سری لنکا!ایک جادو نگری۔۔۔۔امتیاز احمد/سفر نامہ

سمن نے کولمبو کے ایک کلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کی زیادہ تر رقاصائیں پاکستانی ہیں۔ اس کے بعد اس نے مزید بتایا کہ کولمبو میں مہنگی ترین جسم فروش خواتین بھی پاکستان کی ہی ہیں۔ میرے لیے سمن کے یہ دونوں انکشافات حیران کن تھے۔ میں نے کہا کہ تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو؟
سمن میرا ٹورسٹ گائیڈ بھی تھا اور ڈرائیور بھی۔ رات گئے جب میں کولمبو ائیرپورٹ پر اترا تھا تو بارش ہو رہی تھی۔ ائیر پورٹ سے ہی میں نے ایک ٹورسٹ کمپنی سے چھ دن کا پیکیج لیا تھا۔ سری لنکا کا شمار دنیا کے سستے اور خوبصورت ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ سستی پڑتی ہے لیکن اس میں وقت زیادہ صرف ہوتا ہے اور میں چھ دن کے اندر   زیادہ سے زیادہ سری لنکا گھومنا چاہتا تھا۔

سری لنکن روپے کی قدر پاکستانی روپے سے کم ہے۔ کار، ڈرائیور ، ہوٹل اور ناشتے سمیت مجھے یہ پیکیج تقریباً  ایک لاکھ سری لنکن روپے ملا اور میں نے فوراً  قبول کر لیا۔ مجھے رعایت اس وجہ سے ملی کہ میں پاکستانی تھا۔ میں دنیا کے کم و پیش پچیس ممالک کی سیر کر چکا ہوں۔ میرے خیال سے اگر کسی ملک میں پاکستانی سیاحوں کی سب سے زیادہ  عزت کی جاتی ہے تو وہ سری لنکا ہے اور اس کے بعد شاید ترکی آئے۔
سری لنکا  مقناطیسی اور جادوئی سر زمیں ہے۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے، ہلکی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری تھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں کسی جنگل میں آ گیا ہوں۔ کئی دیگر آوازوں کے ساتھ جھینگر کی جھیں جھیں کی آوازیں ماحول کو انتہائی پراسرار بنا  رہی تھیں۔ کیلے، پام اور ناریل کے پتوں پر گرتی ہوئی بارش ان سُنے سُر بکھیر رہی تھی۔
صبح میں نے کمرے سے باہر جھانکا تو دور دور تک ناریل اور کیلوں کے درختوں کے جھنڈ نظر آ رہے تھے۔
میں ناشتہ کر ہی رہا تھا کہ سمن مسکراتا ہوا میری ٹیبل پر بیٹھ گیا، میں آپ کا نیا ڈرائیور ہوں، رات والے  لڑکے کو کمپنی نے کہیں اور بھیج دیا ہے۔
سمن ٹوٹی پھوٹی اردو بھی بول لیتا تھا اور چند برس قطر میں بھی گزار کر آیا تھا۔ سمن کی عمر پینتیس برس کے لگ بھگ ہو گی لیکن چہرہ انتہائی مسکراتا ہوا۔ میں جب بھی پوچھتا کیا حال ہے، اس کا ایک ہی جواب ہوتا، “ سب پِھٹ ہے۔” وہ ف کی جگہ ہمیشہ پھ کر دیتا تھا۔

ہماری سب سے پہلی منزل سری لنکا کا دیو مالائی شہر کینڈی تھا اور کولمبو سے نکلتے ہوئے ہی سمن مجھے پاکستانی رقاصاؤ ں اور جسم فروش خواتین سے متعلق یہ معلومات فراہم کر رہا تھا۔ اس نے مجھے 2015  کی ایک ویڈیو دکھائی، جس میں سری لنکن حکام ایک ہوٹل پر چھاپہ مار رہے ہیں اور پاکستانی خواتین کو گرفتار کر رہے ہیں۔ اس گروپ میں لاہور کی سولہ سالہ لڑکیاں بھی شامل تھیں۔
ہماری گاڑی کولمبو سے تقریباً  ایک سو تیس کلومیٹر دور کینڈی کی طرف رواں دواں تھی اور سمن مجھے بتا رہا تھا کہ سری لنکن کیوں پاکستانی خواتین کے پیچھے پاگل ہیں اور یہاں امرا کے ان سے کیا تعلقات ہیں؟ تھوڑی ہی دیر بعد ہم نے اپنے سفری پلان میں یہ بھی شامل کر لیا کہ واپسی پر ایسے ہی کسی کلب میں پاکستانی رقاصاؤں  سے ملاقات کی جائے گی۔
لیکن ان پس پردہ سٹوریوں سے قطع نظر سری لنکا میں پاکستانیوں کی عزت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کے حمایت یافتہ تامل باغیوں کے خلاف سری لنکا کو نہ صرف ہتھیار فراہم کیے تھے بلکہ ان کے فوجیوں کی ٹریننگ بھی کی تھی۔ سری لنکا میں بدھ مت سنہالیوں کی آبادی تقریباً  پچہتر فیصد ہے اور وہ اس سینتیس سالہ خانہ جنگ میں کامیابی کی وجہ سے پاکستانیوں کی دل سے قدر کرتے ہیں۔

آپ کسی بھی سنہالی سے پوچھ لیں وہ یہی کہتا ہے کہ اگر پاکستان ہمارا ساتھ نہ دیتا تو وہ کبھی بھی تامل باغیوں کی تحریک کو کچل نہیں سکتے تھے۔ ائیر پورٹ سے لے کر سیاحتی مقامات تک، جہاں بھی آپ کہتے ہیں کہ آپ پاکستانی ہیں لوگوں کا آپ سے رویہ تبدیل ہو جاتا ہے۔
کینڈی سے تقریباً  پندرہ کلومیٹر دور جنت الدنیا (سمبھواتا لیک) نامی ایک جھیل واقع ہے۔ یہ جھیل اونچے اونچے سر سبزو شاداب پہاڑوں کے بنے پیالے کے وسط میں ہے اور پہاڑوں کے دامن میں آباد مسلم اقلیت نے اسے جنت الدنیا کا نام دے رکھا ہے۔ کینڈی جانے سے پہلے سمن نے گاڑی ایک تنگ اور سانپ کی طرح بل کھاتے ہوئے پہاڑی راستے پر ڈال دی۔ ایک خاص مقام کے بعد راستہ اس قدر تنگ ہو جاتا ہے کہ جھیل تک پہنچنے کے لیے ٹُک ٹُک (رکشہ) لینا پڑتا ہے۔ آسمان کی بلندیوں کی طرف جاتے ہوئے ایک طرف سے آبشاروں سے گرتا ہوائی پانی فضا کو سریلا بناتا جاتا ہے اور دوسری طرف تاحد نظر پھیلے ہوئے پہاڑوں پر کارپٹ کی طرح بچھے ہوئے چائے کے باغات ہیں۔ ان باغات کے بیچوں بیچ بنے پگڈنڈی نما راستوں پر ٹک ٹک چلتا رہتا ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ جیسے یہی راستہ کوہ قاف کی پریوں کے طلسماتی دیس کی طرف جاتا ہے۔

جھیل پر پہنچتے ہی  انسان دم بخود رہ جاتا ہے۔ دیو قامت پہاڑوں کے اوپر کسی حسینہ کے رسمساتے، سجیلے بدن کی اٹھان اور ابھار وں کی طرح سرسبز ٹیلوں کا نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور ان کے عین وسط میں یہ جھیل واقع ہے۔ میرے دل میں پہلا خیال یہ آیا کہ یہاں ضرور چاندنی راتوں میں رات کی رانی کی سوگندھ لیے مرمریں اور عنبریں جسموں والی شفق آلود پریاں بام فلک سے اترتی ہوں گی۔شیشے کی طرح جھیل کے پانی میں ان سرسبزو شاداب پہاڑوں کا عکس یوں معلوم ہوتا ہے کہ جھیل کے نیچے بھی ایک دنیا آباد ہے۔ جھیل میں بارش کے قطرے گریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پہاڑوں میں ارتعاش پیدا ہو گیا ہے۔ مجھے واقعی دنیا میں یہ جنت کا مقام لگا۔ پہاڑوں کے عقب سے ایک دم بادل نمودار ہوتے تھے اور وہاں موجود ہر شے کو اپنی گود میں لے لیتے تھے اور چند ہی لمحوں بعد بادلوں کی اوٹ  سے سرسبز ٹیلے نمودار ہو جاتے تھے ۔ ہوا میں سوندھی سوندھی مہک، دھواں دھواں سے بادلوں اور ٹیلوں میں یہ آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری تھا کہ ٹک ٹک والے نے کہا کہ امتیاج بھائی، اگر آپ کینڈی میں شام کی دعائیہ تقریب دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ابھی واپس نکلنا ہوگا۔

میں آج بھی اس جھیل کے بارے میں سوچتا ہوں تو کسی طلسماتی مقام پر پہنچ جاتا ہوں۔ واپسی کے راستے پر کچھ نوجوان جوڑے دور افق کی جانب دیکھتے ہوئے ایک دوسرے کو لازوال محبت کی یقین دہانیاں کروا رہے تھے۔ راستے میں ٹک ٹک ڈرائیور نے ایک درخت سے کچھ چیزیں توڑیں اور مجھے ٹیسٹ کرنے کے لیے دیں۔ یہ سرخ اور سبزی مائل لونگ تھے۔ میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ لونگ کا درخت دیکھا تھا۔ میں نے ایک چھوٹی سی خوشبو دار ٹہنی توڑی اور اپنے بیگ میں رکھ لی۔ سری لنکا کے مسالے مشہور ہیں۔ یہ دار چینی پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک بھی ہے۔ وہاں میں نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ کس طرح ایک مخصوص درخت کی چھال اتار کر دار چینی بنائی جاتی ہے۔

کینڈی کے ٹوتھ ٹیمپل (شری دالدا مالی گاوا) تک پہنچتے ہوئے ہمیں شام کے چار بج چکے تھے۔ اس ٹیمپل میں مہاتما بودھ کا دانت رکھا گیا ہے۔ سری لنکا میں اس ٹیمپل کو بدھ مت کے پیروکار اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں، جتنی مسلمان مکہ میں خانہ کعبہ کو۔ سمن نے دروازے پر کھڑے محافظوں کو بتایا کہ یہ پاکستانی سیاح ہے تو انہوں نے بغیر ٹکٹ کے مجھے اندر جانے دیا۔ وہاں دعائیہ تقریب دیکھنا ایک لائف ٹائم تجربہ ہے۔ کئی دیگر ملکوں کے علاوہ سری لنکا کے کونے کونے سے بدھ زائرین وہاں اپنی حاجتوں کے ساتھ پہنچتے ہیں۔ سفید اور گلابی کنول، نیلوفر ، ٹیمپل کے اندر بجنے والے ساز، بدھ بکھشوؤں کا دعا پڑھنے کا انداز، صندل کا تیل اور اگر بتیوں کی خوشبو آپ کو ایک دوسری ہی دنیا میں لے جاتے ہیں۔

مغرب کے وقت ہم ٹیمپل سے باہر نکلے تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ایک دم اذانیں دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہو۔ میں نے سمن سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ بدھ مت میں پڑھی جانے والی مخصوص دعائیں ہیں لیکن ان کی طرز اذان سے انتہائی ملتی جلتی ہے۔ اسی طرح مہاتما بدھ کی شان میں پڑھی جانے والی تعریفی نظموں کی طرز بھی ہماری نعتوں سے انتہائی مشابہ ہے۔
اگلی صبح نو بجے ہی میں کینڈی سے نوے کلومیٹر شمال میں واقع سری لنکا کے انتہائی قدیم قلعے سیگیرییا کی ٹکٹ لینے کے لیے لائن میں کھڑا تھا۔ اس کا رنگ گورا چیٹا تھا، نین نقش تیکھے تھے، کھلے ہوئے سیاہ بال وہاں کھڑی تمام سیاح لڑکیوں سے لمبے تھے۔ دھوپ سے بچنے کے لیے اس نے سیاہ رنگ کا چشمہ لگا رکھا تھا۔ جینز اور اوپر کیسری رنگ کا کُرتا کنول دیپ کور کو سب سے منفرد بنا رہا تھا۔ ایک بلند پہاڑ پر واقع یہ قلعہ تقریبا 473 برس بعد از مسیح تعمیر کیا گیا تھا اور اب وہاں اس کی صرف باقیات ہی بچی ہیں۔ یہ کولمبو سے تقریبا دو گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں کی ٹکٹ تقریبا چار ہزار سری لنکن روپے ہے لیکن وہاں بھی لکھا ہوا ہے کہ پاکستانی شہری نصف قیمت ادا کریں گے۔

میں نے دیکھا کہ اس نے ایک ہاتھ میں کڑا بھی پہن رکھا ہے۔ یہ سکھوں کی نشانی ہے۔ میں نے اسے انگلش میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم بھارت سے آئی ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں میں کینیڈا سے آئی ہوں لیکن بھارت میں ہمارے رشتہ دار ہوتے ہیں اور سری لنکا کے مختصر قیام کے بعد میں سیدھا بھارت ہی جاؤں  گی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم کہاں سے ہو؟ میں نے بتایا کہ میں پاکستان سے ہوں اور پنجاب کے ایک دور دراز کے گاؤں  سے تعلق ہے۔
پنجاب کا نام سنتے ہی وہ اچھل پڑی اور ایک دم بولی، تے فیر تُسی پنجابی وچ گل کرو نا، دفعہ مارو انگلش نوں۔ شکر اے مینوں کوئی پنجابی بولن والا بندہ وی ملیا اے۔‘ میں حیران ہوا کہ وہ پیدا بھی کینیڈا میں ہوئی تھی اور اس نے یونیورسٹی تک تعلیم بھی وہاں حاصل کی ہے لیکن اس کی پنجابی انتہائی شاندار ہے۔

اس نے بتایا کہ سکھوں کے زیادہ تر بچے کینیڈا میں بھی پنجابی کی اسپیشل کلاسز لیتے ہیں اور گرنتھ صاحب بھی پنجابی میں ہونے کی وجہ سے وہ لازمی پنجابی سیکھتے ہیں۔ پھر ہم شام تک ایک ساتھ ہی گھومتے رہے۔ پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے میں کم از کم ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ راستہ تھکا دینے والا اور دشوار گزار ہے۔ ہم جب بھی تھک کر بیٹھتے تو وہ سریندر کور کا کوئی پنجابی گیت گنگنانا شروع کر دیتی۔
میں اپنے موبائل سے تصویریں بنا رہا تھا۔ اس کے پاس پروفیشنل فوٹو گرافرز کی طرح ڈی ایس ایل آر کیمرہ تھا۔ اس نے ای میل پر تصاویر بھیجنے کا وعدہ کرتے ہوئے میری تصاویر بنانےکی ذمہ داری لے لی۔ اس نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم کولمبو ائیر پورٹ پر ملتے تو پنجابیوں کو ایک ساتھ سری لنکا میں آوارہ گردی کرنے کا موقع مل جاتا۔
میں نے بھی کہا، ہاں اور اگر”۔

حیران کن طور پر کینیڈا کی اس پینٹ شرٹ اور چیونگم کھانے والی سلم سمارٹ لڑکی بابا بلھے شاہ کے کلام سے لے کر وارث شاہ کی ہیر تک سے آشنا تھی۔شام کو مسکراتے اور ہاتھ ہلاتے ہوئے وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی اور میں نوئریلیا کی طرف چلا گیا۔ وہ نوئریلیا دیکھ کر آ رہی تھی اور مجھے ابھی جانا تھا۔
آپ سب نے لپٹن چائے کا نام سن رکھا ہوگا۔ 1890 میں سری لنکا برطانیہ کی کالونی تھا اور لپٹن چائے کی فیکڑی کی بنیاد نوئریلیا میں ہی رکھی گئی تھی۔ گلاسکو کے سر تھوماس لپٹن نے یہاں ساڑھے پانچ ہزار ایکٹر زمین خریدی تھی اور یہاں سے براہ راست چائے برطانیہ برآمد کرنا شروع کی تھی۔پہاڑی سیاحتی شہر نوئریلیا چاروں اطراف سے تا حد نگاہ چائے کے باغات میں گھرا ہوا ہے اور یہاں کے آبشاریں اس کے حسن میں مزید اضافہ کر دیتی ہیں۔ سری لنکا اس وقت بھی دنیا میں چائے پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔ سری لنکا 1505 پرتگالی کالونی بنا، 1658 میں یہ ہالینڈ (ڈچ حکومت) کے ماتحت آ گیا اور پھر 1796 میں برطانیہ کے زیر انتظام چلا گیا۔ 1948 میں مکمل آزادی کے بعد بھی اس کا نام سیلون ہی تھا لیکن 1972 میں اس کا نام تبدیل کرتے ہوئے سری لنکا رکھ دیا گیا۔

یورپی تہذیب کے اثرات آج تک یہاں موجود ہیں، لوگ جھگڑالو نہیں ہیں ۔ شرح خواندگی نوے فیصد سے زائد ہے اور لوگ دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں۔یہاں چائے کے دلفریب باغات  اور  فیکڑی کی  سیر بھی کی جا سکتی ہے۔ باغات میں چائے کے پتے چننے والی خواتین نے پہلی مرتبہ مجھے یہ فرق سمجھایا کہ سیلون بلیک، وائٹ اور گرین ٹی ایک ہی پودے سے حاصل ہوتی ہے لیکن چائے کے پتوں کی عمر اور سائز میں فرق ہوتا ہے، جس بنیاد پر اسے تین مختلف گیٹیگیرز میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اگر پودے کی جڑوں میں پانی زیادہ دیر تک کھڑا رہے تو چائے کا پودا مرجھانا شروع کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چائے کے باغات پہاڑی علاقے میں ہوتے ہیں۔ زمین ناہموار ہونے کہ وجہ سے پانی نیچے کی طرف بہتا جاتا ہے۔

نوئریلیا میں میں جس گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرا تھا اس کے ساتھ ہی ایک مسجد تھی۔ فجر کی اذان ہوئی تو میں بھی مسجد چلا گیا۔ ویسے تو سنہالی انتہائی منکسرالمزاج اور خوش اخلاق لوگ ہیں لیکن وہاں کے مسلمان بھی پاکستان سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ اس چھوٹی سی مسجد میں نماز کے بعد فضائل اعمال کی تعلیم شروع ہو گئی۔ سری لنکا کی مجموعی آبادی کا تقریبا دس فیصد مسلمان ہیں اور ان میں سے ہزاروں مسلمان رائے ونڈ کی تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ اب ان کا پاکستان جانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے اور پاکستانی سفارت خانہ انہیں بہت کم ویزے جاری کرتا ہے۔ سری لنکا میں مسلمانوں زیادہ تر طبقہ کاروباری ہے۔ کولمبو میں مسلمانوں کا رہائشی علاقہ مہنگے ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

نوئریلیا کی دنیا بھر میں مقبولیت کی دوسری سب سے بڑی وجہ نوئریلیا سے ایلا تک جانے والی ٹرین ہے۔ جنوبی پہاڑوں کے بادلوں، چائے کے باغات اور سرنگوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی ٹرین کے اس سفر کو دنیا کا خوبصورت ترین ریلوے سفر قرار دیا جاتا ہے۔نوئریلیا کو لٹل انگلینڈ بھی کہا جاتا ہے اور سیاحتی مقام پر جگہ جگہ برطانوی سلطنت کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔
سمن نے مجھے ریلوے اسٹیشن پر اتارا اور خود ایلا کی جانب گامزن ہو گیا تا کہ ہم وہاں مل سکیں۔

میں ٹرین پر بیٹھا ہی تھا کہ مجھے ڈانئیل مل گیا۔ اس کا تعلق کروشیا سے تھا لیکن اس کی رہائش جرمنی میں تھی۔ جلد ہی ہم نے جرمن زبان میں گپ شپ شروع کر دی۔ وہ اس رومانوی سفر کا تجربہ کرنے کے لیے ایلا سے نوئریلیا آیا تھا اور اب واپس ایلا جا رہا تھا۔ ہم دونوں سیٹوں کی بجائے ایک ڈبے کے دروازے میں بیٹھ گئے اور یہ ہمارا بہترین فیصلہ ثابت ہوا۔
ایک طرف بلندو بالا پہاڑ اور دوسری طرف ہزاروں میٹر گہری کھائیاں ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ٹرین بادلوں کی پٹڑیوں پر اڑ رہی ہو۔

ایلا میں سمن مجھے اس ہوٹل میں لے کر گیا جو ایک مسلمان کا تھا۔ ہوٹل مالک کی عمر کوئی چالیس برس کے درمیان ہو گی لیکن انتہائی خوش اخلاق اور مہمان نواز تھا۔ اسے پتا چلا کہ اس کے ہوٹل میں ایک پاکستانی ٹھہرا ہے تو وہ اپنے گھر سے مجھے ملنے آیا۔
ڈانئیل اور میں رات کا کھانا کھانے کے بعد ایلا کے بازار میں گھومنے چلے گئے۔ یہ چھوٹا سا بازار ہے لیکن ریستورانوں، پبز اور چائے خانوں سے اٹا اٹ بھرا ہوا ہے۔ وہاں زیادہ تر نوجوان یورپی سیاح ہی گھوم رہے تھے۔ ابھی ہم تھوڑا ہی چلے تھے کہ ایک خوبرو لڑکی نے ڈانئیل کو آگے بڑھ کر گلے لگا لیا۔

ڈانئیل میریسا بیچ سے سیدھا ایلا پہنچا تھا اور یہ جرمن لڑکی بھی اسے وہاں ہی ملی تھی۔ دونوں تین دن تک وہاں دنیا کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہوتے رہے تھے لیکن بعد میں دونوں نے اپنے اپنے راستے پر جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک دوسری لڑکی بھی تھی۔ ہم چاروں کچھ دیر سڑک کنارے لگی کرسیوں پر بیٹھے اپنی اپنی مرضی کے ڈرنک پیتے رہے لیکن تھکاوٹ اس قدر شدید تھی کہ ہم رات گیارہ بجے ہی اٹھ کر اپنے اپنے ہوٹلوں میں سونے چلے گئے۔
صبح اٹھ کر میں نے میریسا بیچ کی طرف نکلنا تھا لیکن ڈانئیل جافنا جیسے ان تامل علاقوں کو ایکسپولئر کرنا چاہتا تھا جہاں سیاح نہیں جاتے۔ ڈانئیل نے موٹر سائیکل کرائے پر لے رکھی تھی۔ سری لنکا کی سڑکوں پر آپ کو خواتین بھی بکثرت موٹر سائیکل، ٹرک، بسیں اور ویگنیں چلاتی نظر آئیں گی۔ سڑکیں بہترین اور صاف ستھری ہیں۔ ہیلمٹ کے بغیر کوئی ایک بھی موٹر سائیکل سوار نظر نہیں آئے گا کیوں کہ خلاف ورزی کرنے والے کو بہت بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔

پہاڑی علاقوں کے علاوہ پورے سری لنکا میں سردیوں میں بھی پچیس سے تیس سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ دھوپ چبھنے  والی ہے اور ہر دوسری عورت یا مرد نے ہاتھ میں چھتری پکڑی ہوتی ہے۔
میریسا کے لیے نکلے تو سب سے پہلے ہم نروانا فالز گئے۔ ایلا سے صرف چھ کلومیٹر کے فاصلے پر یہ سری لنکا کی سب بڑی آبشار ہے۔ یہ لیجنڈری سری لنکن بادشاہ راوانا سے منسوب ہے۔ ہندو مت کی روایت کے مطابق جب راوانا نے شہزادی سیتا کو اغوا کیا تھا تو دونوں اسی آبشار کے پیچھے موجود غاروں میں چھپے تھے۔ وہاں سیاحوں کی بھیڑ تھی۔ میں نے آبشار کے ٹھنڈے یخ پانی سے منہ ہاتھ دھویا لیکن اس کوشش میں میرے تمام کپڑے گیلے ہو چکے تھے اور سمن دور کھڑا مسکرا رہا تھا۔

ایلا سے میریسا تک کا راستہ تقریبا چھ گھنٹے کا ہے۔ اس دوران مجھے سری لنکا کے دیہی علاقے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہم سری لنکا کے وسطی صوبے سے جنوبی صوبے کی طرف سفر کر رہے تھے۔ بدھ مت میں سفید رنگ کو مقدس رنگ سمجھا جاتا ہے۔  سکولوں اور کالجوں کے لڑکے لڑکیاں اور اساتذہ سبھی سفید رنگ کے کپڑے اور ساڑھیاں پہنتے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہے۔ دنیا کی سب سے پہلی خاتون وزیراعظم بھی انیس سو ساٹھ میں اسی ملک میں بنی تھی۔ کولمبو اور گال جیسے شہروں میں خواتین مغربی لباس، جینز اور میک اپ میں نظر آتی ہیں لیکن دوسرے صوبوں کی خواتین انتہائی سادہ اور روایتی لباس لنگوٹی کرتے میں نظر آتی ہیں۔ سڑکوں کے کنارے جگہ جگہ کوکونٹ اور دیگر پھلوں کے ٹھیلے نظر آتے ہیں۔ کئی علاقوں میں کیلے کے باغات میلوں پر محیط ہیں جبکہ ایک جگہ ہاتھیوں نے سڑک بلاک کر رکھی تھی۔

بدھ مت میں بھی مردے کو جلا دیا جاتا ہے لیکن غریب خاندان اب دفنانا شروع ہو گئے ہیں۔ فوتگی پر سبھی لوگ سفید لباس پہنتے ہیں۔ مردے کی  یاد میں پانچواں، ساتواں ، پندرہواں، پچیسواں سے بھی آگے تک بات جاتی ہے جبکہ امراء سالانہ اور ماہانہ ختم بھی دلواتے ہیں۔
سمن نے گاڑی میں ہی مہاتما بدھ کی ایک چھوٹی سے مورتی رکھی ہوئی تھی اور ہر صبح سفر سے پہلے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر دعا مانگتا تھا۔ میں اپنی عربی زبان میں دعا پڑھتا تھا اور یوں ہمارا سفر چلتا رہا۔ سمن صبح صبح اٹھ کر یوگا لازمی کرتا تھا۔ سانس اندر اور باہر لے جانے کے عمل کو سنہالی میں آسواس پرسواس کہتے ہیں۔ پاکستان میں بعض مشائخ ذکر قلبی کرتے ہوئے پاس انفاس کی مشق کرواتے ہیں۔ وہ یوگا کے دوران دل ہی دل میں سب دشمنوں کو معاف کرنے کی مشق کرتا تھا۔

میریسا جنوبی ساحلی شہر ماترا کے قریب واقع انتہائی خوبصورت بیچ ہے۔ سری لنکا کے مشہور وزیراعظم راجا پاکسے کا تعلق بھی ماترا سے ہی ہے۔میریسا کے گیسٹ ہاوس میں سامان رکھتے ہی میں بیچ کی طرف نکل گیا۔ سمندری پانی ہلکا سبزی مائل ہے اور ساحل پر اونچے اونچے لہلہاتے ہوئے ناریل اور پام کے درخت اس کی رنگینی میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ قدرتی حسن کے لحاظ سے یہ ایک شاہکار ہے۔ میں دیر تک دور سمندر میں ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھتا رہا کہ اچانک مجھے ایک آواز آئی، کیا اس چھوٹی پہاڑی پر جانے کا کوئی راستہ ہے؟ میریسا بیچ کی مغربی سائیڈ پر ایک چھوٹی سی پہاڑی سمندر کے اندر ہے۔ وہاں جانے کے لیے پانی میں اترنا پڑتا ہے۔

یہ ہانگ گانگ سے آئی ہوئی ٹین جوان تھی، جو اپنی سہیلی کے ساتھ میری طرح آج ہی میریسا پہنچی تھی۔ خلاف معمول دونوں کے نین نقش تیکھے تھے۔
میں نے کہا کہ میں خود وہاں جانا چاہتا ہوں لیکن ابھی تک پانی میں نہیں اترا۔ اس نے کہا چلو ٹرائی کرتے ہیں۔ اس وقت پانی صرف گھٹنوں تک تھا اور ہم ایک چھوٹے سے پگڈنڈی نما راستے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس ٹیلا نما پہاڑی تک پہنچ گئے۔
یہ ایک دل کو چھو لینے والا منظر تھا۔ شور مچاتی ہوئی لہریں پتھروں سے ٹکراتی تھیں تو کبھی کبھار پھوار چہرے تک آ جاتی تھی۔ وہ دونوں ایک کمپیوٹر فرم میں کام کرتی تھیں۔ ہم پاکستان اور چین کی باتیں کرتے رہے۔ پھر ٹین نے چینی لوک گیت گنگنانا شروع کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ تم بھی کچھ سناؤ ۔ میں نے منصور ملنگی کا “ نی اک پھل موتیے دا مار کے جگا سوہنیے” سنایا۔ انہیں سمجھ تو کچھ نہ آئی لیکن انہوں نے دلچسپی بھی کم نہ ہونے دی۔

اس رات یوں لگتا تھا کہ تیز جگمگاتے تارے ابھی ابھی آپ کی جھولی میں گر جائیں گے۔ ایک طرف لہروں کا شور تھا تو دوسری طرف بیچ پر لگے کھانے کے ٹیبلوں کے پیچھے رنگ برنگی موسیقی کی دھنیں۔ بیچ کے کنارے کچھ سیاح شراب پی رہے تھے، کچھ کھانے میں مصروف تھے اور کچھ اپنی اپنی محبوباؤں  کی کمر پر ہاتھ رکھے ڈانس کر رہے تھے۔ یہ ایک مسحور کن شام تھی۔ ٹین کی دوست نے ایک دم کہا کہ رات کا ایک بج گیا ہے، دو بجے ان کا ہوٹل بند ہو جائے گا اب چلنا چاہیے۔
واپسی پر پانی مزید اونچا ہو چکا تھا۔ ہم تینوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑے۔ میں نے جیب سے پیسے نکال کر دانتوں میں دبا لیے تاکہ گیلے نہ ہوں۔ تقریباً  بیس فٹ لمبا لیکن پرخطر راستہ طے کر کے جب ہم ساحل کی ریت تک پہنچے تو تینوں کمر تک گیلے ہو چکے تھے۔

میں نے اگلے دن گال جانا تھا، وہی گال جہاں کا کرکٹ اسٹیڈیم بہت مشہور ہے۔ ہمیں پتا تھا کہ اب ہم دوبارہ مل نہیں سکیں گے۔ ہم نے الوداعی سلام لیے اور اپنے اپنے ہوٹلوں میں آ گئے۔ میں صبح سویرے دوبارہ بیچ پر گیا تو ماہی گیر مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔ یہ بیچ اس قدر خوبصورت ہے کہ تھوڑا سا پانی میں اتریں تو رنگ برنگی مچھلیاں نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ میریسا میں بلیو وہیلز کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ سری لنکا دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس میں ایک ہی دن انسان ہاتھی اور بلیو ویلز دیکھ سکتا ہے۔
صبح دس بجے کے قریب ہم ساؤتھ  ساحل کے کنارے کنارے گال کی طرف چل دیے۔ یہ پوری ساحلی پٹی  انتہائی خوبصورت ہے اور ہر چند کلومیٹر بعد ایک دلفریب بیچ نظر آتا ہے۔ دائیں طرف سڑک ہے درمیان میں سمندری ہوا کے سازوں پر سر ہلاتے پپیتے، کیلے، ناریل اور پام کے درخت ہیں اور بائیں جانب محبت بھری صدائیں لگاتا ہوا سبزی مائل سمندر۔

گال سری لنکا میں پرتگالی آرکیٹیکٹ کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ میں نے کرکٹ میچز میں صرف گال اسٹیڈیم ہی دیکھا ہوا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی واقع سولہویں صدی کا تعمیراتی شاہکار گال فورٹ بھی شاندار ہے۔ اس کے اندر ایک شہر آباد ہے اور دیواریں اس قدر چوڑی ہیں کہ ان پر گاڑی چلائی جا سکتی ہے۔ سمندرے کے کنارے واقع اس آہنی قلعے میں جہاں کبھی توپوں کے لیے جگہ رکھی گئی تھی اب وہاں ایک دوسرے کے ہونٹوں پر محبت کی مہریں ثبت کرتے سری لنکن لڑکیاں لڑکے نظر آتے ہیں۔ سری لنکا میں اس قدر سر عام محبت کا اظہار میں نے صرف گال میں دیکھا۔ اس شہر کو تقریباً  تین سو سال قبل ڈچ جہاز رانوں نے آباد کیا تھا۔پہلے یہ بھی مچھیروں کی ایک چھوٹی سی  بستی تھی اور مقامی لوگوں کا کل اثاثہ پپیتے، ناریل، پام اور مچھلیاں تھیں۔ گال گورے جسموں والے سیاحوں سے بھرا پڑا تھا۔ نوئریلیا کے سرد پہاڑی علاقے کے علاوہ باقی سبھی علاقوں میں سیاح شارٹس اور ٹی شرٹوں میں نظر آتے ہیں۔

میں ابھی گال میں ہی تھا کہ ٹین کا مسیج آیا کہ اگر تم واپس میریسا آؤ تو شام کا کھانا میں کھلاؤں  گی۔ اس کے پندرہ منٹ بعد ہی ڈانئیل کا مسیج آیا کہ وہ بھی میریسا واپس آ رہا ہے کیوں کہ تامل علاقوں میں ہر مارکیٹ شام سات بجے بند ہو جاتی ہے۔
میں یہ آخری رات ہیکوا ڈور بیچ پر گزارنا چاہتا تھا۔ پاکستان کے مشہور کمپئر توثیق حیدر اور میرے مشترکہ دوست ارشاد خان نے مجھے کہا تھا اس بیچ پر ڈوبتا ہوا سورج انسان پر سحر طاری کر دیتا ہے۔
میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سمن سے پوچھا کہ کیا ہم واپس اسی ہوٹل میں دوبارہ ٹھہر سکتے ہیں؟
سمن کی آنکھوں میں ایک طنزیہ سی مسکراہٹ تھی۔ تم ٹین کی وجہ سے جا رہے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں ڈانئیل بھی وہاں پہنچ رہا ہے۔

رات کو ہم چاروں دیر تک میریسا کے بیچ پر گھومتے رہے۔ لہریں، پانی، چاند اور لہروں کی واپسی کے ساتھ پاؤں  تلے سے سرکتی ریت ماحول کو خوشگوار بنا رہی تھیں۔ جب رات ایک بجے کے قریب میں ہوٹل واپس آ رہا تھا تو  تین چار بہت بڑے بڑے کچھوئے پانی سے نکل کر ریت کرید رہے تھے تاکہ انڈے دے سکیں۔ میں وہاں کچھ دیر کے لیے کھڑا ہو گیا۔
ایک لڑکی نے کہا کہ پلیز آپ میری ان کے ساتھ تصویر بنا دیں گے۔ میں نے کہا ضرور، یہ صوفی تھی اور فرانس سے آئی ہوئی تھی۔
ہم میں رسمی سی  گفتگو ہوئی اور میں ہوٹل واپس آ گیا۔ اگلی صبح  اٹھا تو بالکونی  پر دو جنگلی مور بیٹھے ہوئے تھے۔ میں خاموشی سے ان کو، ان کے پیچھے ناریل کے درختوں اور تاحد نظر پھیلے ہوئے پانی کو دیکھتا رہا۔ رقبے کے لحاظ  سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ متنوع پرندے سری لنکا میں ہی پائے جاتے ہیں۔ صبح ہوتے ہی پرندوں کی سریلی آوزیں کانوں میں رس بھر دیتی ہیں۔
جانے سے پہلے میں میریسا بیچ کا مغرب کی جانب واقع آخری پتھریلا کونا دیکھنا چاہتا تھا۔ سمن گاڑی میں سامان رکھ رہا تھا کہ میں اس طرف نکل گیا۔

یہ بھی ایک چھوٹی سی پہاڑی تھی جو پام کے درختوں سے بھری ہوئی تھی۔ تیز ہوا کے جھونکوں سے پتوں میں سریلی آواز پیدا ہو رہی تھی۔ چھوٹے چھوٹے کیکڑے پتھروں پر چڑھنے کی کوشش کرتے تو تیز لہریں دوبارہ انہیں سمندر میں بہا کر لے جاتیں۔
میں اپنی سیلفی بنانے لگا تو پیچھے سے ایک آواز آئی میں بنادوں؟۔۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو انتہائی مختصر کپڑوں میں ملبوس صوفی کھڑی تھی۔ صوفی فرانس کی کسی پراڈکٹ فرم کے لیے کام کرتی تھی۔ جو دوسرے ملکوں سے اشیاء تلاش کر کے پورپی منڈی میں لانچ کرتی تھی۔ وہ دنیا کے نوے سے زائد  ممالک گھوم چکی تھی۔ میں نے پوچھا کہ تمہیں سب سے اچھا ملک کونسا لگا تو اس کا جواب تھا میں بس سری لنکا میں دوسری مرتبہ آئی ہوں اور شاید تیسری مرتبہ بھی آؤں ۔ میرا خیال تھا کہ شاید وہ کئی ایک دوسری یورپی خواتین کی طرح سری لنکا کے “بیچ بوائز” کی تلاش میں آئی ہے لیکن وہ سری لنکا کے قدرتی حسن اور خوش اخلاق لوگوں سے متاثر تھی۔

اس نے پوچھا کہ شام کا کھانا مل کر کھائیں؟ میں نے جواب دیا کہ میری آج شام فلائٹ ہے۔
میں واپس ہوٹل گیا تو ٹین اس کی سہیلی اور ڈانئیل الوداعی ملاقات کے لیے پہنچ چکے تھے۔ یہ ایک حسین سفر کا افسردہ کر دینے والا اختتام تھا۔ وہاں سے نکلا تو راستے میں ربڑ کے درخت دیکھتے ہوئے میں سیدھا کولمبو پہنچا۔ سری لنکا کی موٹروے اور نادرا کا سسٹم بالکل پاکستان کی کاپی ہیں۔
کولمبو کے سرکاری ٹیلی وژن میں دھنوشکے سے ملاقات پہلے ہی طے تھی۔ اس سے فیس بک پر دوستی میرے ایک صحافی دوست کے ذریعے ہوئی تھی۔ میں نے اپنے ایک فیس بک فرینڈ نعمان کو بھی ادھر ہی بلا لیا۔ نعمان سے واقفیت ہم سب کی وجہ سے ہوئی کہ وہ وہاں پر میرے چند آرٹیکل پڑھ چکا تھا۔ نعمان گورا چٹا اور خوبصورت پٹھان ہے اور کولمبو میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ ان سے ملاقات کے بعد فارغ ہوئے تو سمن نے یاد دلایا کہ ہم نے پاکستانی رقاصاؤں  سے ملاقات کرنی ہے لیکن پتا نہیں کیوں میں نے سمن سے کہا کہ میں جانے سے پہلے آخری مرتبہ اس جادو نگری کے ساحل سے ڈوبتا ہوا سورج دیکھنا چاہتا ہوں۔ سمن مجھے کولمبو کے ایک ساحل پر لے گیا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

رات دس بجے فلائٹ سے کچھ دیر پہلے ٹین کا میسج آیا کہ ڈینئل اور ہم تمھیں مس کر رہے ہیں۔ میں ہلکا سا زیر لب مسکرایا اور یوگا کرتے ہوئے بدھا کی طرح آنکھیں بند کر لیں۔

Facebook Comments

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”سری لنکا!ایک جادو نگری۔۔۔۔امتیاز احمد/سفر نامہ

  1. اچھی تحریر ہے. پڑھتے ہوے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اپنی آنکھ سے منظر دیکھ رہے. اور
    مناظر خوبصورت ہوتے ہیں لیکن ان کا تقابل عورت کے جسم سے کرنا وہ بھی نسوانی حصوں سے اچھا نہیں ہے تہذیب کے منافی ہے.

Leave a Reply