ہبوط (عسکری)آدم۔ بیاد سانحہ سن 71 و اَن گِنت سانحات/محمد علی(نظم)

پاسبانی ہی کارِ نگہبان ہے

آج پھر سے وہی سر پھری بات ہے۔

آج ہی تم،

یہ کہتے پھرے تھے،

بہت سال پہلے قریباً  دہائی کی آخر کلی کھل چکی ہے،

وہاں تو جنابوں کی خود اعتمادی کی کیا بات کیا تھی۔۔

وہ کہتے تھے تم جان جائے تو جائے،

مگر گول گنج, اور ڈھاکہ۔۔

کہ کھلنہ کہ پھر باریسال سے آتے ہوئے،

بھات مچھی کے سالن پہ نہ آنچ آئے،

وہاں پان سانچی جو کھلتا ہوا ہے ہرا،

جو چباؤ  تو گل رنگ ‘جیسے عروسی حنا۔۔

سارے صاحب کرانچی کے اس سے ہی کرتے ہیں شغلِ وفا۔۔

اور اسلام آبادی بیوروکریٹوں کو پٹ سن سے دیتے ہیں،

اے سی کی ٹھنڈی ہوا،

ہاں مگر تم نے نہ اک رکھی لاج اس

بھولی بھالی،

ستی سانولی ساری والی کی, نہ۔۔

اس جفا سہنے والے،

ملیح چہرہ بوڑھے سے ملاح,دہقان اور

گھٹنوں گھٹنوں میں جا ڈوب کر اس میں

چاول کو خون اور پسینے سے سینہ زمیں سے اگاتے کسانوں

کا اس سن 71 میں کوئی بھی

والی و وارث نہیں تھا۔۔

فقط خاک میں زندہ در گور وہ تن ہوئے تھے جو اس

خاک کو اپنے ہاتھوں سے سر سبز کرتے چلے تھے،

کہ

لوگوں کا سیل رواں،

پھر ادھر سے ادھر گولیوں کی صدا۔۔

الحفیظ الاماں!

کر رہا تھا،

اور وہ کس سے

ڈر کر مفر کر رہے تھے

تباہی کی جانب سفر کر رہے تھے؟

وہ تم تھے کہ جو خود ہی قاتل بھی منصف بھی بیٹھے بنے تھے

تمھی نے چمن کو تغافل سے دو لخت کر کے

ہما کو بھی کم بخت کر کے اجاڑا۔۔

نہ پھر جان دی اور نہ پھر جاں سے گزرے مگر تم،

تو کہتے تھے ہم آخری سانس تک سب لڑیں گے،

وہ آخری سانس۔۔

ملت کی وحدت تھی جو جان سےگزری

وہی کالے کالے سے مزدوریاں کرنے والے اور

اس کے عوض پھر ٹکے والےوالے تو

اب یاں سے واں تک ہی سکہ جماتے چلے جارہے ہیں

بتاؤ۔۔

کہاں ہو؟

کہ اس ملت زخم خوردہ کا پھر آشیاں

جل رہا ہے

, دلاسے یا نوحے یا گانے بنانے کو مت بیٹھ جانا

وہ جنت تھی جس سے اتارے گئے تھے

خدارا !اسے اب سقر مت بنانا

کہ ہے پاسبانی ہی کار نگہباں!!!

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *