• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اسرائیل (سماریہ) اور یہوداہ (یہودیا) کی یہودی سلطنتیں۔۔ ہمایوں احتشام

اسرائیل (سماریہ) اور یہوداہ (یہودیا) کی یہودی سلطنتیں۔۔ ہمایوں احتشام

داؤد علیہ السلام کے بیٹے سلیمان علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو مضبوط، شاندار ریاست اور بہترین ریاستی نظم ونسق عطا کیا۔ ان کی متحدہ ریاست کو “اسرائیل” کا نام دیا گیا۔ جس کا دارالحکومت یروشلم تھا۔ اس مقام پر سلیمان علیہ السلام نے ہیکلِ سلیمانی تعمیر کرایا۔ جہاں خداوند یاہوی کی عبادت کی جاتی تھی، اور اس کے حضور قربانی پیش کی جاتی تھی۔
لیکن سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے بیٹے رہیوبوآم کی بادشاہت کے خلاف شمال کے دس قبائل نے بغاوت کردی۔ سلیمان علیہ السلام کے بیٹے کے خلاف بغاوت کی وجہ جبری مشقتی کیمپوں میں شمالی قبائل کے لوگوں کا زبردستی شامل کیا جانا تھا۔ بہت بڑی تعداد میں شمال کے لوگ، جو افراہیم اور میسناح کی اولادیں تھے، کو جبری کیمپوں میں بھرتی کر لیا گیا۔ جس پر وہ لوگ مرکزی حکومت کے خلاف ہوگئے اور بغاوت کردی گئی۔
تب ہی متحدہ اسرائیل دو ریاستوں میں تقسیم ہوگیا۔ شمالی ریاست اسرائیل (سماریہ) کہلائی جبکہ جنوبی یہوداہ (یہودیا) کے نام سے مشہور ہوئی۔ شمالی ریاست کا دارالحکومت سماریہ بنا اور جنوبی ریاست کا دارالحکومت یروشلم قرار پایا۔ دو سو سال تک یہ دونوں ریاستیں موجود رہیں۔
شموئیل علیہ السلام سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کے سامنے بنی اسرائیل نے خداوند کے سامنے اقرار کیا کہ خداوند ہی ان کا بادشاہ ہے۔ لیکن پھر انھوں نے شموئیل علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ ان پر ایک بادشاہ تعینات کیا جائے جو ان کو نافرمانی کی سزا دے اور ان کی نمائندگی کرے۔ خداوند اور شموئیل علیہ السلام نے ان کو خبردار کیا کہ یہ ان کے لئے برا ثابت ہوگا، لیکن وہ ڈٹ گئے اور انسانی بادشاہ کی مانگ پر ہٹ دھرمی سے قائم رہے۔
پھر خداوند کے حکم سے شموئیل علیہ السلام نے ان پر ایک چرواہے طالوت علیہ السلام (ساول) کو تعینات کیا۔ ساول کے بعد داؤد علیہ السلام بنی اسرائیل کے بادشاہ بنے اور پھر ان کے بیٹے سلیمان علیہ السلام بادشاہ بنے۔ سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد کمزور اور کرپٹ بادشاہوں کی وجہ سے ریاست تقسیم ہوئی اور پھر کچھ ہی عرصہ بعد بے خدا موآب نے شمالی ریاست اسرائیل کے خلاف بغاوت کردی اور آمون کے لاخدا لوگوں نے جنوبی ریاست یہودیا کے خلاف جنگ چھیڑ دی اور ان بغاوتوں کی وجہ سے اسرائیل اور یہودیا دو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تبدیل ہوگئے۔
722 ق م میں آشوریوں نے شمالی ریاست اسرائیل کو فتح کرلیا اور وہاں آباد دس قبائل کو اپنے ساتھ لے گئے۔ جن کو پورے مشرق وسطیٰ میں الگ الگ مقامات پر چھوٹے چھوٹے پیکٹس کی شکل میں آباد کیا۔ یہی دس قبائل “اسرائیل کے گمشدہ بیٹے” کہلاتے ہیں۔ اس کے بعد یہودیا پہلے مصریوں اور پھر آشوریوں کی باجگزار ریاست بنی اور پھر اس کو بخت نصر دوم نے فتح کرکے تاراج کردیا، لیکن جنوب کی ہنرمند آبادی کو ابخت نصر دوم نے بابل اور اس کے مضافات میں ہی آباد کیا۔
دوسری جانب سماریہ (اسرائیل) کی فتح کے وقت بہت سارے بنی اسرائیلیوں نے آشوریوں کے خداوں کو تسلیم کرتے ہوئے یاہوی اور بابلی خداوں کی عبادت بھی کرنا شروع کردی اور آشوریوں اور پھر بابلیوں کے ساتھ شادیاں کرنا شروع کردیں۔ اب وہ آشوریوں اور بابلیوں کے خداوں اور یاہوی دونوں کی بیک وقت عبادت کرتے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہاں آباد ہونے والے آشوریوں نے بھی یاہوی اور بال دونوں کی عبادت شروع کردی۔ اسی عمل کے دران سماریہ والوں نے یروشلم سے باہر سماریہ میں ایک معبد تعمیر کیا جہاں وہ خداوند کو بھینٹ پیش کرتے تھے۔
یہودیا کے بنی اسرائیلیوں نے اس بات پر سیخ پا ہوکر اس کو غیر موسوی قرار دیا کیونکہ خداوند یاہوی کو قربانی صرف بیت المقدس کے اندر ہی پیش کی جاسکتی ہے۔
625 ق م میں بابلیوں، آشوریوں اور مصریوں کے درمیان ایک چھوٹی سی ریاست یہودیا پھنس گئی۔ جس پر پہلے مصریوں نے حملہ کیا اور مصری بادشاہ نیچو نے یہودیا کے بادشاہ کو ہٹا کر اس کی جگہ اپنا من پسند اسرائیلی بادشاہ تعینات کیا۔ جس کے بعد بخت نصر نے یہودیا پر حملہ کردیا اور وہاں مصری تعینات شدہ بادشاہ کو ہٹا کر اپنا من پسند اسرائیلی بادشاہ زیڈیکیہ کو تعینات کیا۔ مگر زیڈیکیہ کی کچھ پالیسیوں کی وجہ سے بخت نصر دوم پھر ناراض ہوگیا اور وہ پھر آیا اور یروشلم کے ہیکل سلیمانی کو برباد کردیا اور زیڈیکیہ کے بیٹوں کو اس کے سامنے قتل کردیا اور اس کو اندھا کردیا۔
یوں خداوند یاہوی نے اس کی جانب سے منہ موڑنے والے اسرائیلیوں سے داؤد علیہ السلام کی عظیم سلطنت چھین لی۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply