ایم ایم اے کا قومی وژن۔۔نذر حافی

ایک ایسے ملک میں جہاں اکثریت مسلمان ہو، ختم نبوت پر اٹل عقیدہ رکھتی ہو، دین کی خاطر دھرنے اور مرنے کو ثواب سمجھتی ہو، مذہبی لیڈروں کی گولی اور گالی پر واہ واہ کرتی ہو، اس ملک میں جب کوئی ان پڑھ شخص نہیں بلکہ ایک ڈپٹی کمشنر خودکشی کر لے اور ہاں خودکشی سے کچھ دیر پہلے اس کی وزیراعلٰی پنجاب کے صاحبزادے حمزہ شہباز سے ملاقات بھی ہوئی ہو اور یہ بھی خبر ہو کہ وہ اپنے تبادلے پر بضد تھے۔۔۔۔ ایک ایسے ملک میں جہاں خانہ بدوشوں کی بستی میں نہیں بلکہ مشہورِ زمانہ یونیورسٹی میں، رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ دن کے اجالے میں لوگوں کا جمِ غفیر نعرہ تکبیر لگا کر مشال خان کو قتل کر دے۔۔۔۔۔ ایک ایسے ملک میں جہاں حاجیوں اور غازیوں کی بھرمار ہو، جہاں کے لوگ دین کے لئے جانیں قربان کرنے کے لئے شام، عراق، کشمیر اور افغانستان تک چلے جاتے ہوں، وہاں کسی کی بیٹی کو برہنہ کرکے پھرایا جائے۔۔۔۔۔ وہاں کے علمائے کرام اگر آپس میں اتفاق و اتحاد کا اعلان کریں تو اس ملک کی عوام اپنے علماء سے چند سیٹوں کی توقع نہیں رکھتی بلکہ امت کی قیادت و امامت کی امید رکھتی ہے۔ امت یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ اگر علمائے کرام سیاسی مصلحتوں اور سیٹوں کے پیشِ نظر آپس میں شیر و شکر ہوسکتے ہیں تو یہی علمائے کرام امت میں فرقہ واریت، جہالت و پسماندگی، تکفیریت و عقب ماندگی، شدت پسندی و خود پسندی کے خاتمے کے لئے کیوں نہیں مل کر بیٹھ سکتے!

ملت یہ جاننا چاہتی ہے کہ متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے جید علمائے کرام کا ملت پاکستان کے حوالے سے مستقبل کا وژن کیا ہے؟! یہ علمائے کرام ملت پاکستان کے ماضی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ ان کے نزدیک تقسیم برصغیر اور تشکیل پاکستان کے حوالے سے کیا درست اور کیا غلط ہے۔؟ ان کے نزدیک گاندھی اور جناح میں سے کون غلطی پر تھا اور یہ کس کے فکری وارث ہیں؟ یہ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبالؒ کو اپنا روحانی باپ تسلیم کرتے ہیں یا نہیں؟ یہ پاکستان آرمی کے مقابلے پر کھڑے طالبان کو دین سے منحرف سمجھتے ہیں یا نہیں، نیز یہ آئین پاکستان کو اسلامی آئین مانتے ہیں یا نہیں!؟ ملت پاکستان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ علمائے کرام کا یہ اتحاد کس ہدف کے حصول کے لئے ہے!؟ علمائے کرام ملک میں مغربی جمہوریت لانے پر متفق ہوگئے ہیں یا امارتِ اسلامیہ کا دور دورہ ہونے والا ہے یا خلافت کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کی جائے گی!؟

پاکستانی عوام پہلے ہی لبرل سیاستدانوں کے ڈسے ہوئے ہیں، ان پر واضح ہونا چاہیے کہ ایم ایم اے کی دیگ میں ان کے لئے کیا تیار ہو رہا ہے! مولانا مودودی ؒ کے بقول اگر ایک دیگ میں خنزیر پکایا جارہا ہو اور اس میں چمچے ہلانے والے باوضو ہو کر سبحان اللہ سبحان اللہ بھی کہہ رہے ہوں تو اس سے خنزیر حلال نہیں ہو جائے گا بلکہ یہ چیز لوگوں کو مزید فریب دینے کا باعث بنے گی۔ ہزار ہا تلخ تجربات سے گزرنے کے باوجود ہمارے عوام ابھی تک دین سے مایوس نہیں ہوئے، علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ عوام کی اس دین دوستی سے مثبت استفادہ کریں اور عوام کے سامنے ایک جامع دینی و سیاسی وژن رکھیں، ورنہ پرانی دیگ میں نئے چمچے ہلانے سے سادہ لوح عوام کو دھوکہ تو دیا جا سکتا ہے لیکن عوام کی رہنمائی، قیادت اور امامت کا فریضہ ادا نہیں کیا جا سکتا۔ ایم ایم اے کو دینی جماعتوں کا سب سے منفرد اور موثر اتحاد سمجھا جاتا ہے، اس لئے ایم ایم اے کو بھی عوام کو مایوس نہیں کرنا چاہیے اور اس اتحاد میں شامل تمام تنظیموں کو پاکستان اور اسلام کے حوالے سے اپنے نظریات کھل کر بیان کرنے چاہیے، تاکہ لوگ کھوٹے اور کھرے کی خود سے تمیز کرسکیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *