دل بڑی شدت سے ایک کام کرنے کو کیا، جس کو میں دوستوں کے آگے تسلیم کرنے میں شرمندہ تھا۔ میں اپنی گاڑی← مزید پڑھیے
مشہور کہاوت ہے کہ سڑک اور ٹھرک انسان کو کہیں بھی لے جا سکتی ہے۔ اس کا عملی مشاہدہ آج دیکھنے میں آیا۔ صبح ترکی کے شہر بُرصہ سے استنبول جانے کی غرض سے سفر کا آغاز کیا۔ موٹروے پر← مزید پڑھیے
انصاف (fairness) کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ اخلاقیات کی روایتی سٹڈی اس میں زیادہ مدد نہیں کرتی۔ روایتی خیالات میں انسان خودغرض ہے اور انصاف ایک قسم کی روشن خیال خودغرضی ہے۔ اس میں مقبول تھیوری ٹریورز کی رہی← مزید پڑھیے
نجران سعودی عرب کا صوبہ رمضان المبارک کے مہینے میں اپنی لوک داستانوں اور قدیم روایات کے رنگ بکھیرتا ہے، ان روایات میں سخاوت اور مہمان نوازی بھی ہے۔ یہاں کے لوگ اس مہینے کو ایک پورے تہذیبی مظہر کے← مزید پڑھیے
انسان ہمیشہ اپنی کہی ہوئی باتوں میں کیسے پھنس جاتا ہے، یہ تو شاید آپ بھی جانتے ہوں گے۔ ہم زبان سے الفاظ نکالتے وقت قطعاً نہیں سوچتے کہ ہمارے آج کے الفاظ کا نتیجہ کل کیسے نکلے گا۔ میں← مزید پڑھیے
یہ مضمون ملا صدرا کے دیومالائی خیالات (mythology) کی پڑتال کے سلسلے کا حصہ ہے۔ اگرچہ جدید دور میں ان خیالات کی حیثیت جہلِ مرکب یا شبہ علم کی سی ہے، لیکن ملا صدرا کو اس کا قصور وار اس← مزید پڑھیے
ہم اہل حجاز کو تاریخی منظر سے ہی عموماً دیکھتے ییں، اور ہمیشہ مذہبی واقعات میں ہم ترقی سے پہلے کے قصوں سے مخصوص تخیل بنالیتے ہیں، آج کا حجاز یعنی سعودی عرب جی ٹوینٹی ممالک کی قیادت کررہا ہے،← مزید پڑھیے
عمران خان صاحب نے ورلڈ کپ جیتا تو فائنل جیت کر ٹرافی اٹھاتے ہوئے ایک لفظ کہا جس لفظ سے انکی ساری شخصیت اور اندازِ فکر ظاہر ہوا اور اس پر انہیں بڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا یہ وہی لفظ تھا جس کے جواب میں مجھے میری منزل ملی تھی اور یہ وہی لفظ ہے جسکی وجہ سے آج اس قوم کی راہ کھوٹی ہے← مزید پڑھیے