ارسطو کی سائنس (21)۔۔وہاراامباکر

ارسطو کی پیدائش 384 قبلِ مسیح میں ہوئی۔ وہ پڑھنے کے لئے افلاطون کی اکیڈمی میں سترہ سال کی عمر میں گئے۔ اکیڈمی ایک پبلک باغ کا نام تھا جہاں درختوں کے سائے میں افلاطون اور ان کے سٹوڈنٹ اور دیگر سکالر پڑھنے کے لئے اکٹھے ہوتے تھے۔ (بعد میں یہ لفظ تعلیمی درسگاہ کے لئے استعمال ہونے لگا)۔ ارسطو نے یہاں تئیس برس گزارے۔

افلاطون کی وفات کے بعد ارسطو نے اکیڈمی چھوڑ دی اور چند سال بعد وہ اسکندر کے استاد بن گئے۔ ولی عہد کا استاد بننا اچھا معاوضہ دیتا تھا۔ جب سکندر نے تخت سنبھالا تو ارسطو پچاس سال کے قریب کے تھے اور ایتھنز آ گئے۔ جہاں پر اگلے تیرہ برس میں انہوں نے وہ کام کیا جس کے لئے وہ جانے جاتے ہیں۔ اسکندر کو انہوں نے اس کے بعد نہیں دیکھا۔

ارسطو جس قسم کی سائنس کر رہے تھے، وہ اس سے مختلف تھی جو انہوں نے افلاطون سے سیکھی تھی۔ ارسطو اکیڈمی کے ہونہار شاگرد تھے لیکن انہیں افلاطون کا ریاضی پر زور دئے جانا پسند نہیں تھا۔ ان کا اپنا رجحان تجریدی قوانین پر زور دینے پر نہیں بلکہ فطرت کے باریکی سے مشاہدے پر تھا۔ یہ طریقہ افلاطون والا بھی نہیں تھا اور آج کی سائنس کا بھی نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فزکس کو اگر ایک فقرے میں بیان کرنا ہو تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ “تبدیلی کی سٹڈی ہے”۔ مثال کے طور پر، جب جسے ہم حرکت کہتے ہیں، یہ پوزیشن کی تبدیلی ہے۔ارسطو کی دنیا کی تھیوری میں، تبدیلی دو طرح کی تھی۔ فطری تبدیلی، جس کا سورس کسی شے کے اندر سے ہو اور غیرفطری تبدیلی، جس کے لئے کچھ قوت لگانے پڑے۔ ارسطو نے خیال پیش کیا تھا کہ ہر شے چار بنیادی عناصر سے بنی ہے۔ مٹی، ہوا، آگ اور پانی۔ ہر ایک میں اپنے اصل کی طرف حرکت کا قدرتی میلان ہے۔ پتھر زمین کی طرف گرتا ہے کیونکہ یہ اس کی قدرتی جگہ ہے۔ بارش کا پانی برس کر سمندر کا رخ کرتا ہے کیونکہ یہ اس کا قدرتی مقام ہے۔ پتھر کو ہوا میں بلند کرنے کے لئے بیرونی مداخلت کی ضرورت ہے لیکن نیچے یہ اپنے قدرتی میلان کی وجہ سے حرکت کرتا ہے۔

جدید فزکس میں ہم جانتے ہیں کہ ایک شے جو رکی ہو، رکی رہتی ہے یا حرکت میں ہو تو اسی سمت میں یونیفارم رفتار سے حرکت کرتی رہتی ہے۔ ایسا ہی کیوں؟ فزکس میں اس کی کوئی کاز نہیں۔ “یہ بس ایسے ہی ہے”۔ ویسے ہی ارسطو کی فزکس میں اس فطری حرکت کی کوئی کاز نہیں تھی۔ کہ آخر کیوں پانی اور پتھر نیچے آتے ہیں اور کیوں ہوا اور آگے اوپر اٹھتے ہیں۔ یہ تجزیہ مشاہدے پر مبنی تھا جس میں پانی سے بلبلے اوپر کی طرف جاتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آگ سے شعلے بلند ہوتے ہیں، بھاری اشیا نیچے گرتی ہیں، سمندر زمین پر ہوتے ہیں اور ہوا اوپر۔

ارسطو کے لئے حرکت کئی نیچرل پراسس میں سے ایک تھا۔ نشوونما پانا، مرجھا جانا، خمیر ہو جانا، یہ سب اسی اصول کے تحت تھے۔ قدرتی تبدیلی ۔۔۔ لکڑی کا جلنا، انسان کا بوڑھا ہونا، پرندے کا اڑنا، سیب کا گرنا ۔۔۔ اس شے کے پوٹینشل کو پورا کر رہی ہے۔ ارسطو کے سسٹم میں، یہ فطری تبدیلی ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ تھی۔ اور جب تک یہ ہوتی رہے، یہ نارمل ہے۔ “یہ بس ایسے ہی ہے”۔

لیکن جب اس نیچرل تبدیلی کو بیرونی شے روکے تو یہ فطرت کی خلاف ورزی اور violent تبدیلی ہے۔ اس کی مثال پتھر کو ہوا میں پھینکنا ہے۔ انگور کی بیل کو جڑ سے اکھاڑنا ہے، مرغی ذبح کرنا ہے۔ بے روزگار ہو جانا ہے۔

ارسطو کے مطابق، یہ وہ والی تبدیلی ہے جس کی کاز کو سمجھنا ہے۔ ارسطو نے اس کے لئے جو اصطلاح استعمال کی، اس کو “فورس” کا نام دیا۔

ارسطو کا یہ تصور ہمارے عام مشاہدے کے مطابق تھا۔ مثال کے طور پر ہم کسی بھاری شے کو خود سے نیچے گرتے دیکھتے ہیں جبکہ اسے ایک طرف ہٹانے یا اٹھانے کے لئے زور یا فورس کی ضرورت ہے۔

ارسطو کا تبدیلی کا تجزیہ بڑا قابلِ ذکر تصور ہے۔ انہوں نے بھی وہی دیکھا جو ان کے عہد کے نامور مفکر دیکھتے تھے لیکن دوسروں کے برعکس انہوں نے آستینیں چڑھائیں اور تبدیلی کے بارے میں مشاہدات کو اتنی باریک بینی سے دیکھا جو پہلے نہیں کیا گیا تھا۔ لوگوں کی زندگی کا اور نیچر کا مشاہدہ کیا۔ یہ ڈھونڈنے کی کوشش کی کہ مختلف اقسام کی تبدیلیوں میں مشترک کیا ہے۔ حادثات کی کاز کی سٹڈی کی۔ سیاست کے ڈائنامکس دیکھے۔ بھاری بوجھ اٹھائے بیل کی حرکت، انڈے سے چوزہ نکلنے کا بڑھنا، آتش فشاں کا پھٹنا، دریائے نیل کے ڈیلٹا کی تبدیلیاں۔ دھوپ کی نیچر، حرارت بڑھنا، سیاروں کی حرکات، پانی کی تبخیر، جانوروں کا ہاضمہ، اشیاء کا پگھلنا اور جلنا۔ انہوں نے ہر قسم کے جانوروں پر چیرپھاڑ کی۔ ان کے مر جانے کے بہت بعد کھول کر تجزیہ کیا۔ اور اگر کسی اور نے بدبو کی شکایت کی تو اس کو نظرانداز کیا۔

ارسطو نے خود کو طالیس کا جانشین کہا اور اس سب کو فزکس کا نام دیا۔ ان کی فزکس کا دائرہ کار وسیع تھا۔ اس میں جاندار بھی تھے اور بے جان بھی۔ زمین بھی اور آسمان بھی۔ آج ہم ان سب کو سائنس کے الگ الگ شعبوں میں پڑھتے ہیں۔ فزکس، آسٹرونومی، کلائیمیٹولوجی، بائیولوجی، ایمبریولوجی، سوشیالوجی وغیرہ۔ اور انہوں نے لکھا اور بہت لکھا۔ انہیں ایک شخص کا وکی پیڈیا کہا جا سکتا ہے۔ ان کے 170 سکالرلی کام ہیں۔ میٹریولوجی، میٹافزکس، ایتھکس، سیاست، علم البیان، فلکیات، جنریشن اور کرپشن، روح، یادداشت، نیند اور بے خوابگی، خواب، پیشگوئی، طویل عمری، جوانی اور بڑھاپا، جانوروں کی تاریخ اور اعضاء وغیرہ وغیرہ۔

اور جب ان کے سابق شاگرد ایشیا فتح کر رہے تھے، ارسطو نے ایک سکول قائم کیا تھا جس کا نام لائسیم تھا۔ یہاں پر چلتے پھرتے وہ طلبا کو سکھایا کرتے تھے جو انہوں نے سیکھا تھا۔ وہ بلاشبہ تاریخ کے بڑے دماغوں میں سے ایک تھے، ایک بہت بڑے مفکر اور عظیم استاد تھے اور فطرت کے شاندار شاہد۔ ان کے خیالات دو ہزار سال تک انسانی فکر پر غالب رہے۔

لیکن ارسطو کی نالج حاصل کرنے کی ان کی اپروچ آج کے سائنس سے بہت مختلف تھی۔ ان کی اپروچ کامن سینس پر مبنی تھی۔ ہمیں اسے نظرانداز تو نہیں کرنا چاہیے لیکن جس چیز کی ہمیں ساتھ ضرورت ہے وہ uncommon sense بھی ہے۔

اور یہ ارسطو کی سائنس کی کمزوری تھی۔

(جاری ہے)

ساتھ لگی تصویر اس درسگاہ کے کھنڈرات کی ہے جو ارسطو کا سکول تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *