وجہ ‘ان کہی کہانی ‘۔۔۔کے ایم خالد

رات بارہ بجے میں نے گاؤں جانے کے لئے قبرستان کا چھوٹا رستہ اختیار کیا۔

Advertisements
julia rana solicitors

’’پتر خالد!‘‘
یہ آواز چاچے خیر دین کی تھی۔
میرے قدم تیز ہو گئے۔
’’بات تو سنو‘‘۔
چاچا کب مرا میں نے سوچا۔
’’میں اکیلا نہیں،تمہارے گھر والے بھی ادھر ہیں‘‘ْ
چاچا میرے پیچھے بھاگا۔
خوف سے میں بے ہوش ہوتا چلا گیا۔
ہوش آیاتو منظر ہیبت ناک تھا۔
پورا گاؤں قبرستان میں موجود تھا ۔
’’میں مر چکا ہوں۔۔۔؟‘‘
’’ پتر! مرا کوئی نہیں،گاؤں میں رات بجلی بند رہتی ہے گرمی سے ستائے لوگ قبرستان آ جاتے ہیں رات سکون سے نکل جاتی ہے‘‘
ابانے کہا۔۔۔۔!

Facebook Comments

کے ایم خالد
کے ایم خالد کا شمار ملک کے معروف مزاح نگاروں اور فکاہیہ کالم نویسوں میں ہوتا ہے ،قومی اخبارارات ’’امن‘‘ ،’’جناح‘‘ ’’پاکستان ‘‘،خبریں،الشرق انٹرنیشنل ، ’’نئی بات ‘‘،’’’’ سرکار ‘‘ ’’ اوصاف ‘‘، ’’اساس ‘‘ سمیت روزنامہ ’’جنگ ‘‘ میں بھی ان کے کالم شائع ہو چکے ہیں روزنامہ ’’طاقت ‘‘ میں ہفتہ وار فکاہیہ کالم ’’مزاح مت ‘‘ شائع ہوتا ہے۔ایکسپریس نیوز ،اردو پوائنٹ کی ویب سائٹس سمیت بہت سی دیگر ویب سائٹ پران کے کالم باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔پی ٹی وی سمیت نجی چینلز پر ان کے کامیڈی ڈارمے آن ائیر ہو چکے ہیں ۔روزنامہ ’’جہان پاکستان ‘‘ میں ان کی سو لفظی کہانی روزانہ شائع ہو رہی ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply