چلے تھے دیوسائی۔ ۔ جاویدخان/قسط14

آفتاب ہمالیہ پہ:
صبح نماز کے لیے بیدار ہوئے۔وقت اذاں کے کافی بعد،برفیلے پانی سے وضو کیااور باجماعت نماز ادا ء کی۔باقی لوگ واپس بستروں پہ لیٹ گئے۔میں نے طاہر یوسف کو اشارہ کیا اُوپر ٹاپ پہ جارہا ہوں۔سورج ابھی طلوع  نہیں ہوا تھا او ر میں 13500 فُٹ کی بلندی سے طلوع آفتاب کا منظر ہمالیہ کے پَس منظر میں دیکھنا چاہتا تھااو راسے اپنی یادوں کا حصہ بنانا چاہتا تھا۔بدقسمتی سے موبائل کی بیٹریاں بے جان ہوچکیں تھیں اورساتھ کوئی کیمرہ بھی نہیں لاسکے کہ اس منظر کو قید کرسکیں۔کھڑی چڑھائیاں چڑھنا ہمارا بچپن کامحبوب مشغلہ رہا مگر بابو سَر کی اس چڑھائی کے دوران مجھ پہ تھکن غالب آرہی تھی۔سانس پھولنے  لگا تھا۔ ایک تو میری رفتار تیز تھی کیونکہ میں طلوع سے قبل ٹاپ پر پہنچنا چاہتاتھا دُو سرا  شایدآکسیجن کی کمی کی وجہ سے ایسا ہورہاتھا۔چوٹی کے عین نیچے پہنچا تو دو مناظر تھے۔

1۔ سورج کی لالی پار ہمالیائی چوٹیوں کو صبح کا سلام کہہ رہی تھی۔کل شام کو اِن کرنوں نے اُترتے وقت اَلوداعی سلام کہاتھا۔طلوع اور غروب دونوں مناظر کائنات کے خوبصورت ترین مناظر میں سے ہیں۔دونوں کی کفیت جدا جدا ہے۔ہر غروب کے ساتھ فطرت اُداسی لیے ہوتی ہے۔اور اس غروب میں زندگی کاایک قیمتی دن بھی غروب ہوجاتا ہے۔جبکہ ہر طلوع اُمید کی کرن ہوتا ہے۔اس میں بے شمار اہداف مکمل کرنے ہوتے ہیں۔طلوع،اُمید،یقین اور گہماگہمی کی کیفیات سے نوازتا ہے۔
2۔  دوسرا منظر سُرخی اور اُجالے کے اشتراکی رنگ میں عظیم برفانی سلسلے کی تین چوٹیاں سراُٹھائے کھڑی تھیں۔ابھی یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ  ان میں سے بلند ترین درجہ کس کو حاصل ہے۔ صبح کے ٹھنڈے اُجالے میں اُجلی  برفیلی چوٹیوں کا لاتعداد سلسلہ،جن میں تین سب سے نمایاں۔ ان کا  وُجود  آہستہ آہستہ ہلکی سرخی میں بدلنے لگا تھا۔یہ سرخی ابھی بابو سر اور باقی چوٹیوں پر نہیں آئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے:چلے تھے دیوسائی ۔۔جاویدخان/سفر نامہ/قسط 13
نانگا  پربت پہلا منظر:
مشرقی سمت بازارکے پیچھے دو پہاڑ اَیستادہ ہیں۔سورج ان پہاڑوں کے عقب سے تیرتا ہوا اُوپر آیا تو ان پہاڑوں کے عین پیچھے، برف کے لبادے میں ایک چوٹی تن تنہا،تن کر کھڑی تھی۔اُجلاسفید رنگ،بلند،بلندی میں اکیلی اور کہیں کہیں نوکیلی۔یہ نانگا  پربت تھی۔سورج ذرا اور اُوپر آیا تو نانگا  پربت نے سیاہ  نقاب جو اُس کے قدموں میں پڑا تھا،بھی دور پھینک دیا۔ نقاب ا لٹتے ہی برفیلی دیوی کا حسن نمایاں ہونے لگا۔یہ نقاب کل غروب آفتا ب کے بعد سارے پربتوں نے اُوڑھا تھا اور اب سورج کی کرنیں اسے اُتارنے لگی تھیں۔

نظروں سے نانگا پربت محض دو پہاڑوں کے پیچھے کھڑی تھی۔پہلا بازار کی پشت پہ دوسرا اُس سے بلند اور تیسرے پہ نانگا  پربت۔جوٹاپ سے صرف چند سو میڑ دوری پہ کھڑی تھی۔مگر چند سو میڑ پہ نظر آنے والی نانگا  پربت یہاں سے بہت دُور تھی۔اس برفیلی دیوی کے قدموں میں کئی  وادیاں سمٹ کر بیٹھی ہیں۔ان وادیوں کے کئی نام ہیں۔رامہ،نگر،ہنزہ،فیری  میڈو،منی مرگ اور ایسی بھی جنھیں میں نہیں جانتا اور وہ سب اس کے قدموں میں سجدہ ریز ہیں۔یہ سفید اُجلاچمکتاوجود اس وقت میرا ہی نہیں بلکہ تمام پربتوں کی توجہ کا مرکز تھا۔13500فٹ بابو سر اپنے اس ڈھلوانی رخ پہ کھڑا زمانوں سے اسی کے حسن کو دیکھنے میں محو ہے۔

رات کو چاند نانگا پربت کے بہت دائیں پہلو سے نمودار ہُوا تھا۔گردش زمانہ کا یہ آوارہ گرد جب اپنے سُنہری حُسن کے ساتھ نانگا پربت کے عقب سے آوارگی کرتے کرتے عین نانگا کے اُوپر آ کر کھڑا ہو تا ہو گا تو سُنہری شعاعوں میں برفیلی دیوی،خاموش ٹھنڈی وادیاں اور پربت کیسے لگ رہے ہوں گے؟اُجلی چاندنی،اُجلی نانگا اُس کے قدموں میں سوئی خوبصورت وادیاں، ان وادیوں جاگتے سناٹے۔نانگا پربت کو اپنے سلسلے کے سارے پربتوں میں علاقائی سرپرستی حاصل ہے۔

تریچھون،ہمالیای گلہری:
تیسرا  منظر ایک مقامی جانور کاتھا۔صبح جب بیدار ہوا تھا تو بلندی پہ سیٹی نما آواز یں سُنی تھیں اور ایک  چڑیا کی چہکاربھی۔ٹاپ کے ایک چھوٹے سے پتھر سے سیٹی کی آوازیں آرہی تھیں۔قریب پہنچنے پر یہ پتھر نیم سیاہ بھورے رنگ کے جانور میں بدل گیاتھا۔خرگوش سے کافی بڑا یہ جانور یہاں کا باسی تھا۔نزدیک آنے پر بل میں گُھس گیا۔مجھے تھکن محسوس ہو رہی تھی۔لہٰذا اس کے بل کے پاس ہی بیٹھ گیا۔اصغر اکرم اور راحیل خورشید اُوپر آرہے تھے۔تھوڑی دیر بعد بھورا جانور اپنے بل سے نکل آیا اور مجھ سے گز بھر فاصلے پر بیٹھ گیا۔جیسے میرا قدیم شناسا ہو۔سورج مزید اُوپر آیا تو کرنیں ہم پر بھی اُتر آئیں۔کچھ دیر بعد میں نے چادر اُتار لی توپاس بیٹھے بھورے گلہری نما جانور نے بھی اجنبیت کی چادراُتار لی ۔دُھوپ کی گرم کرنوں نے بدن کو حدت دیناشروع کردی تھی۔

اصغر اکرم اور راحیل خورشید جنھیں چڑھائی چڑھتے کافی وقت لگا تھا نزدیک آئے تو میں نے قریب بیٹھے اس اجنبی دوست کی طرف اشارہ کیا جو اُبھرتے سورج کی کرنوں کے ساتھ نانگا پربت کے سامنے بیٹھ کر ہمیں خو ش آمدید کہہ رہا تھا۔راحیل نے کھڑے کھڑے چند تصاویر اُتاریں ۔ان کے موبائلوں میں بیٹریاں کام کر رہی تھیں۔ہمارے اس مانوس دوست کے متعلق مقامی شخص نے بعد  میں بتایا کہ اسے مقامی زبان میں تریچھون کہتے ہیں۔یہ گھاس خو ر ہے اور اگست سے ستمبر تک ان اُونچی جگہوں پر جو تازہ گھاس نکل آتی ہے اُسے
جمع کرتا رہتا ہے۔وسط ستمبر میں جب برف پڑنے لگتی ہے اور موسم سخت ہو جاتا ہے تو یہ اپنے بل میں گُھس جاتا ہے۔باقی کا سارا عرصہ اُسی گھاس پہ گزارا کرتا ہے ۔

راحیل خورشید اور اصغراکرم سے تصاویر کھینچوانے کے بعد تریچھون اپنے بل میں گھس گیا۔کچھ دیر سستانے کے بعد ہم اُوپر کی طرف چڑھنے لگے۔چوٹی کے سر پہ پہنچے تو دوسری طرف ننگے گھاس دار پہاڑوں  کا ایک لمباسلسلہ دُور تک پھیلا تھا۔چوٹی کے بائیں طرف نیچے ایک نیم مردہ گلیشر پڑا سسک رہا تھا اس کے آنسو سے ایک چھوٹی سی جھیل بن گئی تھی۔یہی  گلیشر اس جھیل کی زندگی تھی۔ایک کچھ تنگ راستہ بڑی سڑک سے یہاں تک آیا تھا۔ ایک کار یہاں تک آئی رُکی او ر واپس چلی گئی۔

چوٹی سے چاروں اطراف کا منظر واضح تھا۔سامنے مشرقی اور جنوب مشرقی سمتوں میں برفانی سلسلے چمک اُٹھے تھے۔انھیں پورا دیکھنے کی آنکھوں میں تاب نہ تھی۔پولو کا میدان ایک چھوٹے کھیت کا آدھا حصہ لگ رہا تھا۔چرواہوں کی بستی میں زندگی بیدار تھی۔کچے جھونپڑوں سے دھواں اُٹھ رہا تھا۔اُپلوں کی آگ پہ ناشتہ پک رہا تھا۔ تریچھون پھر سے سیٹیاں بجانے لگے اور چوٹی کے  نیچے ہمارے قدموں میں ایک پرندہ اپنی بولی میں صبح کا گیت گا نے لگا۔ مشرقی سمت دیکھا تو دھوپ میں نانگا پربت کا سفید بلوری  بدن،چمکنے لگا تھا۔سفید بلوری شعاعیں اُس کے وجود سے پھوٹ رہی تھیں۔جیسے ہیرے کاغیر تراشیدہ پہاڑ کھڑا ہو اور اُس سے شفاف کرنیں پھوٹ پھوٹ کر بکھر رہی ہوں۔منجند برف پر پڑنے والی کرنوں نے دیکھنے کی تاب ختم کردی تھی۔  جاری ہے۔۔

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”چلے تھے دیوسائی۔ ۔ جاویدخان/قسط14

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *