• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • ایزرا پاونڈ،امریکہ کی ہزیمیت خوردہ نسل کا جدیدیت پسند اور فسطانیت زدہ شاعر ۔۔۔احمد سہیل

ایزرا پاونڈ،امریکہ کی ہزیمیت خوردہ نسل کا جدیدیت پسند اور فسطانیت زدہ شاعر ۔۔۔احمد سہیل

“جدید فنکار کا ہنر{ کرافٹ} اور تشدد میں رہنا ضروری ہے. ان کے معبود تشدد کے معبود ہیں. جو فنکاروں کو نام نہاد کہتے ہیں، جن کے کام اور تنازعات کو نہیں دکھایا جاتا ہے، وہ بے نظیر ہیں.” { ایزرا پاونڈ }

ایزرا پاؤنڈ (1885-1972) امریکہ کے نقاد، شاعر اور پروپیگنڈہ کرنے والے احتجاجی اور مزاحمتی مزاج کے ادیب و شاعر ہیں۔ جدیدیت کے رجحان کی تشکیل کی قلمی اور عملی قوتوں میں ان کی  نثر اور شاعری نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ انہو ں نے اپنےدور کے سب سے زیادہ بااثر ادبا ، شعرا ا ور دانشوروں کے ساتھ رابطہ استوار کیا تھا ۔

tripako tours pakistan

” آزاد نظم ” کی شعری مشق نے شعری آفاق میں نئے نظام اشاریت کو ہی خلق نہیں کیا بلکہ اس کو شعری تجربے گاہ میں بھی لے آئے۔ اور اس پر آزادانہ طور پر مباحث کی دعوت دی۔ اس نئے پن میں رسمی شعری اور فکری تجربات ہنری مندی اور جمالیات کی نئی خوشبویں پھیلی ہوئی تھیں۔ جس کو ” آون گارد ” / avant garde بھی کہا جاتا ہے۔
ایزرا پاؤنڈ نے جدیدیت کی جمالیاتی اور جدید معاشرتی حسیات کو اپنی تحریروں میں فروغ دیا اور انھوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں   برطانوی اور امریکی نوجوان لکھنے والوں کے درمیان تخلیقی عمل اور فکر اور خیالات کو تقابلی انداز میں پیش کرتے ہوئے ” مبادلیاتی اور تجزیاتی” مباحث کے دروازے کھول دئیے۔ جس میں ڈبلیو۔بی ایٹس، رابرٹ فراست، ولیم جیمز ، کارلوس ، ماریانے مور، جیمز جوائس، ارنسٹ ہیمنگوے اور خاص طور پر ٹی۔ ایس ایلیٹ شامل ہیں۔

ایزرا پاونڈ 30 اکتوبر 1885 میں امریکی ریاست اوہایو کے چھوٹے سے قصبے ” ہیلی میں پیدا ہوئے۔ 1889 میں ان کا خاندان فلاڈلفیا کے ایک نواحی قصبے ” جنکشن ٹاون” منتقل ہوگیا۔ ہیملٹن کالج اور پینسلوینیا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ جہاں سے انھوں نے ایم اے کی سند حاصل کی۔ یہاں ان کی ملاقات شاعر ولیم کریوزولیمز سے ہوئی جو ان کے ہی ہم مکتب تھے۔ اس کے بعد ایزرا پاونڈ نے نیویارک کے ایک کالج کی راہ لی۔ یہیں  پر ان کو پرودانس کی شاعری سے شغف پیدا ہوا۔ اور وہ تاحیات ان کی شاعری سے متاثر رہے۔ یونیورسٹی کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے ہسپانوی ڈرامے اور تھیٹر میں دلچسپی لینا شروع کی اور اس کا مطالعہ کیا اور ہسپانوی اور اطالوی شاعری کا بھی مطالعہ کیا۔ انہوں نے ہسپانوی ڈامہ نگار لوپ ڈی ویگا پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھنے کا ارادہ کیا۔ لیکن اپنے غیر رسمی اخلاقی مزاج کے سبب انھیں اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔

1900 میں وہ یورپ کے سفر پر روانہ ہوئے۔ کچھ عرصہ وہ اٹلی میں قیام پذیر رہے۔ جہاں وینس میں انھوں نے 1908 میں اپنی نظموں کی پہلی بیاض ” LUME SPENTO” کو شائع کروایا۔ 1909 میں ایزرا پاونڈ لندن چلے گئے۔ جہان وہ 1920 تک رہے۔ اسی دوران ان کی ملاقات آئرلینڈ کے قوم پرست اور نوآبادیات شکن شاعر ڈبلیو بی ایٹس سے ہوئی۔ اور انھوں نے لندن میں ایک ادبی حلقہ بنالیا۔ جس میں  ٹی۔ ایس ایلٹ بھی شامل تھے۔ جس کے مربی اور رہنما ایزرا پاونڈ  خود ہی تھے۔ وہ بنگال کے نوبل انعام یافتہ شاعر رابندرناتھ ٹیگور کے بڑے مداح تھے ۔ وہ ٹیگور کو نوبل انعا م  دلوانے میں ییٹس کے ساتھ مل کر کوششیں کرتے رہے۔ لیکن بعد میں ٹیگور کو لوگوں نے پیغمبر بنا دیا تو پونڈ نے ان کے  حامیوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ ” میں نے ٹیگور کو شاعر کے طور پر قبول کیا تھا۔۔ مسیحا کے طور پر نہیں۔

” 1900میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ ” PERSONAE” شائع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے تیرھویں صدی کے اطالوی شاعر کیول کینٹی / CAVAL CANTI اور چینی شاعری کے ترجمے اور تصرفات بھی 1912 اور 1915 میں چھاپی۔ 1920 میں ان کی معروف نظم “HIGH SELWYN MAUBERLEY” شائع ہوئی۔ اسی برس وہ پیرس میں قیام پذیر ہوئے۔ اور 1924 تک وہ دریائے سین کے بائیں کنارے پر سکونت پذیر رہے۔ جہاں امریکہ اور دوسرے ملکوں کے تارکین وطن لوگوں کی ایک بڑی تعداد رہتی تھی۔ جن میں گرٹروڈاسٹین کے علاوہ ہیمنگوے اور جمیس جوائس بھی تھے جن سے ایزرا پونڈ کی گہری دوستی تھی۔ 1924 میں پھر وہ واپس اٹلی آئے ور پھر تقریباً  بیس سال وہیں رہے۔ ” کینٹوز/ CANTOS” کی پہلی قسط 1925 میں چھپی۔ اور 1955 تک اس کی متعدد قسطیں شائع ہوئیں۔ کینٹوز کی آخری قسط “ROCK. DRILL” 1955 میں چھپی۔ ایزرا پوندڈ نے ہیوم کی رومانی شاعری کو مسترد کرتے ہوئے اس پر اپنے شدید ردعمل کا ظہار کیا۔ ان کا خیال تھا کی رومانی شاعری فرد کو لامحدودیت کا اہل تصور کرتی ہے۔ اور یہ خطرناک رجحان ہے۔ اور یہ بھی کہا کہ رومانیت کے جذباتی اسلوب کے بجائے اب ایک نئے شعری محاورے کی ضرورت ہے۔ مگر وہ ہیوم کی اس شعری تحریک میں شامل تھے اور اس تحریک کو پیکریت/ تمثال پسند شاعری کہا۔ ہیوم اور پاونڈ کی نظر میں ” امیج” آرائش کازریعہ نہیں  بلکہ ایک گہری وردات کا ترجمان ہوتا ہے۔

ایزرا پونڈ کی شروع کی شاعری  پرپرسانس کی شعری روایت کا عمیق اثرات تھے۔ پونڈ کی شاعری قوت بیان اور فنی حسن و جمالیات سے خالی ہے۔ اور یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ ان کی شاعری کا بیشتر حصہ ہنوز تشریح اور تفہیم طلب ہے۔ مگر کینٹوز میں بھی جو ان کی سب سے مشکل  اور دقیق نظم ہے۔ اس میں قاری کو کچھ ایسے تراشے مل جاتے ہیں جن میں غزلیہ شاعری کا لازوال جمال و حسن اور لطافت بھی ہے۔ اس نظم میں ایسے حصے بھی ہیں جس میں پونڈ کی بذلہ سنجی بھی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی شاعری میں ایسے  مقامات بھی آتے ہیں جن میں تلمیحات کو سمجھے بغیر ان سے لطف و انبساط ملتا ہے۔ مثلا ً ان کی نظم “DANCE FIGURE” سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ قاری کو” گلیلی” شادی کے بارے میں آگاہی ہو۔ جس میں حضرت عیسی { علیہ} شریک ہوئے تھے۔ا یزرا پونڈ کی اس نظم کا یہ ٹکڑا دیکھیں :
۔۔۔ اے کالی آنکھوں والی،
میرے خواب کی حسینہ
سیم تن،
رقاصاوں میں تجھ سا کوئی نہیں

ایزرا پونڈ ڈبلیو بی یٹس سے بہت قریب رہے۔ مگر ان دنوں کی دلچسپیاں مختلف تھیں۔ مگر ان دونوں نے ایک دوسرے کے اثرات قبول کئے۔ ہیٹس باطنی علوم اور قدیم دانش اور متصوفانہ رویوں کو پسند کرتے تھے۔ جب کہ پونڈ نے ان علوم و فکریات سے دلچسپی کا کبھی اظہار نہیں کیا۔ مگر ان کے کینٹوز کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ یٹس کے دلچسپی کے موضوعات سے اس نے براہ راست فائدہ اٹھایا۔ ۔ اس سلسلے میں پونڈ کا کہنا ہے” ییٹس سے میں نے جو اصل بات سیکھی وہ یہ تھی کہ شاعر پر ایسا وقت بھی آتا ہے۔ جب وہ فاونٹین کا قافیہ ماونٹین باندھتے ہیں۔

اٹلی میں قیام کے دوران معیشت اور معاشی تاریخ میں پونڈ کی دلچسپیوں میں اضافہ ہوا، انھوں نےمیجر سی ایچ ڈگلس {Major C.H. Douglas}جو” معاشرتی کریڈٹ” {Social Credit, }کے بانی تھے۔ ڈگلس،نے ایک معاشی اصول مرتب کیا کہ دولت کی کمزور اور غیر منصفانہ تقسیم حکومتوں  کی ناکافی اور کمزور حکمت عملیوں کے سبب ہوئی ہیں۔ پاؤنڈ بین الاقوامی بینکوں کی ناانصافیوں کو معاشرتی برائیوں کی جڑ تصور کرتے تھے۔ ، جن کی من مانی حکمت عملیوں کی وجہ سے پیسہ کی جنگ اور تنازعات جنم لیتے ہیں اور ممالک کے درمیاں جنگیں بھی ہوتی ہیں۔.

اس معاملے میں پاونڈ نے اطالوی آمر، بینوٹو میسو لینی کے نظریات کو لبیّک کہا۔ . 1939 میں، پائونڈ نے امید ظاہر کی تھی ان کا خیال تھا کہ اگر ان کے تصورات سے مد د لی جائے تو ممالک جنگ سے اور اس کی تباہ کاریوں سے بچ سکتے ہیں۔ کے اور ایزرا پاونڈ نے میسولینی کے نظریات کے تحت اس بات کا دعوی کیا کہ یہودیوں کے بینکوں کے ذریعے امریکی کو پہلی جنگ عظیم میں لا پھینکا گیا۔

ایزرا پاونڈ نے اقتصادی مسائل اور دولت کی ہیت اور تقسیم دولت کے کچھ پمفلٹ لکھے۔ ان کا خیال تھا کی رزمیہ نظم میں تاریخ  کا عمل دخل ہوتا ہے اور تاریخ کو معاشی نظریات کے بغیر سمجھا نہیں جاسکتا۔ اس وقت امریکہ نظام زر کی نمائندہ قوت کے طور پر ابھر رہا تھا۔ پاونڈ نے امریکی معیشت سے ہمیشہ نفرت کی اور انکا ذہن فسطائیوں کے قریب ہوگیا۔ اور فسطائی نظریات میں ان کی دلچسپی بڑھ گئی ۔ وہ مسولینی پرامریکی صدر کو فوقیت دیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کی مولیسنی اور ایڈولف ہٹلر کنفیوشیس کی تعلیمات اور نظریات سے متاثر تھے۔ اس لیے وہ امریکہ کے لالچی یہودیوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہیں۔ ان کا کہنا تھا ان رہنماوں کی ناکامی یہی تھی وہ کنفیوشیس کے نظریات کومکمل طور پر سمجھ نہیں پائے۔ اور اس کا  ملک میں اطلاق نہیں کرسکے۔ پونڈ کی غیر مقبولیت کی ایک وجہ سرمایہ داریت کے خلاف ان کی شدید اور جارحانہ تضحیک اور مخالفت ہے۔ حالانکہ مسولینی کی امریت کے حامی تھے۔ جو سرمایہ داریت کی انتہائی شکل ہے۔ یہ غیر معمولی تضاد ہے۔ جو پاونڈ کے خیالی تصور ” معاشرتی قرض” ( SOCIAL CREDIT) کو بے معنی بنادیتی ہے۔ وہ جدید سرمایہ داری کو مغربی تہذیب کی موت کہتے ہیں۔ ان کی منطق سے قطع نظر یہ نظریہ مغرب کے سرمایہ دار ملکوں خصوصا امریکہ اور انگلستان میں نہایت ناپسندیدگی سے مسترد کیا۔ کیونکہ ان ممالک کے معاشروں کی بنیاد سرمایہ کاری پر ہی ہے۔ 1921 میں  انھوں نے اطالوی ریڈیو پر امریکی پالیسیوں  کے خلاف تقاریر کیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران پاونڈ نے روم ریڈیو سے ہفتے میں دو بارتقاریر کرتے تھے۔ اپنی تقریروں میں انھوں نے امریکی عوام کو خبردار کیا کہ وہ ایک بڑی سازش کا شکار ہورہے ہیں۔ وہ ایک ایسا نظام قبول کررہے ہیں۔ جو انسانیت کے لیے مہلک ثابت ہوگا۔ انھوں نے کہا امریکی عوام اصل حقائق سے بے خبر ہے۔ اس لیے امریکی اخبارات اور نشر وابلاغ کی حکمت عملیاں پالیسیاں صنعت کاروں اور اشتہار دینے والی کمپنیوں کی مرضی سے طے ہوتی ہیں۔ مگر وہ کہتے تھے میں نے جنگ کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ میں نے صرف نظام کی مخالفت کی تھی جو جنگیں پیدا کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ تقریریں اقتصادیات اور تاریخ کے بارے میں مخصوص نظریات کی بنیاد پر کی تھیں۔ اور کبھی کوئی جرمن یا اطالوی افسر اسے حکم دینے کی ہمت نہیں کرسکا۔ پاونڈ کو رجعت پسند شاعر بھی کہا جاتا ہے۔ 1935 میں شائع ہونے والی کتاب ”
JAFEERSON AND/ OR MUSSOLINI” کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے وہ میسولینی کا بڑا حامی اور مداح تھا۔ ان کی ریڈیو کی امریکہ شکن تقاریر پر امریکی اسٹمبلشمنٹ کا شدید ردعمل سامنے آیا۔ 1942 میں ان کی عدم موجودگی میں ان پر غداری اور ملک دشمنی کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی۔ 1948 میں وہ میسولینی کی شکست کے بعد گرفتار کرکے امریکہ لایا گیا۔ جہاں ان کا طبّی معائنہ کرکے انھٰیں پاگل قرار دے کر واشنگٹن کے سینٹ الزبتھ ہسپتال میں نظر بند کردیا گیا۔ جہاں انھوں نے تیرہ سال بسر کئے۔ رہائی کے بعد وہ اٹلی چلے گئے۔ وہاں انھوں نے ایک صحیفہ نگار سے کہا ” امریکہ ایک بہت بڑا پاگل خانہ ہے ” ، ایزرا پاونڈ نے فسطائی انداز میں سلام بھی پیش کیا۔ اور کہا کہ وہ یہاں کی مٹی کو چومنا چاہتا ہے۔ لیکن یہاں مجھے ہر طرف سمینٹ کا فرش نظر آتا ہے مجھے کسی چراگاہ یا گھاس کےمیدان میں لے جاؤ۔

Advertisements
merkit.pk

ان کا کہنا تھا ‘ وہی باقی رہے گا جس سے تجھے محبت ہے باقی سب کچھ کوڑا کرکٹ ہے۔ فانی پاونڈ اب مٹی کاڈھیر ہے مگر اس کا فن باقی رہنے والی چیز ہے”۔ ساٹھ /60 کی دہائی میں لاہور سے شائع ہونے والے اردو کے ادبی جریدے ” نقوش” کے ایک شمارے میں جریدے کے مدیر محمد طفیل کے نام ایزرا پونڈ کا ایک خط شائع ہوا تھا۔ ایزرا پونڈ کا انتقال یکم ستمبر 1972 میں وینس، اٹلی میں ہوا۔ ان کی کتابوں کی فہرست کچھ یوں بنتی ہے۔
1908 A Lume Spento. Privately printed by A. Antonini, Venice, (poems).
1908 A Quinzaine for This Yule. Pollock, London; and Elkin Mathews, London, (poems).
1909 Personae. Elkin Mathews, London, (poems).
1909 Exultations. Elkin Mathews, London, (poems).
1910 The Spirit of Romance. Dent, London, (prose).
1910 Provenca. Small, Maynard, Boston, (poems).
1911 Canzoni. Elkin Mathews, London, (poems)
1912 The Sonnets and Ballate of Guido Cavalcanti Small, Maynard, Boston, (cheaper edition destroyed by fire, Swift & Co, London; translations)
1912 Ripostes. S. Swift, London, (poems; first announcement of Imagism)
1915 Cathay. Elkin Mathews, (poems; translations)
1916 Gaudier-Brzeska. A Memoir. John Lane, London, (prose).[196]
1916 Certain Noble Plays of Japan: From the Manuscripts of Ernest Fenollosa, chosen and finished by Ezra Pound, with an introduction by William Butler Yeats.
1916 Ernest Fenollosa, Ezra Pound: “Noh”, or, Accomplishment: A Study of the Classical Stage of Japan. Macmillan, London,
1916 Lustra. Elkin Mathews, London, (poems).
1917 Twelve Dialogues of Fontenelle, (translations)
1917 Lustra Knopf, New York. (poems). With a version of the first Three Cantos (Poetry, vol. 10, nos. 3, June 1917, 4, July 1917, 5, August 1917).
1918: Pavannes and Divisions. Knopf, New York. prose
1918 Quia Pauper Amavi. Egoist Press, London. poems
1919 The Fourth Canto. Ovid Press, London
1920 Hugh Selwyn Mauberley. Ovid Press, London.
1920 Umbra. Elkin Mathews, London, (poems and translations)
1920 Instigations of Ezra Pound: Together with an Essay on the Chinese Written Character as a Medium for Poetry, by Ernest Fenollosa. Boni & Liveright, (prose).
1921 Poems, 1918–1921. Boni & Liveright, New York
1922 Remy de Gourmount: The Natural Philosophy of Love. Boni & Liveright, New York, (translation)
1923 Indiscretions, or, Une revue des deux mondes. Three Mountains Press, Paris.
1924 Antheil and the Treatise on Harmony. Paris, (essays). As: William Atheling.
1925 A Draft of XVI Cantos. Three Mountains Press, Paris. The first collection of The Cantos.
1926 Personae: The Collected Poems of Ezra Pound. Boni & Liveright, New York
1928 A Draft of the Cantos 17–27. John Rodker, London.
1928 Selected Poems, edited and with an introduction by T. S. Eliot. Faber & Gwyer, London
1928 Confucius: Ta Hio: The Great Learning, newly rendered into the American language. University of Washington Bookstore (Glenn Hughes), (translation)
1930 A Draft of XXX Cantos. Nancy Cunard’s Hours Press, Paris.
1930 Imaginary Letters. Black Sun Press, Paris. Eight essays from the Little Review, 1917–18.
1931 How to Read. Harmsworth, (essays)
1933 ABC of Economics. Faber, London, (essays)
1934 Eleven New Cantos: XXXI-XLI. Farrar & Rinehart, New York, (poems)
1934 Homage to Sextus Propertius. Faber, London (poems)
1934 ABC of Reading. Yale University Press, (essays)
1935 Alfred Venison’s Poems: Social Credit Themes by the Poet of Titchfield Street. Stanley Nott, Pamphlets on the New Economics, No. 9, London, (essays)
1935 Jefferson and/or Mussolini. Stanley Nott, London, Liveright, 1936 (essays)
1935 Make It New. London, (essays)
1935 Social Credit. An Impact. London, (essays). Repr.: Peter Russell, Money Pamphlets by Pound, no. 5, London 1951.
1936 Ernest Fenollosa: The Chinese Written Character as a Medium for Poetry. Stanley Nott, London 1936. An Ars Poetica With Foreword and Notes by Ezra Pound.
1937 The Fifth Decade of Cantos. Farrar & Rinehart, New York, poems
1937 Polite Essays. Faber, London, (essays)
1937 Confucius: Digest of the Analects, edited and published by Giovanni Scheiwiller, (translations)
1938 Culture. New Directions. New edition: Guide to Kulchur, New Directions, 1952
1939 What Is Money For?. Greater Britain Publications, (essays). Money Pamphlets by Pound, no. 3, Peter Russell, London
1940 Cantos LXII-LXXI. New Directions, New York, (John Adams Cantos 62–71).
1942 Carta da Visita di Ezra Pound. Edizioni di lettere d’oggi. Rome. English translation, by John Drummond: A Visiting Card, Money Pamphlets by Pound, no. 4, Peter Russell, London 1952, (essays).
1944 L’America, Roosevelt e le cause della guerra presente. Casa editrice della edizioni popolari, Venice. English translation, by John Drummond: America, Roosevelt and the Causes of the Present War, Money Pamphlets by Pound, no. 6, Peter Russell, London 1951
1944 Introduzione alla Natura Economica degli S.U.A.. Casa editrice della edizioni popolari. Venice. English translation An Introduction to the Economic Nature of the United States, by Carmine Amore. Repr.: Peter Russell, Money Pamphlets by Pound, London 1950 (essay)
1944 Orientamini. Casa editrice dalla edizioni popolari. Venice (prose)
1944 Oro et lavoro: alla memoria di Aurelio Baisi. Moderna, Rapallo. English translation: Gold and Work, Money Pamphlets by Pound, no. 2, Peter Russell, London 1952 (essays)
1948 If This Be Treason. Siena: privately printed for Olga Rudge by Tip Nuova (original drafts of six of Pound’s Rome radio broadcasts)
1948 The Pisan Cantos. New Directions, (Cantos 74–84)
1948 The Cantos of Ezra Pound (includes The Pisan Cantos). New Directions, poems
1949 Elektra (started in 1949, first performed 1987), a play by Ezra Pound and Rudd Fleming
1948 The Pisan Cantos. New Directions, New York.
1950 Seventy Cantos. Faber, London.
1950 Patria Mia. R. F. Seymour, Chicago Reworked New Age articles, 1912, ’13 (Orage)
1951 Confucius: The Great Digest; The Unwobbling Pivot. New Directions (translation)
1951 Confucius: Analects (John) Kaspar & (David) Horton, Square $ Series, New York, (translation)
1954 The Classic Anthology Defined by Confucius. Harvard University Press (translations)
1954 Lavoro ed Usura. All’insegna del pesce d’oro. Milan (essays)
1955 Section: Rock-Drill, 85–95 de los Cantares. All’insegna del pesce d’oro, Milan, (poems)
1956 Sophocles: The Women of Trachis. A Version by Ezra Pound. Neville Spearman, London, (translation)
1957 Brancusi. Milan (essay)
1959 Thrones: 96–109 de los Cantares. New Directions, (poems)
1968 Drafts and Fragments: Cantos CX-CXVII. New Directions, (poems
*** { احمد سہیل )**

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply