ککڑ کی چوری۔وقار عظیم

ایک وقت تھا  جب  شوق تھا دیسی مرغا کھانا ہے لیکن چوری کا کھانا ہے۔ کسی کا پالتو مرغا چرانا ہے پھر اسے ذبح کرنا ہے اور پھر کھانا ہے۔
ایسے میں ایک محلے دار اکرم سنیارے کا مرغا ہم سب کا مرکز نگاہ تھا۔ گلیوں میں آوارہ پھرتا وہ اوباش مرغا محلے کی کم از کم پانچ مرغیوں کا شوہر تھا۔ اکرم مرحوم صبح صبح نہا کر گھر سے نکلتے ۔ ان کے ساتھ ان کا مرغا ہوتا۔ وہ سامنے والی دکان سے اخبار اور چائے کا کپ اٹھاتے اور اپنے گھر کے آگے کرسی پر بیٹھ جاتے۔ مرغے کو گلی میں چھوڑ دیتے کہ وہ اپنا رزق اور افئیر خود تلاش کر سکے۔ اس مرغے سے بہت سے محلے دار تنگ تھے۔ خاص کر سکول جاتی لڑکیوں کی دوڑیں لگواتا تھا۔ ہم نے بھی ٹھان لیا کہ یہی کھانا ہے۔ مزے کا مزے ،ثواب کا ثواب۔

ایسے میں لگاتار تین دن ریکی کر کے علم ہوا کہ اکرم مرحوم کا یہ لاڈلا صرف ایک ہی وقت اغواء کیا جا سکتا ہے  جس وقت اکرم سامنے والی دکان سے اخبار اٹھانے جاتے ہیں یہی ایک منٹ کا وہ وقت ہے جب اس عیاش مرغے پر ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے۔ اس منصوبہ بندی میں میرا کزن مون، اس کا دوست بالی ڈوگر، میں اور میرا سیکنڈ کزن وسیم شامل تھے۔

فلموں کا اثر ہم چاروں پر خوب تھا۔ لہذا سچوئشن کو مزید ڈرامائی کرنے کے لیے واردات سے ایک رات قبل مون کی بیٹھک میں ایک خفیہ میٹنگ رکھی گئی۔ اور دشمنوں کا گھر بالکل پڑوس میں تھا ۔انہیں  ( اکرم سنیارے)   خبر نہ ہو لہذا آپس میں طے ہوا کہ میٹنگ میں آنے والا ہر بندہ بیٹھک پر تین بار دستک دے گا اور پوچھے گا “ ماچس ہے۔” اندر سے جواب ملے گا “ ماچس ہوتی تو دنیا کو آگ لگا دیتا۔” آپ نے جواب میں کہنا ہے کہ اسی آگ پر مرغا پکایا جائے گا۔” یہ کوڈز مکمل ہونے کے بعد دروازہ کھلے گا۔

سب کچھ پلان کے مطابق ہوا۔ بیٹھک میں مونگ پھلیوں کے ساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔ ان دنوں میں سائنس کے ساتھ میٹرک کر رہا تھا لہذا مجھے سب سے زیادہ “ پڑھا لکھا” سمجھ کر پلان بنانے کا ذمہ دیا گیا۔ میں نے بھی کاپی سے کاغذ پھاڑا اور پین کی مدد سے ایک نقشہ بنایا۔ اور خود سمیت چاروں کی ڈیوٹیاں سمجھا دیں۔

پلان یہ تھا کہ  بالی، اکرم کے گھر پر نظر رکھے گا اور جیسے ہی اکرم اپنے لاڈلے سمیت گھر سے باہر آیا بالی زور سے کھانسے گا ،وسیم جو کہ ماشاء اللہ چرس کا عادی ہونے کی وجہ سے چوریوں میں کافی ماہر ہے وہ سردی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گرم شال پہنے ہوئے وہاں پہنچے گا اور اپنی ماہرانہ صلاحتیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مرغا غائب کرے گا اور فورا گھر آئے گا۔ میں اور مون  چھری اور ٹوکا لے کر تیار ہوں گے ۔ پانچ منٹ کے اندر اندر مرغا وسیم کی شال سے نکال کر بوٹیوں کی صورت شاپر میں منتقل کرنا ہے۔
اکرم گھر سے باہر آیا ۔ بالی نے نا صرف کھانس کر بلکہ بلغم تھوک کر سگنل دیا۔ وسیم شال پہنے پاؤں میں جوگرز پہنے جس کے دائیں پاوں کا تسمہ کھلا تھا ۔ہاتھ پیچھے باندھے ٹہلتا ہوا میں جو گھر کا دروازہ کھولے  کھڑا تھا میرے پاس سے گزرا ۔وہ حقیقتاً  ٹہلنے کے انداز میں ہاتھ پیچھے باندھے گنگتاتا جا رہا تھا۔

“ تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم”
اس کا ریلیکس انداز دیکھ کر میں نے مون سے پوچھا اسے یاد بھی ہے؟ کہ عیاش مرغا اس نے اٹھانا ہے؟ کہیں چرس کا سوٹا مار کر بھول تو نہیں گیا۔
“ دیکھتے جاؤ  بس” مون نے مجھے کہا
ادھر سے اکرم مرحوم نے مرغے کو اپنی بغل سے گلی میں اتارا ،کرسی اپنے دروازے کے سامنے رکھی اور دکان میں چائے اور اخبار لینے گھسا۔ ادھر ٹہلتا ہوا وسیم اپنی شال پھیلا کر عین مرغے کے پاس بیٹھا۔ اس کا منہ ہماری جانب اور پیٹھ اس دکان کی جانب تھی جس میں اکرم گیا تھا۔ دکان سے دیکھنے والوں کو ایسا ہی لگتا کہ وہ تسمے باندھ رہا ہے۔ اس نے تسموں کو بس ہاتھ ہی لگایا اور مرغے کو گردن سے پکڑ کر اپنی شال کے اندر کر دیا۔ بالی اور مون گھر میں تھے میں گھر کے دروازے پر۔ وسیم کے لیے راستہ چھوڑا ۔ وہ گھر میں گھسا ۔ میں نے گنگناتے ہوئے ایک نظر گلی میں دائیں بائیں ماری۔
“ پیار ہوتا ہے دیوانہ صنم ۔”

اکرم دکان سے نکل رہا تھا میں نے دروازہ بند کر دیا ۔ بڑے خشوع و خضوع سے تکبیر پڑھ کرمون نے چھری پھیری۔ جیسے آج الحمد للہ کہنے سے حکمرانوں پر کرپشن کا پیسہ حلال ہو جاتا ہے ہم پر اس وقت مرغا حلال ہو گیا۔ اگلے پانچ سے سات منٹس میں مرغا بوٹیوں سمیت شاپر میں تھا۔ اس کی کھال اور پنجے ڈسٹ بن میں تھے۔

اس کے بعد بالی اور وسیم گھر سے نکل گئے۔اسی وقت اکرم کی آواز آئی
“بالی! میرا ککڑ تا نئیں  ویکھیا۔” بالی نے فورا ً  پوچھا” کی ہویا ککڑ نو؟ کتھے گیا؟ “
“یار ایتھے ای سی۔” اکرم مایوسی سے بولا
میں  اوپری منزل پر گیا ۔ مون کی مما یعنی اپنی ممانی کو شاپر تھمایا یہ پکا دیں۔ ہم دوستوں نے دوپہر کا کھانا ایک ساتھ کھانا ہے۔ ممانی نے کوئی سوال نہیں کیا اور شاپر ہاتھ سے لے لیا۔
اگلے آدھے گھنٹے میں آدھا محلہ  اکرم کے مرغے کی تلاش میں تھا ۔ سب سے زیادہ بھاگ دوڑ ہم چاروں کر رہے تھے۔

دوپہر بارہ بجے کے قریب ہم نے اکرم صاحب سے تعزیت کی اور گھر واپس آ گئے۔ گھر پہنچے تو مسز اکرم ممانی کے پاس کھڑی تھیں۔ مسز اکرم بھی ککڑ کا ہی ذکر کر رہی تھیں۔ ممانی ہانڈی میں ڈوئی پھیرتے ہوئے اسی ککڑ کی بوٹیوں کو ہلاتے ہوئے بولیں
“ نا جی۔ اللہ دی قسمے۔ میں تے ویکھیا ای نئیں۔”
مرغا پکا۔ ہم چاروں نے کھایا۔ ممانی نے بھی کھایا۔ تھوڑا سا سالن حق پڑوسیت ادا کرتے ہوئے ممانی نے اکرم کے گھر بھی بھیجا ۔ اور اس بات نے ہم سب کو بہت محظوظ کیا۔

ایک گھنٹے بعد اداس بیٹھے اکرم صاحب کے پاس میں اور مون جا بیٹھے۔
“ یار بہت اچھا ککڑ تھا۔ “ اکرم نے کہا۔۔
میں نے ایک لمبا سا ڈکار لیا اور جواب دیا” جی بالکل۔”
اکرم صاحب سے دس منٹس مزید تعزیت کر کے ہم گھر کو آ گئے۔
پی ایس: دوسرے دن اکرم صاحب کو پتا چل گیا تھا کہ مرغا کہاں گیا ۔ اس بات کا کریڈٹ ممانی کو جاتا ہے۔ رات کو بستر پر لیٹے ان کے ذہن میں خیال آیا کہ آج ہی محلے کا ایک دیسی ککڑ غائب ہوا اور آج ہی ان چار مشتنڈوں نے دیسی ککڑ کی دعوت اڑائی۔
اکرم صاحب نے ڈیڑھ سال ہم چاروں سے بات نہیں کی کہ میرا پسندیدہ مرغا خود تو اٹھایا اور کھایا۔ مجھے بھی کھلا دیا۔

وقار عظیم
وقار عظیم
میری عمر اکتیس سال ہے، میں ویلا انجینئیر اور مردم بیزار شوقیہ لکھاری ہوں۔۔ویسے انجینیئر جب لکھ ہی دیا تھا تو ویلا لکھنا شاید ضروری نہ تھا۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *