سلطان فتح علی ٹیپو۔۔ہمایوں احتشام

استعمار کے خلاف کسی بھی قوم کی فتح ہماری فتح ہے، استعمار سے کسی بھی قوم کی شکست ہماری شکست ہے۔

چے گیویرا

julia rana solicitors london

سلطان فتح علی 20 نومبر 1750 کو دیوان حویلی، بنگلورو کرناٹک میں پیدا ہوئے۔ سلطان کے والد کا نام حیدر علی اور والدہ کا نام فاطمہ فخر النساء تھا۔ سلطان کے ٹیپو نام کی وجہ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہے کہ میسور کے ایک مشہور صوفی بزرگ ٹیپو مستان اولیا گزرے ہیں۔ ان سے نسبت کی وجہ سے بعد میں حیدر علی نے ان کو ٹیپو کا نام دیا۔ (احقر کے بڑے بھائی صاحب کا نام سلطان ٹیپو سے متاثر ہوکر والد صاحب نے ٹیپو رکھا۔)

سلطان نے ابتدائی تعلیم قرآن و حدیث کی حاصل کی۔ اس کے علاوہ اردو، فارسی اور عربی زبانوں کا علم حاصل کیا۔ پھر گھڑ سواری، شمشیر زنی، بندوق بازی اور نیزہ بازی کی تربیت حاصل کی۔ کچھ بڑے ہو کر فرانسیسی کمانڈروں سے، جو اس وقت حیدر علی کے اتحادی تھے، جنگ بازی اور جنگی حکمت عملیوں کے بارے میں سیکھا۔

حیدر علی کو شہرت اس وقت ملی، جب میسور کی کمزور سی ریاست پر 1758 میں مرہٹہ فوج نے حملہ کیا، اس وقت یہ نظر آرہا تھا کہ میسور پر مرہٹوں کا قبضہ ہوجائے گا۔ حیدر علی اس وقت عام سے کماندار تھے۔ اس جنگ میں حیدر علی کی بے مثال بہادری اور حکمت عملی سے مرہٹوں کو شکست فاش ہوئی۔ ہندو راجا نے خوش ہو کر ان کو میسور کی افواج کا کمانڈر ان چیف بنا دیا۔ 1761 میں حیدر علی نے بطور ریاست کے سربراہ کے طور پر میسور کی ریاست کا انتظام سنبھال لیا۔

سلطان ٹیپو کی شہرت کا آغاز اس وقت ہوا جب 1766 میں فقط پندرہ سال کی عمر میں انھوں نے مالابار پر قبضہ کی مہم کے دران اپنے والد کے ساتھ سفر کیا۔ سلطان کے پاس تقریباً پچیس سو کے قریب نفری تھی۔ انھوں نے اس قلعہ پر حملہ کردیا، جس میں مالابار کے راجا کا خاندان چھپا ہوا تھا۔ یہ قلعہ زبردست قسم کی سیکورٹی کے حصار میں تھا۔ مگر سلطان نے جب اسے فتح کیا تو مالابار کے راجا نے اپنے خاندان کی سلامتی کے لئے ہتھیار ڈال دیے۔ اس طرح مالابار فتح ہوگیا۔ سلطان نے راجا آف مالابار کے خاندان کو عزت و تکریم کے ساتھ راجا کے حوالے کیا۔

اس فقید المثل فتح پر حیدر علی نے خوش ہو کر سلطان ٹیپو کو پانچ سو پیدل فوج کا انچارج تعینات کیا اور میسور کی ریاست کے پانچ اضلاع کا انتظام و انصرام سلطان ٹیپو کے حوالے کردیا۔

1767 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے جنوبی ہند میں اپنی عمل داری کو بڑھانے کے لئے مرہٹوں اور نظام حیدر آباد کے ساتھ ایک فوجی اتحاد تشکیل دیا۔ جس کا مقصد جنوبی ہند کی ریاستوں اور راجدانیوں کو فتح کرنا تھا۔ وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مرہٹوں کے ساتھ حیدر علی نے امن معاہدہ کرلیا، جبکہ نظام حیدر آباد سے مذاکرات کے لئے ٹیپو کو بھیجا گیا۔ جنھوں نے اپنے بہترین سفارتی سکلز کی بنیاد پر نظام حیدر آباد کو اس اتحاد سے الگ ہونے پر مجبور کرلیا۔

حیدر آباد سے واپسی پر سلطان ٹیپو نے مدراس پر چڑھائی کی، لیکن پیچھے سے حیدر علی کی انگریزوں کے ہاتھوں شکست کی خبر سن کر وہ لوٹ آئے۔ حیدر علی کو تیروانا ملائی کے مقام پر ایسٹ انڈیا کمپنی سے شکست ہوئی تھی۔ اس کے بعد حیدر علی نے خلاف توقع مون سون کے موسم میں بھی جنگ چھیڑ دی اور کمپنی بہادر کے دو قلعے چھین لئے۔ تیسرے قلعے کا محاصرہ جاری تھا کہ کمپنی کی امدادی کمک پہنچ آئی۔ جس کو سلطان ٹیپو نے قلعے تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا، اور اس وقت تک روکے رکھا، جب تک کہ حیدر علی مکمل طور پر پسپائی اختیار نہیں کر گئے۔

اس کے بعد حیدر علی اور سلطان ٹیپو نے جنوبی ہندی ساحلی علاقوں کا رخ کیا۔ جہاں پر انھوں نے کمپنی بہادر کے قلعوں کی فتوحات کا سلسلہ شروع کیا۔ یہاں تک کہ کمپنی بہادر نے 1769 میں مدراس امن معاہدہ کرکے اپنا آخری قلعہ مدراس بچایا۔

اس وقت اگر حیدر علی چاہتے تو جنوبی ہند سے کمپنی کا مکمل طور پر صفایا کرسکتے تھے۔ لیکن یہ ان کے شایان شان نہیں تھا کہ معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے۔ اسی لئے مدراس پر کمپنی بہادر کا کنٹرول رہنے دیا۔ معاہدہ مدراس میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ اگر میسور پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو انگریز میسور کی مدد کریں گے۔ اگر کمپنی پر حملہ ہوا تو ریاست میسور ان کی مدد کرے گی۔ لیکن کمپنی اپنا عہد وفا نہ کر پائی۔

1771 میں مرہٹوں نے تیس ہزار کی نفری کے ساتھ میسور پر چڑھائی کردی۔ حیدر علی نے کمپنی سے مدد مانگی لیکن کمپنی نے کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے سے صاف انکار کردیا۔ اس وقت حیدر علی اور سلطان ٹیپو نے عہد کیا کہ اب سے کمپنی پر اعتبار نہیں کیا جائے گا۔

1776 میں برطانیہ کی امریکی نوآبادیوں میں بغاوت ہوئی، جس میں فرانس نے باغیوں کی مکمل حمایت کی۔ بغاوت کامیاب ہوئی اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ قائم ہوئی۔ اس حزیمت کو مٹانے کے لئے کمپنی بہادر نے ہندوستان میں فرانسیسی نوآبادیوں پر جنگ چھیڑ دی۔ انگریزوں نے 1778 میں میسور کی مشرقی ماہے بندرگاہ، جو فرانسیسی نوآبادی تھی، پر قبضہ کرلیا۔ جس پر حیدر علی نے کمپنی بہادر کے خلاف جنگ کا آغاز کردیا۔

دوسری اینگلو میسور جنگ کا آغاز اس وقت ہوا جب حیدر علی نے کرناٹک، جو برطانوی حلیف ریاست تھی، پر چڑھائی کردی۔ مدراس کے کمپنی گورنر نے کرناٹک کی حمایت میں سر ہیکٹر منرو کو نفری دے کر میسور پر حملے کے لئے بھیجا اور اس فوج کی امدادی کمک کے لئے کرنل ولیم بیلی کو دس ہزار فوج دے کر پیچھے بھیجا۔ حیدر علی نے دس ہزار فوج کے ساتھ سلطان ٹیپو کو کرنل ولیم بیلی کو روکنے کے لئے بالائی جانب روانہ کیا۔ ستمبر 1780 میں سلطان ٹیپو نے ولیم بیلی کی افواج کا گھیراو کیا اور اس قدر عبرت ناک شکست دی، کہ جس کا سامنا برطانیہ کو اپنی ہندوستان میں پوری نوآبادیاتی تاریخ میں نہیں کرنا پڑا۔ 4000 اینگلو اور انڈین فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ 336 سے زائد جنگ میں ہلاک ہوئے۔ یہاں تک کہ سلطان سے خوف کا عالم یہ ہوگیا تھا کہ ہیکٹر منرو نے کرنل ولیم کی مدد کے لئے جانے سے انکار کردیا۔

اگر حیدر علی چاہتا تو اس بدحواس برطانوی فوج کا پیچھا کرتے ہوئے مدراس کو آسانی سے حاصل کرسکتا تھا۔ کیونکہ اس وقت مدراس میں معمولی سی انگریز نفری موجود تھی اور باقی شکست خوردہ فوج فرار ہوچکی تھی۔ مگر اس نے فقط ہیکٹر منرو کو ڈرانے کے لئے سلطان ٹیپو کو بھیجا۔ اس فوج نے کمپنی کی فوج کو ڈرانے کے بعد واپس سرنگا پٹم کی راہ لی۔

اس کے بعد کمپنی کے قلعے پر قلعہ فتح ہوتے گئے۔ فروری 1782 میں سلطان ٹیپو نے تنجور کے مقام پر کرنل بیرتھ ویٹ کی سربراہی میں کمپنی کی فوج کو شکست فاش دی۔ بعد کی تاریخ میں کمپنی نے پروپیگنڈہ کیا کہ سلطان ٹیپو نے تمام ہتھیار ڈالنے والوں کو قتل کردیا۔ جبکہ ایسا بالکل نہیں ہوا۔ جنگ میں قتل ہونے والوں کے علاوہ سلطان نے کسی کو قتل نہیں کیا۔

7 دسمبر 1782 کو دوسری اینگلو میسور جنگ کے دران حیدر علی سانس کی بیماری کی وجہ سے فوت ہوگئے اور 29 دسمبر 1782 کو سلطان ٹیپو نے ریاست میسور کا بطور سلطان کنٹرول سنبھال لیا۔

کمپنی بہادر کو پرامن تبدیلی اقتدار کی امید نہیں تھی، سو اس نے مون سون کے عروج کے دنوں میں جنگ چھیڑ دی۔ جس کو سلطان نے ہر محاذ پر شکست دی۔ تاہم شکست خوردہ کمپنی نے تنگ آکر مارچ 1784 میں معاہدہ امن کی درخواست کی اور سلطان ٹیپو نے کمپنی کے ساتھ معاہدہ مینگلور کیا۔ جس کے تحت جنگ نہ کرنے اور امن بحال رکھنے کی شرائط طے پائیں۔

ٹیپو جانتے تھے کہ کمپنی بہادر ان کی ریاست کے خلاف ایک زبردست خطرہ ہے۔ اسی لئے انھوں نے فوج کی استعداد بڑھانے کے لئے ٹیکنالوجی پر دھیان دیا اور میزائل کی قسم کا ایک ہتھیار تخلیق کروایا۔ جس کی رینج تقریباً دو کلومیٹر تھی۔
دوسری جانب انھوں نے کارخانہ سازی پر دھیان دیا اور ریشم کی پیداوار بڑھانے پر کام کیا۔ نئی سڑکیں تعمیر ہوئیں اور لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقعے فراہم کئے گئے۔ ایک بردبار مسلمان حکمران کے طور پر ان کا رویہ اقلیتوں کی جانب بڑا رحم دلانہ تھا۔

1789 میں تیسری اینگلو میسور جنگ کمپنی بہادر کی جانب سے چھیڑ دی گئی۔ اس جنگ میں سلطان بالکل اکیلے تھے۔ کیونکہ ان کے فرانسیسی اتحادی فرنچ انقلاب کی وجہ سے ان کے ساتھ نہ آسکے۔ سلطان نے آس پاس مدد کے لئے ہاتھ پاوں چلائے لیکن کوئی پڑوسی ریاست بھی مدد کے لئے نہ آئی۔ مرہٹوں، نظام اور کمپنی کے اتحاد نے ریاست میسور پر چڑھائی کردی۔

سات سال پر محیط اس جنگ میں اکیلے سلطان کو پے در پے شکستیں ہوئیں اور لارڈ کارنوالس نے سرنگا پٹم پر حملہ کردیا۔ جس کو ایک معاہدہ کے زریعے واگزار کرایا گیا۔ اس معاہدے کے تحت ریاست میسور کے آدھے سے زیادہ علاقہ پر مرہٹے، نظام اور کمپنی قابض ہوگئے۔ سلطان کے سات اور گیارہ سال کے دو بیٹوں کو بطور یرغمالی لارڈ کارنوالس اپنے ساتھ لے گئے۔ جن کو سلطان نے تاوان بھر کر آزاد کرایا۔

میسور کے شیر کے لئے یہ بہت گردگوں صورتحال تھی۔ لیکن سلطان برابر اپنی رعایا کی فلاح کے لئے کاموں میں مصروف رہے اور دوسری جانب اپنی فوج استعداد بڑھانے پر بھی دھیان قائم رکھا۔

1798 میں نیپولین نے مصر پر حملہ کردیا، ان کا منصوبہ تھا کہ مصر فتح کرنے کے بعد برصغیر کی جانب پیش قدمی کی جائے گی۔ لیکن مصر پر حملہ اپنے خوفناک نتائج کے ساتھ سامنے آیا۔ دوسری جانب کمپنی بہادر نے ممکنہ خطرے کو بھانپ لیا۔ کمپنی بہادر کو فرانسیسیوں کے اتحادی سلطان ٹیپو سے خطرہ محسوس ہونے لگا۔ اسی دران نئے گورنر رچرڈ ولیزلی کو مدراس میں تعینات کیا گیا۔ جو کمپنی کی سلطنت کی توسیع کے لئے پاگل تھے۔ انھوں نے سرنگا پٹم پر حملہ کردیا۔ سلطان نے مرہٹوں، نظام اور کمپنی کی مشترکہ فوج کا بہادری سے حملہ روک دیا۔ اس فوج کا واحد مقصد میسور کی مکمل بربادی تھا، کیونکہ ولیزلی جانتے تھے کہ ہندوستان پر مکمل قبضے اور کمپنی بہادر کے درمیان سلطان ٹیپو چٹان کی مانند کھڑے ہیں۔ اس فوج میں اتحادی افواج کے سب سے ماہر اور مایہ ناز سپاہیوں کو شامل کیا گیا تھا۔

اس فوج کو جب امدادی کمک ملی تو سلطان کے لئے ان کو مزید روکے رکھنا مشکل ہوگیا۔ سلطان واپس سرنگا پٹم قلعہ میں محصور ہوگئے۔ مارچ میں کمپنی اور اتحادیوں نے سرنگا پٹم پر زبردست ہلا بولا۔ سلطان نے ولیزلی کو معاہدہ کرنے کے لئے پیغام بھیجا مگر ولیزلی نے رعونت سے ایلیچی کو بھگا دیا۔ اس وقت سلطان اگر فرار ہونا چاہتے تو باآسانی فرار ہوسکتے تھے لیکن سلطان نے میدان چھوڑنا گوارا نہ کیا۔ کیونکہ یہ حقیقت واضح ہوچکی تھی کہ اب اتحادی میسور کو فتح کئے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔

مئی میں پچاس ہزار اتحادی افواج اور ان کی امدادی کمک نے سرنگا پٹم قلعہ مسمار کردیا۔ سلطان نے اپنی تیس ہزار فوج کے ساتھ پہاڑ جیسی اتحادی افواج کا مقابلہ کیا اور آخری سانس تک میدان جنگ میں جمے رہے۔

4 مئی 1799 میں میسور کا شیر دران جنگ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

جنگ کے اختتام پر سپاہیوں کی لاشوں کے ڈھیر میں سلطان ٹیپو کی زخموں سے اٹی نعش برآمد ہوئی۔ وطن کا ایک سپوت وطن کے دفاع میں جام شہادت نوش کر گیا۔

شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جنگ کے خاتمہ پر سلطان کے زیادہ تر خاندان کو کمپنی بہادر نے قتل کروا دیا جبکہ بچے کھچے خاندان کو جلاوطن کردیا گیا۔ جبکہ میسور پر ایک کٹھ پتلی خاندان کو راج دے دیا۔

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply