ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 202 )

چلے تھے دیوسائی۔جاوید خان/قسط10 سفرنامہ

بابُوسَر: بابُوسر کی اسی گھاٹی کے مشرقی طرف پولو کا مشہور میدان ہے۔ جو بابو سر موڑ،سے بہ مشکل ایک صحن لگ رہا تھا۔جفاکش کھیل کا یہ قدرتی میدان ۲۱ اگست سے آباد ہونے والا تھا۔سارے گلگت اور پاکستان سے←  مزید پڑھیے

آتشدان کے رنگ۔سائرہ ممتاز/مکمل افسانہ

وہ لاہور کا آسمان تھا جس پر روپہلی روشنی پھیلی تھی۔ ہرے، پیلے، لال اور نیلے رنگوں والے چھوٹے چھوٹے برقی قمقمے جنوری کی سرد ترین رات میں جگمگ کرتے یوں لگتے تھے جیسے کہرے میں دور سے کوئی بحری←  مزید پڑھیے

آئی رے سردی۔۔سید عارف مصطفٰی

سردی کب شروع ہوتی ہے اس بارے میں الگ الگ اندازے ہیں لیکن اس پہ سب کا اتفاق ہے کہ جب لگنا شروع ہوجائے اسی دن سے سردی شروع ہوجاتی ہے ، تاہم روایتی طور پہ سردی کا آغاز بالعموم←  مزید پڑھیے

ککڑ کی چوری۔وقار عظیم

ایک وقت تھا  جب  شوق تھا دیسی مرغا کھانا ہے لیکن چوری کا کھانا ہے۔ کسی کا پالتو مرغا چرانا ہے پھر اسے ذبح کرنا ہے اور پھر کھانا ہے۔ ایسے میں ایک محلے دار اکرم سنیارے کا مرغا ہم←  مزید پڑھیے

ہمیں خاص نہیں بننا۔عامر کاکازئی/نظم

اسلامسٹ کہتے ہیں کہ پاکستان ایک سپیشل ملک ہے، ایک خاص خطہ ملا ہے خدا کی طرف سے۔ اسی لیے اس پر مصیبتیں زیادہ  آتی ہیں۔ ہماری ایک بزرگ کہا کرتی تھیں کہ ہمیشہ خدا سے دعا مانگو کہ تمیں←  مزید پڑھیے

تڑخی دعا کا نیلا لہجہ۔۔سانحہ پشاور پر نظم/صدف مرزا

لال لہو کی دھوپ میں لرزاں دلوں کے پچھلے دالانوں میں خوابوں کی ٹوٹی الگنیوں پر خوں رنگ دھاڑتے چھیدوں والی وردیاں آ ج بھی لہراتی ہیں ان چھیدوں نے جن پھولوں کے جسموں کو بانسری بنایا ان کی دھن←  مزید پڑھیے

سانحہ پشاور پر دو نظمیں ۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گذشتہ برس آج کے دن میرے لڑکپن کے شہر پشاور کے افسوسناک سانحہ کےبعد تحریر کردہ دو نظمیں۔ میرے ابّو سلامت رہیں!!   “اے خدا، میرے ابو سلامت رہیں” یہ دعا گو فرشتہ بھی کل صبح مارا گیا ظالموں نے←  مزید پڑھیے

ہبوط (عسکری)آدم۔ بیاد سانحہ سن 71 و اَن گِنت سانحات/محمد علی(نظم)

پاسبانی ہی کارِ نگہبان ہے آج پھر سے وہی سر پھری بات ہے۔ آج ہی تم، یہ کہتے پھرے تھے، بہت سال پہلے قریباً  دہائی کی آخر کلی کھل چکی ہے، وہاں تو جنابوں کی خود اعتمادی کی کیا بات←  مزید پڑھیے

ٹارگٹ،ٹارگٹ،ٹارگٹ۔کرنل ضیا شہزاد/قسط19

سائیکل کا ڈرائیونگ لائسنس ناردرن لائٹ انفنٹری (این ایل آئی) کی کارگل کے محاذ پر شاندار کارکردگی سے سب بخوبی واقف ہیں۔ معرکہ کارگل سے پہلے این ایل آئی کی بٹالینز صرف شمالی علاقہ جات میں عسکری خدمات سر انجام←  مزید پڑھیے

دسمبر سولہ اور ہمارا مان۔۔عامر کاکازئی

ایک ظلم کی کہانی کا اختتام سولہ دسمبر اکہتر میں بنگال میں ہوا۔ اور دوسری ظلم کی کہانی کا ایک باب پختون خوا  میں سولہ دسمبر 2014 کو تحریر ہوا۔ دونوں کہانیاں معصوم لوگوں کے خون سے لکھی گئیں  اور←  مزید پڑھیے

جرنیلی سڑک ۔۔ابنِ فاضل/قسط8

یوں تو راولپنڈی اوراس کے گردونواح کے علاقہ میں آبادی کے آثار پانچ ہزار سال سے بھی پرانے ہیں مگر راولپنڈی شہر اس جگہ پر پانچ سو سال قبل مسیح سے ہے۔ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ اس کا←  مزید پڑھیے

مدینہ ہم نے دیکھا ہے ‘مگر نادیدہ نادیدہ۔۔محمود چوہدری/آخری حصہ ۔سفرنامہ

محبت حق جتاتی ہے ۔ پوزیسیو  بنا دیتی ہے ۔محبت” محبوب صرف میرا“ اور” صرف میر ا“کہلواتی ہے ۔یہ سنا تھا ، پڑھاتھا لیکن عملی مظاہرہ مواجہ شریف پر حاضری کے بعد ہوا، جب میری نظر سنہری جالیوں پرلکھی ہوئی←  مزید پڑھیے

جوگی۔۔رزاق شاہد/حصہ دوم

  گیٹ وے ٹو تھرپارکر کہلانے والے نوکوٹ قلعے کو 1814 میں مشرقی راجپوتوں کے حملے سے بچاؤ کے لیے میر کرم علی تالپور نے تعمیر کرایا ۔سندھ پر 1783 سے 1843 تک تالپوروں کی حکومت رہی، پھر۔۔۔ سندھ پر←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی ۔۔جاویدخان/قسط9

بابُوسَر بابُو سَر135000فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔مغر ب کے قریب ہم بابو سَر پہنچے تو چند دکانوں پر مشتمل بازار گلیشری ہواؤں میں ٹھٹھر رہا تھا۔گاڑیوں کی ایک لمبی قطار آگے جانے کے لیے انتظار میں تھی مگر آگے←  مزید پڑھیے

جوگی۔۔رزاق شاہد/آخری حصہ

آخری حصہ یہ صادق فقیر کون؟ آپ نہیں جانتے؟ نہیں کمال ہے صادق فقیر میرا کلاس فیلو، میرا یار میرا دوست، آج میں اسی کی وجہ سے پہچانا جاتا ہوں تھر کا رفیع، منگنڑ ہار تھا، گلوکار تھا، سندھی زبان←  مزید پڑھیے

بیلے کا پھول۔۔رفعت علوی

 ان دلگزاروں کا قصہ جن کو میٹھا سال لگا تھا اب وہ عارض و رخسار کہاں۔۔۔۔۔۔۔ اور بیلے کا پھول مرجھا چکا تھا احمد آفاق میرے دوستوں میں شامل ہیں، اچھے خاصے سنجیدہ اور معقول آدمی ہیں مگر وٹ غضب←  مزید پڑھیے

جوگی۔۔رزاق شاہد/حصہ اول

پیاسے لگتے ہو؟ پیاس بجھی کب تھی! تو پھر چلے آئیں لطیف کی نگری, سچل کے دیس چلے آئیں, آپ کو بلاڑو کی ٹھاڈل پلاتے ہیں, تھر کی کچریاں کھلاتے ہیں سندھ ہی تو پیاسوں کی پیاس بجھاتا ہے. خود←  مزید پڑھیے

ٹارگٹ، ٹارگٹ، ٹارگٹ۔کرنل ضیا /قسط18

چُھٹی اور تعزیت چُھٹی سے زیادہ دلفریب لفظ شاید فوجی ڈکشنری میں ڈھونڈے سے بھی نہ ملے۔ چھٹی کی مثال عسکری زندگی کے صحرا میں ایک ہرے بھرے نخلستان کی مانند ہے جس کے تصور سے ہی روزمرہ کی کٹھنائیوں←  مزید پڑھیے

نعت خیر الانام۔ایم ایس خان

مضطرب دل کی تمنا، لے گئی سوئے حرا اور صدا لاہوت سے، اتری زمیں پر اس طرح جیسے شبنم کو تمنا، گل کے ہونٹوں کی رہے جیسے سورج کی کرن کو شوق ہو دیدار کا جیسے گل کو جستجو، باد←  مزید پڑھیے

دو بوند انقلاب۔۔مریم مجید ڈار

پادری نے آخری دعائیہ کلمات ادا کیے اور سب لوگ دھیرے دھیرے قبرستان سے نکلنے لگے۔کچھ ہی دیر میں اس خستہ حال قبرستان میں بنی ایک تازہ قبر کے قریب فقط ایک ہی شخص رہ گیا ۔سر جھکائے،وہ شدید سرد←  مزید پڑھیے