ہجومی تشدد- نفسیات،وجوہات اور عوامل:ہمایوں احتشام

ہجومی تشدد (موب لنچنگ)
نفسیات، وجوہات، عوامل

تحریر: ہمایوں احتشام

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

انسانی سماج بیشمار طبقات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مارکسی اسے فقط دو میں تقسیم کردیتے ہیں، جبکہ تیسرے طبقے کو عبوری قرار دے کر جھٹلا دیتے ہیں۔ لیکن بہرحال سماج بیشمار پرتوں یا تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ انھی طبقات میں ایک طبقہ لمپن کہلاتا ہے۔ لمپن کی زندگی عموماً مزدور سے غیر مزدور رہنے کے درمیان کٹتی ہے۔ ان لوگوں کے پیشے عموماً بھیک مانگنا، جرائم کرنا، دلالی کرنا، طوائف بننا، بھتہ خور بننا، بیروزگاری، نیم بیروزگاری، انتہائی کم اجرت والی نوکریاں کرنا وغیرہ ہوتے ہیں۔ عموماً کچی آبادیوں میں آباد ان لوگوں کی زندگی انتہائی عسرت زدہ ہوتی ہے۔ کچی آبادیوں کے نکڑوں پر بنی سنوکروں اور چائے کے ہوٹلوں پر یہ لوگ باکثرت ملتے ہیں، یا گلیوں میں اپنے گھر کے باہر بنے چبوتروں پر سارا دن بیٹھے ملیں گے۔ لمپن طبیعت عورتیں طوائفیں اور مرد دلال بھی بن جاتے ہیں۔ وقتی نوکریاں کرنے والے یا نیم بیروزگار لمپن کے لئے چھٹی کا دن وہ ہوتا ہے، جس دن اس کے مالک کی دوکان بند ہوتی ہے یا جس دن اس کو اس کے کسی رویے یا چوری کی بناء پر دکان سے نکال دیا جاتا ہے۔

لمپن نفسیات عام سماج کی نفسیات سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ لمپن(بیروزگار، نیم بیروزگار، چور، بھکاری، مجرم، طوائفیں اور معاشرے کی دوسری انتہائی پچھڑی ہوئی پرتیں) یہ معاشرے کا سب سے زیادہ بے لگام اور غیر تربیت یافتہ طبقہ ہوتا ہے۔ دیسی سماج میں عوامی مقامات پر کی جانے والی ہراسانی یا ہجومی تشدد میں عموماً اسی طبقے کے افراد ملوث ہوتے ہیں۔ سارا ہفتہ نیم بیروزگاری یا انتہائی کم اجرتوں پر کام کرنے والا یہ لڑکا یا نوجوان، جو استاد سے تھپڑ کھاتا ہے، سماج کے تقریباً ہر شخص سے بے عزت ہوتا ہے، والدین کی بے توجہی کا شکار ہوتا ہے، ذاتی بے وقعتی کا شکار ہوتا، شہرت سے انتہائی دور اور طاقت سے بالکل محروم ہوتا ہے، اس کے لئے زندگی بالکل بے معنی ہوتی ہے۔ لمپن خود کو معاشرے میں نمایاں کرنے کے لئے بعض اوقات اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے نظر آتے رہتے ہیں، یعنی بیچ سڑک کے بیٹھ گئے اور بھیک مانگنا شروع کردی۔ اپنی ریڑھی کو بھرے بازار کے درمیان میں روک لیا، اور آگے پیچھے کرنے یا راستہ صاف کرنے سے انکار کردیا۔ لمپن عورتیں بچوں کی لڑائی پر کپڑے پھاڑ کر تھانے چلی گئیں وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں معاشرے میں عام نظر آتی ہیں۔

پھر لمپنوں کا شدید ابھار عید اور تہواروں کے موقعہ پر اکثر و بیشتر دیکھا جاتا ہے۔ جب وہ راہ چلتی خواتین سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔ اس قسم کے حالات میں پچانوے فیصد ہراسانی کے کیسز میں لمپن ملوث ہوتے ہیں۔ پھر انھی لمپنوں کی عورتیں اور بچے پرس چوری میں ملوث ملتے ہیں۔
اس کے بعد جب سیاسی جماعتیں اپنی طاقت کا اظہار کرتی ہیں تو یہ ان کے جلسوں میں شامل ہوکر املاک کو آگ لگانے اور تشدد کرنے والوں میں آگے آگے ہوتے ہیں۔ یہی لمپن ان جلسے جلوسوں کا ہراول دستہ ہوتے ہیں۔ ایک سیاسی جماعت کے پچھلے دنوں دھرنے میں توڑ پھوڑ کی جو وڈیوز دستیاب ہیں۔ ان میں موجود لوگوں کی جسمانی حالت اور وضع قطع سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ کس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
گلو بٹ ایک سیاسی جماعت کے لمپنز کا انچارج تھا جبکہ 2008 میں ایک سیاسی شخصیت کی موت کے بعد ہونے والے فسادات میں لمپن اول اول تھے۔

ان جلوسوں میں لمپن شرکت کا واحد مقصد طاقت کے حصول کی بے پناہ حرص ہوتی ہے! یہ حرص ایک انتہائی بھوکے شخص کے سامنے رکھی روٹی حاصل کرنے کی طمع سے زیادہ شدید کہی جاسکتی ہے۔

لمپن اشرافیہ سے سیکھتے ہیں۔ جیسے مڈل کلاس کی پیروی میں وہ کچھ مذہبی معاملات کے سلسلے میں خاصے ری ایکٹیو ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح وہ اخلاقی معاملات میں اشرافیہ کی پیروی کرتے ہیں۔ ٹک ٹاک پر یہ مظہر بڑے عمومیت کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ مشہور ہونے کے لئے لمپن طبقے کے مرد اور عورت ٹک ٹاک پر ہر وہ حربہ استعمال کرتے ہیں، جس کے بارے میں معاشرے میں اچھا نقطہ نظر نہیں رکھا جاتا۔ اس سب کے پیچھے بے وقعت زندگی سے چھٹکارا اور مشہور ہونے کی شدید ترین خواہش کارفرما ہوتی ہے۔ عائشہ اکرم والے واقعہ کو اس نظر سے دیکھا جاسکتا ہے۔

کیا اس طبقے کی تربیت ممکن ہے ؟ لمپن عموماً معاشرے کا دس سے بیس فیصد حصہ ہوتا ہے۔ اس دھڑے کی تربیت کبھی بھی ممکن نہیں رہی تاہم اس کو سماجی اداروں اور مذہبی خوف کی وجہ سے کچھ حد تک ماضی میں قابو کیا جاتا تھا، مگر جیسے ہی سرمایہ داری اور زبردست انفرادیت پسندی نے سماجی اداروں کو منہدم کیا تو اس پر ہر قسم کا پریشر ختم ہوگیا۔

مذہب سے ان کی “محبت” کا عالم یہ ہوتا ہے کہ اگر موب لنچنگ کے دران وہاں سے کسی خاتون کا گزر ہو اور یہ اسے دیکھ لیں تو یہ اس کی عصمت دری کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔۔جبکہ زنا مذہبی طور پر ایک کبیرہ گناہ ہے۔ پس ان کا کسی مذہب یا کسی نظریہ سے جڑنا دراصل ان کی اس مذہب یا نظریہ سے محبت نہیں بلکہ ذاتی مفاد کا حصول، مشہور ہونے کی خواہش اور اپنی بے وقعتیت ختم کرنا ہوتا ہے۔
تفتیش مکمل ہوجائے، یہ حقیقت آپ کے سامنے کھل کر آجائے گی کہ ان لمپن پرولتاریوں نے سخت مزاج مینجر کو مزا چکھانے کے لئے یہ سارا ڈرامہ خود گھڑا تھا۔

تاہم سرمایہ داری کی آمد اور انفرادیت کے چھا جانے کے باوجود اصل خرابہ تب شروع ہوا، جب پرانے سماجی اداروں کی انہدام پذیری کے بعد نئے اداروں نے ان کی جگہ نہیں لی۔ اس صورت میں ہولی وڈ، بھارتی فلموں، مقامی میڈیا اور مولویوں کی خود ساختہ متشدد مذہبی تشریحات نے ان لوگوں کی تربیت کا بیڑہ اٹھایا، اس سے لمپن طبقے کو نئی نئی سماجی اور مذہبی جہتوں کا اندازہ ہوا۔ لمپنوں نے چوری کے نئے طریقے سیکھے، منظم جرائم کرنا، اپنے مقاصد کے حصول اور وائلنس کی یادگار مذہبی تصاویر بنائیں، جن کو دیکھ کر معاشرہ ان کے قہر سے دہل جائے اور ہراسانی کی رومانوی لگنے والی نئی شکلیں سیکھیں۔

حل ؟ شاید اس وقت تک کوئی بھی ادارہ ان کی تربیت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ سکولوں میں ان کی تربیت نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ اس طبقے کی اکثریت سکول نہیں جاتی۔ ویسے بھی سکولوں میں تربیت تو ہوتی ہی نہیں، وہاں تو بقول پاولو فیریرے بنکنگ طریقے کے زریعے طلبہ کے زہن معلومات سے بھرے جاتے ہیں۔ معلومات کبھی بھی سماجی تربیت نہیں کرسکتی۔

سماجی ادارے تباہ ہیں۔ نئے تخلیق نہیں ہوئے۔ چوپال اور پنچائیت کی ثقافت برباد ہوچکی ہے۔ کوئی نئی ایسی طاقت موجود نہیں، جو ان بے لگام عناصر کو ڈرا سکے۔

سوشلزم کا دیسی تجربہ ناکام ہوچکا ہے۔ بھارت میں سوشلسٹ جنت کیرالہ میں پچھلے چار سالوں کے درمیان موب لنچنگ کے بیشمار واقعات پیش آئے۔ تیس سال تک مارکسسٹ پارٹی کے زیر اقتدار رہنے والی ریاستوں کا میں حوالہ بالکل نہیں دوں گا، کیونکہ حالات وہاں بھی ایسے ہی ہیں۔
ویسے ماو زے تنگ کا ثقافتی انقلاب بھی ریاستی سطح پر منظم کردہ پرولتاریوں اور لمپن پرولتاریوں کے ہاتھوں موب لنچنگ تحریک ہی تھا۔ جس میں بیشمار لوگ ہجوم کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ بعد میں یہی ہجوم ریاست اور کمیونسٹ پارٹی کے لئے خطرہ ثابت ہوا، تو اسے کرش کردیا گیا۔

دیسی سیکولر ازم کا تجربہ ناکام ہوا۔ ہمیں سیکولرائزیشن آف سوسائٹی کے لئے قریب ترین مثال سے استفادہ کرنا چاہیے۔ ایسی مثال جس سے ہماری سماجی اور تاریخی مماثلت پائی جائے۔ بھارت ہماری قریب ترین مثال ہے جو ڈیموگرافکس اور جیوگرافکس بلکہ ہر طرح سے پاکستانی سماج سے خاصا مماثل ہے، ستر سال سے سیکولرازم کا حامل ملک رہا ہے۔ بھارت میں پہلے دس پندرہ سال نہروین سیکولر ازم کا شور مچتا رہا مگر پھر وقت کے ساتھ ساتھ انحطاط آتا گیا اور سیکولر ازم کی بھارت میں وہی حالت ہے جو ریاستی اسلام کی پاکستان میں ہے۔ سیکولر بھارت میں موب لنچنگ کی شرح پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ حتیٰ کہ صدیوں کے پرامن جنوب میں بھی مذہبی اور قومی ہجومی تشدد نے جنم لے لیا ہے۔
اس لئے سیکولر ازم کوئی حل کے طور پر نہیں مانا جاسکتا۔

مذہبی اداروں نے اپنی وقعت اپنے رہنماوں کے افعال اور طور طریقوں کی وجہ سے کھو دی۔ موجودہ تناظر میں سیالکوٹ واقعہ اس کی تازہ ترین مثال ہے، جس میں مذہبی رہنماوں نے مذمت کرنے کی بجائے خاموشی کی چادر تان لی ہے۔ یہ خاموشی چیزوں کی شدت کو کم نہیں کررہی، بلکہ بڑھا رہی ہے۔ کیونکہ عام لمپن کارکن سوچے گا کہ ریاست کے بدترین پریشر کی وجہ سے اس کا قائد اس کی حوصلہ افزائی نہیں کررہا۔ ریاست اسلام کے کاموں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ اس طرز عمل سے کارکن ریاست مخالف ہی ہوگا۔

مسئلے کی جڑیں دیسی سماج میں کھڑی ہیں۔ اس کی بڑھوتری بھی دیسی سماج میں ہوئی ہے تو اس کا حل بھی دیسی سطح کا ہونا ضروری ہے۔ لبرل یا اس سے ملتا جلتا مغربی حل اس مسئلے کی شدت کو بڑھائے گا اور اس کی شکل کو مزید مسخ کرے گا۔

ریاست کا سرکاری مذہب اسلام کی بجائے سیکولر ازم کرنے (جیسے لبرلز اور ان کے قبیل کے لوگ مطالبہ کرتے ہیں) سے حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑیں گے۔

اس لئے اس شدید موقف کو اختیار کرنے کی بجائے ریاستی کنٹرول کو بڑھایا جانا سب سے بہتر ہے۔ ریاست کو مذہب کو اون کرنا ہوگا۔ ریاست کو سب سے پہلے مدرسہ اور مسجد کو اون کرکے اپنی ملکیت میں لینا ہوگا۔ پھر جمعہ کے خطبہ کا موضوع حکومت کی طرف سے فراہم کیا جانا ضروری ہے۔

ریاستی رِٹ ضروری ہے۔ توہین رسالت کے حقیقی مرتکبین کو جلد از جلد سزائیں دے کر عدالتی نظام کو عوام پر اپنا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ اس وقت لوگوں کی اکثریت اس لئے بھی عدالت نہیں جاتی کہ ان کا خیال ہے کہ وہاں تو انصاف ملنا نہیں، آخر میں آسیہ مسیح کے کیس کی طرح انصاف فروخت کردیا جائے گا۔

حکومتی اراکین اور وزرا کو ایک لائن لینے کی اشد ضرورت ہے۔ کبھی کوئی ٹی ایل پی کو دہشت گرد کہہ رہا ہوتا ہے تو دوسرا ان کو جا کر پھول پیش کررہا ہوتا ہے۔ اس لئے یہ کنفیوژن عوام کے زہن سے ختم کیا جائے۔

قانون نافذ کرنے والے سول اداروں پولیس، ایکسائز، سی ٹی ڈی وغیرہ کو قانونی اور آئینی لحاظ سے طاقت ور کیا جانا ضروری ہے۔ ان اداروں کے غیر معمولی حالات میں اختیارات کو بڑھایا جانا وقت کی ضرورت ہے۔ پھر ان کی نفری پوری کی جائیں اور جدید اسلحہ فراہم کیا جائے۔ تاہم کسی بھی قسم کی ایمرجینسی سے یہ خود نبردآزما ہوسکیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

شہری شدت پسندی یا لمپن اظہارِ طاقت کا سامنا فقط سٹرانگ رِٹ آف سٹیٹ سے ہی ممکن ہے۔ کیونکہ اس کے سوا کوئی دوسرا وربل یا نان وربل طریقہ نہیں۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply