سقوط ڈھاکہ 16دسمبر 1971۔محمد عتیق اسلم

 وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو ماضی کے تلخ حقائق کو مدنظر رکھتے  ہوئے اپنے مستقبل کو تابناک بناتی ہیں مگر ہم ہیں کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے اسی ڈگر پر چلے جارہے ہیں یہاں46سال قبل 16دسمبر 1971 کے دن پاکستانیوں نے اپنے وطن کو دو حصوں میں منقسم ہوتے دیکھا تھا۔ یوم سقوط ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن اور رستا ہوا زخم ہے جو شاید کبھی نہ بھر پائے گا۔ بلاشبہ اس دن کا سورج ہمیں شرمندگی اور پچھتاوے کا احساس دلاتے ہوئے نمودار ہوتا ہے اور تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کرتا نظر آتا ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ بھارت نے کبھی بھی پاکستان کے وجود کو صدق دل سے تسلیم نہیں کیا اوراس کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا جائے۔ قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصہ بعد ہندوستان نے مشرقی پاکستان میں  ا پنی ریشہ دوانیوں کا آغاز اور ہندو اساتذہ نے بنگالی بچوں میں مغربی پاکستان کے متعلق زہر اگلناشروع کیا اور جب وہ بچے جوان ہوئے تو انہوں نے ان محرومیوں کا اظہار کرنا شروع کیا ۔تومغربی پاکستان میں بیٹھے حکمرانوں نے ان کی طرف توجہ نہ دی اور الٹا حقوق کے حصول کو وطن دشمنی قرار دیا۔

یہی وجہ تھی  کہ ایک نظریاتی مملکت اپنے قیام کے چند ہی سالوں بعد دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور اشرافیہ اسی ڈھٹائی سے اسی طرز عمل پر گامزن ہے ۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کا یہ بیان کہ ’’آج ہم نے مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے کر پاکستان کا دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔‘‘ اُن کے دل میں مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف چھپی نفرت کی عکاسی کرتا ہے۔ اندرا گاندھی نجی محفلوں میں اکثر یہ بھی کہا کرتی تھیں کہ ’’میری زندگی کا حسین ترین لمحہ وہ تھا جب میں نے پاکستان کو دولخت کرکے بنگلہ دیش بنایا۔‘‘ یہ حقیقت بھی سب پر عیاں ہے کہ بھارت کی مداخلت کے بغیر پاکستان دولخت نہیں ہوسکتا تھا لیکن بھارت کی مداخلت کے لئے سازگار حالات ہمارے نااہل لالچی حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ نے خود پیدا کیے۔

ہم بھارت پر یہ الزام کیوں عائد کریں کہ اُس نے یہ مذموم کھیل کھیلا، دشمن کا کام ہی دشمنی ہوتا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے حکمراں دشمن کی دشمنی کے آگے بند باندھنے کے بجائے دشمن کو ایندھن فراہم کرتے رہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اقلیت ملک توڑنے کا سبب بنتی ہے اور علیحدہ وطن کے لئے کوشاں رہتی ہےکیونکہ وہ اکثریت سے متنفر ہوتی ہے لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا عجیب و غریب پہلو یہ ہے کہ اکثریت نے اقلیت سے الگ ہونے کی جدوجہد کی۔ مشرقی پاکستان کی آبادی جو ملک کی مجموعی آبادی کا 54 فیصد تھی، میں اس احساس محرومی نے جنم لیا کہ وسائل کی تقسیم میں اُن سے ناانصافی اور معاشی استحصال کیا جارہا ہے جو کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ مشرقی پاکستان میں سرکاری اداروں میں خدمات انجام دینے والوں میں سے اکثریت کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا جو بنگالی زبان سے بھی ناآشنا تھے۔

پاکستان کو دولخت کرنے میں ذوالفقار علی بھٹو کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے ملک سے زیادہ پارٹی یا ذاتی مفادات کو ترجیح دی اور 3 مارچ 1971ء کو ڈھاکہ میں بلائے جانے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنی پارٹی کے ارکان کو شریک نہ ہونے کی ہدایت کی اگر 3 مارچ کے اجلاس میں مغربی پاکستان کے ممبران قومی اسمبلی شریک ہوجاتے تو مجیب الرحمان اور بنگالی علیحدگی پسند گروپوں کو تقویت نہ ملتی اس سلسلہ میں جنرل یحییٰ خان اور مجیب الرحمٰن کی ڈھاکہ میں ہونے والی ملاقات بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی کیونکہ یحییٰ خان عدم مفاہمت کی صورتحال سے فائدہ اٹھاکراپنے اقتدار کو طول دینا چاہتے تھے۔بے یقینی کی ایسی صورتحال میں اقتدار کی منتقلی میں تاخیر کا ملک دشمنوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئےمشرقی پاکستان کے لوگوں کو علیحدہ وطن کا جواز مہیا کیا جس کا اظہار انہوں نے 23 مارچ 1971ء کو’’یوم پاکستان‘‘ کے بجائے ’’یوم سیاہ‘‘ مناکر اور سرکاری عمارتوں پر بنگلہ دیشی پرچم لہرا کر کیا جس کے بعد فوج نے باغیوں سے نمٹنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا۔اس صورتحال کا بھارت نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور فوج کے خلاف بنگالیوں کے قتل عام اور انسانیت سوز مظالم ڈھانے جیسےمنفی پروپیگنڈے شروع کردیے۔

یہ حقیقت بھی سب جانتے ہیں کہ بھارتی پارلیمنٹ نے 71ء کی جنگ سے بہت پہلے مشرقی پاکستان کے علیحدگی پسندوں کی تنظیم مکتی باہنی کی مدد کے لئے ایک قرارداد منظور کی تھی جبکہ بھارتی فوج مکتی باہنی کے شدت پسندوں کو ٹریننگ، ہتھیار اور مدد فراہم کرنے میں پیش پیش رہی۔مکتی باہنی کے ان باغیوں نے 71ء کی جنگ سے قبل ہی پاک فوج کے خلاف اپنی گوریلا کارروائیوں کا آغاز کر دیا تھا اور3 دسمبر 1971ء کو جب پاک بھارت جنگ کا آغاز ہوا تو ان باغیوں جن کی تعداد تقریباً 2 لاکھ بتائی جاتی ہے، نے بھارتی فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔اور ہمارے فوجی افسران نشے میں بدمست رہے اور نہ ہی پیشہ ورانہ انداز سے مشرقی پاکستان جنگ لڑی جبکہ مغربی پاکستان میں موجود افواج تماشہ ہی دیکھتی رہی ۔جنرل یحیٰ جرنل رانی کے ساتھ لطف اندوز  ہوتا رہا۔مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں افواج کو مس گائیڈ  کیا گیا اور جس دشمن کو ہم نے 1965 میں شکست  سے دو چار کیا ،1971 میں اسی دشمن سے ذلت آمیز شکست کھائی۔

 دنیا کی کوئی بھی فوج اپنے ہی عوام سے کبھی جنگ نہیں جیت سکتی، یہی کچھ مشرقی پاکستان میں ہوا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بھارتی فوج اور عوامی لیگ کا یہ پروپیگنڈہ کہ پاک فوج نے مشرقی پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد شہریوں کو قتل کیا، درست نہیں کیونکہ حمود الرحمٰن کمیشن کے مطابق ان ہلاکتوں کی اصل تعداد 26 ہزار ہے جو مکتی باہنی کے علیحدگی پسند تھے اور انہی علیحدگی پسندوں نے پاکستان کی حمایت کرنے والے لاکھوں بے گناہوں کا قتل عام کیا۔آج بھی لاکھوں بہاری پاکستانی پرچم لہرائے پناہ گزین کیمپوں میں ذلت آمیز زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان محب وطن لوگوں کونہ بنگلہ دیش قبول کررہا ہے اور نہ ہی پاکستان۔

سانحہ مشرقی پاکستان سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ عدم مفاہمت اور دوسرے کے مینڈیٹ اور حقوق کا احترام کرنا بہت ضروری ہے اور محرومیوں‛مایوسیوں اور نا مناسب سیاسی فیصلوں سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑتاہے۔۔ اگر جنرل نیازی   ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالنے کی بجائے اپنی افواج   کو  دریاؤں سے نکال کرباؤل فال میں حکمت عملی سے لڑتے تو بھارتی گیدڑوں  کا ڈٹ کر مقابلہ کیا سکتا تھا اورذلت آمیز شکست سے بچا جا سکتا تھا ۔یہ کتنا شرم ناک فعل تھا کہ جنرل نیازی جنر ل اروڑا کے سامنے لطیفے سناتا رہا اور اس کا سر شرم سے جھکنے کی بجائے بے شرمی سےپنجابی اشعار سناتے سناتے سرینڈر کیا۔اس طرح پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ پاکستان کی تاریخ کے اس سیاہ باب کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آج پاکستان ایک بار پھر اسی طرح کے حالات سے دوچار ہے اور دشمن طاقتیں ایک بار پھر پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بن رہی ہیں لیکن ایسے کڑے وقت میں حکمران اور سیاستدان اقتدار اور ذاتی مفادات کی جنگ میں مصروف عمل ہیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہیں ملکی سلامتی کی کوئی پرواء نہیں۔ افسوس کہ ہم نے سقوط ڈھاکہ سے اب تک کوئی سبق حاصل نہیں کیا!

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *