ابن الوطن۔۔مریم مجید ڈار

رات کا دم انہونی کے خوف سے گھٹا ہوا تھا۔۔گرم اور تاریک جنگل میں مہاجرین کو لے جانے والی ریل کسی بھوت کی مانند چل رہی تھی۔۔زندہ اور مردہ انسانوں کے تن سے اٹھتی بساند ایسی بھیانک تھی کہ پل دو پل کو اس ڈبے میں آنے والا خود کو جہنم کے آخری درجے میں محسوس کرتا۔۔اگست کی حبس بھری رات اور موت کی ہمراہی میں یہ سفر خوابوں کی سرزمین کی طرف جاری تھا۔۔۔
جمیلہ نے خود پر پڑی لاشوں کو بمشکل کھسکایا اور ڈبے کے فرش پر لہو میں پھسلتی ہوئی کھڑکی کی طرف بڑھنے لگی۔۔گھٹن اب برداشت سے باہر تھی اور وہ چاہتی تھی کہ ذرا سی درز کھول کر کھڑکی سے پل بھر کو تازہ ہوا اپنے پھیپھڑوں میں بھر سکے جہاں لہو کی بساند برساتی کھمبیوں کی طرح اگی ہوئی تھی۔۔۔
کھڑکی کے قریب پہنچ کر ابھی ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ بچے کھچے لوگوں نے اسے پیچھے گھسیٹ لیا۔۔
“اے بی بی ۔۔خدا کا خوف کر۔۔بلوائی جگہ جگہ گھات لگائے بیٹھے ہیں ۔۔اپنی جان پیاری نہیں تو اتر جا یہیں۔۔کھڑکی مت کھول”۔۔غصے اور خوف میں ڈوبی غرا ہٹیں جمیلہ کے ارادے کے آگے دیوار بن گئیں اور وہ وہیں بیٹھ رہی۔۔۔
پچھلے چند دن سے جو گزری تھی اس پر سوچنے یا ماتم کرنے کی مہلت اسے نہیں ملی تھی۔۔اس وقت بھی اس کی سب سے بڑی تمنا دو گھونٹ پانی اور چند ہوا کے جھونکے تھے۔۔اور وہ یہ بھی بھول چکی تھی کہ یہ سارا کشٹ کس لیے  اٹھایا گیا تھا۔۔ہاں یاد آیا۔۔۔پاک سر زمین کے لیے۔۔۔ہاں اپنے۔۔۔خاص اپنے وطن کے لئے ۔۔
اندھیرے میں جانے وہ کوئی زندہ وجود تھا یا مردہ،جس سے ٹیک لگا کر وہ لیٹ رہی۔۔اور اپنے ابھرے ہوئے پورے دنوں کے پیٹ پر ہاتھ رکھ لیا۔۔
کسے ہوئے ۔۔ابھرے ہوئے پیٹ کے اندر وہ انسان تھا جو دنیا میں آنے سے پہلے ہی باپ کی شفقت،بہن بھائیوں کا ساتھ۔۔سب گنوا بیٹھا تھا۔۔ہاں مگر وہ خوش بخت بھی تو بہت ہوتا۔۔اگر جو پاک سرزمین پر پہنچنا نصیب ہو جاتا۔۔۔بلند نصیب ٹھہرتا ۔۔پاکستانی کہلاتا ۔۔”ایک یہی تو وہ وعدہ ہے۔۔جو مجھے ہر حال میں نبھانا ہے”جمیلہ نے اکبر کے تصور سے کیا ہوا پیمان ازسرنو دہرایا۔۔
اس کا ذہن پیاس کی شدت اور گھٹن سے غنودگی میں ڈوبنے لگا اور پچھلی زندگی جھلکیوں کی طرح اس کی بند آنکھوں کے پردوں پر چلنے لگی۔۔
اس نے وہ دن دیکھا جب وہ گوٹے لپے والے کپڑوں اور کرن لگے گھونگھٹ میں اکبر کے آنگن میں اتری تھی۔۔کیسا سنہرا دن تھا۔۔سوکھے ہونٹ ذرا پھیلے۔۔۔ابھی پوری طرح محسوس بھی نہ کر پائی تھی کہ منظر بدل گیا۔۔وہ نڈھال سی پلنگ پر پڑی تھی اور دائیں بائیں ایک ننھا فرشتہ اور ایک پری ہاتھ پیر چلا رہے تھے۔۔”فاطمہ ۔۔۔۔اصغر ” جمیلہ نے غنودگی میں سسکی لی۔۔اور اب منظر نارنجی تھا۔۔
گھر جل رہا تھا۔۔اکبر چیخ چیخ کر اسے اور بچوں کو بھاگ جانے کا کہہ رہا تھا۔۔۔جمیلہ اس کے ساتھ مرنا چاہتی تھی۔۔مگر پھر جلتے کواڑ دھڑام سے نیچے آ گرے اور اکبر نے شعلے اوڑھ لیے ۔۔”ہائے ۔۔میرا سائیں۔۔۔”جمیلہ کے منہ سے کراہ نکلی۔ اب اس کی آنکھوں میں فاطمہ اور اصغر کے کر پانوں سے ادھڑے ہوئے بدن تھے اور وہ لاشوں تلے دبی انہیں کٹتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔اسکا دماغ ماؤف ہو چکا تھا اور پیٹ کی امانت کی حفاظت نے اسے ماتم سے بھی روک رکھا تھا۔۔یکدم باہر ایک شور اٹھا۔۔۔”واہ گورو کی جے۔۔۔۔۔۔جو بولے سو نہال ۔۔۔۔ست سری اکال ۔۔۔”بلوائیوں کے ایک تازہ دم جتھے نے چلتی ریل گاڑی پر حملہ کر دیا۔۔بندوقیں ۔۔۔کرپانیں ۔۔۔پٹرول بم۔۔اور جانے کیا کیا۔۔۔اب کے ہلے میں ریل کا ڈرائیور بھی کام آ گیا اور جو چند بچ رہے ان میں جمیلہ بھی تھی۔۔
اندھیری رات میں پیدل ویرانے میں بھٹکتے ہوئے جمیلہ کو ایسا لگ رہا تھا جیسے پوری کائنات جنگل میں بدل گئی ہے۔۔جہاں ہر طرف کرپانیں اور برچھیاں اگی ہوئی ہیں اور ان کے سروں پر ٹنگے بدنوں سے ہرا لہو بہہ رہا ہے۔ ۔
بار امانت اٹھائے جمیلہ گھسٹتی رہی۔۔ گھسٹتی رہی اور چند افراد کے قافلے سے بہت پیچھے رہ گئی ۔۔۔دور بہت دور سپیدہ سحر نمودار ہونے کو تھا۔۔جب جمیلہ کو دور کچھ آبادی کے آثار نظر آنے لگے۔۔۔”سوہنے اللہ! !یہ۔۔۔یہ تو لاہور ۔۔۔اللہ پاکستان ۔۔۔اس نے سبز ہلالی پرچم دور سے دیکھ لیا تھا۔۔منزل کو اتنا قریب پا کر اس کے مردہ ہوتے تن میں زندگی کی لہر دوڑ گئی ۔۔۔
یکدم ۔۔زمین اور آسمان نے اپنی جگہ بدل لی اور پیٹ میں ہوتی ہلچل نے جمیلہ کو بتا دیا کہ ذمہ داری ختم ہونے کو ہے۔۔زخموں سے چور جمیلہ نے آخری ذمہ داری کو بھرپور طریقے سے نبھانے کا فیصلہ کیا اور درختوں کے ایک جھنڈ میں اوجھل ہو گئی۔۔۔کچھ ہی دیر بعد آزاد باشندہ غلام ماں کے خون میں لت پت پڑا چیخ چیخ کر دنیا میں اپنی آمد کا اعلان کر رہا تھا۔۔۔جمیلہ نے بند ہوتے دماغ کو ایک جھٹکا دے کر بیدار کیا۔۔”نہیں ربا۔!!ابھی نہیں ۔۔بس تھوڑا وقت اور۔۔۔بس امانت جس کی ہے۔۔اس کو سونپ دوں اللہ سوہنے۔۔۔”وہ بڑبڑائی اور بچی کھچی ہمت جمع کرتے ہوئے نومولود کو دیکھا۔۔کچھ دیر ادھر ادھر دیکھنے کے بعد۔اس نے اپنے دانتوں سے بچے کی آنول کاٹ کر گرہ لگا دی۔۔۔امانت عدم سے وجود میں آ چکی تھی۔۔گو کہ جمیلہ کے منہ میں تین دن سے کھیل بھی نہ اڑ کر گئی تھی مگر قدرت نے مہمان نوازی کا مکمل انتظام کر رکھا تھا۔۔۔بچہ بھوکا تھا۔۔فوراً  ہی دودھ پینے لگا۔۔۔جمیلہ نے اپنی قمیض کے دامن سے ایک ٹکڑا الگ کیا۔۔نومولود کو لپیٹ کر اپنی چادر کی گرہ کمر پر لگائی ۔۔اگلے پلو گردن میں باندھے اور اس جھولے میں بچے کو لٹا کر پھر سے گھسٹنے لگی۔۔دن چڑھ آیا تھا۔۔چراغ کی لو ہمیشہ کے لیے بجھنے سے پہلے پوری قوت سے پھڑپھڑا نے لگی۔۔جمیلہ نے سفر جاری رکھا۔۔سامنے ہی تو لاہور تھا۔ پاک وطن۔۔۔آزاد سرزمین ۔۔وہ اب گھٹنوں کے بل چل رہی تھی۔۔لاہور نزدیک آتا گیا۔۔۔وہ سرحد کے قریب آن پہنچی ۔۔فرشتہ اجل اب انتظار کرتے کرتے اکتا گیا تھا۔۔جمیلہ زمین پر لیٹ گئی ۔۔اس نے بچے کو سرحد کے پار دھکیل دیا اور اپنا سر زمین پر رکھ دیا۔۔وہ ابھی ہندوستان میں ہی تھی۔۔اور اکھڑتے سانسوں سے پاکستان کی مقدس خاک اڑ رہی تھی ۔۔
نومولود رو رہا تھا۔۔۔چیخ رہا تھا۔۔وہ ماں کے لہو اور مادر وطن کی خاک سے لتھڑا ہوا چلائے جا رہا تھا۔۔ جمیلہ نے پاکستان کی طرف منہ کر کے آخری ہچکی لی۔۔ملک الموت کا انتظار تمام ہوا۔۔
ایک مفلوک الحال بڑھیا جانے جھاڑیوں میں کیا تلاش رہی تھی۔۔بچے کے رونے کی آواز پر وہ لپکی اور ہاتھ پیر چلاتے بری طرح سے روتے بچے کو اٹھا لیا۔۔”ہائے ربا۔۔!!جانے کس کے جگر کا ٹکڑا ہے۔۔۔تقسیم نے شاید سب ہی چھین لیا۔۔۔”افسوس سے سر ہلاتے ہوئے اس نے پاکستانی شہری کو کندھے سے لگایا اور شہر کی جانب چل دی۔۔۔

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *