چلے تھے دیو سائی ۔۔جاویدخان/قسط9

بابُوسَر
بابُو سَر135000فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔مغر ب کے قریب ہم بابو سَر پہنچے تو چند دکانوں پر مشتمل بازار گلیشری ہواؤں میں ٹھٹھر رہا تھا۔گاڑیوں کی ایک لمبی قطار آگے جانے کے لیے انتظار میں تھی مگر آگے راستہ بند تھا۔ گاڑیوں سے اُترئے تو خُنک ہوائیں دوڑ کر لِپٹ گئیں۔جب تک شالیں  نکالتے سردی ہماری ہڈیوں  میں گھس آئی تھی۔خون منجمند ہونے کو تھا کہ بدن پہ چادریں لِپیٹیں تو کچھ سکون ہوا۔بازار میں خنک سی گہماگہمی تھی۔شاید ہر ایک راستہ کھلنے کا انتظا رکر رہا تھا۔اکثر گاڑیاں مایوس ہو کر واپس چل دیں۔کچھ اس بھروسے پہ آگے چلی گئیں کہ راستے میں ٹھہرنے کو کوئی ٹھکانہ مل جائے۔مگر ہمارے کسی خبری نے خبر دی کہ آگے نہیں جانا۔ٹھہرنے کو کوئی جگہ نہیں ہے۔

بابُو سَر بازار اک موڑ پر آباد ہے۔دو چھپڑ  ہوٹل جن کی عارضی پتھر کی دیواروں پر پیلی پلاسٹک پڑی ہے۔اک سبزی کی دکان اور اس پرسیبوں کی ایک پیٹی اور کڑم کی چند گانٹھیں جو کسی انتظار میں پڑی پڑی تھک گئیں تھیں۔اِسی کے ساتھ ایک فولادی پنجرے میں شیور کے دو مرغ سردی جھیل رہے۔ بازار موڑ پہ کھڑا ہے۔موڑ کے درمیان ایک جمپ ہے،جمپ کے اُس طرف گلگت ہے اور اس طرف کاغان۔یہ موڑ پاکستان اور گلگت کے درمیان سرحد ہے۔

نیم پُختہ دکانوں کے پیچھے نئی دکانیں بن رہی تھیں۔جہاں ہوٹل اور سیاحوں کے لیے رہائش کا انتظا م ہو گا۔ان کی دیواریں پتھر سے بنائی جارہی تھیں۔چار چار کمروں والی ان عمارتوں میں پتھر کا خوبصورت کام ہو رہا تھا۔دیواروں میں چُنے گئے پتھر اس انداز سے تراش کر جوڑے گئے تھے کہ ذرہ  بھر خلا بھی نہیں بچی تھی۔یہاں تک کہ ہوا کا گُزر بھی ناممکن لگتا ہے۔یہ پتھر کے کام کی اعلیٰ ترین کاریگری تھی، جو بابو سر اور آگے پورے گلگت میں نظر آتی ہے۔

سرد ہواؤں سے بے نیاز محنت کش اپنے کام میں مصروف تھے۔اُن کے بدن پہ نہ تو چادر تھی نہ جرسی۔اُن کے پتلے کپڑے ہوا میں پھڑ پھڑا رہے تھے۔وہ سخت برفیلے موسم کے عادی تھے اوراُن حالات کے بھی جنھوں نے انھیں ہمالیہ کی سرد شام میں پتھر وں کا انگ انگ سنوارنے اور جوڑنے پہ مجبور کر رکھا تھا۔بابو سَر کے پار ہمالیہ کے سارے پربت ٹھنڈی سفید چادر میں لِپٹے کھڑے ہیں۔ مشرقی سمت چند گز کے فاصلے پہ کھڑی چوٹی پر ابھی کچھ برف باقی تھی۔اک نیم جان گلیشر دمِ  آخر پہ تھا۔ہوٹل کے نیچے خوبصورت وادی دُور تک پھیلی ہے۔یہ بابُو سَر سے ایک آب جُوکے دونوں کناروں تک چلتی ہوئی گٹی داس تک جاتی ہے۔آب جو کے کناروں پہ چرواہے آبادہیں۔

چرواہی زندگی خُود ایک درس گاہ ہے۔جہاں نظم وضبط،مشقت،جفاکشی،اطاعت،بہادری،ہمدردی کا سبق پڑھا اور پڑھایا جاتارہا ہے۔یہ زندگی فطرت کے سنگ آباد رہی ہے۔اس کا شجرہ ہزار ہا سالوں تک پھیلا نظر آتا ہے۔پُو پھوٹنے سے قبل زندگی بیدار ہوتی ہے تو پھر غروب آفتاب کے خوبصورت منظر کے ساتھ دن بھی غروب ہو جاتا ہے۔شام کے ُدھندلکے میں کچی آبادیوں سے دُھواں اُٹھ رہا تھا۔خیموں میں جواور گندم کی روٹی،خالص دُودھ کے ساتھ کھا کر،چشموں کا صاف پانی پی کر صبر وشکر کے عادی یہ لوگ سکون کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔

تمام انبیاء نے بکریاں چرائی ہیں۔بکریوں،بھیڑوں کے ریوڑ اُن کی دیکھ بھال،اُنھیں بھیڑیوں سے بچانا،سُدھارنااور بحفاظت مشکل گھاٹیوں سے گزار کر ٹھکانوں تک پہنچانا ایک مشکل کام ہے۔انبیاء کے علاوہ چنگیز خان اور ہلاکو بھی چرواہی زندگی سے اُٹھے تھے۔انسان اگر اپنی جبلت کو نہ مار پائے تو وہ جانور سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔کشت وخون،لڑائیاں،لُوٹ مار زندگی کا جزو لازم بن جاتا ہے۔انسان بھی ایک آدمی نما ریوڑ ہوتے ہیں۔انھیں سُدھارنے،سنوارنے اور اُن کی نفسانی سرکشیو ں کو سنبھالنے کے لیے باشعور قیادت کی ہر وقت ضرورت ہوتی ہے۔بکریو ں کے ریوڑ سنبھالنا اگر مشکل کام ہے تو انسان نما ریوڑوں کو سیدھا راستہ دکھانا اور اس پہ چلانا مشکل ترین کام ہے۔ تمام انبیاء نے یہی مشکل فریضہ سر انجام دیا ہے۔چرواہی زندگی دراصل ریوڑوں کی قیادت کی پہلی درس گاہ ہے۔جہاں فطرت کا نظم و ضبط اُس کا مشاہدہ اور مراقبوں سے فکر کو جِلا ملی ہے۔شور سے دُور زندگی جہاں سکون کی چھاؤں میں زندگی کے راز آشکار ہوئے ہیں۔

جاری ہے

لنک قسط8   https://www.mukaalma.com/15210

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *