• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کیا وزیرستان میں دوبارہ فوجی آپریشن ہونے جارہا ہے؟(قسط 3)۔۔عارف خٹک

کیا وزیرستان میں دوبارہ فوجی آپریشن ہونے جارہا ہے؟(قسط 3)۔۔عارف خٹک

فقیر ایپی نے جب انگریزوں کے خلاف ہتھیار اٹھا کر مزاحمت کا آغاز کردیا تو اس وقت “سور یا سرخ کافر” کی اصطلاح مقبول ہوئی۔ سرخ کافر وزیرستان کے لوگ انگریز کو کہا کرتے تھے۔ نفرت کی انتہاء اتنی تھی کہ انگریز کیساتھ کام کرنیوالے مقامی پشتونوں کو قابل موت سزا کا حقدار سمجھا گیا۔ فقیر ایپی کے بعد انگریز کی بنائی گئی چھاؤنیاں پاکستانی فورسز کے حوالے کردی گئیں۔ مگر فقیر ایپی کی پاکستان دشمنی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی تھی۔ یاد رہے فقیر ایپی گریٹر پختونستان کے حامی تھے۔ وزیرستان کے لوگ فقیر ایپی کو روحانی شخصیت مانتے تھے لہذا پاکستان کے قیام کے بعد وہ بھی تذبذب کا شکار ہوگئے۔ 1947 کے بعد بھی کافی گروہ اٹھے جنہوں نے وانا، رزمک، میران شاہ اور میرعلی میں قائم فرنٹئیر کور کے دستوں پر حملے جاری رکھے۔

بیسویں صدی کے آخری  عشروں میں جنوبی وزیرستان میں ایک مقامی جرائم پیشہ رضاگو خان کا مسلح گروپ کافی مشہور ہوگیا تھا۔ رضاگو خان کے گروپ کا نام TTF تھا جو فرنٹیئر کور پر حملوں میں پیش پیش تھا۔ میں اس زمانے میں شمالی وزیرستان میں پڑھتا تھا۔ لدھا کے قریب مجھے بھی اغواء  کرنے کی کوشش کی گئی مگر فرنٹیئر کور کی بروقت کاروائی میں میری جان بچ گئی تھی۔ رضاگو خان کو مقامی طور  پر کافی قبائل کی حمایت حاصل تھی۔

محسود نوجوان رضا گو خان کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے۔ اور یہی سلسلہ TTF سے لیکر TTP اور آج کل PTM تک پھیلا ہوا ہے۔

وزیرستان کے لوگ بلا کے قوم پرست واقع ہوئے ہیں۔ قبائلی احساس برتری کا اتنا شکار ہیں کہ غیر قبائلی پشتون کو وہ بمشکل پشتون ماننے پر تیار ہوتے ہیں۔ کٹر پشتون روایات اور شدید مذہب پسند نظریات کے حامل وزیرستانیوں کے ان دونوں جذبات کو  افغان جہاد میں بھرپور کیش کیا گیا۔ وزیرستان کے لوگوں نے افغان جہاد میں بھرپور حصہ ڈالا۔ روسی اسلحہ کی بھرمار، بعد میں ہیروئن اور اسمگلنگ،جب پیسوں کی ریل پیل بڑھی تو وزیرستان میں ایک سوچ تقویت پکڑتی چلی گئی کہ مزید طاقت کیسے حاصل کی جائے۔ یاد رہے  وزیرستان میں  آباد قبائل میں سے سب سے زیادہ مراعات وزیر اور محسود قبائل نے حاصل کیں ۔ تیسرا بڑا قبیلہ داوڑ جو مزاجاً  صلح جو اور نظریات میں ان دونوں اقوام سے مختلف ہے ، وہ کاروبار، سرکاری نوکریوں اور تعلیم و تدریس سے منسلک ہوگئے بلکہ غیر اعلانیہ طور پر   الگ تھلگ ہوگئے۔

