ہوم لیس۔۔قمر سبزواری

وہ ہونٹوں سے سیٹی بجاتا بجاتا اپنے فلیٹ سے نکلا۔
دورازے کو تالا لگاتے ہوئے اُس نے سوچا
آج آخری دن ہے۔۔آج دن کو کسی وقت بھی اُسکی بیوی واپس آ رہی تھی اور پھر وہ ناشتہ کرنے باہر نہیں جایا کرے گا۔ویسے تو وہ پچھلے کچھ دنوں سے ریسٹورینٹ پر ناشتہ کر کے وہیں سے آفس جاتا تھا لیکن
آج چھٹی کا دن تھا، ناشتہ کر کے اُسے واپس آنا تھا
اُس نے سخت سردی سے بچنے کے لئے ٹراؤزرز اور ٹی شرٹ کے اوپر ہی چیسٹر پہن لیا تھا۔دروازے کو لاک لگا کر اُس نے چابی ہوا میں اچھالی ،بلندی کی طرف جاتی ہوئی شے زمین کی طرف واپس آنے سے پہلے ایک لمحے کو ہوا میں رکتی ہے ، اُسی معلق لمحے میں کمزور بلب کی ٹمٹماتی روشنی میں سرنگ کی طرح دکھنے والے کوریڈور میں پڑی ایک پوٹلی نما شے میں حرکت ہوئی  چابی نیچے گر گئی۔
اُس نے سرسراتی گٹھڑی سے نظریں ہٹائے بغیر چابی فرش سے اٹھائی اور اُس کے پاس چلا گیا یہ ایک سِن رسیدہ عور ت تھی۔ سردی سے ٹھٹھری ،بھوک سے دہری ہوئی اور پکڑے جانے کے ڈر سے سہمی ہوئی۔
اُس کے پاس ایک شاپنگ بیگ میں ڈرائی فروٹ کے چھوٹے چھوٹے چند پیکٹ تھے لیکن اُس کے پوپلے منہ اور پچکے ہوئے جبڑے کی ساخت سے صاف دکھائی دے رہا تھا کہ وہ ڈرائی فروٹ تو کیا شاید سینڈوچ بھی چبانے سے قاصر ہے۔
اس کے بال کھچڑی تھے لیکن ان کی وضع قطع اور انداز بتا رہا تھا کہ ماضی قریب میں وہ گھنی اور خوبصورت زلفوں کی مالک رہی ہو گی

شاید یہ عورت ہوم لیس تھی اور ٹریفک سگنل پر چھوٹی موٹی اشیاء بیچ کر گزارا کرتی تھی۔ایسے لوگوں کو کبھی شیلٹر میں جگہ ملتی ہے کبھی نہیں ،کبھی کچھ بک جاتا ہے کبھی نہیں بھی بکتا لیکن اس سردی میں پوری رات باہر بھوکے پیٹ۔۔۔۔

اُس سے بات کا آغاز کرنے سے بھی پہلے ہی اُس کے دل نے سرگوشی کی ارے نہیں آج کسی بھی وقت بیوی وآپس آ رہی ہے وہ کہاں مانے گی۔پچھلی بار جب ایک نو عمر بچے کو سیڑھیوں کے پاس زخمی حالت میں پا کر وہ کچھ دیر کے لئے گھر لے آیا تھا۔تو بیوی نے طوفان کھڑا کر دیا تھا۔
کیسے چیخ چیخ کر گھر سر پر اٹھا لیا تھا کوئی مجھے بتائے گا کہ یہ ہسپتال ہے، یتیم خانہ یا ویلفیئر سینٹر؟
شادی سے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ اپنے گھر نہیں ایک سب وے میں ایک میٹرو سٹیشن پر لے کے جا رہا ہوں؟
وہ تو خیر جس کی وہ مدد کرنا چاہتا تھا وہ ایک بے کس کم عمر لڑکا تھا اگر کوئی عورت ہوتی تو قانون کے مطابق
بیوی اُس کے خلاف یہ کیس بھی کر وا سکتی تھی کہ وہ اُس کا آدھا حق کسی اور عورت کو دے رہا ہے۔کچھ گھنٹوں کے لئے تو فلیٹ میں لے جا سکتا ہوں ،اس کے سینے میں لاغر سی سہمی ہوئ احتجاجی صدا بلند ہوئئ۔
ناشتہ کروا کے کافی پلا کے کہیں بھیج دوں گا وہ زیر لب بڑبڑایا جیسے اس کمزور آواز کی تائید کرنا چاہ رہا ہو
لیکن اگر بیوی جلدی آگئی  تو یا کوئی  دوست ادھر آنکلا تو کیا ہو گا، آج ویسے بھی چھٹی کا دن ہے اور اگر میں ناشتہ لینے گیا اور یہ عورت میرے فلیٹ میں مر گئی  تو۔۔۔یا جانے سے ہی انکار کر دیا تو۔۔

ایسے لوگوں کو جب نرم بستر، گرم کمرا اور کھانا ملتا ہے تو۔کہیں جانے کا نام ہی نہیں لیتے۔۔۔ نہیں نہیں
اُس کی انکھوں کے سامنے اپنے دونوں قریبی دوستوں کے طنزیہ انداز میں ہنستے ہوئے چہرے گھومنے لگے۔۔۔۔
کیوں رے احمق کیوں ایسی حرکتیں کرنے سے باز نہیں آتا؟
بھابھی گھر سے جاتی ہیں تو پیچھے کوئی  نہ کوئی  گل کھلایا ہوتا ہے تو نے۔۔۔بیوی تو بیوی، دوست یار بھی بس ایسے ہی ہیں اُس نے جھنجھلا کر سوچا
کسی کو اس طرح کی باتوں میں الجھنا بل شٹ سے زیادہ نہیں لگتا،اور کوئی اس سب کو نان سینس کہتا ہے۔۔۔
نہ جانے کیوں اسے اپنی ماں یاد آگئی اگر وہ زندہ ہوتی توبالکل بھی اعتراض نہ کرتی  لیکن ماں خود بھی تو اسی طرح بیمار اور کمزور تھی اور وہ ان دنوں بیوی کی طبیعت اکثر خراب رہنے کی وجہ سے ماں کو اپنے ساتھ نہ رکھ سکا تھا۔۔۔۔۔
وہ قریب جا کر نیچے جھکا تو عورت کے پھٹے ہوئے بوسیدہ کمبل سے جھانکتے چہرے پر دھنسی آنکھوں کو بالکل سر پر لگے بلب کی روشنی میں دیکھ کر سکتے میں آ گیا
اس عورت کی تیز بلوری آنکھوں میں اس کے ماضی کے وقار اور متانت کا عکس ابھی بھی جھلک رہا تھا شاید اسی لئے اس نے کسی کا دروازہ نہ کھٹکھٹایا تھا۔اُسے دیکھتے ہی عورت کی آنکھیں پہلے خوف سے سکڑیں اور پھر ان میں امید کا ایک دیا سا روشن ہو گیا۔

ویسی ہی موہوم سی چمک جیسی کبھی کبھی اپنے پرانے گھر کے کونے والے کمرے میں وہ اپنی ماں کو چائے کا گرم کپ پکڑانے جاتا تھا تو اس کی آنکھوں میں آ جایا کرتی تھی۔وہ واپس سیدھا ہوا ایک ثانیے کو کچھ سوچا اور پھر  اپنی سوچ کو ناقابل عمل جان کر جیب سے ایک چھوٹا نوٹ نکال کر اُس عورت کے پاس بیٹھ گیا

اُس نے اُس کا ہاتھ پکڑا یخ بستہ انگلیاں برف کی سلاخوں کی طرح اُس نے سینے میں اتر گئیں۔
ایک لمحے کو اس نے اس عورت کو گرم کمرے میں نرم گداز کمبل میں دبکے ہوئے دیکھا جس کے سامنے وہ تازہ کھانا اور گرما گرم کافی کا مگ رکھ رہا تھا لیکن اگلے ہی لمحے اس نے اپنا سر جھٹک دیا-
اپنی مٹھی سے نوٹ اُس نے اُس بوڑھی عورت کی سرد ہتھیلی پر منتقل کیا اور اُس کے ہاتھ کو بند کر کے اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا  اُس عورت کی آنکھوں میں کچھ دیر پہلے جلنے والا امید کا دیا اب ایک سگریٹ کے انگارے کی مانند رہ گیا تھا۔راکھ میں تبدیل ہوتی ہوئی آخری چنگاری کی طرح بالکل ایسی ہی ایک لالی اس دن اس کی ماں کی آنکھوں میں تھی جس دن وہ اسے اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ کر آیا تھا۔
لیکن اس بات کا احساس اُسے آج اس عورت کی آنکھیں دیکھ کر ہوا تھا ورنہ آج تک وہ یہ سمجھتا رہا تھا کہ جس کمرے میں اس نے ماں کو چھوڑا تھا اس کی کھڑی کھلی تھی اور شام کے غروب ہوتے سورج کی لائی ماں جی کی بلوری پتلیوں سے منعکس ہو رہی تھی۔

وہ اُس عورت کا ہاتھ دھیرے سے واپس کمبل میں رکھ کر یکدم اٹھا اور چند قدم واپس پلٹ کر ایک نظر اپنے تھری بیڈروم فلیٹ کے دروازے پر ڈالتا ہوا بائیں ہاتھ سیڑھیوں کی طرف جانے والے رستے پر مڑ گیا ۔
یہ ایک تجارتی و رہائشی عمارت تھی نیچے شاپنگ مال اوپر کچھ سٹور زاور کچھ بیچلرز کے سٹوڈیو فلیٹس اور اس کے اوپر فیملیز کے لئے باقائدہ رہائشی فلیٹس۔
ما رکٹ کھلنے میں ابھی تین چار گھنٹے پڑے تھے رات کو دیر تک بکنے والی اشیاء کی پیکنگ کی پیٹیاں، تھرمو پور کے ٹکڑے ، بچا کچا کھانا، پھلوں کے چھلکے سگریٹ کے چھوٹے بڑے ٹکڑے فرش پر گری چائے کے داغ ، مڑے تڑے کاغذ کے پرزے، اخبارات کے اوراق، اور جا بجا تھوک و بلغم کے نشانات اس وقت متعفن کوڑے میں تبدیل ہو چکے تھے ۔
مال کی سب دکانیں بند تھی اور چاروں اطراف ہو کا عالم تھا۔ چاروں طرف دور تک جاتے آرکیڈ کی چھت سے لٹکے جامد پنکھے اور بجلی کے تاروں کے سروں پر جھولتے بڑے بڑے بے نور بلب نیم اندھیرے میں سرد مردہ خانے میں لٹکے بے جان جسموں کی طرح لگ رہے تھے۔
اس نے ٹین کے ایک خالی ڈبے کو ٹھوکر مارتے ہوئے سوچا ۔ رات کی چکا چوند اور گہما گہمی کا حاصل یہ کوڑے کے ڈھیر اور یہ تنہائی و سناٹا۔۔۔۔ ٹھوکر کی آواز سناٹے میں رینگتی ہوئ دور تک چلی گی ۔ جس کی گونج ختم ہونے پر مارکیٹ کے چوکیدار نے دور کسی گوشے سے کھانس کر گلہ صاف کرتے ہوئے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
وہ بوجھل قدموں سے خارجی راستے کی طرف جا رہا تھا جہاں سے چند عمارتیں آگے کچھ ریسٹورنٹ تھے۔
مارکیٹ کے فولڈنگ گیٹ کی دونوں اطراف مٹی اور کوڑے کی وجہ سے اب نہ بند ہوتی تھی اور نہ مزید کھلتی تھی۔۔۔۔
پتہ نہیں کس طرح کتے کے ایک پلے کا پاؤں فولڈنگ گیٹ کے آہنی چوکٹے کے بیچ میں آ کر پھنسا ہوا تھا اور وہ خفیف سی آواز میں ٹاؤں ٹاؤں کیے جا رہا تھا۔
اُس نے کتے کے پلے کو دیکھا تو ترحم کا ایک جذبہ اُس کے دل میں اتر آیا۔۔پلے کے پاس جانے سے پہلے ہی اُس کے دل میں خیال گزرا  ،اگر یہ زخمی ہوا تو گھر لے جاؤں گا ، شاید لاوارث ہی ہے ورنہ ابھی تک کوئی لے گیا ہوتا۔۔۔ بیوی بھی خوش ہو گی اور بچے کی تو موجیں ہو جائے گی۔
کتے کے پلے کا پاؤں شاید دکھ رہا تھا ۔
وہ ایک عام سی نسل کا لیکن خوبصورت کتا تھا نہ جانے کیسے یہاں پھنس گیا اور بیچارہ کب سے ٹاؤں ٹاؤں کر رہا تھا۔
وہ اُس کے پاس بیٹھ گیا اور احتیاط سے اُس کا پنجہ لوہے کے خانے سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگا
سامنے سڑک سنسان تھی اکا دکا گاڑی یا اخبار فروش گزر رہے تھے یا پھر دور کے سکولوں کی بسیں آ کر رکتیں اور پھر آگے بڑھ جاتیں۔
اس نے پلے کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور اس کے پنجے کو اپنے ہاتھ میں لے کر گرم کرنے لگا تا کہ وہ ڈھیلا پڑے اور جکڑ سے نکلے اسی اثناء میں ایک سکول بس اُس کے بالکل پاس آ کر رکی اس نے اوپر دیکھا اور پھر اپنے کام میں لگ گیا۔
اچانک دھیان جانے پر اُس نے پھر منہ اٹھا کر اوپر دیکھا بس میں بیٹھی ایک ٹیچر اپنے موبائل سے اُس کی مووی بنا رہی تھی۔
وہ قدرے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، ایک گھٹنے اور پنڈلی کو زمین پر بچھا لیا اور دوسرے پاؤں کو سامنے کی طرف رکھ لیا ہاتھ میں پکڑا مفلر وہ پہلے ہی پاس رکھ چکا تھا ۔۔۔
پلے کا جیسے ہی پاؤں شکنجے سے نکلا وہ سکون میں آگیا اور بس کی طرف دیکھ کر لنگڑاتا ہوا پاس پڑے مفلر پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔

سورج کی پہلی کرنیں سامنے والی عمارت کے پیچھے سے نمودار ہوئیں ، پلے کی کالی کالی نمدیدہ آنکھوں پر سورج کی کرنیں پڑیں تو اسے پھر سے اُس عورت کی یاد آ گئی جو اوپر کوریڈور میں پڑی تھی،ساتھ ہی اسے ماں کی آنکھیں یاد آ گئی جو تین برس اولڈ ایج ہوم میں رہ کر مر چکی تھی۔۔۔۔۔
اس نے پلے کو بے دھیانی میں اٹھا کر سینے سے لگا لیا اور بے اختیار چومنے لگا۔۔۔۔۔ بس میں بیٹھے بچوں اور ارد گرد جمع ہو جانے والے لوگوں نے یہ دیکھ کر تالیاں بجانی شروع کر دیں۔۔۔ ایک عورت کی انکھوں میں تو آنسو آ گئے، وہ اپنے ہینڈ بیگ سے نشو نکال کر آنکھیں صاف کرنے لگی تو سب کے موبائلوں کے رخ اس کی طرف مڑ گئے لوگ کبھی کتے کے پلے کو فوکس میں لاتے کبھی اس کو پیار کرتے انسان کو اور کبھی آنکھوں سے آنسو صاف کرتی عورت کو۔
بس کچھ بچوں کو اٹھا کر آگے بڑھ گی ۔۔۔ اس نے بھی کتے کے پلے کو اٹھایا اور ریسٹورنٹ کی طرف چل دیا۔
ناشتہ کرنے کے بعد وہ کتے کو لے کے قریبی دکانوں کی طرف نکل گیا وہاں سے اس نے ایک خوبصورت سا پٹہ لیا، چمکتی ہوئی  نفیس زنجیر لے کر چمڑے کے پٹے کے ساتھ لگا کر اسے اپنے نئے پالتو کتے جس کا نام اس نے لکی رکھ لیا تھا کے گلے میں ڈال دی۔۔۔۔ سردی سے بچانے کے لئے اس کو ایک اونی جیکٹ بھی لے کر پہنایا اور دونوں ٹہلتے ٹہلتے ایک سیٹی بجاتا اور ایک اُوووں اُووووں کرتا گھر کی طرف چل پڑے۔
خوشی کے باوجود اس کے ذہن کے کسی گوشے میں ایک ہلکا سا کھٹکا بھی تھا کہ کہیں اس کی بیوی یا بچہ لکی کو ناپسند نہ کر دیں ۔۔۔ یا اپنی بلڈنگ تک پہنچنے پر اس کا کوئی مالک نہ آ جائے۔
جب وہ اپنے فلیٹ کے نیچے بنی مارکیٹ میں پہنچا تو بلڈنگ کے سویپر رات والا کوڑا کرکٹ اٹھا کر میونسپیلٹی کے ٹرک میں ڈال رہے تھے اکا دکا دکانیں کھل رہی تھیں ایک بار پھر سے گھما گہمی اور شور شرابے کا آغاز ہونے والا تھا۔
اچانک اس کے سیل فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔۔۔۔یہ اس کے انتہائی بے تکلف دوستوں میں سے ایک تھا
ارے اسے اس وقت کیسے یاد آ گئی؟ یہ بڑبڑاتے ہوئے اس نے فون کان سے لگا لیا
ارے یہ تُو ہے ؟ تو ہی ہے نا؟، چھا گیا ہے ڈوڈ چھا گیا ہے تُو۔
دوسری طرف سے چیختی ہوئی آواز گونجی۔
کہاں ہوں میں؟ کہاں چھا گیا بھئ؟ اس نے حیرت سے پوچھا۔
چل چل اب بن نہیں ، کیا وڈیو بنوائی ہے ظالم !تین گھنٹے سے بھی کم وقت میں تیری وڈیو وائرل ہو گئی ہے ہر طرف بس تو ہی تو ہے۔
چل تو دیکھ اور انجوائے کر۔ دن کو ملتا ہوں دوسری طرف سے جواب سنے بغیر لائن کٹ گئی
اس نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے لکی کو خود سے آگے نکلنے کا راستہ دیا اور حیرت اور تجسس سے سوشل میڈیا کی مختلف سائیٹس یکے بعد دیگرے کھولنا شروع کر دیں۔۔۔۔فیس بک، یو ٹیوب ، انسٹاگرام۔اس کی اور لکی کی وڈیو واقعی جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی۔۔۔
موبائل کی سکرین کا رنگ بدلا اور اس کی بیوی کا نام اور نمبر نمودار ہوا
ہیلو اس نے ریسیوکا بٹن دبا کر فون کان سے لگتے ہوئے پر اشتیاق لہجے میں کہا
ہنی تم کہاں ہو؟ ہمیں گھر پہنچے ہوئے بھی ایک گھنٹا ہو گیا ہے اور یہ وڈیو ، کہاں ہے ہمارا ڈوگی؟ تمہیں پتہ ہے کتنا مشکل ہے اتنے کیوٹ بوائے کا انتظار کرنا۔۔۔ اوہ مائی گاڈ اتنی جلدی نائین تھاؤزنڈ لائکس؟۔۔۔۔۔ آئم ایم پراوٗڈآف یو ، ہنی۔۔۔ آئی ایم ریئلی پراؤڈ آف یو۔۔۔۔
جلدی آؤ ناں۔۔۔
اس نے فون جیب میں رکھ کر لکی کو ایک بار پھر گود میں اٹھا لیا۔۔
سیڑھیوں کے اختتام پر اسے کوریڈور کے دو طرفہ موڑ پر کچھ آوازیں سنائی دیں۔
چند قدم آگے جا کر اس کے اپنے فلیٹ کی طرف بائیں مڑنے سے پہلے ہی دائیں موڑ سے اس کا ایک پڑوسی نمودار ہوا جس کے پیچھے موڑ پر اُسے ایک پولیس والے کی جھلک دکھائی دی ۔۔۔ کیا ہوا ؟اس نے لکی کا منہ چیسٹر کے اندر چھپاتے ہوئے دھیرے سے پوچھا۔
کچھ خاص نہیں ایک ہوم لیس عورت مری پڑی تھی ہمارے کوریڈور میں اس کی باڈی لے کے جا رہے ہیں۔
وہ موڑ پر پہنچ کر دائیں طرف دیکھے بغیر بائیں مڑا اور چند بوجھل سے قدم اٹھا کر ڈور بیل بجائے بغیرلکی کو گود میں اٹھائے اپنے گھر میں داخل ہو گیا۔

Save

Save

قمر سبزواری
قمر سبزواری
قمر سبزواری ۲۲ ستمبر ۱۹۷۲ عیسوی کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ملازت شروع کی جس کے ساتھ ثانوی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ صحافت میں گریجوئیشن کرنے کے بعد کالم نگاری اور افسانوی ااادب میں طبع آزمائی شروع کی۔ کچھ برس مختلف اخبارات میں کالم نویسی کے بعد صحافت کو خیر باد کہ کر افسانہ نگاری کا باقائدہ آغاز کیا۔ وہ گزشتہ دس برس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “پھانے” کے نام سے شائع ہوا۔دو مزید مجموعے زیر ترتیب اور دو ناول زیر تصنیف ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *