تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا۔۔رفعت علوی/قسط6

سرخ سویرے کے خوں آشام سائے میں دست صبا کی دستک سے کھلنے والے دریچہ الفت کی کہانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہار کی آمد آمد تھی۔۔۔۔برف باری کا سفید موسم سنہرے سورج کی روپہلی کرنوں کو الوداعی سلام کرکے رخصت ہو رہا تھا اور شام گئے تک کھیتوں پر شفق کے سرخ لہریوں کی چھوٹ پڑنے لگی تھی۔یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب کھیتوں کے آس پاس لگے پودوں میں کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں، خوش رنگ پھول فتنے جگاتے ہیں جب اناج کی شوخ فصلیں گاؤں کی شوخ کنواریوں کی طرح چھب دکھانے لگتی ہیں، شاہ بلوط کے سائے میں محبت کےنوخیز پودے پنپتے ہیں اور سویت روس کے دور دراز دیہاتوں کی رومانی جھیلوں میں حسن و عشق کے کنول کھلتے ہیں۔

وہی قاتل موسم آن پہنچا تھا دیوانوں کےگریباں چاک کرنے کا موسم، زنجیریں ٹوٹنے کا موسم، دلوں پہ لگے تالے کھلنے کا موسم، خوابوں کو تعبیریں ملنے کا موسم اور دور چھوٹی پہاڑی پر پرانے صنوبر کے دونوں درختوں کا ایک دوسرے سے لپٹ کر دو کے بجائے ایک تناور درخت نظر آنے کا موسم اور تیمور کسی بے بس و لاچار اور سحر زدہ انسان کی طرح اپنی زندگی کے تانے بانے ادھیڑ رہا تھا، صوفیا اپنے گھٹنے پر چہرہ ٹکائے ایک رشک آمیز خاموشی سے اس کی کہانی کا وہ موڑ سن رہی تھی جس کے دوراہے پر تیمور سیمرانوف اپنی زندگی، اپنا احساس، سود و زیاں اور جینے کا طریقہ چھوڑ آیا تھا
نتالیا۔۔۔نتالیا انتوف نام تھا اس کا۔۔۔تیمور نے دھیمی آواز میں کہا۔۔۔

رشک، حسد، کھوج عورت کی فطرت اور اپنے محبوب مرد پر مکمل ملکیت عورت کا حق ہے ، ان لمحوں میں بھی جب اس کی آنکھوں میں جذبات کی گھٹائیں چھائی ہوتی ہیں وہ یہ ضرور جاننا چاہتی ہے کہ یہ مرد جو اس کے سامنے چاند ستاروں کے گیت الاپ کر اپنی لازوال محبت و وفاداری کا کشکول پھیلائے امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھ کر جسمانی رفاقت کا طلبگار ہے ، جس مرد کے لئے وہ اپنا آپ لٹانے کو تیارہے  اس مرد کی زندگی میں پہلے بھی کتنی عورتیں آ چکی ہیں؟۔۔۔اور جو پیار بھرے جملے اس وقت اس کے سامنے بولے جارہے ہیں وہ پہلے بھی کتنی عورتوں کے سامنے دوہرائے جا چکے ہیں۔۔۔

اس نازک سوال کے جواب میں زیادہ تر مرد جھوٹ بولتے ہیں، بڑی بڑی قسمیں کھاتے ہیں، اپنی معصومیت اور پاکیزگی کی یقین دہانی کراتے ہیں اور بڑی چابکدستی سے بات بدلنے کو کوشش کرتے ہیں کہ چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا، اور عورت اپنی جبلی معصومیت اور فطری ممتا کے زیر اثر اس جھوٹ پر اعتبار کرکے اپنی زندگی بھر کی رفاقت اس کے حوالے کردیتی ہے۔

مگر صوفیا اس وقت رشک اور حسد کے صدمے سے نڈھال سی ہوگئی جب اسی سوال کے جواب میں تیمور نے بڑی سچائی کے ساتھ ایک ناتجربہ کار جواری کی طرح بہت سادگی سے اپنے سارے پتے کھول  کر صوفیا کے سامنے رکھ دیئے
کیا واقعی۔۔۔کون ہے وہ عورت؟صوفیا ایک اضمحلال سے بولی۔۔
نتالیا۔۔نتالیا انتوف نام ہے اس کا!تیمور کہیں دور دیکھتا ہوا بولا
کون تھی وہ؟۔۔۔نتالیا کون تھی۔۔تیمور
ایک خواب ایک سایہ ایک داستان، میں اس سے محبت کرتا رہا ۔۔۔بالکل یک طرفہ،اس سے وہ سب کچھ کہتا رہا جو اس نے سنا نہیں اور وہ سب سنتا رہا جو اس نے کبھی کہا ہی نہیں۔۔۔

یہ بھی پڑھیں : تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا۔۔رفعت علوی/قسط5
وہ میری معالج تھی، دو ماہ تک وہ ایک وفادار بیوی ایک اچھی محبوبہ ایک سچی دوست اور ماہر نرس کی طرح میری دیکھ بھال کرتی رہی، اس وقت بھی جب میں اٹھنے بیٹھنے سے معذور تھا وہ مجھے بچوں کی طرح عزیز رکھتی رہی، جب میں ٹھیک ہونے لگا تو میری ہمت بندھاتی میری بہادری اور شجاعت کے گیت گاتی، میں اسکے التفات اور توجہ اپنا حق سمجھنے لگا۔۔
دو ماہ بعد جب میرے زخم مندمل ہوئے اور میں چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا اور صبح شام اس کا منتظر رہنے لگا تو اس کی توجہ میں کمی آنے لگی، پھر بہت دنوں تک وہ ہمارے وارڈ میں نہیں آئی، صبح گزرتی، شام آتی رات پڑتی اور میں پاگلوں کی طرح اس کا منتظر رہتا مگر اس کو نہ آنا تھا نہ آئی، پھر مجھے معلوم ہوا کہ اس کی ڈیوٹی کسی دوسرے وارڈ میں لگ گئی ہے جہاں بڑے بڑے افسروں کا علاج ہوتا ہے اور اب وہ یہاں نہیں آئے گی، میں اپنی دل کی خلش لئے ایک دن ٹہلتے ٹہلتے دوسرے وارڈ تک چلا گیا کہ شاید اس کی شکل دکھائی دے جائے،
وہ واقعی وہاں موجود تھی، میں نے دور سے اس کو دیکھا وہ سفید بالوں والے ایک بڑی عمر کے مریض کی کمر کے گرد بانہیں ڈالے اس کو بیساکھوں کے ساتھ چلنا سکھا رہی تھی، مریض بار بار لڑکھڑاتا اور نتالیا اپنے مضبوط اور جوان شانوں سے اس کو سہارا دے کر سنبھال لیتی،
یہ مریض میرے لئے اجنبی نہیں تھا، یہ میرا پرانا باس تھا، وہی کمانڈر جس کو میں موت کے منہ سے بچا کر لایا تھا، اب میں اکثر وہاں اس وارڈ کی طرف جانے لگا، دور سے نتالیا کی جھلک دیکھتا اور واپس لوٹ آتا، یہ میرا پاگل پن ہی تو تھا، وہ کمانڈر پر بہت مہربان نظر آتی تھی، میں اس کا سامنا کرنے سے کتراتا تھا، پھر ایک دن میں اس وقت اپنے افسر سے ملنے گیا جب نتالیا اس کے ساتھ نہیں تھی، میرا افیسر مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور دیر تک میرا شکریہ ادا کرتا رہا، اب ہم افسر ماتحت نہیں رہے تھے، اس نے بتایا کہ جسمانی معذوری کی وجہ سے اس کو فوجی خدمات سے سبکدوش کردیا گیا ہے، اس پر وہ مغموم بھی تھا اور خوش بھی،
پھر میں ایک روز اس کے پاس گیا تو اس کو عجب سرخوشی کے عالم میں پایا۔۔۔
جوان ۔۔۔جوان۔۔۔۔تم اچھے وقت پر آئے اس نے مجھے دیکھتے ہی کہا، اس کی آنکھیں مسرت سے چمک رہی تھیں
میں تم کو کیا پیش کروں میرے دوست۔۔۔۔لو یہ سگار پیو ہوانا کا سگار ہے بڑی مشکل سے ہاتھ آیا ہے تم لے لو۔۔اس پر تمھارا حق ہے،تمھاری وجہ سے ہی میں زندہ ہوں۔۔۔وہ خوشی اور مسرت سے بےحال ہو رہا تھا اور بے تکان بولے جا رہا تھا۔۔
میں نے کمانڈر کے ہاتھ سے سگار لے لیا
کل میری زندگی کا یادگار دن ہے، وہ جھوم کر بولا
کل مجھے چھٹی مل رہی ہے اور وہ بھی میرے ساتھ جانے کو تیار ہے۔۔
وہ کون؟۔۔۔میں نے دھڑکتے دل سے پوچھا
اماں وہی۔۔۔۔۔۔اس نے بےتکلفی سے میرے کندھے پر ہاتھ مارا
دوشیزہ نوبہار، نتالیا میری مسیحا۔۔۔ہم شادی کر رہے ہیں دوست۔۔۔۔تم بھی آنا میرے گاؤں۔آخر تم میرے محسن ہو!
اور میں اس کو مبارک باد دے کر لوٹ آیا، واپس آکر میں نے بہت دیر تلک سوچا۔۔۔۔میرا کمانڈر عمر میں نتالیا سے بہت بڑا ہے تو کیا ہوا، وہ ایک ٹانگ سے محروم بھی ہوگیا ہے تو کیا حرج ہے؟ اس کے پاس عزت ہے دولت ہے پیسہ ہے خادم ہیں رتبہ ہے، عورت کو اس کے علاوہ اور کیا چاہیے، نتالیا نے صحیح فیصلہ کیا،
اسی رات میں نے چپکے سے اپنا سامان اٹھایا اورہسپتال سے بھاگ کر اپنی رجمنٹ میں چلا گیا، میں کئی دن تک خالی الذہنی میں رجمنٹ میں ادھر ادھر پھرتا رہا، شام ہوتے میں اپنے بستر پہ پڑ جاتا اور زندگی جنگ موت اور عورت کی نفسیات اور انسانی سلوک کے بارے میں سوچتا رہتا، پھر اعلی کمانڈ نے مجھے یہاں بھیج دیا اور یہاں دشت و کہسار نے دھندلکے کی ردا اوڑھ لی، کوئی جنبش ہی نہیں سینے کی دھڑکن کے سوا، نہ کہیں حرف نہ آواز نہ صورت نہ صدا۔۔۔ وہ چپ ہوکر اپنے ہاتھ دیکھنے لگا!

اس کو خوب معلوم تھا کہ اس کے ان بےمراد ہاتھوں کی لکیروں میں جنگ میں بےقصور اور بیگناہ لوگوں کا خون تو لکھا ہے مگر قرب کی مناجاتیں وصل کی دعائیں اور ملن کی ریکھائیں نہیں ہیں، بےچراغ راتوں میں کوئی ستارہ سحری نہیں۔۔
وہ خوب جانتا تھا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میخائل نےصوفیا کو ایسا متفکر اور پریشان پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا،
ایک طرف ہوا میں محبت کی مہک تھی اور دوسری طرف کھیت میں بغاوت اور نفرت کی لہر تھی، دارنتی ہتھوڑے کے نشان والے سرخ جھنڈے تلے ایک ہونے والے مقامی محنت کش جو نئے نظام کے تحت اب انسان نہیں محض ایک عدد تھے ایک اکائی تھے اور اس مجمعے میں موجود جاہل مفلوک الحال طبقاتی کشمکش سے پسے سربیئن، جارجین، یوکیرین اور آزری بالشویک دہقان بےحد مشتعل تھے، کیمپ کے باسیوں کے بیچ ایک خاموش لاوا پک رھہ تھا جیسے پریشر کوکر میں بھاپ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتی رہتی ہے  اور ان کا یہ غم و غصہ شوریدہ سر سپاہی پر نکلنے والا تھا
اور وہ سوچے جا رہی تھی۔۔ اس کو فیصلہ کرنا تھا۔

کھیت پر عورتوں اور مردوں کے درمیان چلنے والی کچھ باتیں اس کے کانوں تک بھی پہنچی تھیں اور اس نے کچھ سوچا تھا مگر وہ یقین سے نہیں کہہ سکتی تھی کہ اپنے آپ سے ناراض دنیا سے خفا، عورت سے بدگمان خود سر اور اکھڑ سپاہی تیمور اس کی بات مانے گا بھی کہ نہیں،پھر وہ  ایک  روشن اور چمک دار صبح آئی،
اس علاقے میں ایسی سنہری صبحیں کم کم ہی آتی تھیں، چہچہاتے پرندے شور و غل کرتے ادھر سے ادھر پرواز کرتے پھر رہے تھے، دریائے وولگا کی طرف سے آنے والی فرحت بخش ہوائیں پکتے ہوئے سیبوں کی خوشبو سے بوجھل تھیں، ناشتہ تقسیم ہوچکا تھا، بیلوں کی ڈکرانے اور ان کے رکھوالوں کی آوازیں  ایک ساتھ مل کر نارنجی صبح کی تصویر میں رنگ بھر رہی تھیں، باربرداری کے چھکڑے بگھیاں اور ٹرک آنا شروع ہوگئے تھے،
تیمور ایک بڑے بنڈل کے ساتھ زور آزمائی کررہا تھا اور ان پر لگائی گئی گرہیں مضبوط کر رہا تھا کہ وہ سائے کی طرح آئی اور آکر اس کے سامنے بیٹھ گئی!

جاری ہے۔

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا۔۔رفعت علوی/قسط6

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *