تتھاگت نظم (24)بھیڑ سے یہ کہا تتھاگت نے، سیریز۔۔۔۳

ؓبھیڑ سے یہ کہا تتھاگت نے، سیریز۳
………………………………
پیڑ کاٹو گے؟
بھیڑ سے یہ کہا تتھاگت نے

پیڑ کاٹو گے، کیا ملے گا تمہیں
صرف لکڑی، جلانے کی خاطر؟
جھاڑ جھنکار مردہ پتوں کا؟
کونپلیں، پتّیاں، گھنی شاخیں
چاروں جانب زمیں پہ بکھری ہوئیں؟
گھونسلے، بکھرے، ٹوٹے پھوٹے ہوئے
ان پرندو ں کے جو ہوئے بے گھر؟

پیڑ کاٹو گے، کیا گنواؤ گے؟
چھاؤں، جو دھوپ کی تمازت میں
ایک چادر کی طرح بچھتی تھی
گرمیوں کی بھری دوپہری میں
لیٹ کر جس پہ دیکھتے تھے تم
سینکڑوں چھتریوں سا پھیلا ہوا
پیڑ کی سبز شاخوں کا خیمہ
گرم لو سے نجات پاتے تھے

پیڑ کٹنے سے یہ چھتر چھایا
پھر کہاں ہو گی؟ یہ بتاؤ مجھے!

پھل، جو ہر آتے جاتے موسم میں
سارے گاؤں کے کام آتے تھے
آم ، انجیر، بیر، جامن، سیب
ناریل، سنترہ، انار، کھجور
بے دھیانی میں سب گنوا بیٹھے!

بھیڑ سے یہ کہا تتھا گت نے
پیڑ بھائی ہیں، دوست ، ساتھی ہیں
ان کو مت کاٹو، ان سے پیار کرو!
۰۰۰۰
بحر خفیف میں رن۔آن۔سطروں کے التزام سے لکھی گئی

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *