گلاب لمحے۔۔۔بک ریویو۔۔احمد رضوان

گلاب لمحے کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا
محترم و معظم صاحب صدر، گرامی قدر اراکین ادبی گروپ رائٹ ناؤ(Write Now) ،معزز خواتین و حضرات السلام علیکم
آپ سب کی آمد اور اس محفل کو چار چاند لگانے کا خصوصی شکریہ۔سب سے پہلے تو ایک وضاحت جو پہلے جملے میں میں نے رائٹ ناؤ کا استعمال کیا ۔یہ نہ تو وہ رائٹ ناؤ ہے جوزوجہ ماجدہ اپنے شوہر نامدار کو تحکمانہ اور دھمکیانہ انداز میں دے کر کہتی ہے وہ پڑے ہیں کچن میں برتن شروع ہوجاؤ رائٹ ناؤ ۔اور نہ اس رائٹ میں کوئی رائٹسٹ ہے اور نہ لیفٹسٹ اور ناؤ بھی نہ تو صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی نظم سنوگپ شپ والی ہے جسمیں ندی ڈوب چلی تھی اور نہ ہی یہ ناؤ محفل ناؤ نوش والی ہے بلکہ ایک چھوٹا سا ادبی حلقہ ہے جس میں ہم چند ہم سخن اکٹھےہوکر اپنے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہیں۔اس کے بعد میں محترمہ روبینہ فیصل کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنھوں نے خاکسار کے بارے میں اتنا اچھا حسنِ ظن رکھتے ہوئےتعارف پیش کیا ورنہ من آنم کہ من دانم۔اسی خدشہ کے پیش نظرکہ کہیں میری تحریر کے اختتام تک آپ کا پیمانہ صبرنہ چھلک جائے اور میری بابت آپ کی خوش گمانی برقرار نہ رہے اس لئے پرانے وقتوں کے سمجھدار اور زمانہ ساز وزیروں کی طرح جان کی امان پہلے طلب کروں گا۔ پیشگی معذرت اگرمضمون کی طوالت آپ کو بوریت کے اس درجہ پر لے جائے کہ جماہیوں کے ساتھ آپ تالیاں بجا کر اپنے ساتھ بیٹھےسوئے ہوؤں کو ہڑبڑا کر اٹھنے پر مجبور کردیں۔
یوسفی صاحب کا قول ہےکہ کتاب کی تقریب رونمائی میں مضمون پڑھتے ہوئے چار چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے۔اول سنجیدہ لوگوں میں سنجیدہ گفتگو سے پرہیز کرو، دوم،اختصار سے کام لو،سوم بیٹھ جاؤ قبل اس کے کہ ہاتھ پکڑ اور دامن کھینچ کر بٹھا دیا جائے۔چہارم بولتے سمے آنکھیں بند رکھو تاکہ سامعین کا ردعمل نہ دیکھ سکو۔چوتھے نقطے سے ہمیں یہ اختلاف ہے آنکھیں بند رکھنے سے آپ اپنا لکھا ہوا کیسے پڑھ سکیں گے تاوقتیکہ آپ حافظ ہوں یا اس اندھے فقیر کی مانند جس نے اپنے کشکول سے رقم پار کرتے ہوئے ایک باریش کو کہا تھا حاجی صاحب اتنا ظلم تو نہ کریں اور حاجی صاحب اندھے فقیر کی قیافہ شناسی پر حریان رہ گئے تھے۔
خیر بات دوسری طرف نکل گئی آمدم برسرمطلب اپنی چند گذارشات پیش کروں گا انہیں ایک ادنیٰ قاری کی خامہ فرسائی سمجھکر برداشت کر لیجئے گا کہ ادبی نقاد ،تجزیہ اور تبصرہ نگار ہونے کا نہ دماغ ہے نہ دعویٰ اور نہ ہی حوصلہ۔رابعہ احسن صاحبہ کی کتاب پوری پڑھنے کے بعد جی الحمد للہ پوری کتاب پڑھے بنا تبصرہ صرف نامور استادوں اور فاضل نقادان ادب کو ہی زیبا ہے ، ہم جیسے عام قاری اس پرکاری سے عاری ہیں۔رابعہ احسن صاحبہ سے میرا اولین تعارف فیس بک کی معرفت ہوا چونکہ برقیاتی مجلے کی ادارت کی تہمت کا سزاوار ہوں تو اس حوالے سے محترمہ رابعہ احسن کے کالم اور افسانے شائع کرنے کا شرف حاصل ہوا۔تب تک معلوم نہ تھا وہ بھی میری طرح وطن کی مٹی سے دور اس کی یادیں دل میں بسائے جی رہی ہیں۔ان سے پہلی فیس ٹو فیس ملاقات ایک ادبی تقریب میں ہوئی جو روبینہ فیصل صاحبہ کی افسانوں کی کتاب خواب سے لپٹی کہانیاں کی تقریب اجرا کی تھی۔
رابعہ احسن کی کتاب گلاب لمحے ان کی پہلی شاعری کی کتاب ہے اور کسی کتاب کے حوالے سے میرا بھی یہ پہلا تبصرہ ہے جو صاحب کتاب اور حاضرین کی موجودگی میں پڑھ رہا ہوں ،اس سے پہلے چند کتب پر قلمی چاند ماری کر چکا ہوں مگر وہ تمام غائبانہ تھے اس لئے ــ”سخن فہمی عالم بالا معلوم شد” کے مصداق ان کا جواب “جاہلاںخموشی باشد” کی صورت میں موصول ہوا ۔
انگریزی ادب کارومانوی شاعر جان کیٹس کہتا ہے کہ ـ”شاعری شاعر کے پاس یوں آنی چاہئےجیسے آمد بہار پر شاخ پر کونپلیں ورنہ بالکل نہیں آنی چاہئے”۔ہم اس میں فقط اتنا ہی اضافہ کرنا چاہیں گے بالکل کونپلیں اور شگوفے سینکڑوں کی تعداد میں آئیں مگر ہر شگوفہ کھل کر گلاب بن جائے یہ ضروری نہیں۔کاش ہمارے شعرا کرام اس لطیف نکتے کو پا جائیں تو ان کے کافی سارے کلام سے جو اغلاط اور لطف سے مبرا ہوتا ہے ، ہماری سماعتیں اور نگاہیں محفوظ رہیں۔ اسی لئے رابعہ احسن صاحبہ نے اپنی کتاب میں وہی کلام پیش کیا ہے جو حشو و زوائد کے بغیر ہے اور معیار کی کڑی قینچی سے کتر بیونت کرنے کے بعدکتاب میں شامل ہوسکا ہے ۔بعض جگہ کتاب میں آپ کو فقط ایک یا دو شعر ہی شامل ملیں گے جو آورد کی بجائے آمد کا بین ثبوت ہےکہ بھرتی کا ادب دھرتی کے ادب کا نمائندہ کم کم ہی ہوتا ہے۔
ایک مدت سے تیرا درد نہ ابھرا دل میں
ایک مدت سے لگا سانس نہیں لی ہم نے
یا یہ شعر دیکھئے
مسافتوں کی تھکن نے مجھے نڈھال کیا
یہ کیا ہوا کہ تیرا جسم ٹوٹ کر بکھرا
رابعہ احسن کی نظموں میں جو معنوی قوس قزح ہے وہ روایتی اور جدید شعریت کے درمیان جمالیاتی پل بنانے کی ایک عمدہ کاوش ہے۔ان میں جو مشرقی سوچ،مزاج اقر اظہار کا پیرایہ ہے وہ اپنی نوعیت میں ایک خاصے کی چیز ہے ۔ رابعہ احسن کی نثری نظم جسےآزادنظم بھی کہا جاتا ہےادب کی اس وادی ِ پرخار سے بخیر و خوبی گذری ہےورنہ آج کل مادر پدر آزاد نظمیں بھی بکثرت نظر آرہی ہیں۔
ہماری جاں پہ عذاب سارے
محبتوں کے حساب سارے
تری نظر کے ہیں شاخسانے
یہ جتنے جگنو،یہ جتنے موسم
ہماری آنکھوں میں آگئے ہیں
چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی بات کو سادگی اور روانی سے بیان کرنا بلاشبہ رابعہ احسن کی شاعری کا نمایاں وصف ہے جو خداداد ہے اور اور قابل تحسین و داد ہے۔پوری کتاب اپنی ذات کے اندر جھانک کر اپنے دل کو ٹٹولنے سے لے کر تخیل کی بلند پروازی اور عمیق مشاہدے کی کہانی بہت عمدگی سے بیان کرتی ہے۔ دل میں اترنے سے لے کر دل سے اترنے کا سفر انسان کتنی تیزی سے طے کرتا ہے اس کا ادراک رابعہ احسن کو بخوبی ہے اور وہ ان نفسانی اور نفسیاتی رویوں کا کمال خوبی سے محاکمہ کرتی ہیں۔
کہتی ہیں
بات تو وہ ہے جو دل میں اترے
یا پھر یہ ہے کہ دل سے اترے
آخر میں بس یہ کہنا چاہوں گا کہ محترمہ رابعہ احسن کی یہ کتاب اردوادب میں ایک اچھا اضافہ ہے اور امید واثق ہے کی ان کا ادبی سفر یوں ہی جاری و ساری رہے گا اور وہ ادب میں کوئی نیا موڑ لانے کا سبب نہیں بنیں گی جیسا کہ فراق گھورکھپوری سے ایک شاعر نے کہا کہ میری شاعری اردو ادب میں نیا موڑ لائی ہے تو فراق صاحب جل بھن کر بولے جی اسی وجہ سے اردو شاعری مڑی تڑی نظر آرہی ہے۔

احمد رضوان
احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *