شاہی اور آنڈو بکرا داستان عشق۔ آخری قسط

کہتے ہیں کے وقت بغیر بریک کے یعنی بے لگام گھوڑے کی طرح ہوتا ہے۔ دن، مہینوں میں اور مہینے ، سالوں میں بدل جاتے ہیں۔ تو بھلا یہ پانچ دن کیا چیز تھے۔ اعمال جیسے بھی ہوں آخر کو ہیں تو ہم مسلمان ہی اور بقول یوسفی صاحب ” ہم نے عالم اسلام میں کسی بکرے کو طبعی موت مرتے نہیں دیکھا”۔ دوستی یاری اپنی جگہ لیکن سماج کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوتا۔ یہ بات بکرا چاہے نہ جانتا ہو، شاہی بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ مختصر یہ کہ چاند رات سر پر آپہنچی تھی۔ہر طرف ہنگامہ برپا تھا۔ جہاں دیکھو پنجابی فلموں کی ہیروئن جیسی تھنتھناتی بچھیاں چھن چھن کرتی ہوئی بھاگ رہی تھیں اور بےبی کٹ بالوں کی وگ لگائے ہوئے شفقت چیمہ کی مانند منچلے ہاؤ ہو کا غل مچاتے تعاقب میں تھے۔ غرض ہر آدمی اپنی استطاعت کے مطابق گائے، بکرے، دنبے،اونٹ لے کر سڑک پر نکل آیا تھا اور بے مقصد و سمت صرف دوڑا رہا تھا۔ گھرر گھرر کی آواز سے زنگ آلود اوزاروں پر دھار لگاکر چمکایا جا رہا تھا۔ بلدیہ عظمی کراچی والے عید الاضحیٰ  ایمر جنسی والی ٹیمیں تشکیل دے رہے تھے وہیں افغانی بچے ان ٹیموں کے پہنچنے سے پہلے ہی پیٹھے پھاڑ کر چربی جمع کرنے کے لیے چھریاں تیز کر رہے تھے۔ غرض ہر طرف”از ہما عیش و خوشی ہا ہو مزہ”والا معاملہ تھا۔

لیکن شاہی آج شعر کے اگلے مصرع”او نہ دیدن غیر قرش خرپزہ”کے مصداق اداس بیٹھا تھا۔شاہی کا ارادہ تو اس بکرے کو تیسرے روز قربان کرنے کا تھا لیکن میں نے ثواب و فضیلت کی ترغیب دے کر اسے پہلے دن نماز کے فوری بعد قربانی کرنے پر راضی کر لیا۔اب مسئلہ قصائی  کا تھا۔ تو علاقہ کے سب سے غریب و مسکین قصائی  کو دو ہزار ایکسٹرا اجرت پر اور کام نہ کرنے کی صورت میں حقہ پانی بند کرنے اور پورا سال تمام اہل محلہ کی گوشت نہ خریدنے کی دھمکی دے کر راضی کیا۔ اب کیا کریں قصائی  بھی انسان ہیں ان کی بھی ناک ہوتی ہے اور بد بو انہیں بھی آتی ہے لیکن یہ ظالم پیٹ انسان سے کیا کچھ کراتا ہے۔

ابھی ہم عیدگاہ سے نکل کر گلی میں داخل ہی ہو رہے تھے کے قصائی  بکرے کو گلی میں لٹائے نظر آیا اور اس سے پہلے کہ  شاہی اور بکرے کی نگاہیں چار ہوتیں اور شاہی کی شفقت پدری بیدار ہوتی میری آنکھوں کا اشارہ پاتے ہی قصائی  نے اللہ اکبر کہہ  کر چھری چلادی ۔ “بووووو” کی ایک طویل صدا بکرے کے آخری الفاظ تھے۔ شاہی میرے برابر میں کھڑانمناک آنکھوں  سے بکرے کی جانب دیکھ رہا تھا۔ اب بکرا شاہی کو جس بھی نگاہ سے دیکھتا ہو، شاہی نے اسے ہمیشہ اپنی اولاد کی طرح سمجھا تھا۔ موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے باقی لوگوں نے بھی چہرے غمناک کر لیے تھے۔ منافق کہیں کے ۔

بکرا کاٹتے ہوئے بیچارے قصائی پر کیا گزری، کتنی بار دماغ کو آکسیجن کی سپلائی  متاثر ہونے کی وجہ سے وہ کومہ میں جاتے جاتے بچا ۔۔یہ ایک الگ داستان ہے۔ جب رات کی تاریکی میں وہ دو ہزار ایکسٹرا لینے میرے پاس آیا تو بولا کہ ” لکس، ریکسونا سے لے کر ایک سو ایک صابن تک سب سے ہاتھ دھونے پر بھی بدبو ختم نہیں ہو رہی”. گو کہ اس کا کارنامہ تاج محل بنانے سے کم نہ تھا اور حالات بھی کچھ ایسے بن گئے تھے کے اسے افسوس نہیں ہوتا لیکن کیا کریں مغلوں کا سنہرا دور ختم ہو چکا تھا اور حکومت پاکستان کے تاریک دور میں ہاتھ کاٹنے پر فلم اپنے ہی گلے میں فٹ ہونی تھی ۔ سو قصائی  کو مُردہ نہلانے والے مولوی صاحب کا پتا بتا دیا تاکہ “مجموعہ عطریات” لے کر استعمال کرسکے۔ اس کے علاوہ کوئی  حل دکھائی  نہیں دے رہا تھا۔

قربانی کے فوراً بعد جانور کی کلیجی، دل وغیرہ کی دعوت اڑائی جاتی ہے تو اسی سلسلہ میں قربانی کے کچھ دو گھنٹے گزرنے پر شاہی کے غریب خانہ پر جانا ہوا۔ قدیم یونانی حکیم جن سے اہل یونان ابھی تک نا آشنا ہیں اپنی کتب میں نر چھوہارے کے بعد نر بکرے کا جگر “اعضاء رئیسہ و حواس اربع و خمیسہ” (جب کبھی کسی تحریر میں لفظ عضو یا اعضاء کے ساتھ کوئی  ایسا مشکل لفظ جڑا دیکھیں جس کا مطلب آپ کے والد محترم کو بھی پتا نہ ہو تو اس سے ایک ہی طرح کے اعضاء مراد ہوتے ہیں) کے لیے فائدہ مند بتایا ہے۔

سو اس بار دو اور دوست بھی ساتھ ہولیے ۔ ہم تین لوگوں کی جماعت شاہی کے گھر پر موجود تھی۔ اور بھنی ہوئی  کلیجی سامنے میز پر سجی تھی۔ شاہی نے تو شدت غم سے اسے چکھنے سے ہی منع کر دیا تھا۔ تو مجبوراً ہمیں ہی شروعات کرنی پڑی۔
پہلا با جماعت نوالہ منہ میں جاتے ہی یک زبان آخ تھو کی آواز کے ساتھ باہر آگیا۔ کسی کا خیال تھا کہ بکرے کے گردے فیل تھے تو کسی کی رائے یہ کہ  قربانی سے پہلے ڈائلیسس کرا لینا بہتر تھا۔ مختصر یہ کہ  سارا گوشت غریبوں میں تقسیم کر دیا گیا اور اس طرح اس داستان عشق کا اختتام ہوا۔

نوٹ : یہ تحریر عید کے تیسرے روز کے لیے لکھی گئی  تھی لیکن مکالمہ فیملی کے سینئر ممبر جناب سید انور محمود کے اچانک انتقال کی وجہ سے روک دی گئی۔ اللہ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین!

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *