تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا۔۔۔رفعت علوی/آخری قسط

سرخ سویرے کے خوں آشام سائے میں دست صبا کی دستک سے کھلنے والے دریچہ الفت کی کہانی!

وہ سائے کی طرح آئی اور آکر اس کے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔ایک اعتماد اور عزم اس کی آنکھوں سے جھلک رہا تھا،تیمور اسی بےنیازی سے سر جھکائےبڑے بڑے بنڈلوں کو دھکیل کر ایک طرف کرتا رہا۔

وہ تم کو مار ڈالیں گے۔۔۔۔وہ سرگوشی کے انداز میں بولی
وہ چپ چاپ اپنے کام میں لگا رہا،تم یہاں سے بھاگ جاؤ تیمور۔۔۔اس نے ہذیانی لہجے میں دوبارہ کہا۔۔
کیوں؟۔۔میں نے کیا کِیا ہے؟ وہ متعجب  ہو  کر بولا۔۔
تم یہاں سے چلے جاؤ، لوٹ جاؤ اپنے گاؤں۔۔۔یا شہر چلے جاؤ
میرا کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں گھر نہیں، مجھے اپنی رجمنٹ کی طرف سے یہیں رہنے کے لئے بھیجا گیا ہے، میں یہاں سے نہیں جاسکتا، وہ اسی بےنیازی سے بولا
پاگل آدمی وہ تم کو مار دیں گے، یہیں دفن ہوجاؤ گے، کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا اور بےنام سپاہیوں کے قبرستان میں ایک گمنام فوجی کی قبر کا اور اضافہ ہوجائے گا، صوفیا بےبسی سے بولی، اس کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کم عقل سپاہی کو کس طرح سمجھائے۔۔وہ کہے گئی۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں :تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا ۔۔رفعت علوی/قسط 1

نکل جاؤ یہاں سے دور نکل جاؤ۔۔۔اس وحشیانہ نظام، اس سسکتی زندگی، اس مردہ دل دنیا، اس پامال ہوتے ناانصاف معاشرے اور کالے قانون سے دور جہاں انسان بےحیثیت اور حقیر ہے،جہاں زندگی سے  زیادہ موت تقسیم کی جا رہی ہے، وہ التجائی لہجے میں بولی۔۔
تیمور اس کی طرف خالی نظروں سے دیکھا کیا۔۔چلے جاؤ تیمور میری بات مان لو ،چلے جاؤ یہاں سے بہت دور۔۔۔اس سرخ سویرے کی خوں آشام سائے سے دور اس پہاڑی کی دوسری طرف جہاں برچ کے جنگلوں کے پار دوسری دنیا کی سرحدیں شروع ہوتی ہیں، جہاں چیکا نہیں، کمیونسٹ نہیں، اجتماعی مشقت نہیں،
تیمور نے سنی ان سنی کرتے ہوئے ایک بھاری بنڈل کو اپنے کندھے پر لاد لیا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا چلو ہم دونوں ہی یہاں سے کہیں چلے جائیں، کیا تم صوفیا کے ساتھ یہاں سے نکل جانے کو تیار ہو؟۔۔۔ہم نئی زندگی شروع کریں گے، ہمارا اپنا گھر ہوگا، ہمارے بچے ہوگے،ہمارا اپنا کھیت ہوگا، جانور بھی ہمارے ہوں گے، سچ مچ کا سویرا۔۔۔ وہ بےتکان بولے گئی

