صاعقۂ طُور کے نام۔۔۔۔۔ محمد علی جعفری

چاند سے کم نہیں تو مہ لقا
کیا کروں اب یہ مہ جبین بتا
ہائے میں کیوں کبھی نہیں تھکتا
چھیڑتا جب کوئی بھی ذکر تیرا

لوحِ شمسی کا افتخار گیا
چاند کی چاندنی سے ہار گیا

تیری معصومیت،ادا جاناں
اور تیری سادگی، فدا جاناں
آبرو کی ہے جانِ جاں ،جاناں
ناز،غمزے بھی بارہاجاناں

سرجھکا کر کلام کرتی ہے
چاندنی آنگنوں میں بھرتی ہے

عنبریں زلف کو یوں پھیلا کر
چاند کے ساتھ تو چلا مت کر
تھک گیا ہے،مسافتیں طے کر
بالتحیّر ہلال، ہے احمر

ہم سے ایسے کلام کرتی ہو
جیسے ساحل پہ حوت مرتی ہو

اتنی طاقت کہاں سے لاؤں یہاں
کہ تیرے حسن کا کروں میں بیاں
چھوڑ سکتا نہیں میں یہ عنواں
کھل کے اظہار ہو تو ہو عصیاں

کالی چادر میں یوں کلام کرے
ایک لمحے میں دن کی شام کرے

بارشوں سے تیرا کلام ہوا
چاند بدلی سے طشتِ بام ہوا
ہم کو دیکھا تو انتقام ہوا
اوٹ چلمن کی،انتظام ہوا

تیری دزدیدہ سی جھلک ایسے
سرمگیں ہوگیا فلک جیسے

اک اماوس کی رات آئی ہے
نَقدِ جاں ،ساتھ ساتھ لائی ہے
چاند گرہن کی خود نمائی ہے
تیرے بیمار کی دہائی ہے

نور کو تیرگی میں جھونکو گی
کیاپلٹ کر کبھی نہ دیکھو گی؟

رات باقی ہے ایک آہ سے بس
عہد و پیمان و مہر و مہ سے بس
موت کی آس ،ایسی چاہ کہ بس
مردہ زندہ کرو نگہ سے بس

تو نے پوچھا کہ ہم کیا کرتے ہیں؟
ہم تجھے دیکھنے کو مرتے ہیں

تیرےغم کوچھپا کے گھر لایا
صاعقۂ طُور،اپنے سر لایا
من کا سیلاب، آنکھ بھر لایا
چاند میں خونِ دل اتر آیا

آدمی عاشقی میں کھو جائے
آج شقّ القمر بھی ہوجائے

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *