• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جماعت احمدیہ،حامد میر،اسمبلی کی کارروائی اور اسرائیل۔۔ راشد احمد

جماعت احمدیہ،حامد میر،اسمبلی کی کارروائی اور اسرائیل۔۔ راشد احمد

منبرومحراب کے وارث تو عرصہ ہوا سچائی اور تحقیق کو دفن کرچکے اس لئے ان کی طرف سے کوئی ہوش ربا الزام لگے تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن ٹی وی پہ پروگرام کرنے والا اور اخبار میں کالم لکھنے والا ایک ’’باخبر‘‘ صحافی جب بے حوالہ بے سند اور غلط بات کرے تو اسے ہضم کرنا مشکل ہے۔حامد میر صاحب کا احمدیت سےتعصب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔متعدد دفعہ اس کا اظہار ہوچکا ہے۔ان کے ٹی وی پروگرام میں شامل ایک مہمان جب سرظفراللہ خان کی تعریف کرنے لگے تو موصوف نے فوراً  یہ کہہ کر بریک لے لی کہ انہوں نے تو قائداعظم کا جنازہ تک نہیں پڑھا تھا۔یعنی کسی کی اچھائی برائی کا پیمانہ اب جنازہ پڑھنا ہی رہ گیا ہے۔’’ہمارے تمھارے درمیان جنازے فیصلہ کریں گے ‘‘سے ہوتی ہوئی بات جنازوں میں شمولیت پہ آن ٹھہری ہے۔

حال ہی میں حامد میر صاحب نے یکے بعد دیگرے تو دو کالم احمدیت کے حوالہ سے تحریر کئے ہیں جو روزنامہ جنگ میں 30 نومبر اور 11دسمبر کو شائع ہوئے ہیں۔ان کالمز میں موصوف نے اگر مگر چونکہ چنانچہ کی تکرار کے ساتھ احمدیوں کو ملک دشمن اور اسرائیل کا ایجنٹ ثابت کرنے کی اپنی سی سعی کی ہے،لیکن یہ بھول گئے کہ اب غلط بیانی کو سچ کرکے دکھلانا اتنا آسان نہیں رہا جتنا کسی دور میں ہوتا تھا۔اب تو انٹرنیٹ پہ حوالہ جات آسانی سے مہیا ہوجاتے ہیں اور بات سامنے آجاتی ہے۔

اپنے 30 نومبر والے کالم میں جناب حامد میر صاحب فرماتے ہیں کہ  ’’ واضح رہے کہ 20اگست 1974کو اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے قومی اسمبلی میں مرزا ناصر احمد سے پوچھا تھا کہ کیا آپ کا اسرائیل میں مشن موجود ہے۔ مرزا ناصر احمد نے جواب میں کہا وہاں ہماری جماعت موجود ہے کیونکہ اسرائیل میں بھی تو مسلمان رہتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو پسند نہیں کرتا فلسطینی مسلمان اسرائیل کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں لیکن آپ کے نمائندوں کی اسرائیل کے صدر اور وزیر اعظم سے ملاقاتیں ہوتی ہیں، اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کرتا ہے آپ پر اتنی عنایات کیوں؟ مرزا ناصر احمد نے کہا کہ ہمارے اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں‘‘ قومی اسمبلی کی مذکورہ شائع شدہ کارروائی موجود ہے۔انٹرنیٹ پہ بھی مہیا ہے،لیکن اس کے باوجود حامد میر صاحب نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے جماعت احمدیہ کو اسرائیل کا ’’ایجنٹ‘‘ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

بظاہر حامد میر صاحب نے معین تاریخ بیان کرکے اپنی بات کو انتہائی باحوالہ بنانے کی کوشش کی ہے لیکن قومی اسمبلی کی طرف سے سرکاری طور پرجو کارروائی شائع کی گئی ہے اس میں20اگست کو ہونے والی کارروائی صفحہ 857سے984پر شائع ہوئی ہے۔جو سوال و جواب حامد میر صاحب نے درج کیے ہیں وہ ان صفحات پر کہیں موجود ہی نہیں ہیں۔جب حامد میر صاحب کو توجہ دلائی گئی کہ صاحب آپ نے جو بات اتنے وثوق سے کہی ہے وہ تو اسمبلی کی کارروائی میں سرے سے موجود ہی نہیں تو اس پہ موصوف نے11 دسمبر والے کالم میں پھر گل افشانی گفتار کے جلوے دکھلائے۔ارشاد ہوا۔’’ احمدیوں کے اسرائیل میں مشن کا ذکر صفحہ 1061 سے 1070 میں ہے‘‘

وائے حسرت!ان صفحات میں بھی ایسا کوئی تذکرہ نہیں۔جن صفحات میں یہ تذکرہ موجود ہے وہاں بھی ایسا کوئی ذکر نہیں کہ ’’ہمارے اسرائیل سے اچھے تعلقات ہیں‘‘ جماعت احمدیہ کوئی سعودی عرب تھوڑا ہی ہے جس کےاسرائیل سے بطور خاص اچھے تعلقات ہوں۔ حامد میر صاحب نے جب دیکھا کہ بات بن نہیں رہی تو اسمبلی کی سرکاری طور پر شائع شدہ کارروائی کے غلط حوالہ کےساتھ ساتھ مولانا اللہ وسایا کی طرف سے شائع شدہ ’’اصلی‘‘ کارروائی کا حوالہ بھی ساتھ جڑ دیا۔چشم بینا کے لیے اب بات سمجھنا کوئی مشکل ہی نہیں رہ جاتی کہ کیوں جناب حامد میر صاحب غلط طور پر باتیں پھیلا رہے ہیں۔عقدہ تو اب کھلا کہ ان کے سامنے تو اصلی کارروائی ہے جسے ’’فاتح ربوہ‘‘ نےمدون کیا ہے۔جب عقل پہ تعصب بازی لے جائے تو اسی طرح ہوا کرتا ہے۔قومی سطح کے صف اول کے اخبار نویس بھی پھر تسلسل سے غلط بیانی کرتے چلے جاتے ہیں اور جب ان کی کہی بات پہ گرفت کی جائے تو بس یہی جواب ملتا ہے کہ ’’ قومی اسمبلی کی اس کارروائی کو مولانا اللہ وسایا صاحب نے ’’تاریخی قومی دستاویز 1974‘‘ کے نام سے شائع بھی کیا ہے۔‘‘

ناطقہ کا سربگریباں ہونا بنتا ہے۔اللہ وسایا صاحب احمدیت دشمنی میں صف اول کے ’’مجاہدین‘‘ میں سے ہیں ۔ظاہر ہے مخالف نے غلط حوالے ہی دینے ہیں۔صحیح حوالہ جات دینے ہوتے تو مخالفت کاہے کی۔ حامد میر صاحب مزید فرماتے ہیں کہ قائداعظم بھی احمدیوں کو غیر مسلم تصور کرتے تھے۔حوالہ دینا انہوں نے ضروری نہیں سمجھا ۔شاید اس لیے کہ اپنی بات کے علاوہ میر صاحب کو کوئی حوالہ دستیاب ہی نہیں ہوتا۔قائداعظم ایک آزاد خیال  آدمی تھے جنہیں تفرقے بازی کا کبھی شوق نہیں رہا ،البتہ مسلمانان ہند نے انہیں کافراعظم کے لقب سے ضرور ملقب کیا۔قائداعظم نے نہ صرف احمدیوں کو مسلم لیگ کا ممبر بنایا بلکہ چوہدری ظفراللہ خان صاحب جیسے معروف احمدی اسی مسلم لیگ کے صدر بھی رہے۔قائداعظم نے کبھی بھی احمدیوں کو غیر مسلم نہیں کہا بلکہ احمدیوں کو وہی حقوق دینے کا اعلان کیا جو دوسرے مسلمان فرقوں کے ممبرز کو حاصل تھے۔ قائداعظم ہمیشہ جماعت احمدیہ کےتعاون کے طلب گار رہےجو انہیں ہر موقع پہ حاصل رہا۔تنگی داماں کی شکایت ہے ورنہ قائداعظم کے فرامین اور خط وکتابت کے حوالے بھی دیے جا سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں حامد میر صاحب نے  وہی روایتی گھسی پٹی بے حوالہ بے سند باتیں دہرائی ہیں جن کا ٹھوس جواب بیسیوں مرتبہ جماعت احمدیہ کی طرف سے دیا جا چکا ہے،لیکن جن کا دیں پیروی کذب وریا ہو انہیں جوابات سے غرض ہی کہاں ہوتی ہے۔اسی صورتحال کو رئیس احمد جعفری نے یوں بیان کیا ہے: ’’مسلم قوم کی مرکزیت،پاکستان یعنی ایک آزاد اسلامی حکومت کے قیام کی تائید مسلمانوں کے یاس انگیز مستقبل پرتشویس عامۃ المسلمین کی صلاح وفلاح نجاح ومرام کی کامیابی،تفریق بین المسلمین کے خلاف برہمی اور غصہ کا اظہار کون کررہا ہے؟امر باالمعروف اور نہی عن المنکر اور جماعت حزب اللہ کا داعی اور امام الہند؟نہیں!پھر کیا جانشین شیخ الہند اور دیوبند کا شیخ الحدیث؟ وہ بھی نہیں؟پھر کون لوگ؟ وہ لوگ جن کے خلاف ’’کفر‘‘ کے فتوؤں کا پشتارہ موجود ہے۔جن کی نامسلمانی کا چرچا گھر گھر ہے۔جن کا ایمان جن کا عقیدہ مشکوک مشتبہ اور محل نظر ہے۔کیا خوب کہا ہے ایک شاعر نے:

کامل اس فرقہ زہاد سے اٹھا نہ کوئی

کچھ ہوئے تو یہی رندان قدح خوار ہوئے!

Avatar
راشداحمد
صحرا نشیں فقیر۔ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *