ہمایوں احتشام کی تحاریر
ہمایوں احتشام
ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

مکالمہ اور میں۔۔۔ہمایوں احتشام/مکالمہ سالگرہ

“مکالمہ” آن لائن میگزین حقیقی معنوں میں غیر جانبدار میگزین ہے۔ ورنہ ناچیز نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ کچھ میگزینز اپنے ہم مسلک لوگوں کے مضامین شائع کرتے ہیں، تو کچھ اس وجہ سے ہم لوگوں کی تحریریں ہمیں←  مزید پڑھیے

اردو کے مزاحمتی ادب میں شیردل غیب کا کردار۔۔۔۔ہمایوں احتشام

شیر دل غیب پر اس نے مجھ سے رائے مانگی، میں کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔ دل میں سوچا زیادہ کچھ کہا تو حکام نگینوں کو خاک میں ملانے کا ڈھنگ خوب سے جانتے ہیں، یہی تو وہ فن ہے←  مزید پڑھیے

طلباء میں خودکشی کے رجحان کی نفسیات ۔۔۔۔ ہمایوں احتشام

طلباء کسی بھی قوم اور ملک کا مستقبل ہوتے ہیں۔ جن پر ملک و قوم کی فلاح و ترقی کا بوجھ اٹھانے اور اسے آگے لے جانے کی بھاری ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔حالیہ عرصے میں خودکشیوں کا بڑھتا رجحان دیکھا←  مزید پڑھیے

مکمل لوگ ۔۔۔ ہمایوں احتشام

وہ چاہتی ہے میں بہت کچھ لکھوں، اتنا کچھ کہ کسی دوسرے مصنف نے نہ لکھا ہو۔ وہ چاہتی ہے، میں فیمنزم کے حق میں لکھوں، مرد جو صرف اپنی انا کا مارا ہے اور صرف ذاتی مفاد کے سوا،←  مزید پڑھیے

بھکاری ۔۔۔ہمایوں احتشام

 تم ہسپانوی میں لکھتے ہو ؟ اس نے عجب انداز میں پوچھا۔ ۔میں نے کہا، ہاں صرف صفحے سیاہ کرتا ہوں۔ باقی کبھی بھی کوئی شاہکار نہ لکھ پایا، شاید میری اتنی سکت نہیں یا میرے اندر موجود وہ تالاب←  مزید پڑھیے

سامراجی مالیاتی اداروں کی انسان کش لوٹ کھسوٹ۔۔ ہمایوں احتشام

استعماریت نے کرہ ارض پر قوموں کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے لیے جو نت نئے بہروپ بھرے ہیں ان میں ننگی جارحیتوں سے لیکر “ترقی میں معاون ومددگار” بن کر استحصال کے صدہا ہتھکنڈے شامل ہیں. اس کی ایک←  مزید پڑھیے

ادھورے خوابوں کا بوجھ۔۔ہمایوں احتشام

 میں خاموش کھڑا تھا، بالکل ساکت اور جامد۔ میں اس ہارے ہوئے جواری کی مانند تھا جس نے اپنا آشیانہ تک داؤ  پہ لگا دیا، اور سب کچھ لوٹا کر  اب فٹ پاتھ پہ بلا حرکت بیٹھا، خیالوں میں گم←  مزید پڑھیے

مڈل کلاس ایک مطالعہ۔ ہمایوں احتشام

تاریخی مادیت کا علم ہمیں بتاتا ہے کہ انسانی سماج کے ارتقا میں قدیم اشتراکی یا پنچائتی نظام میں نا تو ذاتی ملکیت کا وجود تھا اور نا ہی انسان متحارب طبقات میں منقسم ہوئے تھے جن کے مفادات ایک←  مزید پڑھیے

مزدور آمریت اور سرمایہ دارانہ آمریت میں فرق۔۔ ہمایوں احتشام

دو یا دو سے زیادہ پارٹیوں کی باری باری حاصل کی گئی حکومتیں جو دراصل ایک ہی طبقے یعنی سرمایہ دار طبقے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یعنی صرف چہرے تبدیل ہوتے ہیں لیکن حکومت اسی طبقے یعنی سرمایہ دار طبقے←  مزید پڑھیے

مڈل کلاس ایک مطالعہ ۔ہمایوں احتشام

تاریخی مادیت کا علم ہمیں بتاتا ہے کہ انسانی سماج کے ارتقا میں قدیم اشتراکی یا پنچائتی نظام میں نہ  تو ذاتی ملکیت کا وجود تھا اور نہ ہی انسان متحارب طبقات میں منقسم ہوئے تھے جن کے مفادات ایک←  مزید پڑھیے

کون سی قوم ؟۔۔۔ہمایوں احتشام

وہی قوم جس میں آپ کے صاحب ثروت بھائی خوش ذائقہ پکوانوں کے گلچھرے اڑاتے ہیں اور ہمارے طبقے کے لوگ روٹی کو ترستے ہیں۔ کیا وہی قوم ؟ وہی قوم جس میں آپ کا امیر طبقہ اپنے زکام کا←  مزید پڑھیے

مزدور طبقے کا شہید۔۔۔ہمایوں احتشام

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک تقریر کے دوران اس نےکہاتھا ” استعمار کے خلاف کسی بھی ملک کی فتح ہماری فتح ہے اور کسی بھی ملک کی شکست ہماری شکست ہے”۔ عظیم پرولتاری بین الاقومیت اور بین الاقومی←  مزید پڑھیے

لبرل فیمنزم کے سوویت یونین اور کامریڈ اسٹالن پر الزامات کے جواب میں۔ہمایوں احتشام

“ہم سب” پر مہناز رحمن کی تحریر “روسی عورت اور انقلاب” پڑھ کر اندازہ ہوا کہ لبرل دانشور انسانی حقوق ، فیمنزم ،جمہوریت اور انسانی آزادی کی آڑ میں سوویت یونین اور دیگر سوشلسٹ ممالک، ان کی قیادتوں اور خودمارکسزم←  مزید پڑھیے

میں تم سے محبت نہیں کرسکتا۔ہمایوں احتشام

تم ہمیشہ سے مجھ سے شکوہ کناں رہیں کہ میں نے کبھی تم سے محبت و الفت کے چار لفظ بھی نہیں بولے، میں نے تمہاری ناگن سی گھنی زلفوں کو لاڈ میں آکر کبھی نہیں سنوارا، تمہاری غزال سی←  مزید پڑھیے

جمال نقوی: حقائق کی روشنی میں

آج کل کچھ لوگ منحرف جمال نقوی کو ایک روشن استعارہ بنا کر اور انکی مثالیں اور قصائد پڑھ کر عوام کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ لبرلازم اور گماشتہ سرمایہ داری کی طرف راغب ہوکر اور سوشلزم←  مزید پڑھیے

سرمایہ داری کے تضادات

ہمارے عہد کے لبرلز اور اس سے پہلے کے سوشل ڈیموکریٹس جو اصلاحات کے عمل پہ یقین رکھتے تھے، اور یہ سمجھتے تھے کہ سرمایہ داری میں اصلاحات کرکے اور خیر و شر کے الہیاتی فلسفے کی تبلیغ کرکے ہم←  مزید پڑھیے

نکسل باڑی، جو مر نہ سکا!!

”نکسل باڑی مرا نہیں ہے اور نہ ہی اسے کوئی مار سکتا ہے، سینکڑوں نکسل باڑی پورے ہندوستان میں پھٹنے کو تیار ہیں“ یہ الفاظ عظیم کمیونسٹ راہنما اور نظریہ دان چارو مجمدار نے اپنی شہادت سے پہلے کہے۔نکسل باڑی←  مزید پڑھیے

کانگو فری سٹیٹ

1884 میں برلن کے مقام پہ تمام سامراجی ممالک کا اکٹھ ہوا, یہ تیرہ اقوام تھیں. جو دنیا کے تقریباً پچانوے فیصد علاقے پہ قابض تھیں. کانفرنس کا موضوع تھا افریقہ کی بندر بانٹ. بسمارک جو جرمنی کا چانسلر تھا,←  مزید پڑھیے

داستانِ مایوسی

تم نے واقعی ہی بےحد ظلم سہا، تم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، مگر تم خامشی سے برداشت کرگئے۔ تمہارے ملک پہ سامراج قابض ہوا، تمہاری زمینیں اپنے گماشتوں کو دے دیں، اور تمہیں راندہ درگاہ کردیا___←  مزید پڑھیے

”ریاست ہوگی ماں کے جیسی“ مضحکہ خیز نعرہ

کل میں ایک گیت سن رہا تھا جو گایا تو لال بینڈ نے ہے، مگر لکھا ہے پیپلز پارٹی کے نام نہاد بائیں بازو کے ایک دانشور نے۔ شاعر کہتے ہیں ریاست ہوگی ماں کے جیسی ہر شہری سے پیار←  مزید پڑھیے