کال کلیچیاں۔ مریم مجید

تپتی گرم دوپہر تھی ، جون کا مہینہ اور شوکتی لو کے تھپیڑے بدن کی کھال اتار لے جانے کے درپے تھے۔ اور ایسی گرم جہنم دوپہر میں وہ اینٹوں کے چوبارے پر کہنیاں ٹکائے غلیل سے نشانہ باندھے بالکل چوکس اور مستعد کھڑا تھا۔ “آج تو شرط بدی ہے! جیت کے دکھاوں گا”ناک پہ ایک دھار سے بہتے پسینے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس دس سالہ بچے نے مغز پگھلاتے سورج کی تپش سے دھیان ہٹانے کی خاطر وہ سارے ہرے،نیلے،بھورے اور لہریئے دار کنچے یاد کئے جن پر ایک عرصے سے وہ رال ٹپکاتا تھا اور صفدر اس کی نیت و خواہش بھانپتا تھا، جبھی تو کنچوں کی شرط بدی تھی۔  معاملہ شروع بھی تو ان کنچوں سے ہی ہوا تھا جب پچھلے اتوار کو وہ،صفدر، اشرف اور ساجد اپنی مخصوص جگہ پر کھیل رہے تھے اور اپنے تئیں ہوشیار بننے والا نیاز اپنے بچے کھچے کنچے بھی چالاک صفدر کے ہاتھوں گنوا چکا تھا۔

“صفدر! یہ بے ایمانی ہے۔تو نے میرے سارے بنٹے لے لیئے ہیں۔جیب خرچی جوڑ جوڑ کے لئیے تھے میں نے! ” جب آخری ہرا، بھورا اور زرد لہروں والا موٹا سا کنچا بھی صفدر نے مال غنیمت کے طور پر سمیٹا تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ “بے ایمانی کیسی؟ میں نے جیتے ہیں تجھ سے! اگر میں ہار جاتا تو یہ سارے کے سارے تیرے ہو جاتے۔”اس نے چالاکی سے دیدے گھماتے ہوئے اپنی کنچوں بھری بوتل کی طرف اشارہ کیا اور لطف لیتے انداز میں نیاز کا لٹکا ہوا منہ تکنے لگا جو اب بس رو دینے کے قریب ہی نظر آتا تھا۔  اس بات پر وہ واقعی لاجواب ہو گیا کہ ہر بار ہارنے کے باوجود وہ پھر سے اپنا سرمایہ اسی لالچ میں داو پر لگاتا تھا کہ ہو سکتا ہے اب کے قسمت یاوری کرے اور وہ سب کے سب کنچے اس کی ملکیت ہو جائیں جو پلاسٹک کی شفاف بوتل میں صفدر کی بغل میں دبے رہتے تھے۔ مگر قسمت کو تو اس سے ازلی بیر تھا جبھی آج وہ اپنے آخری کنچے بھی گنوا بیٹھا تھا۔

 “اب میں کبھی کھیلوں گا ہی نہیں”! مایوسی کی انتہا پر پہنچ کر وہ چلایا اور کنچے کھیلنے کے لئیے بنائی جگہ کو ٹھڈوں سے ناہموار کرنے لگا۔ساجد اور اشرف ہنسے تو اس کا راجپوتی لہو اپنا رنگ دکھانے لگا”تو مجھ پر ہنسا؟ ابھی بتاتا ہوں” اس نے ارنے بھینسے کی مانند ایک ہی ٹکر سے ساجد کو گرایا اور کچی زمین پر دونوں دھول کا بھوت بن گئے ۔ بالآخر صفدر کو دخل اندازی کرنا پڑی۔”اوئے بس کرو اب!” اس نے اپنے دو سال بڑے ہونے کا رعب جھاڑا اور دونوں کو بازو سے پکڑ کر علیحدہ کیا” دیکھ نیاز! میں نے نہ کنچے چرائے،نہ چھینے! تجھ سے جیتے ہیں ” یہ کہتے ہوئے وہ ان بے ایمان تکنیکوں سے صاف کنی کترا گیا جنہیں وہ کھیل کے دوران استعمال کرتا تھا۔ ہانپتے ہوئے نیاز نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا ۔

“اب تیرے پاس کوئی کنچا نہیں ہے مگر پھر بھی میں تجھے یہ سب کنچے دے دوں گا اگر۔۔”اس نے ڈرامائی انداز میں بات ادھوری چھوڑ دی اور تھوڑی دیر قبل آئندہ نہ کھیلنے کا اعلان کرنے والے نیاز کے منہ میں پانی آ گیا”اگر کیا،؟” اس نے بے تابی سے پوچھا۔”اگر تو اگلی اتوار کو دو کال کلیچیاں شکار کر لائے تو یہ سارے کنچے تیرے! کیا کہتا ہے؟” اس نے بات مکمل کی اور نیاز کی طرف دیکھا جس کا منہ پھر سے لٹک گیا تھا۔مکار صفدر جانتا تھا کہ نیاز کا نشانہ کتنا برا ہے اور وہ تو اپنی غلیل سے درخت پر لٹکی کیریاں نہیں گرا سکتا کجا کال کلیچیوں جیسی پھرتیلی اور متحرک چڑیا شکار ؟ یوں اسے ایک نئی زک پہنچانے کے ساتھ ساتھ وہ ایک بار پھر جیت کا لطف بھی اٹھا سکتا تھا۔

“کیا ہوا؟ اچھا چل رہنے دیتے ہیں” اس نے سوچ میں ڈوبے نیاز کو تمسخرانہ کہا تو وہ تلملا اٹھا۔ ” نہ صفدر! شرط تو پھر شرط ہی سہی! میں کال کلیچیاں مار کے لاؤں گا اور تجھے کنچے میرے حوالے کرنے ہوں گے” وہ ڈٹے ہوئے لہجے میں بولا تو اپنی جیت کے حوالے سے پریقین صفدر نے جھٹ گردن ہلا دی۔ کچھ دیر کی گفت و شنید کے بعد طے پایا کہ اگلے اتوار کو مغرب کی اذان سے پہلے پہلے نیاز کو دو کال کلیچیاں شکار کر کے لانی ہوں گی ۔اگر وہ کامیاب ہو گیا تو صفدر اپنے سب کنچے اسے دے دے گا بصورت دیگر نیاز کو سب کے سامنے تین بار ناک سے زمین پر لکیریں کھینچ کر اپنا نکما پن اور صفدر کی برتری تسلیم کرنا ہو گی ۔ جوش اور تلملاہٹ سے بھرے دس سالہ نیاز نے من و عن رضامندی دے دی۔ اب وہ اس کھولتی دوپہر میں پچھلے دو گھنٹوں سے غلیل اور کنکریاں سنبھالے کال کلیچیوں کو کھوج رہا تھا مگر شاید انہیں بھی خبر ہو گئی تھی اسی لئیے املی کے درختوں پر آج ایک بھی چڑیا ڈھونڈنے سے نہ ملتی تھی۔

عام دنوں میں ڈالیں ان  چڑیوں سے لدی رہتی تھیں۔ گرمی سے بے حال اکا دکا کوے چونچیں کھولے نظر آ رہے تھے۔ بھوری گوریا بھی نظر آ جاتی مگر کال کلیچی گویا گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو گئی تھی۔ دھوپ سے بچنے کے لئیے جو گیلا صافہ اس نے سر پر لپیٹا تھا اس کی نمی کو دھوپ کب سے چوس چکی تھی۔ اماں نے دو چار مرتبہ نیچے لے جانے کی کوشش کی مگر ضدی نیاز نے سن کر نہ دیا۔

“اف کہاں مر گئی ہیں سب کی سب” اس نے جھنجھلاکر ایک موٹا سا کنکر غلیل میں بھرا اور بے ارادہ ہی چھوڑ دیا۔ “پٹاخ'” کی آواز آئی اور املی کے دو تین پکے ہوئے سرخ سرخ کٹارے زمین پر آ رہے۔ چونچ کھولے ہانپتا کا  ڈر کے مات دوسری شاخ پر جا بیٹھا۔  گرم سنسناتی لو کے تھپیڑے نیاز کو مزیدپگھلانے لگے مگر آج وہ ہار ماننے کو تیار نہ تھا۔

سر کے بالوں سے بہتا پسینہ اب قمیض میں سرسرا رہا تھا۔ مزید آدھا گھنٹا گزرا تو نیاز نے کال کلیچیوں، کنچوں اور شرط پر لعنت بھیج کر نیچے جانے کا ارادہ تو کر لیا لیکن فورا ہی صفدر کا تمسخر اڑاتا لہجہ کانوں میں گونجنے لگا”میں نہ کہتا تھا، تو کبھی کوئی شرط جیت ہی نہیں سکتا۔ ” نہیں! آج شرط جیتنا ہی ہو گی۔ کنچوں سے بھری بوتل سے بھی زیادہ ناک سے لکیریں نکالنے کی شرط کڑی تھی۔ اس نے ایک بار پھر سے نظر املی کے پیڑوں میں گاڑ دی۔

دھوپ میں سڑتے جانے اب تک کتنی دیر ہو چکی تھی ۔ہوا بھی جیسے کہیں سر چھپا چکی تھی۔ تبھی  یکایک اسے کچھ شائبہ ہوا ۔وہاں درمیانے پیڑ کے ایک اونچے سے دو شاخے پر ایک نہیں تین کال کلیچیاں بیٹھی تھیں۔ جوش اور ہیجان کے مارے اس کے ہاتھ کانپنے لگے اور خون کا دورہ تیز ہو گیا۔اس نے جھک کر ایک پتھر غلیل کے پٹے میں بھرا اور اپنے تئیں نشانہ باندھ کر چھوڑ دیا ۔پتھر ڈال سے ٹکرا کر نیچے گر گیا اور کال کلیچیاں اڑان بھر کر دوسرے پیڑ میں روپوش ہو گئیں ۔اتنے گھنٹوں بعد دکھائی دینے والی امید کی کرن بجھی تو دس سالہ نیاز کی آنکھوں میں آنے والی ذلت کے تصور سے مرچیں سی لگنے لگیں۔ وہ بے اختیار منڈیر کے ساتھ بیٹھتا چلا گیا۔ موٹے موٹے آنسو گالوں پر رستہ بناتے بہنے لگے۔ “میری قسمت میں  ہمیشہ صفدر سے مات کھانا ہی لکھا ہے”۔ 

کچھ دیر رونے دھونے کے بعد اس نے نیچے جانے کے ارادے سے کھڑے ہونا چاہا تو نگاہ بھٹک کر ساتھ کے احاطے میں جا پڑی۔ ایک بھورا چوزہ نالی کا گارا کرید رہا تھا اور کچھ فاصلے پر ایک موٹی سی بلی اس پر نشانہ لگائے بیٹھی تھی۔ وہ چپ چاپ دیکھے گیا۔ بے پرواہ چوزہ کچرا چھانتا رہا۔ بلی کا پورا بدن ایک تنی ہوئی کمان  مین ڈھلا ہوا تھا۔ نگاہ مقصد پر، ہار جیت کے خوف سے آزاد۔ پریقین اور پراعتماد! بلی نے خود کو تولا، سیدھی ہوئی اور پلک جھپکتے میں چوزہ اسکے دانتوں میں پھڑپھڑا رہا تھا۔نیاز اب رمز سمجھ چکا تھا۔

اب کے وہ کھڑا ہوا تو ذہن میں نہ صفدر کا خوف تھا نہ کنچوں کا لالچ۔ وہاں اب اپنی کامیابی کا یقین تھا۔ بہت ہی سکون سے اس نے غلیل تھامی اور ایک بار پھر سے پیڑوں میں نگاہ الجھا دی۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ہر شاخ پر اسے دو تین چڑیاں بیٹھی نظر آئیں۔ ” یہ کہاں سے اگ پڑیں؟ ” وہ حیرت سے بڑبڑایا ۔ نگاہ اتنی چوکس ہو گئی کہ وہ ان کے دھڑکتے سینے اور گرمی سے کھلی چونچیں بھی دیکھ سکتا تھا۔ اس نے ایک موٹا سا پتھر چنا،نشانہ لیا اور پٹا چھوڑ دیا ۔سنسناتا ہوا پتھر اجل کا پیامبر بن کر نکلا اور عین کال کلیچی کے ابھرے ہوئے سینے پر اس زور سے لگا کہ وہ بے جان گیند کی طرح ٹھک سے زمین پر آ رہی۔ وہ فورا اسے اٹھانے کو بھاگا

تھوڑی سی تلاش کے بعد وہ اسے جھاڑ جھنکار میں پھنسی ہوئی مل گئی۔ نیاز نے اسے اٹھایا تو اس کے بدن میں ابھی وہ سنساہٹ باقی تھی جو پتھر نے اس میں پیدا کی تھی ۔ادھ کھلی چونچ سے بہتی لہو کی پتلی سی دھار اور سینے پر ایک کنچے کے برابر زخم کا نشان تھا۔ دوسری چڑیا شکار کرنا تو اس کے لئیے منہ میں نوالہ ڈالنے جتنا سہل تھا۔ ادھر نشانہ باندھا،ادھر چڑیا زمین پر آ رہی۔ اس کو اب اپنے یقین کو آزماتے ہوئے لطف آنے لگا تھا۔

عصر کی اذانیں گونجنے لگیں تو وہ شکار کی ہوئی کال کلیچیاں ٹانگوں سے لٹکائے نیچے اتر آیا۔ ارادہ تو تھا کہ ماں کی نظر سے بچ کر نکل جائے گا مگر تبھی ڈیوڑھی سے آتی اماں کی نظر اس کے ہاتھوں میں الٹی لٹکی چڑیوں پر پڑ گئی۔”ہائے او بدبختا!!یہ کیا ظلم کمایا۔ بے زبانوں کی بددعائیں لے لیں!” اس نے سینہ پیٹ ڈالا اور لپک کر نیاز کو بھی دو چار دوہتڑ رسید کر دئیے۔ “صفدر سے شرط بدی تھی اماں” وہ ماں کا بازو جھٹک کر چلایا اور دو ہی چھلانگوں میں دہلیز ٹاپ گیا۔ پیچھے اماں اس کی جانب سے توبہ استغفار کرتی رہی اور ہلدی لگے چھیچڑے چھت پر کووں کے لئیے ڈال آئی کہ کچھ تو نیاز کے ظلم کا کفارہ ہو۔ سادہ لوح دیہاتن جانتی نہ تھی کہ کچھ ظلم، جنون اور پاگل پن مرگی و کوڑھ کی مانند جان کو لگ جاتے ہیں جن کا کفارہ اپنے بدن کی بوٹیاں بھی چیل کووں کو کھلا کر ادا نہیں ہو سکتا۔

ادھر صفدر جو اشرف اور ساجد کے ہمراہ نیاز کو ایک بار پھر نیچا دکھانے ٹوٹے ہوئے ریڑھے پر براجمان تھا، اسے آتے دیکھ کر چوکس ہو گیا۔ “لو بھئی آج یہ راجپوت اپنی ناک گنوائے گا”اس نے قہقہ لگا کر اشرف کے ہاتھ پہ ہاتھ مارا اور چھلانگ لگا کر نیچے اتر آیا۔

“ہاں بھئی! پھر کہاں ناک رگڑے گا؟؟” اس نے زور سے فقرہ اچھالا اور قدم قدم چلتا نیاز اس کی ناک سے محض ایک انچ کے فاصلے پر آن رکا۔ اس نے دونوں ہاتھ کمر پر باندھ رکھے تھے۔ “آج پھر ہار گیا، چچ چچ۔۔” صفدر نے چڑایا”دیکھ نیاز۔۔۔۔۔” اس کا جملہ ادھورا ہی رہ گیا جب نیاز نے کمر پر بندھے ہاتھوں کو عین اس کے چہرے کے سامنے لا کر کھولا۔ دونوں ہاتھوں میں مردہ چڑیاں الٹی لٹک رہی تھیں۔ 

“لا صفدر! کنچے نکال” دانت پہ دانت جمائے نیاز نے برف سی ٹھنڈی آواز میں جیت کا ثمر طلب کیا۔ حیرت سے بت بنے صفدر کے بدن میں جیسے کاٹو تو لہو نہیں۔ اسے ابھی تک اپنی ہار اور نیاز کی جیت کا یقین نہیں ہو رہا تھا۔ شرط بدتے ہوئے اسے سو فیصد یقین تھا کہ نیاز کبھی بھی چڑیاں شکار نہیں کر پائے گا مگر اب کی بار پانسا پلٹ گیا تھا۔ “اوئے مجھے کیا پتہ! تو نے خود ماری ہیں کہ کسی اور کے بل پر پہلوان بنا پھر رہا ہے” ابتدائی جھٹکے سے سنبھلتے ہوئے بے ایمان صفدر نے اسے دھکے سے پرے کیا اور واپسی کے لئیے مڑنے لگا۔ اشرف اور ساجد جو تماشا دیکھنے کھڑے تھے معاملہ سنجیدہ ہوتے دیکھ کر کھسک لئیے۔ 

“صفدر ! کنچے مجھے دے!” نیاز چلایا اور مری ہوئی چڑیاں پھینک کر اس کے پیچھے بھاگا۔ ابھی سرپٹ دوڑتا صفدر ٹیوب ویل کے پاس ہی پہنچا تھا کہ نیاز نے اسے جا لیا۔ اس نے اڑنگا لگا کر اسے گرایا اور جنونی انداز میں مکے اور لاتیں چلانے لگا۔ جلد ہی کنچوں بھری بوتل نیاز کے ہاتھوں میں تھی۔صفدر اس کینچوے کے بدلے تیوروں پر دنگ تھا ۔ کہاں وہ دبو نیاز جو آنکھوں میں آنسو لئیے کنچے اس کے حوالے کر دیتا تھا اور کہاں یہ بپھرا سانڈ؟ وہ جانتا ہی نہ تھا کہ مستقل شکست یا تو انسان کو کینچوا بنا دیتی ہے یا پھر اسے ایک ایسے مقام پر لے آتی ہے جو اسے شکست کے احساس سے بھی ماورا کر دیتی ہے۔ تب انسان صرف وہ کرتا ہے جو انا کو تسکین دے، چاہے کنچوں کی بوتل کی خاطر بے زبان چڑیوں کے قلب چھیدنا ہوں یا پھر گاوں کی سب سے اتھری، سوہنی اور طنطنے والی حمیدہ کے کان کی بالی کو ایک ولائتی بوتل اور نجی بیگم کے مجرے کی شرط پر اتار لانا ہو۔ مگر نہیں! یہ دن تو بڑی دیر پیچھے آنے تھے۔

اس شام جب نیاز نے صفدر سے کنچوں بھری بوتل چھینی تھی تو اس کے ساتھ ساتھ اپنی ہتھیائی ہوئی انا اور جیت کا راز بھی پا لیا تھا۔ نظر مقصد پر رکھو اور ہر احساس سے بے نیاز ہو کر داؤکھیلو! اس دس سالہ بچے نے جون کی تپتی دوپہر میں وہ سنہری چابی حاصل کی تھی جو زندگی کا ہر طلسمی باب کھول دیا کرتی ہے۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ نیاز کی برتری یوں تسلیم کر لی گئی جیسے سورج اگنے پر رات کا خاتمہ تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ صفدر بھی اب اس سے دبک کر رہتا تھا۔ اشرف وغیرہ تو غیر اعلانیہ اسے گرو تسلیم کر ہی چکے تھے۔ شرطیں لگتی رہیں اور آہستہ آہستہ اہداف بڑے ہونے لگے تھے۔ کبھی ماسی سکینہ کے ڈربے سے مرغی چرا لانے کا ہدف تو کبھی ماجھے کی ہٹی کے روشندان سے داخل ہو کر شکر پارے اڑا لانے کی مہم!اور حیرت تھی کہ نیاز نےتت کبھی ناکامی کا منہ نہ دیکھا۔ مسلسل اور مستقل جیت کا نشہ رگوں میں لہو کے ساتھ بہتا تھا اور ہر بار اس کی ذات کے خالی ڈبے میں تسکین کا ایک کنچا گرتا تھا ۔

دس سالہ نیاز اب اکیس سال کا جوان تھا۔ اونچا لمبا اور کڑیل جوان جس کی تیکھی ناک، گردن کا سریا اور مخصوص تراش والے لب چار کوس کے گاوں میں مشہور تھے ۔ اماں اس کی کرتوتوں پر پردے ڈالتی مگر شہرت بد تو دھوئیں کی مانند پھیلتی ہے سو پھیلتی گئی مگر یہاں پرواہ کسے تھی؟ لوگ اسے آتا دیکھتے تو راہ بدل لیتے۔ اس کا چوڑا سینہ مزید پھیل جاتا۔ اور پھر ایک شام ایسی بھی آئی جب ہدف کسی سوہنی کے کان میں ہلکورے لیتی بالی بننی تھی۔ ایک شیرنی  کا طنطنہ ولایتئ ٹھرے اور  گھنگھروؤں کی جھنکار پر بدا گیا۔

وہ جنوری کی ایک کہرے اور پالے سے ٹھٹرتی شام تھی جب وہ اور صفدر مالٹوں کے باغ میں لوئیاں اوڑھے بیٹھے تھے۔ سردی کا اثر زائل کرنے کو دونوں دیسی چنیا بیگم کی چسکیاں بھرتے تھے۔ نیاز نے آگ جلا رکھی تھی اور درمیان میں نمکین مونگ پھلی کے ساتھ دو بوتلیں کھلی رکھی تھیں۔ آگ کی تپش اور شراب کی گرمی نے جلد ہی اس کے چہرے کو تمتما دیا اور خون کی گرمی باتوں میں بھی در آنے لگی۔ گفتگو کا رخ پانی کی باریوں، فصل کی بوائی اور گاوں کی الہڑ مٹیاروں سے  ہوتا ہوا لاہور کی سب سے مہنگی طوائف نجی بیگم کے مجروں کی جانب ہو گیا۔

“اوئے نیاز باؤ! نجی کا پنڈا پارہ ہے پارہ! جب ناچتی ہے تو دل لوٹن کبوتر بن کر اس کے گھنگھروؤں کی بلائیں لینے لگتا ہے ۔ہچ ہچ صفدر نے بڑا سا گھونٹ اور ہچکی ایک ساتھ بھرتے ہوئے کہا تو نیاز کے منہ میں کڑوا بادام آ گیا۔ یہ وہ واحد کسک تھی جو اسے کبھی کبھی بے چین کرتی تھی کہ اب تک وہ نجی کا مجرا نہ دیکھ پایا تھا جبکہ یہ صفدر چوہدری کے پتر کی آنکھ کا بال ہونے کے سبب دو مجرے دیکھ آیا تھا اور اس معاملے میں گاوں کے سب رنگیلوں پر سبقت رکھتا تھا۔

“ہونہہ! رہنے دے! کاہے کی قلعی کی گڑیا؟ صرف دیکھنے دکھانے کی۔ پیسے کے بل پر جو چاہے اس کے پارے سے پیر دھو لے” خفت چھپانے کو اس نے طنزیہ کہا اور بجھتے الاو میں ٹہنیاں جھونکنے لگا۔صفدر بھانپ گیا کہ تیر نشانے پر لگا ہے ۔”خوب موقع ہاتھ آیا ہے اس کو نیچا دکھانے کا” اس نے سوچا اور نیاز کومزید سلگانے کی خاطر نجی کے حسن کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا ہوا آتش شوق کو ہوا دینے لگا۔

“ہاہاہا۔۔۔نہ نیاز! تو نے دیکھی نہیں ناں” اس نے لہجے میں ترحم سمویا۔”بس اب کیا کہوں نیازے۔۔ ولائیتی ٹھرے اور مہنگی طوائف کا مزہ وہی جانتے ہیں جو یہ گڈی چڑھا چکے ہوں۔ طوائف تو ہے مگر ہر کسی کے سامنے نہیں ناچتی۔ وڈے وڈے چوہدری، ملک اور وڈیرے اس کی پنڈلی سے بندھے رہتے ہیں۔”وہ مونگ پھلی پھانکتا گھونٹ لگاتا بولتا رہا۔ نیاز کے سر پہ اس گرم دوپہر کا جنون پھر سے چڑھنے لگا تھا۔ “باؤ صفدر! وہ مرد ہی کیا جو برتی ہوئی، بکاو عورت کو حاصل کرنے میں اپنی جیت سمجھے۔ جو مزہ اصیل اتھری گھوڑی اور سچل زنانی کو قابو کرنے میں ہے وہ خچر کی سواری اور کوٹھے کی خواری میں کہاں”۔ اس نے بوتل منہ سے لگائی اور ایک سانس میں آخری قطرے تک پی کر ایک جانب اچھال دی۔

کہرا اب اتنا گھنا ہو گیا تھا کہ نیاز کے بالوں بھرے سر پر سفید نمی کی صورت ابھرتا اور دکھائی پڑتا تھا۔ لوہا گرم تھا اور صفدر چوٹ لگانے کو تیار! “اگر ایسا ہی ہے نیاز تو پھر مجھے حمیدہ کو رام کر کے دکھا دے تو مانوں!” وہ سنسناتے ،اکساتے لہجے میں بولا تو نیاز چونک گیا۔”حمیدہ! وہ منشی فضلی کی لڑکی” اس نے سوالیہ پوچھا تو صفدر نے ایک آنکھ میچ کر گردن ہلا دی”آہو نیاز! وہی حمیدہ! قسم پنجتن پاک کی ،پورے گاوں میں اس جیسی اور کوئی نہیں۔ اس کے مہاندرے کا غرور ایک میل دور سے بھی دکھائی پڑتا ہے نیازے۔”اس نے لوفرانہ انداز میں سینہ مسلتے ہوئے کہا” شیرنی ہے شیرنی! اس پر اس کا طنطنہ! پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتی یار!!” اس کی بوتل بھی ختم ہونے کو تھی۔ آخری گھونٹ بھر کے بوتل ایک طرف لڑھکا دی۔ نیاز چپ چاپ ایک ٹہنی سے انگارے کرید رہا تھا۔لوئی سرک کر نیچے جا پڑی تھی۔ “کیا کہتا ہے پھر باؤ نیاز۔۔؟ بس زیادہ نہیں ایک نشانی لے آ اس سے اور نجی کا مجرا اور کتوں والی بوتل کی پوری پیٹی میں تجھے دوں گا”۔ 

وہ اسے اکسا رہا تھا۔ جانتا تھا کہ حمیدہ جان تو دے دے گی مگر نیاز کو نشانی نہ دے گی کہ جتنی وہ مضبوط تھی کردار اس سے بھی پکا تھا۔ عورت ہونے کا، اور پھر سوہنی عورت ہونے کا غرور اس کے تنے ہوئے سینے پر ڈھال کی مانند پہرہ دیتا تھا۔ سیدھی کمر سیسہ پلائی دیوار دکھائی پڑتی تھی۔ لمبے سیاہ بال اور تیکھی لال کوکے والی اس کی ناک! اصیل راجپوتانی، مگر سب پر بھاری اس کی وہ آنکھیں جنہوں نے گاؤں کے لونڈوں کو گھائل کر رکھا تھا۔ وہ ہرنی کی مانند نہیں تھیں! وہ جوان شیرنی کی سی آنکھیں تھیں! سرخی مائل بھوری، دہکتے انگاروں کی سی آنکھیں ! جو غصے میں کسی کی جانب اٹھتیں تو مقابل کا پتہ پانی ہو جاتا۔ اپنے تئیں جی دار بننے والے کئی عاشق اس کے ہاتھوں پٹ چکے تھے اور وہ خود بھی تو مہینہ بھر پہلے خجل ہوا تھا جب رستہ روکنے پر حمیدہ نے بھرا گھڑا اس کے سر پر توڑ دیا تھا۔

“بول بھی! بدتا ہے شرط”؟ صفدر نے اس کا شانہ ہلایا تو وہ چونک گیا” ہوں ! آں۔۔۔۔شرط!” وہ کچھ لمحے سوچ میں پڑ گیا مگر پھر اپنی ساری فتوحات یاد آئیں تو گردن مزید تن گئی۔ “کال کلیچیوں والی شرط یاد ہے ناں” اس نے صفدر کا تمسخر اڑایا تو وہ بل کھا کر رہ گیا۔ “چڑیوں اور شیرنی کے شکار میں بہت فرق ہے نیاز! اور جو تو اتنا ہی لوہے کا کلیجہ رکھتا ہے تو پھر لے کیوں نہیں آتا اس کے کان کی بالی”؟ وہ لوئی لپیٹ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ “یوں تو پھر یوں ہی سہی صفدر! شکر قندی کی فصل کو تیسرا پانی لگنے سے پہلے حمیدہ کی بالی میری مٹھی میں ہو گی۔ کتوں والی وہسکی کا بندوبست کر لے”آہنی چٹانی لہجے میں بولتا وہ بھی کھڑا ہوا اور دونوں اس کہر بھری رات میں اپنے اپنے ٹھکانوں کو چل دئیے۔

اگلے چند دن نیاز نے شٹالے کے کھیتوں میں کھڑے رہ کر حمیدہ کو آتے جاتے دیکھا، اس کے معمولات پر نظر رکھی۔وہ عموما دوپہر کے قریب پانی لانے جاتی تھی اور اکیلی ہی ہوتی تھی۔ شرط کے چوتھے دن وہ حمیدہ کے رستے میں کھڑا تھا۔ اپنی دھن میں چلی آتی حمیدہ نے جو اسے یوں دیوار بنے دیکھا تو تپ اٹھی۔ “اس لچے موالی کی یہ جرات؟” وہ تلملا اٹھی۔ پورا گاوں اس کی بری شہرت سے واقف تھا۔ “رستہ چھوڑ!” وہ کشادہ پیشانی پر بل ڈالے غرائی۔ اس کے نتھنے غصے سے پھڑک رہے تھے اور آنکھوں میں بھانبھڑ جلتے تھے۔ گھڑا کمر پر ٹکائے وہ بے خوف شیرنی اسے گھور رہی تھی۔ “چھوڑنے کے لئیے روکا ہی نہیں” وہ مسرور سا بولا۔ “کسی اور کے بھلیکھے میں نہ مارے جانا نیاز! میں حمیدہ ہوں حمیدہ”! وہ انگلی اٹھا کر بولی تو نیاز ہنسنے لگا۔” کوئی بھلیکھا نہیں حمیدہ!! سارا پنڈ جانتا ہے نیاز نے جس پر نگاہ کی وہ شے اسی کی ہوئی” اس کے تو سر پہ لگی اور تلووں پر بجھی۔ “میں تیری چوری چکاری کا مال نہیں، اپنی مرضی کی مالک زنانی ہوں” وہ غرائی اور جھک کر زمین سے خاصا بڑا پتھر اٹھا لیا۔”ہٹ جا ورنہ ماتھا کھول دوں گی”۔ نیاز نے دونوں بازو پھیلا دئیے”لے کھول! مرد کا بچہ ہی نہیں جو آنکھ بھی میچ لوں۔” وہ سرپھرا راجپوت اٹل لہجے میں بولا” اچھا! لے پھر تو بھی کیا یاد کرے گا” وہ سلگتے لہجے میں بولی اور دو قدم دور جا کر پلٹی ،نیاز کا نشانہ لیا اور تاک کر پتھر گھمایا۔ نیاز کی چوڑی پیشانی لمحے میں خونم خون ہو گئی۔ ایک پچکاری کی مانند لہو چھوٹا اور اونچی ناک کے بانسے سے دھار بناتا ٹھوڑی سے ٹپکنے لگا۔ پپوٹوں سے پھسلتا خون پلکیں بھگونے لگا تھا۔ وہ اتنا ہی لاپرواہ تھا جتنا اس چلچلاتی دوپہر میں اینٹوں کے چوبارے پر تھا۔ حمیدہ اسے دیکھتی رہی۔لبوں پر مسکراہٹ اور پھیلی بانہوں کے ساتھ وہ اپنی جگہ سے ایک انچ نہ سرکا تھا۔ اور جب لہو کرتے کا گریبان سیراب کرنے لگا تو جانے کیوں حمیدہ کے ماتھے کے کچھ بل ہموار ہو گئے۔ وہ قدم قدم چلتی قریب آئی”راہ چھوڑ دے نیاز” اب کے وہ بولی تو آنکھوں کے شعلے مدھم تھے۔” ایسے کہے گی تو جہان بھی چھوڑ دوں” وہ مسکرایا اور بڑے بڑے ڈگ بھرتا شٹالے کے کھیت میں اتر گیا” کم بخت مارا!” حمیدہ نے اس کے پیچھے ایک اور پتھر اچھالا ۔سلفے کی لاٹ سا رنگ لہو کی تپش سے قندھاری انار ہو گیا تھا۔ وہ گھڑا بھرنے چل تو دی مگر دھیان بھٹک بھٹک کر لہو کے ان قطروں کی جانب ہمکتا رہا جو کچی زمین نے جذب کر لئیے تھے۔

یہ اس واقعے سے ایک ہفتہ بعد کی رات تھی۔ نیاز اس دوران اس کی راہ میں دوبارہ نہ آیا تھا اور حمیدہ بھی اپنے پرانے مزاج پر واپس آ چکی تھی۔اس رات کہرا اتنا زیادہ تھا کہ چار قدم کے فاصلے پر نگاہ ہار جاتی تھی۔ عشاء کے بعد سب بستروں میں دبکے پڑے تھے جب اسے وہم سا ہوا کہ اس کی کھڑکی کو باہر سے بجایا گیا ہے۔ وہ چونک کر اٹھ بیٹھی اور دھیان سے سننے لگی۔ تبھی دوبارہ کھڑکی پر دستک ہوئی اور وہ محتاط روی سے چلتی کھڑکی کے قریب آئی۔ ذرا سا پٹ کھولا تو سلاخوں کے بالکل ساتھ کسی کا چہرہ لگا نظر آیا ۔ وہ بوکھلا کر پیچھے ہوئی اور پٹ بند کر لیا۔”حمیدہ! کھڑکی کھولو۔۔میں نیاز!!” ایک دھیمی سرگوشی اس کے کانوں سے ٹکرائی تو بہادر ہونے کے باوجود اس کے پسینے چھوٹ گئے۔ “یہ منحوس! ادھر کیسے پہنچ گیا۔یا اللہ کیا کروں؟ کسی نے دیکھ لیا تو؟؟” کھڑکی پر وقفے وقفے سے دستک جاری تھی۔ آخر تنک کر اس نے پٹ وا کئیے۔ وہ بالکل ساتھ جڑا کھڑا تھا اور ماتھے کا زخم اب بدنما نشان کی شکل اختیار کر چکا تھا ۔”اس دن رت نکلوا کر سکون نہیں آیا تھا تجھے؟ اب کی بار چھری سے خاطر کروں تیری”؟ وہ دبا دبا غرائی۔”اتنا وخت کیوں حمیدہ؟ یہ آنکھیں گاڑ دے میری شاہ رگ میں” ارادے اور دھن کے پکے کھلاڑی کے سامنے ایک لڑکی کا کیا بس چلتا؟ چاہے وہ شیرنی کی آنکھوں والی حمیدہ ہی کیوں نہ ہو؟ اور بات یہ بھی تھی کہ آخر شیرنی بھی دل ہار ہی دیا کرتی ہے۔ “چلا جا نیاز! کال کو آواز نہ دے!” وہ ہولے سے بولی تو نیاز کی آنکھوں نے مرنے کو تیار کال کلیچیاں دیکھ لیں۔”چلا جاتا ہوں۔بس ایک بار دو گھڑی کو باہر آ جا'” وہ ریشم کا جال بچھاتے ہوئے بولا۔”دیکھ انکار کرے گی تو صبح تیری کھڑکی کے باہر اکڑا ہوا ملوں گا کہ میرے ارادے کا پکا پن تو جانتی ہے”۔ 

حمیدہ کو یقین تھا کہ وہ ایسا ہی کرے گا جبھی اس نے کھڑکی بند کی اور احتیاط سے ادھر ادھر دیکھتی زنجیر گرا کر گلی میں نکل آئی۔ ہو کا عالم تھا۔ بندہ نہ بندے کی ذات۔ ابھی کھڑکی کے قریب بھی نہ پہنچی تھی کہ نیاز نے کلائی تھام کر دیوار کی جانب گھسیٹ لیا۔اس اچانک افتاد پر وہ بوکھلا گئی۔”چھوڑ مجھے۔۔چھوڑ دے”! وہ اس کی گرفت میں سٹپٹانے کسمسانے لگی تو نیاز نے چوڑی ہتھیلی سے اسکا منہ ڈھانپ لیا۔ پوری کھلی آنکھوں میں وحشت اور تلملاہٹ تھی۔ اس نے دانت ہتھیلی میں گاڑ دئیے۔ نیاز پر کیا اثر ہوتا؟ کچھ پل بعد جب اس نے مزاحمت ترک کر دی تو وہ اس کے کان کے قریب جھک آیا۔

“نشانی لینے آیا ہوں” اس کی گرم سانس حمیدہ کے کان سے ٹکرائی تو وہ پانی ہو گئی۔ نیاز نے اب اس کے منہ سے ہاتھ ہٹا لیا تھا۔ “شکل دیکھی ہے اپنی” وہ بھڑکی۔”ہاں! تیری ان آنکھوں میں”وہ دلکشی سے مسکرایا اور دھند میں ڈوبی گلی چکا چوند ہو گئی۔

اس شیرنی نے ایک فریبی بہادر پر دل ہار دیا تھا۔ وہ جو محض ایک مجرے اور کتوں والی وہسکی کے بدلے راجپوتانی کی بالی کی شرط لگا بیٹھا تھا۔ دل پانی بن کر آنکھوں سے بہنے لگا تو نیاز نے دھیرے سے اس کے کان سے بالی نکالی اور ہونٹ اس کے کان سے جوڑ کر بولا۔”جو میری لگن قبول ہو تو کل ایک بالی کے ساتھ پانی بھرنے کو آنا”۔وہ ہاں نہ کا اختیار گنوا چکی تھی اور سحر پھونکتے سناٹے میں صرف نیاز کے بول گونجتے تھے۔

بقیہ رات کے آدھے پہر اس نے خود سے لڑتے کاٹے اور فیصلہ ہو گیا۔ کان کی بالی جو نکال لے گیا، ہاتھ بھی اسی کے ہاتھ میں دوں گی۔ سمجھاوں گی تو بد کام بھی چھوڑ ہی دے گا۔ آخر مجھ سے پتھر بھی تو کھایا تھا” نادان شیرنی مسکرائی اور آنکھیں موند لیں۔

اگلی سویر کچھ عجیب ہی چڑھی تھی ۔ دھند چھٹ گئی تھی اور نیلے آسمان پر روئی کے پھویوں جیسے بادل تھے۔ نیاز رات ہی صفدر کو بالی دکھا چکا تھا اور اپنی فتح کا ایک اور کنچا صفدر کی آنکھوں کی بے یقینی اور اتری صورت سے جو تسکین ملی تھی وہ تو نجی کے مجرے سے بھی نہ ملتی۔”لے بھئی ! اصیل گھوڑی رام کی ہے صفدر باؤ  اور شکر قندی کی فصل کو تیسرا پانی کل لگنا ہے۔ ” وہ بالی اس کے سامنے اچھالتا ہوا بولا تو صفدر کو یقین نہ آیا” سچ کہتا ہے”؟ اس نے گھورا۔ “کل دیکھ لینااپنی آنکھوں سے۔ ایک بالی کے ساتھ پانی بھرنے آئے گی”اس کی آواز میں ہنر کا غرور بولتا تھا ۔

دوپہر نزدیک ہوئی تو نیلے پھولوں والے جوڑے میں گھڑا اٹھائے حمیدہ نمودار ہوئی ۔ اس نے دوپٹہ کچھ یوں اوڑھ رکھا تھا کہ دونوں کان صاف دکھائی پڑتے تھے۔ ایک بالی سے سجا ہوا اور دوسرا خالی۔۔نیاز کھیت کے کھال کنارے بیٹھا تھا اور صفدر دوسرے کھیت میں حمیدہ کی نظر سے اوجھل چھپا تھا۔ البیلی چال چلتے وہ نیاز کے قریب کچھ پل رکی،انگلی سے کان کی لو کو چھوا  اور دھیما سا مسکائی ۔ آج آنکھوں میں لالے کے کھیت کھل رہے تھے۔ نیاز نے ماتھے کے زخم کی جانب اشارہ کیا تو سر جھٹکتی ، البیلی چال چلتی آگے بڑھ گئی۔

اتنی مہلت میں صفدر بھی نیاز کی جیت کی نشانی دیکھ چکا تھا اور ایک بار پھر سے ہار کی تلملاہٹ میں مبتلا تھا۔ کم بخت کے پاس جانے کیا گیدڑ سنگھی ہے”وہ تلملا رہا تھا۔

“اب پھر بول ! پٹھے پر ہاتھ دھرا یا نہیں؟ اتھری گھوڑی اور اصیل زنانی” وہ بالی گھماتے ہوئے صفدر کا ٹھٹھہ اڑانے لگا۔ “پھر کب چلیں تیری نجی بیگم کا مجرا دیکھنے؟ وہ اپنی جیت اور اس بازی کو جیت جانے کے یقین کا جشن مناتے ہوئے قہقہے لگا رہا تھا۔ تبھی اسے اپنے پیچھے مٹی کا برتن ٹوٹنے کی آواز آئی۔ مڑ کر دیکھا تو مردہ بنی حمیدہ اسے گھور رہی تھی۔ وہ اس سے ضروری بات کرنے، اسے سمجھانے راہ سے پلٹ آئی تھی  کہ برے کام چھوڑ کر اب بس اس کے کہے مطابق اچھا ہو جائے۔ اب کی بار نیاز کو کال کلیچی کا شکار نہ کرنا پڑا تھا۔وہ خود ہی مرنے کو چلی آئی تھی۔ 

“ایک مجرے والی زنانی کے جلوے دیکھنے کے لئیے تو نے راجپوتانی کی بالی اتار لی نیاز”؟ اچھا نہیں کیا نیاز! اچھا نہیں کیا” اس کے منہ سے بس یہ الفاظ نکلے اور پھر وہ سرپٹ بھاگتی گاؤں کی راہ مڑ گئی۔ وہ کچھ پل اس کے قدموں کی دھول دیکھتا رہا”ہونہہ! ایک بالی ہی تو اتاری ہے کون سا عزت پہ ہاتھ ڈالا ہے۔؟ چاہتا تو اس زخم کا حساب بھی چکتا کر لیتا” اس نے ٹھوکر سے روڑا اڑایا اور  مطمئن ضمیر کے ساتھ گھر کو چل دیا۔شکاری بھلا کب پچھتاوے کا بار اٹھاتا ہے؟

اگلی سپہر جب وہ اور صفدر مجرے میں جانے کی تیاری کر رہے تھے ٹھیک اسی لمحے منشی فضلی کے آنگن میں ایک شور برپا تھا۔

“حمیدہ نے رائفل کا کارتوس سینے میں اتار لیا” اڑتی اڑتی خبر اس کے کانوں میں پڑی۔ اسے وہ کال کلیچیاں یاد آ گئیں جن کے سینے میں اس کے کنکر کنچوں کی ہوس بن کر اترے تھے۔ ایک گہرا سکون اس کے پنڈے میں بارش کی پھوار بن کر اترا، ذات کے خالی ڈبے میں ایک اور لہرئیے دار کنچا ٹھک سے گرا۔ وہ دونوں ہاتھوں سے بال سنوارتا دھیمے سروں میں گنگناتا شہر جانے والی راہ پر چل پڑا۔

فضا میں کال کلیچیوں کے ماتم کی گونج تھی۔

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *