چلے تھے دیوسائی ۔ جاویدخان/قسط 8

جھیل لُولُوسَر:
اگر وادی ِ لُولُو سَر کوایک اَلہڑ کہساری دوشیزہ مانیں تو جھیل لُولُو سر اُس کی وہی نیلی آنکھیں ہوں گی جس کے ذکر سے ہماری رومانوی نثر اور شاعری بھری پڑی ہے۔ہمارے ادیبوں اور شاعروں کے حُسن تخیل کا عروج محبوب کی گہری نیلی آنکھوں پہ دم توڑ چکا ہے۔ محبوب کی گہری جھیل جیسی آنکھیں ضرور حسین ہوں گی۔آنکھوں کاحُسن ِ بیان کرتے ہوئے ہمارے شاعروں نے گہر ی اور نیلی جھیل سے تشبیح دی ہے۔مگر لولوسر جسے کہساروں نے تین اطراف سے،صدیوں سے اپنے مضبوط حصاروں میں لے رکھا ہے،اور وہ اس حصار میں حیا کی نیلی چادر اوڑھے گُم صُم ہے،کس سے تشبیہ  دیں؟۔تخلیقی جوہر پاروں کا حُسن گہری جھیل پہ ناتمام ہوتا ہے تو لُولُو سَر کا حُسن وہاں سے شروع ہوتا ہے۔

ہماری بائیں  طرف جھیل کے پیچھے سے سورج ہٹ چکا تھا جبکہ داہنی طرف والی پہاڑی پر اپنی گرم دُھوپ ڈال رہا تھا۔آسمان اور جھیل کا رنگ بہ یک وقت گہرا نیلا تھا۔بادل کے سفید ٹکڑے دائیں طرف آوارگی پہ تھے۔میں اس منظر کو دیکھنے میں محو تھا کہ نیچے جھیل کنارے دوستوں نے پکارا! نیچے آجاؤ۔۔۔!لُولُوسر اور اُس کی دُنیا ایک منظر ہے اور اس منظر میں سارے لوگ خود منظری (سیلفی) میں مصروف تھے۔میں کنارے پہ کھڑا تھا۔ہواتھی یا بہاؤ کا اثر،سطح آب پہ دھیمی دھیمی لہروں کا نظارہ تھا۔جیسے کوئی بچہ معصوم ننگے اور دبے پاؤں معصومانہ انداز میں چپ کی چال چلتے ہوئے جارہا ہو۔لولو سر کے اُوپر لہروں کی بے میل،معصوم چاپ تھی۔

لُولُو سَر خاموش ہے،گہری ہے،نیلی ہے،بے نیا ز ہے مگر اس میں جلال بھی ہے۔دوستوں کو نہ جانے کیا سوجھی کہ وہ بچوں جیسی حرکتوں پہ اُتر آئے۔چھوٹے چھوٹے کنکر کناروں سے اُٹھا کر جھیل کے دوسرے کنارے پہ اچھالنے لگے،مگر بے سود۔پتھر لُولُو سر کے درمیان گِرے۔ڈھوپ۔۔۔! چھاہ۔۔۔۔۔! کا سُر لُولُو سَر سے بلند ہوا۔اس گستاخی کا بے نیاز نیلی اور جلالی پری نے بُرا نہ منایا۔ہمارے پتھروں کے بدلے اُس نے سُر کی چھایا دی۔خاموش زبان سے کہا۔۔!میری گہرائیوں کا اندازہ لگاتے ہو؟میری گہرائیوں میں کنکر نہیں پہاڑ سوئے ہیں۔میری خاموشیوں کاامتحان لیتے ہو؟میری خاموش دُنیا کو اپنے ڈرم بجاکر آلودہ کرتے ہو؟ہماری دُنیا کو گندہ نہ کرو۔تمھاری شہری دُنیا تمھاری اپنی تعمیر کردہ ہے۔آلودہ،گندی دُنیا جہاں کی ہر چیز آلودہ ہے۔خلوص،پیار، مُسکراہٹ ِخوراک،سانس اور مٹی تک بھی۔تُمہارے اندر کی ہوس نے فطرت کو سخت گدلایا ہے۔جواب میں آج سکون سے محروم ہو۔

لُولُو سَر کاخاموش پیغام سُنا’ اپنے اردگرد ہجوم،قہقہے،کھانا اور لُولُوسَر کی دنیا میں کچرا اور شور پھینکتے لوگ۔کیا یہ کچھ دیر کے لیے لُولُوسر کی دنیا میں نہیں آسکتے؟فطرت کی دنیا،جہاں سکون اور گہرا تفکر پھیلا ہے۔ہم واپس مُڑے تو شفقت نے پھر کنکر پھینکا۔ڈُھپ چھاہ۔۔۔۔!کا سُریلہ ترنم اُبھرا۔نیلے آبی رُخساروں پہ کوئی تاثر پیدا نہ ہوا۔چھاہ۔۔!کا ترنم گُم ہوا۔تو خاہ خاہ۔! ہاہا ہا کے درمیان ڈھم ڈھم۔۔۔۔ڈھم۔۔!ہم گاڑیوں میں بیٹھے اور روانہ ہوئے۔لُولُو سر کو دو چھوٹی ندیاں آکر مل رہی ہیں۔ایک لُولُو سَر کے پار والے کنارے پہ اور دوسر ی آر والے کنارے پہ۔ہم اس طرف کی چھوٹی ندیا کے کنارے آگے بڑھے۔لُولُو سر کا کچھ حصہ جو نظروں سے اُوجھل تھا،نظر آنے لگا۔اب جھیل کا ادھورامنظربھی واضح تھا۔

گاڑیوں نے اپنی رفتا ر تیز کردی۔پربتوں کے دامن میں سکوت نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔کھنڈ کے ہوٹل پار بجری والی چوٹی کے نیچے جو نیم سُرخ پھول نظر آئے تھے۔اب سڑک کنارے واضح نظر  آرہے تھے۔یہ دراصل پھُول دار گھاس تھی جو ان وادیوں میں برف پگھلنے کے فوراً بعدنکل آتی ہے۔چرواہوں کے ریوڑ،اس پھول دار رسیلی گھاس کو کھا کر مست ہو رہے تھے۔ گائے،بکریاں،بھیڑیں اور دُنبے  گھاس چرنے میں مگن تھے۔اور اپنی دُم دار دُمیں،اپنی کمر پہ بار بار مار رہے تھے۔خُوش تھے،مستی اور چُستی دونوں ان کی چال سے نظر آتی تھی۔

جاری ہے!

لنک قسط7   https://www.mukaalma.com/14682

محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”چلے تھے دیوسائی ۔ جاویدخان/قسط 8

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *