ارشد علی کی تحاریر

سبین علی کی تانیثی فکر۔۔۔ارشد علی

بیسویں صدی کے اوائل میں عالمی منظر نامے پر مزدور اور پسماندہ طبقات جہاں اپنے حقوق کے حصول  کی خاطر نبرد آزما نظر آتے ہیں تووہیں خواتین بھی اپنے حقوق کے لیے صدائے احتجاج بلند کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہی←  مزید پڑھیے

مظہر حسین سید! ترقی پسند فکر کا منفرد شاعر۔۔۔۔ارشد علی

2009ء کے دسمبر یا شاید نومبر کی بات ہے کہ ایک روز مجھے اس دور کا یار دیرینہ  دوست  محمد عارف زبردستی واہ کینٹ کی نمائندہ ادبی تنظیم صریر خامہ میں لے گیا جہاں واہ کینٹ کے جانے مانے ادیب←  مزید پڑھیے

گڑیا ۔۔۔۔ارشد علی/افسانہ

سردیوں کے دن شروع ہو چکے تھے ۔۔۔اور اماں بھی اسے متعد د بار کہہ چکی تھی کہ رضائیاں بستر نکال کر دھوپ لگوالے تاکہ استعمال کے قابل ہو سکیں لیکن ایک تو اس کی صبح سے شام تک کی←  مزید پڑھیے

عدالتی اصلاحات، وقت کی اہم ضرورت۔۔۔۔ارشد علی

پاکستانی عوام میں غالب اکثریت بڑھک بازوں کی ہے یا ایسے لوگوں کی جو تربیت کے عمل سے نہ گزرنے کے باعث خود کو بااختیار سمجھنے کے زعم میں مبتلا کوئی توپ قسم کی شے ہونے کا گمان اور خبط←  مزید پڑھیے

گھنٹیاں ۔۔۔ارشد علی/افسانہ

شہر کے چند گھروں میں راتوں رات عجیب سے درخت اگ آئے ۔ جن پر ٹہنیاں اور پتے تھے اور نہ ہی ان کے تنے دکھائی دیتے تھے۔ زمین سے نکلتے ہی گھنگھریالے بالوں سے مشابہہ  عجیب سا سبزہ چاروں←  مزید پڑھیے