جوگی۔۔رزاق شاہد/حصہ اول

پیاسے لگتے ہو؟

پیاس بجھی کب تھی!

تو پھر چلے آئیں لطیف کی نگری,

سچل کے دیس چلے آئیں,

آپ کو بلاڑو کی ٹھاڈل پلاتے ہیں,

تھر کی کچریاں کھلاتے ہیں سندھ ہی تو پیاسوں کی پیاس بجھاتا ہے. خود دھوپ میں جل کر مسافروں کو ٹھنڈی چھاؤں میں بٹھاتا ہے. شرجیل بلوچ بولے.

جامی یار! سرمد کے محبوب ابھے چند کے شہر ٹھٹھ میں جنم لینے والے، سندھ مدرسہ السلام سے اپنی تعلیم کی شروعات کرنے والے، ہندی، عربی، بلوچی، سندھی، بنگالی، پنجابی،فارسی اور سرائیکی بولنے میں ملکہ رکھنے والے، چالیس کتب کے مصنف، وکالت کی بھول بھلیوں میں روزی تلاش کرنے والے، ایک دہائی سے زیادہ جیلوں میں تشدد سہنے والے، اُس بوڑھے جوان سے ملاقات ہو جائے تو ہمارا سفر واقعی وسیلہ ظفر رہے گا.

دروازے پر ماما عرب نے کہا بسم اللہ سائیں ۔۔۔چلے آئیں.

پلنگ پر لیٹے… جیسے طویل سفر کے بعد دماغ ترس کھا کر ٹانگوں کو آرام کرنے کا موقع دے رہا ہو ،ہاتھ ملاتے ہوئے یوں لگا نوے نہیں ایک بیس سالہ جوان کے توانا ہاتھوں کی تازگی ہمارے اندر در آئی ہو۔

ثریا ملتانیکر کی بیٹی کیسا گا رہی ہے؟

ملتان میں رہتی ہے یا کہیں اور؟

سرائیکی شاعری سنائیں خواجہ فرید کی مشہور زمانہ کافی کا آخری بند سنایا

جے یار فرید قبول کرے ۔۔سرکار وی توں، سلطان وی توں

ناں تاں کہتر، کمتر، احقر ادنٰی لاشئے،

لا امکاں وی توں۔۔

اس پر چونکے ارے یہ کیا

فرید نے تو آخر میں بہت ہی گہری بات کر دی۔۔

ادھر ہم بھی حیراں علالت اور تھکاوٹ کے باوجود حواس سلامت ایک ایک لفظ پر غور اور شعر فہمی کا اعلی معیار کہا

خواجہ فرید واقعی بہت بڑا شاعر ہے کچھ اور سنائیں

بلال ساجد کی گائیکی تو ہمارے ساتھ ساتھ چلتی ہے ان کی آواز میں۔۔

اساں مونجھاں تیڈیاں

اساں کونجاں تیڈیاں

سنایا تو دور کہیں کھو گئے اور کچھ دیر بعد یوں گویا ہوئے ۔۔

اج کی ہویا اے مائے مینوں

پتا نہیں ہائے

ترکلے دی نوک ہتھاں وچ چبھ چبھ جائے

مال ڈِگ ڈِگ جائے

چرخہ کتیا نا جائے!

پھر کہا کچھ اور سنائیں

قربان کلاچی کی شاعری۔۔

ڈینھ لتھے کوں لتھے محل جوڑ تے سننے کے بعد کہا یہ تو اس دور کا کلام ہے جب سٹالن کی جے ہو مزدوروں کسانوں کی جے ہو کے ترانے گونجتے تھے لیکن اب وہ زمانے گئے. گرمی محفل نے وقت گزرنے کا احساس نہ ہونے دیا پچاس منٹ بعد اجازت لی گرم جوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولے آپ حیدر آباد کے پلیجو ہاؤس آئے. انتہائی شکریہ.

اپنے دیس واسیوں سے کہنا رسول بخش پلیجو آج بھی اپنی قوم کے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے تھکنا نہیں دوستو.

اس کے بعد ڈاکٹر کامران اور ڈاکٹر زیبر کی رہنمائی میں شہرِ لطیف پہنچے رات، فقیر، پیر، سر، لے، لنگر، پھول اور دھول. پھیلے ہاتھ کوئی بشر کے سامنے تو کوئی پتھر کے حضور. صحرا کی بیابانی غاروں کی ویرانی نہیں…

دلوں کی ویرانیاں اور دماغوں کی حیرانیاں پجاری بناتی ہیں کبھی بھاگوان کا کبھی خدا کا. بیٹے کا نوالہ چھین کر بیٹی کا زیور وار کر بھاگوان کی مورتیاں اور خدا کی خوبصورتیاں تراشی جاتی ہیں. یہ گوشت پوست کا آدم جایا۔۔ جب اپنے جیسوں سے چھینتا ہے تو مدفن ہی آخری آسرا اور سہارا ہوتے ہیں. انسان بموں سے نہیں مرتا بیماریوں سے نہیں ہارتا. مرتا اس وقت ہے جب اس سے وہ کندھا چھن جائے جس پر وہ سر رکھ کر روتا ہے. جب زندہ کندھا نہیں دیتے تو پتھروں کو مسیحا سمجھ کر پتھر دلوں کے کرب پتھروں ہی کو سنانے چلا آتا ہے.

شاہ لطیف کی درگاہ پر کوئی اجڑی مانگ میں سیندور بھروانے تو کوئی پیار کی تانگھ میں کُرلانے آتا ہے. دعا مانگتی ماں کے ساتھ جالیوں سے دھاگہ باندھتی ناری بھی دیکھی، محبوب کو پیاری بھی دیکھی، باپ کی دلاری بھی دیکھی، دکھوں کی ماری بھی دیکھی، رحیمن دھاگہ پریم کا، مت توڑو چھٹکائے….

جڑے گانٹھ پڑ جائے، ٹوٹے تو پھر نا جڑے. لنگر کی نمکین کھچڑی کھاتی ماں کے بلاول، خالی برتن لاتی مریم کی حالت دیکھتے پروفیسر منیر بولے ۔۔سائیں یہاں تو آتے ہی دکھی لوگ ہیں آپ کس کس کے لئے آنسو بہائیں گے….

چلیں چائے پیتے ہیں.

نہیں دوست… کبھی کبھی نمک کا ذائقہ سارے ذائقوں سے بازی لے جاتا ہے ۔چاہے کسی مزار کے نمکین چاول ہوں کسی کی خاطر آنکھوں سے بہتا نمکین پانی آج نمک کا ذائقہ سب پہ بھاری ہے.

اگلے دن ڈاکٹر کامران ,ڈاکٹر محسن اور ڈاکٹر سعد اور وقار حسن کے ساتھ….. اور ہماری واگ علی حسن کے ہاتھ….. میر پور خاص سے چلے بلاڑو شاہ کی ٹھاڈل نے رکنے پر مجبور کیا جیسا سنا.. ویسا پایا. اس کے بعد میر واہ کی تھرپارکر شوگر مل.

کیا آپ کو معلوم ہے یہ مل کس کی ہے؟ علی حسن نے پوچھا۔۔۔۔ ہمارا جواب نفی میں.

تو وہ بولا یہ اس مشہور سیاست دان خاتون کے خاندان کی ہے جس کی اکلوتی جوان اولاد انیس سالہ بیٹے نے خود کشی کر لی تھی۔ ایک جنازہ یہاں بھی ہوا تھا. ایسا سانحہ تو فریال تال پور کے ساتھ پیش آیا تھا. آپ صحیح سمجھے سر!

میر واہ کا کیلا بھی بہت مشہور ہے اور پنجابی آبادکار بھی بہت ہیں. سبز کھیتوں کی طرف دیکھتے ہوئے علی حسن نے پوچھا سائیں، کیا شاہی، خوشحالی اور ہریالی صرف پنجابی کی قسمت میں لکھی ہے؟

علی حسن کتوں کی قبریں کہاں ہیں؟

یہاں کا نوہانڑیں قبیلہ کتوں کا بہت شوقین ہے مرنے پر وہ اپنے کتوں کے مزار بناتے ہیں. اس کی گفتگو کے دوران ہندو بچوں کے ویران مدفن اجڑی اکھڑی ریلوے لائن دیکھتے رہے. ڈِگری کے رسیلے بیر اور میر پور خاص کے خوشبو دار آموں کا تذکرہ کرتے ٹنڈو جان محمد چائے کے لئے رکے. کامران تو لسی کا رسیا ہے باقیوں کے لئے چائے. چائے اور لسی سامنے آئی تو ان کے اوپر بالائی کی فراوانی سے حیرانی ہوئی ۔پوچھا تو دکاندار بولا !ہمارا کاریگر لہوری ہے اور آپ کو تو معلوم ہے کہ لہوریوں کو بلائی نکالنے کا ہنر خوب آتا ہے.

یہ جڈ ہے… یہاں کا سرسوں کا تیل بہت مشہور ہے وہاں بلائی.. یہاں تیل… سندھ کو نچوڑا جا رہا ہے. فون آیا کہاں پہنچے؟ بس آئے ذرا نوکوٹ کا قلعہ. دیکھ لیں.

جاری ہے۔۔

رزاق شاہد
رزاق شاہد
رزاق شاہد کی تحاریر انکا بہترین تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”جوگی۔۔رزاق شاہد/حصہ اول

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *