ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 189 )

اوئے کتے! بولو کہ تم کتے ہو۔۔۔اویس احمد/افسانہ

ننھا مبارک خوشی خوشی اپنے گھر کی گلی میں تیز تیز قدموں سے بازار کی جانب دوڑا جا رہا تھا۔ اس کی امی نے اسے بازار سے بیسن لانے کا کہا تھا۔ بیسن سے پکوڑے بننے تھے جو مبارک کو←  مزید پڑھیے

محبت کی تیسری کہانی۔ ۔۔مریم مجید

کشمیر جنت نظیر و ایران صغیر کا وہ ایک چھوٹا سا چناروں اور چیڑھوں سے گھرا گام (گاوں) تھا جہاں کچی بانڈیوں کی چھوٹی سی آبادی تھی۔ چندراہار نامی یہ گاوں آنے والے وقتوں میں اپنا نام بدل لینے والا←  مزید پڑھیے

بک ریویو:طلاق کے موضوع پر ایک ضروری مگر نامکمل کتاب۔۔۔غزالہ جمیل

اگر چہ اسلام سے قبل سماج اورمعاشرے کی  بہ نسبت اسلام نے خواتین کو بہتر حقوق دیے اور مردوں کے فرائض کو صاف طور پر بیان کیا۔ لیکن ان باتوں کا ڈھانچہ کافی حد تک پدری نظام (patriarchy) کا ہی←  مزید پڑھیے

پارسائی کا کفارہ۔۔۔قراۃ العین حیدر

مانوس خوشبو کا ایک جھونکا اس نے محسوس کیا۔ ۔ چونک کر ادھر ادھر دیکھا۔۔۔۔ وہی خوشبو تھی۔ ایک لمحے کیلئے اس کی سانس رُک سی گئی۔ ٹانگوں نے اس کا بوجھ برداشت کرنے سے انکار کردیا۔ وہ قریبی کرسی←  مزید پڑھیے

غیرت۔۔۔ معاذ بن محمود

گھر میں قدم رکھتے ہی میری پہلی فرمائش دیوار پہ سجی وہ دونالی بندوق اتارنے کی تھی۔ لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ ہاشم کے لیے یہ خاندانی توقیر اور جاہ و جلال کا مظہر تھی جبکہ میرے نزدیک بابا کی←  مزید پڑھیے

مظہر کلیم، ابن صفی اور میرا بچپن۔۔ محمد مشتاق

مظہرکلیم کا انتقال ہوگیا۔ اللہ انھیں کامل مغفرت نصیب کرے۔ بچپن میں ان کے ناولوں کا رسیا تھا تاآنکہ ایک دن ابن صفی کی جاسوسی دنیا کا ناول “دہرا قتل” پڑھا جو “نیا رخ” ڈائجسٹ کے آخری صفحات پر شائع←  مزید پڑھیے

وجہ ‘ان کہی کہانی ‘۔۔۔کے ایم خالد

رات بارہ بجے میں نے گاؤں جانے کے لئے قبرستان کا چھوٹا رستہ اختیار کیا۔ ’’پتر خالد!‘‘ یہ آواز چاچے خیر دین کی تھی۔ میرے قدم تیز ہو گئے۔ ’’بات تو سنو‘‘۔ چاچا کب مرا میں نے سوچا۔ ’’میں اکیلا←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی۔۔جاوید خان/قسط22

رَامہ جھیل کی طرف: رامہ میدان کے پیچھے مشرقی سَمت،نانگا پربت کے پہلو میں رامہ جھیل ہے۔ایک کمزور سی سڑک،جس پر ایک وقت میں صرف ایک ہی گاڑی گُزر سکتی ہے،رامہ جھیل تک لے جانے کا اَحسان کرتی ہے۔رامہ میدان←  مزید پڑھیے

محبت کی دوسری کہانی۔۔۔مریم مجید ڈار

شب کے اس پہر ، جبکہ چاند اخروٹ کے درخت کی پھننگ پہ آن ٹھہرا ہے اور دور جنگل میں کسی شب بیدار پرندے کے مسلسل کوکنے کی آواز بوند بوند خاموشی کے درون چھید کرتی ہے تو میں اپنے←  مزید پڑھیے

قتلِ ناحق۔۔۔عمران حیدر

نوٹ:آج عمران حیدر کی پہلی برسی ہے۔مکالمہ گروپ عمران حیدر کو آج بھی اسی طرح یاد کرتا ہے،اور اُن کے لیے دعا گو ہے کہ اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں ۔آمین! میرا قتل ہوا تھا۔۔۔←  مزید پڑھیے

سیاہ گڑھے’ مسٹری مائیکروفکشن۔۔۔عامر صدیقی

وہ ایک خونی لٹیراتھا۔ اس کے سر پر انعام تھا، اسکی موت یقینی تھی اور اس وقت وہ کسی انجان راستے پرلگاتار کئی دنوں سے بھاگا چلا جا رہا تھا۔اس کے پیچھے تھے مسلح سپاہی اور انکے خونخوار کتے۔یہ اس←  مزید پڑھیے

شہنشاہِ سندھ کے حضور۔۔۔ مشتاق علی شان

ترا تخت سلامت یونہی رہے ترا بخت سلامت یونہی رہے ترے پیر وڈیرے زندہ رہیں بدنام لٹیرے زندہ رہیں تری “خاکی فطرت” خاک رہے تو “پاک” ہے جیسا ” پاک” رہے ہم “عقل سے عاری” سندھ باسی صدیوں کی بیماری←  مزید پڑھیے

نظر تجھے ڈھونڈتی ہے ہر دم۔۔۔شہاب عمر

وہ میری صحافتی اور علم  دوست تھی، ہماری دوستی تین مئی دو ہزار سولہ سے شروع ہوئی اور دو سال تک بغیر کسی مسئلے کے جاری رہی، دوستی گہری تھی ،اسی لئے میں روز اس کا دیدار کرتا تھا،جس دن←  مزید پڑھیے

بولتا پیڑ ۔۔۔۔ جاویدحیات

عقیل پہلے پاگل نہیں تھا٬ بہت ساری باتیں کرتا تھا اب جنگل کے پیڑ کی طرح خاموش ہوگیا ہے، جب بھی أسے کسی گلی میں دیکھتا ہوں تو وہ اجنبی نظروں سے گھورنے لگتا ہے جیسے وہ کہہ رہا ہو←  مزید پڑھیے

مڑھیاں دا دیوا۔۔۔مریم مجیدڈار

شکر دوپہری سروٹاں دے ذخیرے دے اندرو اندر کوئی ٹریا جاندا سی۔ ہاڑ دی دھپ تے ساہ پھٹ گم دا چار چفیری پہرہ سی ۔ او جو وی کوئی سی، اوہدے پیراں دی آواز توں شاید اس ذخیرے دے سارے←  مزید پڑھیے

حاصلِ محفل۔۔۔فیصل عظیم

تمہیدوں کی بھول بُھلیّاں باتیں گنجلک روحِ معنی کی ارزانی تعریفوں کے مردہ پیکر توصیفی نظروں سے پوجا پاٹ کے منظر گویا سب کچھ لمحے بھر کو سر آنکھوں پر ایک عجب ہنگامہ شب بھر واہ وا ہ کی مشکوک←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔۔۔جاوید خان

رَامہ میدان: ہماری گاڑیاں خُوبصورَت ڈاک بنگلوں کے سامنے جارُکیں۔بائیں طرف ڈاک بنگلے ایک چبوترا نما جگہ پر ایک دوسرے کے پہلو میں ہیں۔ دائیں طرف ایک بڑا مُستطیل میدان ہے۔اِس کے چاروں طرف بیاڑ کے درخت، ایک فصیل کی←  مزید پڑھیے

چنبیلی ۔۔۔مسٹری مائیکرو فکشن/ عامر صدیقی

’’تو جناب میں کیا کہہ رہا تھا، اوہ ہاں یاد آیا۔میرے یہ گلاب سبھی کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ اُس دن بھی جب پولیس کا سراغرساں گھر میں داخل ہوا تومیں ہاتھ میں بڑی ساری قینچی لئے، انہی گلاب←  مزید پڑھیے

گھنٹیاں ۔۔۔ارشد علی/افسانہ

شہر کے چند گھروں میں راتوں رات عجیب سے درخت اگ آئے ۔ جن پر ٹہنیاں اور پتے تھے اور نہ ہی ان کے تنے دکھائی دیتے تھے۔ زمین سے نکلتے ہی گھنگھریالے بالوں سے مشابہہ  عجیب سا سبزہ چاروں←  مزید پڑھیے

چلتے ہو تو میڈیکل کالج چلیے۔۔۔گل نوخیز اختر

میڈیکل میں داخلہ لینے کا سب سے بڑا فائدہ ہے کہ بندہ ڈاکٹر بھی بن جاتا ہے اور مریض بھی۔ میں سمجھتا رہا کہ میڈیکل کے سٹوڈنٹس بڑے احتیاط پسند ہوتے ہوں گے‘ ہر چیز ہائی جینک کھاتے ہوں گے۔←  مزید پڑھیے