محب وطن۔۔۔ مبشر علی زیدی

اُس نوجوان کی آمد کی خبر سن کر ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

وہ نوجوان پاکستان کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے کئی سال پہلے بیرون ملک جانے پر مجبور ہوگیا تھا۔ ان دنوں روز ہی کہیں نہ کہیں حملہ ہوجاتا تھا۔ کبھی کوئی خودکش پھٹ جاتا، کبھی سڑک کنارے بم دھماکا ہوتا، کبھی فائرنگ کردی جاتی۔ سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی شدید ہوتی جس میں بے گناہ افراد بھی مارے جاتے۔ اس نوجوان کے کئی بے گناہ ساتھی مارے گئے جس کی وجہ سے اس کا دل کھٹا ہوگیا۔

ملک کے حالات اچھے نہ ہوں تو بہت سے لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ مبشر علی زیدی اور انعام رانا جیسے موقع پرست روزگار کی تلاش میں امریکا اور یورپ کا رخ کرتے ہیں۔ اِن کا موازنہ اُن لوگوں سے نہیں کیا جاسکتا جو زندگی کو خطرہ لاحق ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کا دل وطن میں پڑا رہ جاتا ہے۔ جیسے ہی حالات بہتر ہوتے ہیں، وہ وطن واپس آجاتے ہیں۔

پاکستان میں کئی سال پہلے واقعی برے حالات تھے۔ لیکن اب صورتحال بہتر ہوچکی ہے۔ امن قائم ہوچکا ہے۔ غیر ملکی کھلاڑی آنے لگے ہیں۔ اس نوجوان کے دل میں بھی وطن آنے کی تمنا تھی۔ اس نے سوچا کہ اب واپس جانا چاہیے۔ ادھر اس نے اعلان کیا، ادھر ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

اس سے پہلے یہودیوں کی ایجنٹ ملالہ یوسف زئی پاکستان آئی تھی۔ اس لڑکی میں ایسا کیا کمال ہے کہ دنیا اسے پلکوں پر بٹھاتی ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ ایک حملہ ہوا اور وہ ملک سے فرار ہوگئی۔ اس حملے کے بارے میں بھی بہت سے شکوک و شبہات ہیں۔ پتا نہیں حملہ ہوا بھی تھا یا نہیں۔ ہوا تھا تو گولی لگی بھی تھی یا نہیں۔ لگی تھی تو سر پر لگی تھی یا نہیں۔ ان سوالات کے جواب کسی کے پاس نہیں۔ ظاہر ہے کہ اس لڑکی کو یہودیوں کی حمایت حاصل ہے۔ ورنہ اسے برطانیہ میں رہائش کیوں فراہم کی جاتی؟ کینیڈا اسے اپنی شہریت کیوں دیتا؟ نوبیل انعام کیوں دیا جاتا؟

ملالہ کے آنے پر محبان وطن نے وہی رویہ اختیار کیا جو مناسب تھا۔ یعنی مکمل بے اعتنائی۔ مغربی دنیا کے تنخواہ دار میڈیا نے کوریج ضرور کی لیکن اسے کون دیکھتا ہے؟ سوشل میڈیا پر بھی صرف دجال کے ایجنٹوں نے ملالہ کی آمد پر شور مچانے کی کوشش کی لیکن کسی نے انھیں گھاس نہ ڈالی۔

لیکن اب دنیا دیکھے گی کہ حقیقی محب وطن نوجوان واپس آئے گا تو اس کا کیسا شاندار استقبال کیا جائے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ تنہا نہیں آئے گا بلکہ بیرون ملک مقیم باصلاحیت نوجوانوں کو بھی اپنے ساتھ واپس آنے کی ترغیب دے گا۔ اس طرح کئی سال سے جاری برین ڈرین کا ازالہ ہوجائے گا۔

اس کی آمد کے دن ملک بھر میں پھولوں کی دکانیں خالی ہوجائیں گی۔ لوگ اس کی راہ میں گلاب کا فرش بچھا دیں گے۔ کئی ارکان پارلیمان ایئرپورٹ پر اس کا استقبال کریں گے۔ کئی ٹی وی چینلوں کے اینکر اس کے انٹرویو کے لیے قطار بنائے کھڑے ہوں گے۔ کئی بڑے صحافی اس کی آمد پر کالم لکھیں گے۔ کچھ عجب نہ ہوگا اگر چار چھ اخبارات اس کے لیے خصوصی اشاعت کا اہتمام کریں۔

اس نوجوان کے لیے کئی دن تک استقبالیے اور تقریبات جاری رہیں گی۔ کئی دن تک پرائم ٹائم میں اس کے انٹرویوز نشر کیے جائیں گے جس میں وہ بتائے گا کہ وطن سے دور رہنے پر وہ کس قدر بے چین اور اداس تھا۔ صحافی کرید کرید کر پوچھیں گے کہ اس دوران اس نے وطن کی محبت میں کتنی نظمیں کہیں اور اب ملک کی ترقی کے لیے اس کے پاس کون کون سے پروگرام ہیں۔

اس سال عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ کوئی بڑی پارٹی اسے الیکشن لڑنے کے لیے ٹکٹ کی پیشکش کردے۔ لیکن اس کا مقام اور مرتبہ اس سے بلند ہے۔ یقیناَ کئی ادیب اس کی زندگی پر افسانے اور کتابیں لکھیں گے۔ یقیناَ کئی یونیورسٹیاں اس کی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازیں گی۔ عین ممکن ہے کہ صدر مملکت اس کے لیے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کا اعلان کریں۔

سچ یہ ہے کہ ملالہ کے پاکستان آنے پر کڑھنے والے ہم سب لوگوں کو سچی خوشی ملنے والی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ وہ سب لوگ اس محب وطن نوجوان کا بھرپور استقبال کریں جو وطن فروش ملالہ سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ نوجوان ہمارا اصلی چہرہ ہے ہے۔ یہ نوجوان ہمارا اصلی ہیرو ہے۔ یہ نوجوان، جس کا نام ملا فضل اللہ ہے۔

Avatar
مبشر علی زیدی
سنجیدہ چہرے اور شرارتی آنکھوں والے مبشر زیدی سو لفظوں میں کتاب کا علم سمو دینے کا ہنر جانتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *