کس قدر افسوس کا مقام ہے۔ کس قدر دُکھ کی ساعت ہے۔ ایک انسان چند لمحے پہلے سانس لیتا ، جیتا جاگتا نام نہاد “ماں جیسی ریاست ” کی تحویل میں گیا اور چند لمحوں کے بعد اس ریاست نے← مزید پڑھیے
الغرض جو معاملات سیاستدان افہام و تفہیم اور کچھ لو ،کچھ دو کی حکمت عملی کے تحت حل کر لیتے ہیں وہاں طاقت کے زعم میں بندوق کی زبان میں بات کر کے بارود سے مسئلوں کو حل کرنے کی← مزید پڑھیے
یہ 14 اکتوبر 99 کی سرد شام تھی۔ کوارٹر نمبر 54/اے خواب نگر (ملکوال) کے آنگن میں زندگی کی یادگاروں میں سے ایک چھوٹے سے ریڈیو پر خبریں سنتے ان تمام یادوں اور یادگاروں کے سردار نے مجھے بتایا کہ← مزید پڑھیے
میں پولی ٹیکنیکل کالج سرگودہا میں پڑھتا تھا۔ تین سالہ ڈپلومہ کے لیے شاہینوں کے شہر میں قیام کا عہد ایک علیحدہ سے کتاب میں مربوط کیا جانا چاہیے مگر چاہیے تو بہت کچھ۔۔۔ ہر وقت یہ ہی احساس دل← مزید پڑھیے
ماں۔۔۔ بہت زور کی بھوک لگی ہے ۔ خدا کے لیے کچھ تو دو کھانے کو ۔۔بھوکی بچیاں یک زبان ہو کر ماں سے کھانے کو مانگتی ہیں۔ تو وہ تڑپ کر انہیں سینے سے لگاتی ہے اور روہانسی ہو← مزید پڑھیے
ہر سال کی طرح اس سال بھی ہماری عظیم قوم نے اپنا ریکارڈ خراب نہیں کیا اور سوشل میڈیا پر ایک پُر مغز (مغز کو پُر کرنے والی) بحث جاری رہی کہ مسیحی برادری کو انکے تہوار کی مبارکباد دینی← مزید پڑھیے
یہ تصور آباد ہے۔ یہاں راستے اور رہرو دونوں منزل کی تلاش میں رہتے ہیں ۔تنگ اور لمبی لمبی گلیوں میں دونوں اطراف کچے پکے گھروندے ہیں ۔ حبس زدہ گرما گرم مکانوں میں چولہے ٹھنڈے ہی رہتے ہیں۔ یہاں← مزید پڑھیے
پھر وہی سرما کی رت کا ایک ملگجا سا بھیگا بھیگا دن تیس برس پہلے کی یادوں کو تازہ کرنے کی امید جگاتا طلوع ہوا۔ کون سی یادیں۔ ارے بھیا ایک ملک بستا ہے یہاں جو سیاست ، صوبائیت ،← مزید پڑھیے
بارِ دگر عرض ہے کہ کرکٹ پہلی محبت تھی ۔ جاننے والے جانتے ہیں ،ان میں سے بیشتر کی بھی۔ جیسے کرکٹ ارتقائی ادوار سے گزرتی رہی ویسے طالبعلم کا فکری ارتقا ء کا سفر بھی جاری رہا۔ زندگی وقت← مزید پڑھیے
دورِ جہالت میں معاشرے میں دو طبقات تھے ایک اہِلِ ثروت دوسرے انکے احساسِ برتری کے شر کا شکار اہلِ غربت۔ یعنی وہی اشرافیہ اور “حقیریہ” (یہ اصطلاح ابھی ابھی ذہن میں آئی)۔ اشرافیہ کے ہاتھوں حقیریہ کی جان مال← مزید پڑھیے
روئے زمین پر جس شئے کا نعم البدل کوئی نہیں وہ زندگی ہے۔ ہر کسی کو اسکے حصے کی ایک ہی بار ملتی ہے اس لیے اگر کوئی شئے قیمتی ہے تو وہ انسانی زندگی ہے۔ ریاستوں کی تشکیل کے← مزید پڑھیے
چشمِ تصور پر وہ منظر اُبھرتا ہے۔ جو چشمِ حقیقی پر عیاں ہو نہیں سکتا۔ مکانِ نور ہے زمانِ ازل ہے۔ فقط وہ ہے جو اس زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے۔ ہو کر بھی اس کا شریک← مزید پڑھیے
کیا کوئی ہے ؟ کوئی ہے جو اس ملک کی سڑکوں پر بٹتی اذیت ناک ترین موت کا یہ سلسلہ روک لے۔ انسانوں کی زندگیوں کو دردناک ترین انجام سے دوچار کرتی ان بڑی بڑی بسوں کے اس وحشی رقص← مزید پڑھیے
ماں ! ابا کہتا تھا کہ ہر بچہ اپنا رزق ساتھ لاتا ہے۔ ہر کوئی اپنے مقدر کا لکھا پیتا ہے کھاتا ہے۔ ماں! مجھےبہت بھوک لگتی تومیں وہ رزق تلاش کرتا تھا۔ دن بھر اسکی تلاش میں بھوکا پیاسا← مزید پڑھیے
پاکستان میں ہوش کی آنکھ تو کھلی نہیں اس لیے ہمیں مجموعی حیثیت کے لیے اس محاورے کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ ہمارے ہوش کےصرف کان کھلے ہیں جس میں چند جملے اور الفاظ سماعت کے پردوں کے ساتھ چپکے← مزید پڑھیے
یہ عید کا دن تھا اور میرے دونوں ہاتھوں میں تین شاپر تھے ۔ ان میں ایک وقت کی زندگی کی ضمانت تھی۔ زندگی کی ضمانتیں انسانوں کے ہاتھ میں آجائیں تو شاپروں میں ہی ملتی ہیں۔ ان میں گوشت← مزید پڑھیے
اس نمبر 03264320992 سے کال آئی۔۔۔ میں نے کال وصول کی ہیلو۔۔اسلام علیکم فراڈیا( گرجدار آواز میں )جی وعلیکم السلام ۔وقاص راشد بول رہے ہو ۔؟ میں!جی وقاص رشید بول رہا ہوں فرمائیے۔ فراڈیا۔جی میں صدر تھانے سے SHO ملک← مزید پڑھیے
سنیے ، ذرا رکیے اور غور فرمائیے۔۔خدا نے انسان کی تخلیق اور پھر اسے پروان چڑھانے کے لیے کیا اسکیم اختیار کی ؟ اس اسکیم میں آپکا کردار کیا ہے ؟ اور کیا آپ یہ کردار صحیح معنوں میں ادا← مزید پڑھیے
رکیے ! اپنے آس پاس نظر دوڑائیے۔ کیا دکھائی دیا ؟ اس منظر نامے کو کوئی عنوان دیجیے۔ میں نے جو دیا وہ پیشِ خدمت ہے۔ “تربیت کا بحران “۔ خدا نے انسان کو تخلیق کیا تو دنیا میں خیر← مزید پڑھیے
ماں کو ایک رات کے لیے بھی دور جاتے دیکھ کر رہا نہیں جاتا تھا۔ نہ جانے کیا نفسیاتی عارضہ تھا اس برقعے کے ساتھ جڑا ہوا۔ وہ برقعہ خواب نگر ملکوال کے بازار سے اسٹیشن تک سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں بھی بینائیوں کو سدا دے دیتا تھا۔← مزید پڑھیے