تڑخی دعا کا نیلا لہجہ۔۔سانحہ پشاور پر نظم/صدف مرزا

لال لہو کی دھوپ میں لرزاں
دلوں کے پچھلے دالانوں میں
خوابوں کی ٹوٹی الگنیوں پر
خوں رنگ
دھاڑتے چھیدوں والی
وردیاں آ ج بھی لہراتی ہیں

ان چھیدوں نے جن پھولوں کے جسموں کو بانسری بنایا
ان کی دھن پر
درد کے ناگ ہیں اب تک رقصاں

tripako tours pakistan

ہیرے کا جگر پتھر کا نکلا
دل کے دھڑکتے برگ گل پر
یادوں کا
تیزاب گرے گا

لیکن ۔۔ میری روح کے لب پر
تڑخی دعا کا نیلا لہجہ۔۔۔

تجھے بھی مولا علم تو ہو گا
مدرسے سے لوٹے نہیں ہیں
میرے بچے!!

Avatar
صدف مرزا
صدف مرزا. شاعرہ، مصنفہ ، محقق. ڈنمارک میں مقیم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *