یہ ایک سچّی کہانی ہے مگر میری گزارش ہے کہ ان کرداروں کو آپ ڈھونڈنے نہیں نکلنا کیونکہ اب وہ وہاں پر نہیں رہتے ہیں۔ نہ جانے ٹرانسفر ہو کر کہاں چلے گئے۔ منوہر کھرے کام تو کسی اور سنٹرل← مزید پڑھیے
شوگر! یہ بیماری تقریباً سارے سیاست دانوں میں پائی جاتی ہے۔حتی کہ کرخت قسم کے سیاستدان بھی اس بیماری میں مبتلا ہیں۔اس بیماری کے جراثیم عام حالات میں سوئے رہتے ہیں۔اور الیکشن سے چند ماہ قبل اس کا حملہ شدت← مزید پڑھیے
اس نے دیوار پر لگی گھڑی پر نظر ڈالی۔ سہ پہر کے چار بجنے والےتھے۔ دفتر سے چھٹی کا وقت ہو رہا تھا۔ کمرے میں ایک خفیف سی ہلچل مچی ہوئی تھی اور سارا سٹاف گھر جانے کی تیاری کر← مزید پڑھیے
یہ ایک عام سا گھر ہے جیسا شہر کے ایک مضافاتی علاقے کا عام سا گھر ہوتا ہے۔ چار کمروں کے اس گھر میں ایک شخص رات کے اس پچھلے پہر چھت پر تنہا بیٹھا چرس کی سگریٹ کے دھویں← مزید پڑھیے
ساحر بڑا شاعر ہے اس لیے بھی کہ ان کی شاعری میں اقتدار، آئین،سماج اور سیاست سے سوال ہے۔ ساحر کو کسی سند کی ضرورت نہیں کہ ان کے کلام میں ماورائے زماں زندہ رہنے کی بھرپور قوت موجود ہے۔← مزید پڑھیے
شکیلہ ہمارے علاقے کی دائی تھی لیکن چونکہ پیچیدہ امراض مثلاً نزلہ ‘ کھانسی اور سردرد کا علاج بھی کرلیتی تھی لہذا محلے کی ساری عورتیں اسے ’’ڈاکٹرائن‘‘ کہتی تھیں۔شکیلہ کو خود بھی ڈاکٹرائن کہلانا پسند تھا۔ آج اگر وہ← مزید پڑھیے
دن کے تقریباً 2 بج چکے تھے اور وہ اپنے بیڈ پر اوندھا لیٹا خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا، منہ کھلا ہوا اور چادر منہ سے نکلنے والی تھوک کی رالوں سے گیلی ہوئی پڑی تھی۔۔اس کا موبائل← مزید پڑھیے
سرخ سویرے کے خوں آشام سائے میں دست صبا کی دستک سے کھلنے والے دریچہ الفت کی کہانی! وہ سائے کی طرح آئی اور آکر اس کے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔ایک اعتماد اور عزم اس کی آنکھوں سے جھلک رہا تھا،تیمور← مزید پڑھیے
سی ویو کلفٹن پہ کیکڑا نما گاڑی کو ساحل کی لہروں میں دوڑاتے پھرنے کے بعد جب پارکنگ کی جانب واپس لوٹے تو دو عدد خوبصورت گھوڑوں پر نگاہ پڑی- ایک اسپِ سفید اور دوجا اسپِ سیاہ، جو اصل میں← مزید پڑھیے
اُس نوجوان کی آمد کی خبر سن کر ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وہ نوجوان پاکستان کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے کئی سال پہلے بیرون ملک جانے پر مجبور ہوگیا تھا۔ ان دنوں روز← مزید پڑھیے
رات کا دم انہونی کے خوف سے گھٹا ہوا تھا۔۔گرم اور تاریک جنگل میں مہاجرین کو لے جانے والی ریل کسی بھوت کی مانند چل رہی تھی۔۔زندہ اور مردہ انسانوں کے تن سے اٹھتی بساند ایسی بھیانک تھی کہ پل← مزید پڑھیے
ہر چیز کا ایک وقت ہوتاہے۔ پہلے کتاب پتّوں پر لکھی جاتی تھی‘ پھر کاغذ وجود میں آیا اور اب انٹرنیٹ کا دور ہے۔کتاب اور کاغذ سے ہمیں اس لیے بھی محبت ہے کہ یہ ہمارے دور کی چیزیں ہیں۔← مزید پڑھیے
آفتاب ہمالیہ پہ: صبح نماز کے لیے بیدار ہوئے۔وقت اذاں کے کافی بعد،برفیلے پانی سے وضو کیااور باجماعت نماز ادا ء کی۔باقی لوگ واپس بستروں پہ لیٹ گئے۔میں نے طاہر یوسف کو اشارہ کیا اُوپر ٹاپ پہ جارہا ہوں۔سورج ابھی← مزید پڑھیے
وہ ہونٹوں سے سیٹی بجاتا بجاتا اپنے فلیٹ سے نکلا۔ دورازے کو تالا لگاتے ہوئے اُس نے سوچا آج آخری دن ہے۔۔آج دن کو کسی وقت بھی اُسکی بیوی واپس آ رہی تھی اور پھر وہ ناشتہ کرنے باہر نہیں← مزید پڑھیے
سرخ سویرے کے خوں آشام سائے میں دست صبا کی دستک سے کھلنے والے دریچہ الفت کی کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہار کی آمد آمد تھی۔۔۔۔برف باری کا سفید موسم سنہرے سورج کی روپہلی کرنوں کو الوداعی سلام کرکے رخصت ہو رہا← مزید پڑھیے
اُفق کی آنکھ سے ٹپکا لہو اذیّت کا فشارِ وقت سے لہروں کی تھم گئیں سانسیں ہوا کے ہاتھ سے چُھوٹی لگام پانی کی زمیں کی سمت نظر گاڑ دی تلاطم نے اُٹھایا سر جو کسی ریت کے گھروندے نے← مزید پڑھیے
رات دبے پاؤں بنا کوئی چاپ پیدا کیے گزرتی جا رہی ہے۔ اور صبح ہونے میں چند ہی گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔۔صبح جو مجھے نجات دلانے کو چلی آتی ہے۔ مجرم چھوٹنے والا ہے ۔۔ وقت کا ٹھیک علم← مزید پڑھیے
گلاب لمحے کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا محترم و معظم صاحب صدر، گرامی قدر اراکین ادبی گروپ رائٹ ناؤ(Write Now) ،معزز خواتین و حضرات السلام علیکم آپ سب کی آمد اور اس محفل کو چار چاند لگانے کا خصوصی← مزید پڑھیے
غلطی پہ غلطی چٹھیاں اور سندیسے کئی اقسام کے ہوا کرتے ہیں۔ محبوب کی چٹھی کے تصور سے ہی چراغ جل اُٹھتے ہیں جبکہ یاروں کے سندیسے خزاں کو بہار میں بدل دیتے ہیں۔ فوج کی دنیا میں البتہ ‘محبت← مزید پڑھیے
پنجابی میں کہتے ہیں’’کاں چٹا اے‘‘۔ یعنی جو میرے منہ سے نکلا ہے وہی ٹھیک ہے۔آج کل یہی ماحول چل رہا ہے۔ہر بندہ خوش ہے کہ اُس پر بالآخر سچائی آشکار ہوگئی ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے← مزید پڑھیے