گلاب کا پھول اور ہم پشتون ۔۔۔ عارف خٹک

ہم پشتون فطری طور پر فطرت پسند واقع ہوئے ہیں۔ ہم لوگوں کو سبزہ، ہریالی اور گلاب کا پھول جہاں نظر آجائیں وہاں چادر بچھاکر بیٹھ جاتے ہیں۔ نسوار منہ میں رکھ کر اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور پیچھے سنگلاخ پہاڑوں میں چھوڑی ہوئی اپنیشیربانویاجمعہگلکو یاد کرکے لاہور اور کراچی میں پبلک پارک میںیا قربانکا ٹپہ الاپ دیتے ہیں۔

گلاب کے پھول سے اپنی محبت کا اظہار ہم اکثر یوں بھی کرتے ہیں کہ اپنے ہاں ہر جگہ ہر طرف اپ کو گلاب گل، گلاب خان،ریزہ گل، گلاب شاہ، گل بوبرے، گل پانڑہ چہرے بدل بدل کر ملیں گے۔ ورنہ چالیس فی پشتونوں میں آپ کو ہر نام کے بعد ایک گلضرور ملے گا۔ ہماری پشتو شاعری میں محبوب سے زیادہ گلاب کے پھول کا ذکر ملتا ہے۔ میں نے اپنے دوست عین غین خٹک سےپوچھا کہ پھول تو اور بھی ہیں مگر گلاب کے پھول کا اتنا وافر ذکر چہ معنی دارد؟ جواب دیا کہپھولوں میں فی الحال اس سے موٹاپھول ہماری نظروں سے نہیں گزرا۔

ہمارے کرک میں پینے کا پانی نہیں ملتا، وہاں گلاب کے پھول کے پودے پر کون پانی ضائع کرے؟ اس کا حل ہم لوگوں نے یہنکالا ہے کہ ہماری محبوبائیں ہمارے دستی رومالوں پر گلاب کا لال پھول بناکر ہمیں اپنی محبت کا یقین دلاتی ہیں۔ ہمارے حجروںمیں آپ کو پھولوں کی کیاریاں نہیں ملیں گی البتہ حجرے کے دیواروں پر گلاب کی پھولوں کی تصویریں بہت ملتی ہیں۔ حجرے کےچھت پر جابجا کاغذی پھول جھولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

وزیرستان میں شام کے وقت ہر جوان اپنے دونوں کانوں میں گلاب کے پھول ٹانگے نظر آئیں گے۔ اگر جوان تازہ تازہ محبوب کےوصل کے نشے سے سرشار ہو تو دونوں کانوں کے ساتھ ساتھ اپنی چترالی ٹوپی میں بھی دائیں بائیں گلاب کے پھول سجائے ملیںگے۔ اگر ہمارا یہ قبائلی نوجوان عاشق مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ پشتون تحفظ موومنٹ کا مبارز بھی ہو تو کلاشنکوف کی نالی میںبھی گلاب کے پھول گھسائے کینہ توز نظروں سے گلاب شاہ کو گھورتے نظر آئے گا کہ گلاب شاہ نے ان کے لختئی گلاب گل پر برینظر ڈالی تھی۔

یہی حال افغانستان کے پشتونوں کا بھی ہے۔ گلاب کے پھول کے دیوانے وہ بھی ہیں۔ اپنی گاڑیوں میں پلاسٹک کے پھولسجائے، دل میں ہزاروں غم چھپائے وہ جب فرط جذبات میں آکر پلاسٹک کے پھولوں کو سونگھتا شروع کردیں تو سمجھ جائیں کہجناب ننگرہار کے شینواری ہیں۔

اپ کو ایک پشتون نوجوان کیمرہ گلے میں لٹکائے، پلاسٹک کے رنگ برنگے پھولوں کے ساتھ پیدل چلتے لاہور، فیصل اباد اور کراچیکے سڑکوں پر ملے جو پچاس روپے میں پھولوں کے ساتھ بٹھا کر آپ کی تصویر کھینچنے کی ضد کریں تو سمجھ جائیں کہ کوئٹہ کا گل آغا اپناگرد آلود کوئٹہ اٹھائے ہوئے آپ کے شہر میں مزدوری کے ساتھ ساتھ اپنیگل بی بیکی یادیں اٹھائے دس لاکھ اپنی شادی کے لیےجمع کررہا ہے، جو اس نے اپنے سسر کو دینے ہیں۔

گلاب کا پھول ہمیں اتنا پسند ہے کہ یہ ہمیں دشمن کی کان میں اٹکا نظر آجائے تو دشمن کا (کان) کاٹنے میں ہم سیکنڈ بھی نہ لگائیں۔اس سے زیادہ گلاب کے پھول سے اپنی محبت کا کیا اظہار کروں کہ ہمارے بڑے بوڑھے مرتے وقت فریادی لہجے میں ہمارےکانوں میں آخری خواہش کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں کہبیٹا قبر پر گلاب کے پودے اگا دینا۔

اب ہم ان مرتے ہوئے لوگوں کو کیسے سمجھائیں کہ سنگلاخ پہاڑوں کے قبروں پر پھول نہیں، خودرو کانٹے دار جھاڑیاں اگتیہیں۔۔۔ جو ہمارے مزاج سے میل کھاتی ہیں۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *