لفافے کی موت۔۔مریم مجید ڈار

رات دبے پاؤں بنا کوئی چاپ پیدا کیے گزرتی جا رہی ہے۔ اور صبح ہونے میں چند ہی گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔۔صبح جو مجھے نجات دلانے کو چلی آتی ہے۔ مجرم چھوٹنے والا ہے ۔۔ وقت کا ٹھیک علم تو نہیں مگر اندازہ ہے کہ لگ بھگ نصف شب بعد کےپہر چل رہے ہیں۔ اور ابھی جب کچھ گھنٹوں کے بعد،فجر کی نماز کا سلام پھیرتے ہی میں اس جانب لے جایا جاؤں گا جہاں جیلر،جلاد اور جیل کا سرکاری ڈاکٹر میرے منتظر ہوں گے۔
مجھے ایک بڑا ڈائپر پہنایا جائے گا تا کہ جب پھانسی کا پھندہ میری گردن کی ہڈی کو ایک جی متلا دینے والی چٹخ کے ساتھ توڑے اور میرے جسم کی غلاظتیں اور عفونتیں اس بے روح بدن کے ساتھ آخری وفاداری نبھاتے ہوئے خارج ہوں تو پھانسی گھاٹ پر بدبو اور غلاظت نہ پھیلے۔۔
تو یہ زندگی کے آخری چند گھنٹے میں اپنی بیرک کے اس گوشے میں جہاں ڈوبتے چاند کے پھیکے غبار میں میری ستائیس سالہ زندگی جھلکیوں میں چل رہی ہے۔لیٹے ہوئے محض اپنے آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں! جو زندگی میں کبھی خود سے نہ ملا، مرنے سے پہلے ایک ملاقات کرنا چاہتا ہوں تا کہ محشر میں تو خود کو پہچان سکوں ۔فرشتوں کو کہاں تک زحمت دی جائے بھلا؟
زندگی اپنی اختتامی گھڑیوں میں داخل ہوا چاہتی ہے اور الوداع کرنے کو کوئی موجود نہیں ہے۔۔یہ میرا دل جو طاقتور ،صحت مند اور مضبوط ہے اس بات سے بے خبر کہ کچھ ہی دیر میں اسکی کارکردگی روک دی جائے گی، اپنا کام کیے جاتا ہے۔ سانس کی آمدو رفت آنکھوں کی،پتلیوں کی جنبش اور پلکوں کا جھپکنا بھی بالکل ایسے ہی معمول پر ہے جیسے میں جیل کی اس کال کوٹھڑی میں موت کا منتظر نہیں ہوں بلکہ اپنے چھوٹے سے گھر میں اپنے بستر پہ لیٹے ہوئے نیند کی وادی میں اتر رہا ہوں۔۔آہ! یہ نظام حیات کا مضحکہ خیز پھکڑ پن!
میں سزائے موت کا ایک قیدی ہوں اور چند گھنٹوں بعد آنے والی موت کا انتظار کرتے ہوئے خود سے بات کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔زندگی کی چرخی بہت تیزی سے الٹی سمت میں گھوم رہی ہے اور میں خود کو ایک ایسے منظر میں پاتا ہوں جو بہت مانوس ہے ، زرد چونے سے لپی ہوئی کوٹھڑی میں چار بچے ایک مفکوک الحال ،الجھے بالوں والی عورت کے آس پاس بیٹھے ہیں جسکی شلوار میلی اور قمیض پیوندوں سے مزین ہے۔ بچوں نے بدن کا زیریں حصہ ڈھانپ رکھا ہے اور اوپری بدن پہ میل مٹی اور پسینے کا غلاف ہے۔
عورت اور بچے زمین پہ بچھے ہوئے ردی کاغذوں سے لفافے بنا رہے ہیں۔۔انکے ہاتھ تیزی سے چل رہے ہیں،عورت مختلف حجم کے کاغذ کاٹتی جاتی ہے اور بچے انہیں لفافوں کی شکل دے کر بھوری چپچپی لئی سے جوڑتے جاتے ہیں  ۔۔بچوں کی عمروں میں سال ڈیڑھ سے زیادہ کا فرق نہیں ہے اور سب سے بڑا بچہ ،جسکی نیلی شلوار کے پائینچے پھٹے ہوئے ہیں وہ میں ہوں ۔۔میرا نام؟؟؟یاد نہیں آ رہا مگر یہ کیسی بیدار ذہنی ہے جو مجھے  اندھیرے کوٹھے کے ایک کونے میں لئے جاتی ہے جہاں ایک ہلتی ہوئی چارپائی پر میرا آدھا بدن میرے باپ کی صلب سے مچل کر نکلا اور میری ماں کے رحم میں اک گرم مادے کی صورت آن گرا ہے۔۔کاش!! میں تب کسی شے پر قادر ہوتا تو باپ کی صلب سے چمٹ کر سوکھ جاتا یا رحم مادر کی دیواریں کھرچ کر فنا ہو جاتا مگر عدم سے وجود میں نہ آتا مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے سانچے بنانے بگاڑنے کا اختیار کسی اور کے قبضہ قدرت میں ہے۔ تو میرا سفر ایک ہلتی ہوئی چارپائی سے شروع ہوا تھا اور جھولتے ہوئے پھندے پہ ختم ہو گا۔۔

خیر! میں واپس اس منظر کو لوٹتا ہوں جہاں لفافے بن رہے ہیں۔۔۔۔”کمبختو! جلدی ہاتھ چلاو!” ماں کے زنگ آلود قینچی سے ردی اخبارات کاٹتے ہاتھوں نے  ذرا دیر کو اپنا کام روکا اور پاس بیٹھے بلو کی کمر میں دھموکا جڑا جو لئی سے لتھڑی انگلیاں لئے  بجائے لفافہ جوڑنے کے کٹے ہوئے کاغذ پہ بنی کسی اشتہا انگیز خوراک کو یوں گھورے جا رہا تھا مانو ابھی کسی معجزے سے یہ خوراک اخبار سے نکل کر اس کے سامنے آن پڑے گی۔ دھموکے کے جھٹکے سے اسکی خمیدہ کمر کسی شاخ کی طرح لچکی اور وہ تندہی سے کٹے ہوئے اخبار کو لفافے کی شکل دینے لگا۔ ” کاکے ! یہ کھیپ سوکھ جائے تو سیٹھ کو یہ سارے لفافے دے آنا ! ماں نے اخبار کی آخری گڈی کو کاٹتے ہوئے مجھے کہا اور میں دل ہی دل میں سخت تلملایا کہ ابھی چلچلاتی دوپہر میں تو میں نے لئی تیار کی تھی اور اب ایک بار پھر سے ان لفافوں کا بوجھ کمر پہ اٹھائے دھوپ سے بھری گلیاں عبور کر کے سیٹھ کی ہٹی تک جانا ہو گا،آخر ماں بلو،عزمی اور گڈو کو کیوں نہیں بھیجتی یہ منحوس لفافے دے کر”!! شاید ماں کی انتر یامی نظروں نے میرے بشرے سے جھلکتا انکار دیکھ لیا تھا جبھی دوسرا دھموکا مجھے نصیب ہوا ” کمبخت مارے! اگر آج پیسے نہ ملے تو مجھے کھا کر سونا تم سب” وہ پسینہ میلی چادر کے پلو سے پونچھتے ہوئے غرائی تو میرے پیٹ میں سوئی بھوک انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھی اور  مجھے یاد آیا کہ صبح سے میں نے بغیر دودھ والی چائے کے ساتھ دو سیلے اور نرم ہو چکے پاپے ہی کھائے تھے اور اب دوپہر ڈھلنے کو تھی۔صبح ہم نے چڑیوں کے جاگنے سے بھی پہلے رزق کا یہ کاغذی کنواں کھودنا شروع کیا تھا اور راحت کا پانی ہنوز نمودار نہیں ہوا تھا۔دس ہاتھ ممکنہ دال روٹی کے تصور سے بے تاب ہو کر مزید تیزی سے چلنے لگے۔ ہمارے ہاں سب ہاتھ مساوی تھے یکساں محنت کرتے تھے کیونکہ ہمارا باپ۔۔اپنے دونوں ہاتھ لے کر وہاں چلا گیاتھا جہاں آدم زاد شکم کے شکنجے سے رہائی پا لیتا ہے ۔
جلد ہی لئی لگے لفافے سوکھ گئے تو میں نے انہیں ایک پرانی بوری میں ڈالا اور کندھے پر رکھے سیٹھ کی ہٹی کی جانب چل دیا۔
ہٹی تک پہنچنے کے لئے  چار گلیاں اور دو سڑکیں عبور کرنا پڑتی تھیں اور تیسری گلی میں نیلے دروازے اور مٹیالی دیواروں والا سرکاری سکول تھا جس کے اندر قدم دھرنے کا حق مجھ سے میرے باپ نے مرتے ہوئے چھین لیا تھا ۔ ہم سب اب کاغذ کی دنیا میں رہ رہے تھے مگر انہیں پڑھنے اور ان پہ لکھنے کا اعزاز مجھ سمیت میرے کسی بھائی کو نہ حاصل ہو سکا تھا۔
جب میں سکول کے قریب پہنچا تو بلاارادہ ہی اس کے بند دروازے پر جو میرے لئے  کبھی نہیں کھلنا تھا،زوردار لات رسید کی اور تیز قدموں سے آگے بڑھ گیا۔
ہوا سیدھی جہنم سے چلی آ رہی تھی اور تارکول کی سڑک پر میری پرانی پلاسٹک کی چپل پگھل کر تلووں سے چپک رہی تھی ۔مجھے ڈر ہوا کہ کہیں میری پشت پہ لدی کاغذی لفافوں کی بوری بھی نہ جل اٹھے اور سڑک کی گرمی سے تلوؤں کو بچانے کی تگ و دو کرتے ہوئے میں نے اپنی رفتار میں اپنی ہمت کے آخری درجے کا اضافہ کر دیا اور کچھ ہی دیر میں میں سیٹھ کی ہٹی کے سامنے کھڑا ہانپ رہا تھا۔
جب میں بوری اٹھائے اندر داخل ہوا تو سیٹھ پنکھے کے عین نیچے بیٹھا کھانا کھا رہا تھا اور گرمی کی وجہ سے اس نے قمیض اتار رکھی تھی۔ سفید بنیان میں اس کا مدور پیٹ بالکل مسجد کے گنبد کی طرح معلوم ہو رہا تھا۔
“اے لے آیا مال”؟؟ سیٹھ نے مونچھوں پر لگی ہوئی چکنائی کو انگوٹھے سے پونچھا اور مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے بکرے کے گوشت کی چچوڑی ہوئی ہڈی ایک طرف اچھالی ۔ میں نے کنکھیوں سے بھانپ لیا کہ ہڈی پر تھوڑا سا گوشت ابھی باقی ہے۔ بھوکے کلیجے میں کھانے کی خوشبو انی بن کر گڑ گئی ۔
“کاش میں اسے اٹھا سکوں!!” میرے منہ میں گوشت کی سلونی لذت کے تصور سے پانی بھر آیا اور میں اثبات میں جواب دیتے ہوئے اس کے قریب بوری رکھ کر کھڑا ہو گیا۔
“سیٹھ یہ چار دن کا مال تیار ہو گیا ہے ! اماں نے کہا تھا آج کی دیہاڑی کے ساتھ اگر کل کی مزدوری بھی دے دو تو مہربانی ہو گی، کھولی کا بھاڑا بھی دینا ہے اور آٹا بھی ختم ہے ” میں نے منمناتے ہوئے ماں کی التجا سیٹھ کے سامنے پیش کی جو اب ایک بڑے سے ترازو پر بوری کا وزن کر رہا تھا۔
“ابے! میرے کیا نوٹ پیڑوں سے اتر رہے ہیں ؟؟ بتاؤ  بھلا؟؟ جتنا کام ہو گا اتنا ہی پیسہ بھی ملے گا سمجھا؟ اور یہ ۔۔۔ادھر آ۔!! سیٹھ  نے ٹکا سا جواب دیتے ہوئے انگلی کے اشارے سے مجھے قریب بلایا۔ میں نزدیک ہوا تو اس نے میرا کان پکڑ کر کسی بے جان شے کی طرح گمھا دیا۔ “بے ایمانی کی بھی حد ہے کوئی ؟ بارہ کلو ردی تیری ماں نے اٹھائی تھی اور لفافے صرف دس کلو؟؟ پاگل سمجھ رکھا ہے کیا؟؟ ردی کباڑئیے کو بیچی ہے ناں؟؟” میرا کان ہنوز اس کی انگلیوں میں دبا تھا اور درد کی شدت سے میری آنکھوں میں آنسو بہہ نکلنے کو مچل رہے تھے۔
“سیٹھ۔۔وہ کاغذ  خراب تھے لفافے نہیں بن سکتے تھے۔۔۔۔” میں نے اسے بتانے کی کوشش کی کہ ردی درمیان سے شاید پانی لگنے کی وجہ سے متاثر ہو گئی تھی مگر سیٹھ پر چنداں اثر نہ ہوا۔
“جھوٹ بولتا ہے ،بے ایمان !! بتا دینا اپنی ماں کو،آئندہ ایسا ہوا تو کام نہیں ملے گا”! بالاخر سیٹھ نے میرا کان آزاد کیا اور اپنی میز کی جانب بڑھا، رقم والی صندوقچی سے سو روپے کے دو میلے نوٹ برامد کیے  اور میری جانب بڑھا دئیے۔
“یہ پکڑ۔۔اور پچاس روپے دو کلو ردی کے کاٹ لئے ہیں میں نے” سیٹھ نے مجھے اطلاع دی ۔
بے بسی کی شدت نے مجھے التجا کرنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ ہم پانچ انسانوں کی بھوک سے دو کلو ردی زیادہ وزنی تھی۔
پیسے مٹھی میں دبا کر باہر نکلتے ہوئے میں نے کمال صفائی سے وہ ہڈی بھی پار کر لی تھی جو سیٹھ نے چچوڑ کر پھینکی تھی اور واپسی کے تمام سفر میں اسے چوستے ہوئے میں  ذائقے کے دھوکے سے پیٹ بھرتا رہا۔
کھولی کے دروازے تک پہنچتے پہنچتے ہڈی بالکل سفید ہو چکی تھی مگر جانے کیوں اسے پھینکنے کی بجائے میں نے اسے اپنی قمیض کی آستین میں چھپا لیا۔
اندر داخل ہوتے ہی ماں جو قینچی سے زخمی ہونے والی انگلیوں پہ تیل اور ہلدی لگا رہی تھی میرے پاس لپک آئی۔ “کاکے سیٹھ نے ایڈوانس دے دیا ہے ناں؟؟” اس کے جسم کا رواں رواں ہاں سننا چاہتا تھا مگر میرے پاس فقط وہ انکار تھا جو میں سیٹھ کی ہٹی سے اٹھا لایا تھا اور زبان پہ اسکا بوجھ دس کلو لفافوں اور پانچ پیٹوں کی بھوک سے زیادہ وزنی تھا۔
میں نے مٹھی میں دبے دو میلے اور پسینے سے گیلے ہو چکے لال نوٹ ماں کی پھیلی ہتھیلی پہ رکھ دئیے۔” سیٹھ نے دو کلو ردی کے پچاس روپے کاٹ لیے ہیں ۔”ماں کے دونوں سوالوں کو میں نے ایک جواب میں لپیٹ کر اسے واپس کیا اور پلاسٹک کی پرانی چٹائی پر جہاں بلو عزمی اور گڈو آڑے ترچھے پڑے تھے، ایک کونے میں جا کر لیٹ گیا۔
ماں نے اب کیا جوڑ توڑ کرنا تھا یہ وہی جانے مگر اسکی سسکیاں میرے کانوں میں کتا مکھی کی مانند بھنبنا رہی تھیں۔
کچھ دیر گزری اور وہ چپلیں گھسیٹتی کھولی سے باہر نکل گئی۔ میں نے کروٹ بدلی اور آستین میں چھپائی ہوئی ہڈی نکال کر اسے دوبارہ چوسنے لگا مگر اب وہ خشک اور بے رس ہو چکی تھی اور اس میں کوئی  ذائقہ بھی باقی نہیں رہا تھا۔ ۔شاید پسلی کی سیدھی اور چپٹی ہڈی تھی اور تب وہ پہلا موقع تھا جب میرے باطن میں قتل کی ایک شدید تحریک اٹھی۔میرا جی چاہنے لگا کہ کاش کسی طرح یہ ہڈی اتنی تیز دھار اور نوکیلی ہو جائے کہ میں اسے سیٹھ کے مدور پیٹ میں گھسا سکوں جو پانچ پیٹوں کو دو کلو ردی سے کمتر جانتا ہے۔یا ماں کے؟ جو کبھی بھرا نہیں رہا۔۔یا پھر عزمی بلو اور گڈو کے خالی لفافوں کی طرح چپکے پیٹوں کو بھی چھیدا جا سکتا ہے!!
پندرہ سال کی عمر میں اس منحوس دوپہر میں قتل میرے اندر آن بسا۔
اس وقت تو میں نے اس خیال کو جھٹک دیا مگر میں وہ ہڈی نہ پھینک سکا اور ایک قاتل ہمہ وقت میرے اندر خارپشت کی مانند پلنے لگا۔
ہم پانچوں افراد زندگی نامی عفریت کا مقابلہ کاغذی تلواروں سے کسی نہ کسی طرح کر ہی رہے تھے کہ ہمارا ایک سپاہی میدان جنگ سے فرار ہو گیا۔ عزمی! وہ کراچی کے مقبول عام روزگار کا شکار ہو گیا تھا۔ ماں کاغذ کاٹتی رہی اور عزمی جانے کب جیب کاٹنے اور راہ چلتی عورتوں کے پرس چھیننے میں ماہر ہو گیا ۔ بھوک کے راستے میں صحیفوں کے مقدس کاغذ بھی بچھا دئیے جائیں تب بھی ایک چوسی ہوئی ہڈی کی اشتہا ساری پاکیزگی اور نیک خیالات پر بھاری پڑتی ہے اور بیچاری ماں کے پاس تو صرف ردی ہی تھی، بھوک بھلا کب تک دھوکہ کھاتی۔
پہلے پہل جب اس نے سو دو سو روپے ہفتے میں ایک آدھ بار ماں کی ہتھیلی پہ رکھے تو وہ چونک گئی۔ ” کہاں سے آئے ہیں” وہ سخت نظروں سے عزمی کو گھور رہی تھی۔ جو پتلی دال میں روٹی کے آخری لقمے بھگو کر کھا رہا تھا۔
“کچی بستی کے کچھ لڑکوں کے ساتھ پلاسٹک کی خالی بوتلیں اور ہسپتالوں کا کچرا چننے جاتا ہوں، اچھا بک جاتا ہے”۔ اس نے ماں کو آدھا ادھورا سا جواب دے کر ٹال دیا اور آمدنی میں ریت کے  ذرے جتنے اضافے نے ہی ماں کو مزید چھان بین کی مہلت نہ دی۔
ایک شام جب چھاجوں چھاج مینہ برس رہا تھا اور ہم کھولی کی ٹپکتی چھت کے نیچے مختلف چھوٹے بڑے برتن رکھنے میں مصروف تھے تو تبھی دروازے پر زوردار دستک ہوئی۔
ماں نے دروازہ کھولا تو ساتھ والی کھولی کا قادر بھائی کھڑا تھا ” غضب ہو گیا بہن ! ناکے پہ عزمی گرا پڑا ہے، جلدی پہنچو، پولیس آ گئی تو تھانہ کچہری کیسے سنبھالو گی” اس نے یہ خبر کسی تلورا کی طرح ماں کے سینے میں اتاری اور الٹے قدموں لوٹ گیا۔
میں ، ماں اور بلو جب ناکے پر پہنچے تو عزمی کا کٹا پھٹا وجود سڑک پر بارش میں کسی غلیظ پھٹے ہوئےلفافے کی مانند تیر رہا تھا ۔
ہم اسے اٹھانے پہنچے تو لوگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ کسی عورت کا پرس چھین کر اپنے گینگ کے لڑکوں کے ساتھ فرار ہو رہا تھا۔ عورت کے شور مچانے پر وہاں موجود لوگوں نے ان کا پیچھا شروع کر دیا باقی لونڈے تو موٹر سائکلوں پر نکل لئے  مگر بدقسمتی سے عزمی ہجوم کے ہتھے چڑھ گیا اور اس قاتل نے، جو ہم سب کے باطن میں خار پشت کی طرح پل رہا ہوتا ہے ، اپنی ناآسودہ خواہشات کو عزمی کے روپ میں مجسم کر کے بدلہ لینے کا آغاز کیا، بمشکل آدھے گھنٹے میں بیس سال کے شب و روز کی گوند کھل گئی اور پھٹے لفافے سے روح کا سودا گیلی سڑک پہ بہہ گیا۔
دو ہاتھ مزید آسودہ ہوئے! ماں کبھی کبھی راتوں میں اٹھ کر اپنے پیٹ کے ایک حصے کو زور سے دبا لیتی اور ایسے تھپکنے لگتی جیسے وہاں کوئی نومولود بچہ چھپا سو رہا ہو۔ جانے کیوں مجھے ایسے لگتا کہ اس بارش کی رات عزمی میونسپل کے قبرستان میں نہیں بلکہ ماں کے پیٹ میں دفن ہوا تھا اور اب جو ماں اپنا پیٹ سہلاتی ہے تو درحقیقت وہ عزمی کی قبر پہ ہاتھ پھیر رہی ہوتی ہے ۔
پھر ایک دوپہر ایسی بھی آئی کہ عزمی کی قبر نے ماں کو خود میں گھسیٹ لیا  ۔ کیا ہوا تھا اس دوپہر میں؟؟ زیادہ تو کچھ بھی نہیں !! بس نتھنوں سے تھوڑا  لہو بہہ کر سفید ہونٹوں پہ جما ہوا تھا اور بس!! اور یہ وہ دن تھے جب گڈو جو سب سے چھوٹا تھا، ایک عجیب ،نہ سمجھ میں آ سکنے والی بیماری میں مبتلا ہو چکا تھا۔ اچھا بھلا گڈو ایک دن بیٹھے بیٹھے نچلے دھڑ سے معذور ہو گیا ۔ہلکا سا بخار اور پھر اس کا بے جان دھڑ چٹائی پر یہاں وہاں رلنے لگا۔ ماں اور بلو کچھ دن تو اسے سرکاری ہسپتالوں میں گھسیٹے پھرے ۔ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اسے فالج ہوا ہے مگر یہ کیسا فالج تھا؟؟ جس نے ٹانگیں اور ہاتھ پیر تو معذور کر دئیے تھے مگر پیٹ سے صاف کنی کترا گیا تھا۔
ماں اب اسے بھی سنبھالتی تھی اور لفافوں کے علاوہ اب وہ ایک مقامی بیکری میں سموسوں کی بھرائی کا کام بھی کرنے لگی تھی۔  وہ مزید بوڑھی اور بدشکل ہو گئی تھی ۔کبھی کبھی تو مجھے اس پر ڈائن کا گمان ہوتا مگر جانے کیسی ڈائن تھی کہ ہمارے کلیجے چبانے کے بجائے اپنا جگر کھلائے جا رہی تھی  اور پھر جب اس دوپہر آخری لوتھڑا بھی انجام کو پہنچا تو وہ بھدے جھریوں بھرے ہاتھ پیٹ میں دھنسا کے چھٹکارا پا گئی۔
میں اب ایک نئے عذاب میں آن پھنسا تھا۔ بلو نے ماں کے مرنے کے بعد گھر آنا چھوڑ ہی دیا تھا اور میں دن بھر گدھوں کی طرح سبزی منڈی میں ٹرک ان لوڈ کروانے کے بعد رات گئے گڈو کی زندہ لاش کو صاف ستھرا کرنے اور کھلانے پلانے کے صبر آزما مرحلوں سے گزرتے ہوئے اس قاتل کو تپھکیاں دیا کرتا تھا جو ایک بار پھر سے میرے لہو میں سر اٹھانے لگا تھا۔
رات گئے بستر کی راحت نصیب ہوتی تو سوچتا کہ آخر میرا ہونا کس کے لئے  ضروری تھا؟؟ اور سانس  کا یہ احسان ؟ آخر جنم داتا ان سانسوں کا تاوان کب تک مجھ سے وصولتا رہے گا؟
اور اگر جو میں نہ ہوتا تو کارزار دنیا میں کیا کمی ہو چلی تھی؟؟ گڈو کی زبان بھی فالج سے متاثر ہوئی تھی اور اسکی بے معنی غوغاں مجھے اکساتی تھی کہ خار پشت کو باہر نکال لیا جائے۔
دن بھر وہ اپنی غلاظت میں لتھڑا ہوا اپنے منہ پہ مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی اذیت سہتا ہوا میری واپسی تک تقریباً  جانکنی کی کیفیت میں ہوتا تھا مگر جانے اس ڈھیٹ لفافے کے کس جوڑ میں روح اٹکی ہوئی تھی کہ کھل کر ہی نہ دے رہا تھا۔ گلی سڑی اس تعفن زدہ سسکتی لاش کی بدبو شاید ملک الموت کو بھی قریب پھٹکنے کی جرات نہیں ہونے دیتی تھی ۔ کئی بار جی چاہا کہ ایدھی سینٹر چھوڑ آؤں  اور سکون سے اپنی زندگی پر سانسوں کا آرا چلاؤں  یا رات رات بھر مختلف طریقوں سے گڈو کو سانس کے آزار سے نجات دلانے کے طریقوں پر غور کرتا ۔ ایک بار تو میں نصف رات کو ہاتھ میں میلا تکیہ لیے اس کے سرہانے جا بیٹھا تھا مگر مصیبت یہ تھی کہ اس ایک زندہ لاشے میں سارے مر جانے والے آن سمائے تھے۔ ماں اس کے چہرے میں رہنے لگی تھی، باپ آنکھوں میں بیٹھ رہا تھا اور عزمی؟ وہ اس کی بے بسی کی صورت اس کے چہرے پر ٹہلتا رہتا اور سچ کہوں تو اسکا معذور آدھا بدن میری ذات ہی تھا ۔
میرے ہاتھ اس کی پتلی گردن تک پہنچنے سے پہلے ہی کوڑھی ہو جاتے اور رات کا بقیہ حصہ میں خود کو ملامت کرتے اور اس خارپشتی قاتل کو سلاتے گزار دیتا۔ اس مسلسل کشمکش نے میرے دماغ کو گرم بھوبل میں بدلنا شروع کر دیا۔
کندھوں پر اٹھائی ہوئی سبزی کی بوری کا بوجھ مجھے ماں،باپ،عزمی اور گڈو کی لاشوں کی مانند محسوس ہوتا تھا۔ بلو کا پتہ ٹھکانہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس کی منت سماجت کر کے اسے گھر ہی لا سکتا ۔
قاتل اب طاقتور ہوتا جا رہا تھا ۔
وہ بھی ایک حبس بھری تاریک اور گرم رات تھی جب میں ساڑھے دس بجے منڈی سے واپس پہنچا تھا۔
ماہانہ پانچ سو روپے پر کنڈے کی بجلی کی سہولت بھی پچھلے دو دن سے حکومتی کارگزاری کی نذر ہو گئی تھی اور چھوٹے سے کمرے میں حبس اور بدبو نے کچرا کنڈی کا سماں باندھ رکھا تھا۔
غصے اور بے بسی نے مجھے سر پٹخنے پر مجبور کر دیا اور میں نے جب آخری بچ جانے والی موم بتی جلائی تو دیکھا کہ گڈو نیم بے ہوشی کے عالم میں بے سدھ پڑا تھا اور دو موٹے موٹے چوہے اس کا بے جان پاؤں  کاٹ رہے تھے۔ اس کے بائیں پاؤں  پر جگہ جگہ دانتوں کے زخم تھے جن سے خون بہہ رہا تھا۔ اور عین اسی لمحے قاتل چھوٹ گیا۔ ۔
میں نے نہایت اطمینان سے ماں کی زنگ آلود قینچی اٹھا لی اور اکڑوں گڈو کے سرہانے بیٹھ گیا۔اس کے منہ سے بہتی رال میں نے اپنی قمیض کے دامن سے پونچھی اور اسکا سر گود میں رکھ لیا۔ ایک ایک کر کے سارے مردے اس کے متعفن وجود سے نکلے اور آس پاس یوں بیٹھ گئے جیسے کوئی بہت مقدس مذہبی رسم ادا کی جانے والی ہو۔
موم بتی کی لرزتی لو میں ان کے سائے دیواروں پر لمبے ہو رہے تھے۔ میں نے گڈو کا ماتھا چوما اور پھر اس کے ہونٹوں پر اپنا ایک ہاتھ جما دیا دوسرے ہاتھ سے زنگ آلود قینچی میں نے اس کے سب سے ڈھیٹ جوڑ، یعنی شہہ رگ پر چلا دی۔ ایک حیوانی جھرجھری نے گڈو کے مفلوج حصے کو بھی تھرا کے رکھ دیا اور خون کی پچکاریاں ٹوٹتے دم کے ردھم کے ساتھ چھوٹتی رہیں۔جان نکلنے سے زرا دیر پہلے اس نے آنکھیں میری آنکھوں میں ڈال کر زبان بے زبانی سے “شکریہ بھائی” کہا اور لفافے کی قید سے نجات پا گیا۔
تمام رات میں اس سے لپٹ کر میٹھی سکون بھری نیند سویا اور صبح جب مجھے یقین ہو گیا کہ تھانے میں حوالدار آ چکا ہو گا ، میں آلہ قتل سمیت تھانے پہنچ گیا ۔ میرے اقبال جرم کے بعد پولیس نے گڈو کی لاش بھی برآمد  کر لی اور اتنے صاف اور واضح اعتراف جرم پر میرے لئے  موت کی سزا ہی تجویز ہونی تھی اور وہی ہوئی۔
مقدمے اور سزا کا فیصلہ آنے کے درمیانی تین سالوں میں کئی تنظیموں نے میری طرف سے رحم کی اپیل دائر کرنا چاہی،سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کی درخواستوں پر عمل درآمد کروانے کی یقین دہانی کروائی مگر مجھے اس آخری لفافے کو بھی منطقی انجام تک پہنچانا تھا۔
اور جس دن فیصلہ آیا ،ٹھیک وہی دن تھا جس دن میں نے گڈو کو نجات دلائی تھی۔
ایک ایک دن کاٹتے ہوئے اب وہ گھڑی نزدیک آ پہنچی ہے جب میرا لفافہ پھڑپھڑاتا رہ جائے گا اور میں نجات پا لوں گا  ۔
دل جو دھڑک رہا ہے، خاموش ہو جائے گا اور آنکھوں کی پتلیاں پھیل کر ساکت ہو جائیں گی
دور کہیں فجر کی ازان فضاوں میں گونج رہی ہے۔ میں اپنی کال کوٹھڑی میں واپس آتا ہوں۔
جیل کی مسجد میں بھی اب ازان ہو رہی ہے اور تھوڑی دیر بعد نکلنے والا سورج آج مجھے نہیں پائے گا۔
لیجئے! دو سپاہی میری کوٹھڑی کے دورازے تک آن پہنچے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں وہ سب سامان ہے جو پھانسی سے پہلے قیدی کو استعمال کرایا جاتا ہے۔
“دو سو پندرہ”!! غسل کر کے نماز ادا کر لو۔”!! ایک سپاہی نے میری جانب لباس اور ڈائپر وغیرہ بڑھاتے ہوئے کہا۔ کوٹھڑی کا دروازہ کھلا تھا میں نے سامان تھام لیا۔ “مجھے نماز نہیں پڑھنی” میں نے دھیرے سے کہہ کر لباس بدلنا شروع کیا۔
خود کو موت کے سفر پہ روانہ کرنے سے پہلے میں اس کے سامنے یہ سر کیوں جھکاتا جس کے ہوتے ہوئے میرا سر ہر ایک کے آگے جھکا تھا۔ جس نے چوہوں کو گڈو کا پاؤں  چبانے سے نہیں روکا میں اس کو کیا پیش کرتا؟؟
سپاہیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا “شیطان! لعین!” ایک سپاہی نے نفرت سے میری طرف تھوک دیا۔
لباس بدل کر میں کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے میرے ہاتھ پشت پہ لے جا کر جکڑے اور سیاہ نقاب پہنا دیا گیا۔ نقاب کی اس تاریکی میں سارے مردہ چہرے روشن ہو گئے ۔ انکے چہروں پر خوشی دیدنی ہے۔۔
سپاہی اب مجھے چلاتے ہوئے پھانسی گھاٹ تک لے جا رہے ہیں ۔ آس پاس کی بیرکوں کے قیدی کلمہ شہادت کا ورد کر رہے ہیں۔ پھانسی گھاٹ پر انتظام مکمل ہے۔
میری گردن میں پھندا ڈال دیا گیا ہے ۔ زندگی کی قید سے رہائی کا وقت آن پہنچا۔۔ماں کتنی خوش ہے اور گڈو؟؟ ارے وہ تو میری طرف بانہیں کھولے چلا آ رہا ہے۔۔ سکون۔۔اور خوشی۔۔۔۔۔۔
“ایک دو تین”۔۔۔۔۔کوئی گھڑی کے منٹ گن رہا ہے۔۔
عزمی!! میرے ہاتھ عزمی کے ہاتھوں میں ہیں ۔
لیور دبتا ہے۔۔۔ماں نے مجھے خود سے لپٹا لیا ہے اور پھانسی گھاٹ پر لفافہ جھول رہا ہے!!

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”لفافے کی موت۔۔مریم مجید ڈار

  1. ھم م م ۔ ۔ ۔ بہت عمدہ تحریر ۔ ۔ ۔ بہت جاندار ۔ ۔ ۔ کمی کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ بس اس معاشرے کو اپنی تمام تر بدصورتیوں کےاظہار کے ساتھ مصنفین سے اُمید کی ہلکی سی ہی صحیح ایک کرن بھی چاہیئے ہوتی ہے۔ ۔ ۔ جانتی ہوں جواب میں وہی کہا جائے گا کہ یہ تو حقیقیت ہے ۔ ۔ ۔ حقیقت ہے تب ہی تو تھوڑاےسے جھوٹ کی ملاوٹ چاہیئے ۔ ۔ ۔ خوش رہو اسی طرح لکھتی رہو !

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *