میری ہر غلطی پر پردہ ڈالنے والا ایک شخص مجھے یوں اکیلا اور تنہا بھی چھوڑ کر جاسکتا ہے۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ جب جب غلطی کی تو کہتا “کھوتے اب تو بڑا ہوگیا ہے۔ بالوں میں سفیدی آگئی← مزید پڑھیے
دنیا بھر میں بنک اپنے کسٹمرز کو کیا کیا سہولیات اور سروسز دیتا ہے، مگر ہمارے ہاں سہولیات اور سروسز کو تو چھوڑو، کسی بنک کا کیشئر بھی سیدھے منہ بات نہیں کرتا۔ جب آپ بنک کی برانچ میں جاتے← مزید پڑھیے
پکاسو کہتے ہیں “ہر بچہ فنکار ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک بار جب ہم بڑے ہوجاتے ہیں تو اپنے اندر اس معصوم فنکار کو کیسے زندہ رکھا جائے”۔ ڈاکٹر چہ کیمہ دو سکنہ میری غنڈی خانخیل کہتے ہیں← مزید پڑھیے
فقیر ایپی نے جب انگریزوں کے خلاف ہتھیار اٹھا کر مزاحمت کا آغاز کردیا تو اس وقت “سور یا سرخ کافر” کی اصطلاح مقبول ہوئی۔ سرخ کافر وزیرستان کے لوگ انگریز کو کہا کرتے تھے۔ نفرت کی انتہاء اتنی تھی← مزید پڑھیے
میرعلی سے نکل کر ہرمز ہائیر سکینڈری سکول کو ڈھونڈنے لگا، جہاں پر گزرے بچپن کی حسین یادیں آج بھی مجھے بے چین کیے رکھتی ہیں۔ میرعالم اسٹیشنری دوکان کو کافی ڈھونڈا، مگر 1996 میں جو میں چھوڑ کر← مزید پڑھیے
شمالی وزیرستان میں جہاں امن کے دعوے کئے جارہے ہیں وہاں گاہے بگاہے آج بھی فوجی قافلوں پر حملے، سڑک کنارے دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کی خبریں نکل آتی ہیں۔ آخری اطلاعات تک رزمک میں ایک فوجی قافلے پر ریموٹ← مزید پڑھیے
مغل بادشاہ اورنگزیب نے خوشحال خان خٹک کو گرفتار کرنے سرخ پوش سپاہیوں کا دستہ دہلی سے اکوڑی بھیجا۔ یاد رہے کہ مغل دربار کے یہ سپاہی موت کے ہرکارے تصور کئے جاتے تھے۔ یہ دستہ جن کو گرفتار کرتا تو سمجھو وہ بندہ موت کا حقدار بن جاتا۔← مزید پڑھیے
پھر 1996 میں افغانستان میں طالبان کا بول بالا ہوا۔ اسلام قبائلی علاقوں سے نکل کر ہمارے جیسے سیکولر معاشرے میں بھی پُہنچ گیا۔ ہر گلی ہر محلہ مردانہ اور زنانہ مدرسوں سے بھر گیا۔ وہ لونڈے جو ہمارے ساتھ جون جولائی کی تپتی دوپہروں میں کھوتیاں بھگاتے تھے، اب وہ عالم بن گئے۔ بھتیجی سفید شٹل کاک پہن کر سگے چچا سے پردہ کرنے لگی۔ شادیوں میں اتنڑ کے بجائے نعتیں سُنائی جانے لگیں۔ سوچتا ہوں، شکر ہے بڑے چچا اب زندہ نہیں ورنہ کب کے سنگسار ہوجاتے۔← مزید پڑھیے
بکرے کی ثابت کھال کو آگ کی تپش پر گرم کر کے،سارے بال جلانے کے بعد نمک لگاکر مہینوں دُھوپ میں خشک کرنے کے بعد لسی کی روایتی مدھانی تیار کی جاتی تھی۔ جس کو خٹکزینہ زبان میں “غڑکہ” کہتے← مزید پڑھیے
مریض کو پہلے ہارٹ اٹیک کے بعد گاؤں کے مقامی ڈسپینسر جو کہ ڈاکٹر صاحب کہلایا جاتا ہے کو دکھایا اور ایک سٹیرائیڈ کا انجکشن لگاکر گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ اگلے دن جب مریض انتقال فرما لیتا ہے جو لواحقین تعزیت میں ہر ایک کو بڑے فخر اور عقیدت سے بتاتےرہتے ہیں "اللہ کا کرم ہے مرحوم کو بڑی عزت والی موت نصیب ہوئی ہے۔ بستر پر نہیں پڑا رہا۔← مزید پڑھیے
میں نے سب سے زیادہ محسن داوڑ کے خلاف لکھا، کرک میں تحریک انصاف کی مقامی قیادت کیخلاف لکھا، ایسے ایسے مسائل میں ذاتی طور پر الجھ بیٹھا جہاں جان بھی جاسکتی تھی۔ آپریشین ضرب عضب میں فوج کے خلاف← مزید پڑھیے
اگر آپ آنجناب کم از کم نیچے دیئے گئے سوال نمبر پانچ پر غور فرمائیں اور اپنی قوم کو ہوسکے تو جواب دیکر ان کو مشکور فرمائیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ حالیہ دنوں میں محکمہ صحت میرانشاہ میں پاکستان← مزید پڑھیے
وزیرستان میں غیرت کے نام پر قتل کی جانیوالی بچیوں کی وجہ سے ہم سب غمگین ہیں۔۔ مگر جس طرح سے پشتون تحفظ موومنٹ کی گلالئی اسماعیل امریکہ میں بیٹھ کر چیخیں مار رہی ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔← مزید پڑھیے
دوران لاک ڈاؤن دو بار پنجاب اور ایک بار خیبرپختونخوا جانا ہوا۔ ٹریفک نہ ہونے کی وجہ سے کراچی سے سکھر ساڑھے چار گھنٹے لگے اور سکھر سے فیصل آباد براستہ موٹروے پانچ گھنٹے لگے۔ یاد رہے کہ سکھر تا← مزید پڑھیے
گزشتہ اقساط میں محسن داوڑ سے دو سوالات پوچھے تھے۔ مگر بدقسمتی سے عارف وزیر کی شہادت کا افسوسناک واقعہ رونما ہوا جس کی وجہ سے میں اپنے مضامین کا تسلسل برقرار نہیں رکھ سکا۔ سوال نمبر ایک میں محسن← مزید پڑھیے
کہا جاتا ہے،کہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے نماز، حج اور روزہ پر صرف ہم پشتونوں کا حق ہے۔ بقیہ دو ارکان یعنی کہ ایمان اور زکوٰۃ دوسرے مسلمانوں کےلئے ہیں۔ بچپن سے ہمیں چچا اور ابا مار مار← مزید پڑھیے
ہمارے کرک میں پینے کا پانی نہیں ملتا، وہاں گلاب کے پھول کے پودے پر کون پانی ضائع کرے؟ اس کا حل ہم لوگوں نے یہ نکالا ہے کہ ہماری محبوبائیں ہمارے دستی رومالوں پر گلاب کا لال پھول بناکر ہمیں اپنی محبت کا یقین دلاتی ہیں۔ ہمارے حجروں میں آپ کو پھولوں کی کیاریاں نہیں ملیں گی البتہ حجرے کے دیواروں پر گلاب کی پھولوں کی تصویریں بہت ملتی ہیں۔ حجرے کے چھت پر جابجا کاغذی پھول جھولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ← مزید پڑھیے
پشتون تحفظ موومنٹ کے سرگرم کارکن رضوان اللہ محسود کے والد کو اسلام آباد امیگریشن کاؤنٹر پر قطر سے آتے ہوئے دو ماہ کیلئے لاپتہ کردیا گیا۔ یاد رہے کہ ان لاپتہ کارکنان کی رہائی کیلئے حیات پریغال اور دوسرے← مزید پڑھیے
خڑ کمر، پارلیمانی نشے کا نتیجہ یا ایک سازش میرے پہلے کالم کی پہلی قسط محسن داوڑ کے کارناموں اور تحریک کو نقصان پہنچانے پر مشتمل تھی مگر سنید داوڑ نامی لڑکے نے میرا پہلا کالم پڑھنے کے بعد سانحہ← مزید پڑھیے
لوگ مجھے کہتے ہیں کہ کراچی میں بیٹھ کر مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں وزیرستان کے مسائل پر قلم اٹھاتا ہوں۔ اب ان کو کیا بتاؤں کہ میرا بچپن میرعلی شمالی وزیرستان میں گزرا ہے۔ میرعلی میں،میں نے پہلا← مزید پڑھیے