افغان جہاد کے دوران عرب ممالک سے آئے ہوئے مجاہدین جہاد کے بعد اپنے اپنے ممالک واپس جانے لگے تو ان کے ممالک نے ان کو واپس لینے  سے انکار کرڈالا۔ مجبوراً وہ افغان علاقوں سے متصل پاکستانی علاقوں میں رچ بس گئے اور مقامی عورتوں سے شادیاں کرلیں۔ جہاں ان کی اگلی نسل پروان چڑھنے لگی ۔ 9/11 کے کنفیوزڈ بیانئے کے بعد پاکستان پر قابض فوجی آمر پرویز مشرف نے امریکہ کی  خواہش پر اس جنگ میں بنا سوچے سمجھے کودنے کی جو غلطی کی وہ تاریخ کا ایسا بدترین جرم ہے جس کا خمیازہ پاکستان عشروں تک بھگتے گا۔
9/11 کے بعد امریکہ کی  جنگی ہوائی پٹیاں، زمینی سہولیات اور اخلاقی سپورٹ نے جہاں دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالا وہاں پاکستانی فوج نے امریکہ کو خوش کرنے کیلئے پاکستان میں تعینات طالبان سفیر مُلا عبدالسلام ضعیف کو جس بیدردی اور سفارتی آداب کے بغیر ہاتھ پؤں باندھ کر امریکہ کے حوالے کیا وہ سفارتی دنیا کی تاریخ میں پاکستان کا سیا ہ ترین جرم گردانا جاتا ہے۔ مشرف حکومت نے ساری حدیں پھلانگتے ہوئے وزیرستان میں  آباد سابقہ افغان جہادیوں جن کو سی آئی اے اور آئی ایس آئی کی  پشت پنا ہی  حاصل تھی ، اچانک ان کی گرفتاریاں اور گوانتاناموبے منتقلی نے پاکستان میں موجود مذہب پسند قوتوں کو پاکستان سے مزید متنفر کرنا شروع کردیا۔

دستیاب معلومات کے مطابق حکومت پاکستان ہر گرفتار جہادی یا مشکوک شخص پر فی کس پچیس ہزار ڈالر کا معاوضہ امریکہ سے وصول کرتا تھا۔ لہذا اپنے لوگوں کو امریکہ کے حوالہ کرنا سال 2002 سے سال 2005 تک ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کرتا گیا۔ مشرف حکومت کی یہ کاروائیاں ملک میں پھیلے انتشار کو مزید مہمیز دے رہے تھے۔ اوپر سے مذہب پسند طبقے کو جان بوجھ کر اس گڑھے میں دھکیلا جارہا تھا جہاں سے واپسی بالکل ناممکن تھی۔

کابل کے یہ شعلے  آہستہ  آہستہ قبائل سے نکل کر کراچی، پشاور اور لاہور کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔ سابقہ جہادی جنہیں سی آئی اے اور آئی ایس آئی کیساتھ کام کا تیس سالہ تجربہ تھا، ان کو نیچا دکھانا امریکہ اور پاکستان کیلئے اب اتنا آسان بھی نہیں رہا تھا۔ جنرل حمید گل نے افغان جہاد کو ایک مقدس جنگ کا نام دیا تھا اور مذہب پسند طبقے کو ایک مخصوص نظریہ دیکر انھوں نے جہادی سوچ کی ایسی شاندار توجیہہ پیش کی تھی جو ان کے عقیدے کا لازمی جزو  بن گئی تھی۔ آئی ایس آئی کی  چھتری تلے پروان چڑھی سوچ نے جہاں سویلینز اور عام بندے کو اپنا گرویدہ بنا دیا تھا وہاں  آئی ایس آئی کا پورا ڈھانچہ اس نظریے کے تابع تھا۔ حکومت پاکستان ان نظریات کا استعمال بخوبی جانتی تھی کیونکہ کشمیر میں جاری مزاحمتی تحریکیں اس نظریے کے مرہون منت تھیں۔

آئی ایس آئی نے افغان جہاد کے بعد افغانستان کو جان بوجھ کر آگ کے شعلوں میں چھوڑ جانے  پر امریکی فیصلوں پر شدید ردِ  عمل دیا ،اور خود افغانستان میں بلا شرکت غیرے ملوث ہوگئی تاکہ کابل کے شعلے پاکستان کو مزید اپنی لپیٹ میں نہ لیں۔ لہذا فطری طور پر آئی ایس آئی  امریکہ سے متنفر ہوتی گئی۔ بلکہ آئی ایس آئی اب حکومت پاکستان کو بھی خاطر  میں نہیں لا رہی تھی۔ لہذا امریکہ کے  افغانستان پر براہ راست حملے میں جب مشرف نے آئی ایس آئی کی خدمات امریکہ کو پیش کرنے کی کھلی پیشکس کردی تو امریکہ نے دو ٹوک لہجے میں آئی ایس آئی کو ایک طرف خاموشی سے بٹھانے کی بات کی کہ آئی ایس آئی افغانستان میں امریکی مفادات اور ٹارگٹس  سے حتی الامکان دور رہے گی۔
جاری ہے

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *