سانحہ پشاور پر دو نظمیں ۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

SHOPPING

گذشتہ برس آج کے دن میرے لڑکپن کے شہر پشاور کے افسوسناک سانحہ کےبعد تحریر کردہ دو نظمیں۔

میرے ابّو سلامت رہیں!!

  “اے خدا، میرے ابو سلامت رہیں”

یہ دعا گو فرشتہ بھی کل صبح مارا گیا

ظالموں نے اسے بھون ڈالا ہے کچھ اس طرح

ناک نقشہ کہاں، اس کا چہرہ بھی اک لوتھڑا ہے

لہو میں نہایا ہو!

مارنے والے کا بھی تو اس عمر کا ایک فرزند ہے

ہاتھ اٹھائے ہوئے ننھے منے سے جو

یہ دعا مانگنا بھولتا ہی نہیں

“اے خدا، میرے ابو سلامت رہیں!”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری نظم

 تابوتوں کا بوجھ!!

تم بھی کندھا دینا، بھائی

چھوٹے چھوٹے تابوتوں کو

  بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے

دیکھو، کندھا پھسل نہ جائے!

ان میں وہ ننھے منے سپنے سوئے ہیں

جو تاریک گھروں کے اجالے

اپنی چھب دکھلاتے، ہنستے کھیلتے رہتے تھے

چشم و چراغ ان حجروں کے جو

گھنی گھنیری تاریکی میں ڈوب چکے ہیں!!

چھوٹے چھوٹے ان تابوتوں میں ماؤں کی

آنکھوں کے تارے اب اپنی

ابدی نیند میں سوئے ہوئے ہیں

دیکھو، کندھا پھسل نہ جائے

چھوٹے چھوٹے تابوتوں کا

SHOPPING

بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے!

SHOPPING

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *