چلے تھے دیوسائی۔جاوید خان/قسط10 سفرنامہ

بابُوسَر:
بابُوسر کی اسی گھاٹی کے مشرقی طرف پولو کا مشہور میدان ہے۔ جو بابو سر موڑ،سے بہ مشکل ایک صحن لگ رہا تھا۔جفاکش کھیل کا یہ قدرتی میدان ۲۱ اگست سے آباد ہونے والا تھا۔سارے گلگت اور پاکستان سے لوگ یہ کھیل دیکھنے آئیں گے۔آب جو اس میدان سے ذرا ہٹ کر بل کھاتے ہوئے نیچے کو اُتر جاتی ہے۔چرواہوں کے ریوڑ اس کے ٹھنڈے پانی سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں اور اس کے گردا گرد پھیلی چراگاہوں سے ہر ی ہری گھاس کھا کر چرواہوں کو میٹھا دُودھ دیتے ہیں۔چرواہے اس دُودھ سے دہی،لَسی، مکھن اور گھی حاصل کرتے ہیں۔جانوروں سے دُودھ مکھن اور پنیر حاصل کرنے کارواج تو پوری دُنیا میں ہے مگر مکھن کو آگ پر پکا کر گھی بنانے کا رواج صرف برصغیر میں ہے۔

خُنک ہوائیں ہمارے بدنوں کو پھر کاٹنے لگیں تھیں۔لِہٰذا ہم نے ایک ہوٹل میں پناہ لے لی۔پتھروں کی دیواروں پر لکڑی کے ڈنڈوں پر، پلاسٹک کا نیلا ترپال ڈال کر اُس پر پتھر رکھ دیے گئے تھے۔یہ بابُوسَر ہوٹل کی چھت تھی۔ہم لکڑی کے بینچوں پر بیٹھ گئے تو کچھ راحت ملی۔باہر کے مقابلے میں یہاں ماحول گرم تھا۔گیس کے چولہے پر چائے اور پکوڑے پک رہے تھے۔عمران رزاق نے سات چائے اور آدھ کلو پکوڑے لانے کو کہا۔مچھے اسہال نے کسی فالتو چیز کے استعمال سے منع کر دیاتھا۔پکوڑوں کا تو سوال ہی کیا،میں اولپر کے دُودھ کی چائے پی کر اپنے جسم کی شریانوں میں زہر نہیں بھرنا چاہتا تھا۔میرا معدہ مُجھے عرصے سے درخواست کر رہا ہے کہ صاحب !خود پر اور ہم پر رحم کرو۔یہ بازاری چیزیں مت کھاو۔یہ ہمیں پریشان کرتی ہیں۔

مگر ایک اصغر اکرم تھے کہ آنکھیں دکھا رہے تھے کہ کچھ نہیں ہوتا کھاؤ۔۔پکوڑے کھاؤ !پیو۔۔چائے پیو۔۔!وقاص صاحب کی طبعیت بوجھل ہو رہی تھی۔آنکھوں میں ہلکی ہلکی سُرخی اور تھکن۔راحیل عاصم صاحب، طاہر یوسف،شفقت ہشاش بشاش تھے اور ان سب میں زیادہ عمران بول رہے تھے۔چائے اور پکوڑے آئے تو سب نے بُرا سا منہ منایا۔مگر باعث مجبوری اولپر ملا گرم پانی باسی سڑے پکوڑوں کے ساتھ حلق سے اتارنا پڑا۔یہ بات حیران کُن تھی کہ  یہ نخلستانی وادیاں بکریوں،بھیٹروں اور گائے سے بھری پڑی ہیں۔مگر سب ہوٹل والے سیاحوں کو اولپر کی آلودہ چائے پلا رہے تھے۔

چائے نوشی اور پکوڑا خوری کے درمیان ہوٹل کے نوعمر مالک اورنگزیب آگئے۔اورنگزیب صاحب راولاکوٹ میں ایک سڑک پہ چُنائی کا کام کرچکے تھے۔بابُو بھائی چلاس میں رہتے ہیں۔وہ ایک محبت کرنے والی شخصیت ہیں۔پاکستان اُن کے دل میں بستا ہے وہ اسی ہوٹل میں کام کرتے ہیں۔اورنگزیب نے بتایا یہاں ۵۱ سے  ساٹھ  فُٹ برف پڑتی ہے۔بابُو سَر دراصل گاؤں کا نام ہے جو یہاں سے نیچے آباد ہے۔1947ء سے پہلے یہاں سکھ آبادتھے۔کسی زمانے میں کوئی بابُو سنگھ اس گاؤں کے مُکھیا تھے۔ بھلے آدمی تھے ۔گاؤں کو بابُو کا گاؤں کہتے تھے۔اُن کے سُورگباش ہونے کے بعد بھی نسلوں تک یہی نام چلتا رہا۔مختصر ہو کر بابُوسَر رہ گیا۔آج بھی اُن کی یاد تازہ کرتا ہے۔ٹاپ سے مراد بلندی ہے۔بازار کی پشت سے لگی چوٹی کو”بابُوسَر ٹاپ“ کہتے ہیں۔یہ چوٹی سطح سمندر سے ۰13700فُٹ بلند ہے۔
اورنگزیب  نے بتایا: یہاں بازار کی ساری کچی دکانیں برف باری میں گر جاتی ہیں۔سال بعد جب موسم بہتر ہوتا ہے تو ہم یہ دکانیں پھر سے تعمیر کرتے ہیں۔عمران رزاق اور نگزیب سے ویسی ہی اُردو بول رہے تھے جیسی اورنگزیب بول سکتے تھے۔ اورنگزیب کی اُردو پر مقامی لہجے کا اثر نمایاں تھا۔اورنگزیب نے بتایا اُس کا پورا نام اورنگزیب فاروقی ہے۔عمران رزاق نے پوچھا تُم نے اپنے نام کے ساتھ ”فاروقی“کیوں لگایا ہے تو جواب میں اورنگزیب فاروقی نے فخریہ انداز میں پاکستان کے کسی مولانا کا نام بتا یا۔اُن مولانا کے نام کے ساتھ فاروقی لگتا تھا۔وہ شعلہ بیان مقر ر تھے اور اورنگزیب کو بہت پسند آئے تھے۔لفظوں کی بمباری میں کمال مہارت رکھتے تھے۔اورنگزیب نے بتایا وہ اپنے مخالف مسلک پہ خُوب برستے ہیں۔اپنے پسندیدہ مولانا کی شان میں رطب اللسان اورنگزیب کا معصوم چہرہ بتا رہا تھا کہ اَن گل و بلبل کی وادیوں میں شعلہ بیانیوں نے کیسے کیسے شعلے اُٹھا رکھے ہیں۔اور ان شعلوں سے اُٹھنے والے کالے دھویں نے دلوں کی دُنیا میں کتنا دھواں بھر دیا ہے۔(جاری ہے)

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *