“گلَ تاں بڑی ماڑی ہوئی آ ، پرلگدا سی انجے ہونی سی۔”حاکو نے چار خانیاں والے میلے کھیس دی بکل نوں گھٹیا تے نسل ہوکے لکڑّ دے بنچ اُتے بہہ گیا ۔ نورا ہنگورا بھرن یاں کوئی جواب دین دی← مزید پڑھیے
اس کی پھانسی میں فقط ایک گھنٹہ باقی تھا۔ جیلر کی جانب سے ملی گولڈ لیف کا آخری گہرا کش لگا کر اس نے کاغذ قلم کی فرمائش کر ڈالی جو پوری ہوئی۔ “اس کے علاوہ کوئی آخری خواہش؟” “ہاں۔← مزید پڑھیے
وہ ایک من موجی شاعر ہوا کرتا تھا مگر اب دن بدن زندگی کا دائرہ اس کے گرد تنگ ہو تا جا رہا تھا۔ اور اس کی ایک بڑی وجہ اسے اپنی بیوی لگتی تھی جو اس کے حلق میں← مزید پڑھیے
تپتی گرم دوپہر تھی ، جون کا مہینہ اور شوکتی لو کے تھپیڑے بدن کی کھال اتار لے جانے کے درپے تھے۔ اور ایسی گرم جہنم دوپہر میں وہ اینٹوں کے چوبارے پر کہنیاں ٹکائے غلیل سے نشانہ باندھے بالکل← مزید پڑھیے
مرزا غالب : آداب میاں ! درزی : آداب مرزا نوشہ ، بیٹھیے ، کہیے مزاج کیسے ہیں ، آپ کا کرتا کلو دے گیا تھا… سلے دیتے ہیں… کچھ وقت لگے گا . مرزا غالب : کیسا وقت میاں..سب← مزید پڑھیے
صحن تو اس نے بنا لیا تھا۔ اب بیج بونا رہ گیا تھا۔ صحن بناتے ہوئے اس کی نظریں اردگرد کے صحنوں پہ تھیں۔ جہاں بھانت بھانت کے درخت لگے تھے۔ کچھ صحنوں میں تو ننھی ننھی کونپلیں پھوٹ رہی← مزید پڑھیے
الماری دا شیشہ بہت لما سی۔ اوہدے قد جڈھا اوہ اپنے کوٹ دے بٹن کھولن لگا سی۔ اوہدا ہتھ بٹن اتے ہی رک گیا۔ جیویں شیشیے وچلے ہتھ نے اوہدا ہتھ پھڑ لیا سی۔ ” کپڑے نہیں بدلو گے ؟← مزید پڑھیے
آج کچھ اور لکھنا تھا مگر یکایک کچھ پل ایسے گزرے کہ اسپِ خیال ماضی کے دھندلکوں میں محو سفر ہو گیا اونچی نیچی گرم سرد یادوں سے ہوتا ہوا یاد کے اس مزار پہ آ کے رک گیا جہاں← مزید پڑھیے
سمن نے کولمبو کے ایک کلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کی زیادہ تر رقاصائیں پاکستانی ہیں۔ اس کے بعد اس نے مزید بتایا کہ کولمبو میں مہنگی ترین جسم فروش خواتین بھی پاکستان کی ہی ہیں۔← مزید پڑھیے
وکٹوریا کی بندرگاه چھوڑے گھنٹہ بیت چکا تھا۔ فیری اب بحر ہند کے کھُلے سمندر میں جھولتی چلی جا رہی تھی۔ اس کی سمت مڈغاسگر کی طرف تھی۔ براعظم افریقہ کی حدود میں آسمان شفاف اور روشن تھا۔ سورج پوری← مزید پڑھیے
‘اوۓ شہباز اوۓ۔ اوۓ باہر نکل آ!چنگا کالج ڈالا ہے تجھے ! “ابا جی کی آواز نیند کے سبھی پردے چھیدتی ہوئی مجھ تک پہنچ رہی تھی۔ ‘نکے چوہدری جی، نکے چوہدری جی اٹھو، اٹھو'” روز کی طرح صبح وہی← مزید پڑھیے
اس پیر کی صبح، گرم اور بنا بارش کے نمودار ہوئی۔ صبح سویرے جاگنے والے او لیور ایسکوار نے، جو دانتوں کا ایک بغیر ڈگری والا ڈاکٹر تھا، اپنا کلینک چھ بجے ہی کھول دیا۔ اس نے شیشے کی الماری← مزید پڑھیے
آج آخری روزہ تھا- افطاری کا وقت ہونے ہی والا تھا، نوری مسجد کے بڑے سے صحن میں قرآن شریف پڑھنے کے لئے آئے ہوئے طالبعلم دھلی ہوئی اینٹوں والے سرخ سرخ فرش پر منظم انداز میں قطاریں بنا کر← مزید پڑھیے
“نہیں رہ سکتی میں اس کے ساتھ مزید۔ وہ شراب پیتا ہے، نامحرم عورتوں سے معاشقے چلاتا ہے۔ اس کی وجہ سے میری اولاد خراب ہوجائے گی۔” مجھے محسوس ہوا جیسے اس کی ہسٹیریائی کیفیت میں ڈوبی آواز میرے پردہ← مزید پڑھیے
بیک یارڈ کی طرف کھلنے والی کھڑکی پر زور زور سے دستک ہو رہی تھی،گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ سے قلم چھوٹ گیا، نہیں، اس سے پہلے اس کے قلم کی نوک پر رکھی کہانی، جو صفحے کے سینے میں← مزید پڑھیے
پہلے وہ باتیں جو مجھے آخر میں کہنی تھیں کہ ؛ لائف آف این آؤٹ کاسٹ ؛دلتوں کی زندگی کے اندھیرے اور ایک دلت ٹیچر کے بلیک بورڈ پر’اُوم‘نہیں لکھنے کی جرٲت سے کہیں زیادہ دلتوں کے ’نہیں‘ کہنے کی← مزید پڑھیے
وہ سرد فضاؤں کا دیس تھا ۔ جہاں مجھے وہ عورت ملی تھی جو راکھ کی ہلکی پرت میں محفوظ نارنجی اور خفتہ آگ کی لپٹوں سے بھرپور انگیٹھی کی مانند تھی۔ دنیا کے کئی خطے ایسے ہیں جہاں موسم← مزید پڑھیے
“جدید فنکار کا ہنر{ کرافٹ} اور تشدد میں رہنا ضروری ہے. ان کے معبود تشدد کے معبود ہیں. جو فنکاروں کو نام نہاد کہتے ہیں، جن کے کام اور تنازعات کو نہیں دکھایا جاتا ہے، وہ بے نظیر ہیں.” {← مزید پڑھیے
یہ دنیا تب ہی کیوں جاگتی ھے جب کسی کے درد کو دوا ملنے لگے ۔جب خوشیاں اس کے دروازے پر خود آکر دستک دیں ۔کہیں باس زدہ کمرے میں تازہ ہوا آنے لگے ۔؟ کیوں اس دنیا کو اسی← مزید پڑھیے
وزیراعظم جسٹس ثاقب نثار نے لاہور میں ایک کمہار کی دکان کا دورہ کیا اور چکنے گھڑوں کی عدم دستیابی پر برہمی ظاہر کی۔ انھوں نے کمہار کے چاک کا معائنہ کیا اور اسے معیار کے مطابق نہ پاکر پانچ← مزید پڑھیے