کیا۔۔کہاں۔۔اور تم۔۔۔اور میرے ساتھ۔۔۔اس کے ہاتھ رک گئے اور وہ بھونچکا رہ گیا۔
اچھے سپاہی۔۔۔صوفیا تمھارے ساتھ جینا چاہتی ہے تمھارے ساتھ مرنا چاہتی ہے
یہ جملے کیا تھے جیسے زمین آسمان پلٹ گئے، دھرتی اور آکاش نے اپنی اپنی جگہیں چھوڑ دیں، ایک مست اور فسوں خیز سرمستی کے ساتھ تیمور کے اندر سے ایک شور اٹھا آفاقی ابدیت کو چھوتا ہوا، انسانی فطرت کی تفہیم کرتا کھلکھلاتا اور مسکراتا ہوا شور، دھرتی کی نشہ آور مہک کا جھونکا آیا، بلند بےکنار آسمان نے ایک چکر لیا، اس کے دل سے فیصلے قوت اور طاقت کی ایک سرکش لہر اٹھی، مسرت سے اس کا دل بھر گیا اور اس نے اپنے کندھے پر سے بنڈل اتار کر ایک طرف رکھ دیا اور بڑی بے خوفی و دلیری اور اردگر گرد کے ماحول سے بےپرواہ اپنے مضبوط ہاتھ بڑھا کر صوفیا کو اپنے چوڑے سینے سے لگا لیا۔۔
اس کے دل کے چھپے نہاخانوں میں مسرت  کے فوارے ابل رہے تھے، زندگی کے پچیس سالوں میں یہ پہلا موقع تھا جب اس کی ماں کے علاوہ کوئی دوسری عورت اس کے اتنے قریب آئی تھی، وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زندگی کے اس موڑ پر جب وہ سپاہی کے بجائے ایک دہقان کے فرائض انجام دے رہاہوگا ،زندگی سے ناراض، اپنے گاؤں سے ہزاروں کوسوں میل دور، سمبرسک کے ایک دور افتادہ گمنام کھیت میں مشقت کرتی ایک معصوم بیاہتا عورت اس کا دل جیت لےگی۔۔۔اسے قدرت کے اس مذاق پرہنسی آنے لگی۔۔

ایک نرم و نازک فاختہ سی لڑکی کھلے عام اس کے گلے میں بانہیں ڈال دے گی، دست صبا یوں ایسے وقت درِ  دل پہ دستک دے گی، زندگی کی پہلی محبت اس کو اس طرح ملے گی ایسا تو اس نے کبھی سوچا تک نہ تھا، زندگی کے یہ تانے بانے کس نے بنائے، یہ گورکھ دھندہ کیا ہے، سوئیٹر کے پھندوں کی طرح الجھے سلجھے فیصلے کہاں ہوتے ہیں، پتا نہیں یہ بھول بھلیا کس کی ترتیب دی ہوئی ہیں  یہ سب اس بیکراں کائنات کے خالق کی کارگزاری ہے یا انسان خود اپنی تقدیر بناتا ہے۔۔

صوفیا نے کسمسا کر اپنےآپ کو تیمور کی گرفت سے چھڑایا اور اس سے  ذرا دور ہٹ کر اپنی نیلی آنکھیں تیمور کے چہرے پر گاڑ دیں ان سحر انگیز آنکھوں میں کوئی تفکر، کوئی پریشانی، کوئی پشیمانی، کوئی دکھ کوئی ہیجان نہ تھا، بس ایک حیرت تھی تیمور کے اس اچانک پرجوش اور غیرمعمولی رد عمل پر، پھر اس کے چہرے پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ آئی ۔اس نے اچک کر تیمور کے گال پر ایک  بوسہ دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وحشت زدہ جھگڑالو اور بد زبان جارجین گھات لگا کر چپکے چپکے اس کی طرف بڑھ رہا تھا، اس کے ہاتھ میں موجود تیز دھاری دارنتی کا پھل چمک رہا تھا، میخائل  خوف و دہشت میں پسینے سے شرابور پیچھے ہٹتا جا رہا تھا یہاں تک کہ وہ ایک دیوار سے جا ٹکا اب اس کے لئے کوئی راہ فرار نہ تھی، اسی وقت دوسری طرف سے ایک اور وحشت زدہ یوکیرین کسان اپنے ہاتھ میں بسولہ لئے نمودار ہوا۔۔۔دانت نکوسے ہاتھ پھیلائے۔۔۔
میخائل نے چیخ مارنے کی کوشش کی مگر آواز اس کے حلق میں پھنس کر رہ گئی، پسینے کے قطرے اس کی پیٹھ پر سرسرانے اور ہاتھ چپچپانے لگے۔ دارنتی کا پھل تیزی سے اس کی گردن کے قریب سے گزرا اور ہلکی سی کراہ کے ساتھ میخائیل کی آنکھ کھل گئی۔۔ خوف و دہشت سے اس کو پھریری سی آئی، اس نے وحشت کے عالم میں ادھر ادھر دیکھا، چاروں طرف سناٹا تھا اور خاموشی رات کے آنچل سے منہ ڈھانکے سو رہی تھی، صبح ہونے میں ابھی کچھ پہر باقی تھا، پورا گاؤں سویا پڑا تھا،
اس نے دیکھا کہ دو سائے آہستہ آہستہ کھیت کے گرد لگی آہنی باڑ کے پار جا رہے تھے، ان کا رخ اس چھوٹی پہاڑی کی طرف تھا جس پر لگے صنوبر کے دو بے ڈھنگے درخت ایک دوسرے پر جھکے کھڑے تھے، اور ایک کچی پکی پگڈنڈی بل کھاتی پہاڑی کے دوسری طرف اتر گئی تھی، وہ دونوں سائے بھی صنوبر کے درختوں کے پس منظر کے ساتھ مدغم ہو رہے تھے، ایک لنگڑاتا ہوا سایہ، ایک طرف جھکتا ہوا مضبوط بدن، بوسیدہ سی فوجی وردی میں ملبوس تیمور جس کے کندھے پر ایک پوٹلی جھول رہی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی نازک اندام ،جی دار صوفیا، تیمور کی کمر میں ہاتھ ڈالے پرعزم، محبت اور سرخوشی سے سرشار۔۔۔دونوں کے بال تیز ہوا میں اڑ رہے تھے۔۔!!

