ایک طویل سفر کے بعد مجھے جس شہر میں داخلے کی اجازت ملی وہاں کی بوڑھیاں بتاتی ہیں : “پہلے پہل یہاں بہت سے مرد تھے مگر خلوص اور چاہت کی طلب میں دھیرے دھیرے اپنی جنسیت بدل بیٹھے سو← مزید پڑھیے
انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان کے زیر اہتمام شایع شدہ محمد ندیم قاصر اچوی کی تازہ ترین ادبی کاوش، “قافیہ شناسی” سرائیکی زبان میں ایک قابل ذکر شراکت کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ اس کتاب کو ادب سماج انسانیت پبلی← مزید پڑھیے
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سقراط بازار کے ایک کونے میں ایک بڑے پتھر پر کھڑا ہو کر زندگی اور فلسفے کے اہم موضوعات پر عوامی تقریر کرتا تھا، بازار میں سے گزرتے ہوئے لوگ ہوں یا دکاندار وہ← مزید پڑھیے
(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) (18 قسط) سال انیس سو نوّے میںیہ مارچ کا مہینہ ہے۔ موسمِ بہار کی آمدآمد ہے۔میں گزشتہ ماہ ہی تو ریڈیو ڈوئچے ویلے ، دی وائس آف جرمنی کی اردو نشریات← مزید پڑھیے
نجانے اسے میرا پتہ کہاں سے ملا، مگر اسے میرے ذاتی فون نمبر کے ساتھ ساتھ میرے نوکری کے اوقات بھی معلوم تھے۔ دو دن پہلے فون پر پندرہ منٹ تک بات کرنے کے بعد اس نے مجھے ملنے پر← مزید پڑھیے
اور اب نابغہ (genius) ادیب۔۔ اوسط درجے کا ادیب تخلیق کی چنگاری کو اپنے زمانے کے حاوی ومقبول رجحانات کی پیروی میں خرچ کرڈالتا ہے۔ اس کی نگاہ و تخیل کی حد ،اورا س کے ا سلوب کا جمال، اس← مزید پڑھیے
اس وقت کون ہو سکتا ہے۔ کمارا نے سوچا۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے صادق اور اسکے ساتھی غلام رسول اور شکیل کھڑے تھے۔ “کمارا صاحب۔ آخری بار سمجھانے آئے ہیں۔ آج تم نے جو دیکھا اسے بھول جاؤ← مزید پڑھیے
”انسان اپنے جذبوں سے مار کھا جائے تو کہاں جائے۔ دنیا میں سب سے زیادہ مار ہم اپنے جذبات سے کھاتے ہیں، یہ قدرت کا عجیب ہتھیار ہے ایک ہی وار میں ہم چاروں شانے چت ہو جاتے ہیں۔“ وہ← مزید پڑھیے
“ان عناصر کی بازیافت میں جنہیں قدامت پسند کلچر نے حاشیے پر دھکیل دیا ہے، ثقافتی مطالعات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔” (ٹیری اگلٹن، تھیوری کے بعد) یہ کوئی مذاق نہیں کہ گزشتہ تین دہائیوں سے اُردو ادب میں← مزید پڑھیے
‘‘فطین ادیب‘‘ فطین ادیب(talented writer) ، اوسط درجےکے ادیب اور نابغے کے بیچ کی کڑی ہے،لیکن اس کا دونوں سے فاصلہ یکساں نہیں ہے۔ فطین ادیب، اوسط درجے کے ادیب سے خاصی دور ی پر، جب کہ نابغے کے قدرے← مزید پڑھیے
آسمان کسی پرہیز گار کے دامن کی طرح شفاف تھا۔ دھوپ میں ماں کی گود جیسی نرمی اور ملائمت تھی۔ یوربی ہوائیں کسی چنچل دوشیزہ کی مانند اداؤں سے تھم تھم کر چلتی تھیں۔ لوہے کی تاروں‘ سرئیے اور لکڑی← مزید پڑھیے
ادب کی تاریخ میں تین طرح کے ادیب ملتے ہیں: نابغے، فطین اور اوسط درجے کے ادیب۔ سب سے پہلے اوسط درجے کا ادیب(mediocre writer)۔ ہر نوع کی صلاحیت کے درجے ہیں: بنیادی، اوسط، اعلیٰ ، کمال۔اصولی طور پر ہر← مزید پڑھیے
ساختیات جدیدیت کے تحت پروان چڑھنے والی صورت حال ہے جو روایتی اندازِ نقد کو رد کرتی ہے۔ ساختیات سے پہلے کسی فن پارے کو یا تو مصنف کے منشا، سوانحی حالات اور ذات کی روشنی میں دیکھا گیا، یا← مزید پڑھیے
(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) ( قسط نمبر 17) میں اپنے دوست حبیب الرحمٰن کی دعوت پر اُس کے ساتھ کراچی کی سیر پر ہوں۔بی اے کے امتحانات ہوچکے۔ نتائج کا انتظار ہے اور میں زمانہِ← مزید پڑھیے
آدھے گھنٹے بعد کمارا فیکٹری پہنچا تو گیٹ پر موجود چوکیدار اُسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اُسکی انکھوں میں ایک گھبراہٹ سی تھی۔ صاحب آپ یہاں۔ وہ سٹپٹا کر بولا ہاں دفتر میں ایک کام تھا؟ فائل چاہئے تھی۔← مزید پڑھیے
3 ستمبر 1947,امروکا اسٹیشن سطح سمندر سے بلندی 572 فٹ رات کے ڈھائی بجنے کو تھے اور غلام محمد کی آنکھوں سے نیند غائب تھی۔ امروکا ریلوے اسٹیشن کا یہ بوڑھا اسٹیشن ماسٹر اس وقت تک سو جاتا تھا لیکن← مزید پڑھیے
مہر افروز کا افسانہ ’’خود کشی‘‘ انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں، معاشرتی دباؤ اور مایوسی کے تباہ کن نتائج کے بارے میں ہے۔ سیتا بائی کے ساتھ مرکزی کردار کی بات چیت کے ذریعے اس کی سرشار خدمت گار، افروز ہمدردی← مزید پڑھیے
کولمبو ائیرپورٹ پر اعلان ہو رہا تھا۔ “لاہور جانے والی پرواز کے مسافر اپنے جہاز پر تشریف لے جائیں،جہاز روانگی کے لیے تیار ہے۔ ” یہ سری لنکن ائیرلائن کی معمول کی پرواز تھی جسے چار گھنٹے بعد کولمبو سے← مزید پڑھیے
میں ان کی آمد کے انتظار کے دوران باکو گائیڈ دیکھتا رہا تھا اور میں نے حسین سے پوچھ کر وہ لے بھی لی تھی چنانچہ فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کام تمام کرنے کے بعد کچھ مقامات دیکھ لیں← مزید پڑھیے
بک ریویو: 1989 میں انگلینڈ کی صحافی جون اسمتھ کی تحریر کردہ ‘مساجنیز’ زندگی کے ہر شعبے — عدالت سے لے کر سنیما تک میں عام اور رائج خواتین کی تضحیک کی چھان بین کرتی ہے۔ ہندوستانی تناظر میں دیکھیں← مزید پڑھیے