یہ بھی پڑھیں : تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا۔۔رفعت علوی/قسط6

میخائل نے زبان پھیر کر اپنے خشک ہونٹ تر کرنے کی کوشش کی اور خشک گلے سے تھوک نگلا، اس کو یاد آیا، ابھی یہ کل ہی کی بات تو تھی کہ صوفیا بہت دیر تک اس کے پاس بیٹھی اس کے لمبے الجھے گھنے بالوں میں کنگھی کرتی رہی تھی، ساتھ ساتھ میں کہتی بھی جاتی، پشمینے تو ہمت رکھنا، تجھے پڑھنا ہے تیری منزل اس معمولی گاؤں سے بہت آگے ہے، تو یہاں سے چلے جانا، جنگ صرف تباہ کرتی ہے اور جان لیتی ہے، انسان کو اپنی زندگی جنگ پر نہیں محبت پر قربان کرنا چاہیے، اور دیکھ اپنے بھائی کا خیال بھی رکھا کر، اگر یہ اسی طرح مدھوش رہا، حکومت اور نئے نظام کے خلاف بولتا رہا تو چیکا کے خونخوار فوجی اس کو اٹھا لے جائیں گے،

اور اب دو پیار کرنے والے جنھوں نے ایک دوسرے کو زمین پر چاند ستارے بچھانے کے خواب نہیں دکھائے، نہ ہی کسی مست زندگی کے وعدے کیے، وہ معاشرے کے باغی اس جہنم سے فرار ہوکر اُس نئی دنیا میں بسنے جا رہے تھے جہاں متاع جان و دل کی آزمائش نہ تھی، خلق خدا روز کسی عذاب سے دوچار نہ ہوتی تھی، جہاں وہ اپنی مرضی کی زندگی جی سکتے تھے، جہاں ہوائیں آزاد تھیں، جہاں آزادیء  رائے تھی، جس میں زندگی کی آسائشیں بھی تھیں اور جہاں تابناک مستقبل ان کی راہ تک رہا تھا!

ریوئر۔۔(خدا حافظ) ریوئر میرے دوستو۔۔۔
مسیح تمھاری حفاظت کرے ساتھیو! جہاں جاؤ خوش رہو۔۔۔اپنی پسند کی زندگی گزارو اور آزادی سے جیو۔۔۔بیڑیاں زنجیریں زنداں کی سنگین دیواریں سائبیریا کے سرد بیگار کیمپ اور گلوٹن کی تیز بےرحم سفاک اندھی دھار سے دور۔۔۔اس غیر فطری معاشرے سے دور۔۔۔۔وہ زیرلب بولا! پھر اس کی آنکھوں سے دو آنسوں ٹپکے، پتا نہیں یہ صوفیا جیسی ہمدرد اور رحمدل عورت سے جدائی کے آنسو تھے یا خوشی اور مسرت کےموتی۔۔

اسی وقت اس کے پیچھے آہٹ ہوئی، میخائل نے مڑ کر دیکھا یہ آئیون تھا جو بیساکھیوں کے سہارے کھٹ کھٹ کرتا اسی کی طرف آ رہا تھا۔۔۔
اس نے دور پہاڑیوں پر جھومتے صنوبر کے درختوں کی طرف دیکھا جن کے تلے دو دھندلے سائے اپنے آپ میں مگن چلےجا رہے تھے، وہ کچھ دیر اسی طرف دیکھتا رہا اور بولا۔۔۔۔
“وہ چلی گئی؟”۔۔
پھر اس نے اپنی بیساکھی میخائل کی طرف بندوق کی طرح تان لی اور بولا ” تو سب جانتا تھا نا؟”۔۔
وہ ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹ گیا تاکہ اپنے غصہ ور بھائی کے کسی متوقع حملے سے بچ سکے مگر نہ تو آئیون نے  کچھ کہا اور نہ ہی میخائل جواب میں کچھ بولا۔
کچھ دیر خاموشی رہی۔ آئیون پہاڑی پر نظر جمائے کھڑا رہا پھربولا۔۔

چھا ہی ہوا وہ چلی گئی، میں روز اس کو برا بھلا کہتا، اس کے ملنے جلنے والوں پہ اعتراض کرتا، اس کو بےوفائی کے طعنے دیتا، مگر بھول گیا تھا کہ بے آواز چیخوں سسکتی کراہوں اور برستی آنکھوں سے بندھے ہر شخص کو قید کی یہ زنجیریں توڑنے کاحق ہے، وہ خوبصورت ہے ،جوان ہے، اس کو اچھی زندگی گزارنے کی آزادی ہے، یہاں مجھ الم نصیب کے پاس اس کو دینے کے لئے رکھا بھی کیا تھا، یہ بیکاری کے شب و روز، یہ بیساکھی، یہ لاچار و معذور جسم، اور بھوک و جنگ مشقت، اور روز کی بیگار۔ اُدھر روشنی ہے آرام ہے امن ہے اور ایک نئی زندگی اس کی منتظر ہے۔ اس کو مبارک ہو۔۔بس یہ ہے کہ میں۔۔میں۔۔۔اکیلا رہ گیا۔۔۔وہ آنسوؤں میں بھیگی آواز میں بولا۔۔۔۔
یہ مرا شہر ہے یا کوئی بیابان فنا

کرگئے کوچ کہاں اہل وفا،

ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہر سو اہل جفا،

دور تک کوئی نہیں اس سرد خرابے کے سوا

اے شرر خانہ امکان بہت ٹھنڈک ہے!

سرد ھوا کا ایک جھونکا آیا۔۔ بیساکھی اس کے ہاتھ سے گرگئی، دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے لگائے وہ یخ بستہ زمین پر بیٹھ گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، اپنے بھائی کی بیکسی پر مخائل کا دل بھر آیا اور اس نے آگے بڑھ کر آئیون کو گلے لگالیا،دونوں کے آنسو ایک دوسرے کے شانوں پہ گرتے رہے۔۔
دور تک سناٹا اسی طرح چھایا رہا، آخر وقت کے ستارے زور زور سے چمکتے رہے، خاموش چھوٹی پہاڑی پر اندھیرے سے جوجتی صبح صادق کی تلاش کرتی رات گزرتی رہی، صنوبر کے درخت اسی طرح ایک دوسرے کو آغوش میں لئے جھومتے رہے، ہوائیں چلتی رہیں، محبت میں ڈوبے دو انسانی سائے حوصلے اور عزم کے ساتھ ایک دوسرے سے لپٹے آگے اور آگے بڑھتے رہے اور پھر وہ پہاڑی سے دوسری طرف اتر کر ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئے۔۔
محبت ایک آوارہ تمنا ہے، موت و زندگی سے ماوارا
یہ کبھی اشکوں میں ڈھلتی ہے، کبھی دیپک میں جلتی ہے
کبھی اجڑ کر خاک بنتی ہے کبھی نیا آغاز بنتی ہے،
محبت ساتھ چلتی ہے۔۔۔ یہ آفاقی تمنا ہے!!!

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *