گاؤں،دادی اور صبر۔۔عارف خٹک

بکرے کی ثابت کھال کو آگ کی تپش پر گرم کر کے،سارے بال جلانے کے بعد نمک لگاکر مہینوں دُھوپ میں خشک کرنے کے بعد لسی کی روایتی مدھانی تیار کی جاتی تھی۔ جس کو خٹکزینہ زبان میں “غڑکہ” کہتے تھے۔ بڑی بوڑھیاں تکون شکل میں لکڑیاں لگا کر اس مشکیزے کے اندر دہی ڈالنے کے بعد گھنٹوں ہاتھ سے بلوتی تھیں۔اور لسی تیار ہونے کے بعد مٹی کے ایک بڑے مٹکے میں پانی ساتھ ملا کر پھر سارے گاؤں کو دعوت دی جاتی،کہ آکر اپنے برتن یا لوٹوں میں اپنے حصے کی لسی لینا مت بُھولنا۔

شدید گرمیوں میں گاؤں کے لوگ سالن بنانے سے پرہیز کیا کرتے تھے،کہ مصالحے گرم تاثیر لئے ہوتے ہیں۔ لہٰذا پیاز اور روٹی کے ساتھ نمکین لسی سے لنچ کیا جاتا تھا۔ اگر کوئی زیادہ عیاشی کا متحمل ہوسکتا،تو ساتھ میں تڑکا لگاکر  کڑھی بنا لیتے تھے۔
یہ مناظر 1993ء تک جب میں سکول گوئنگ لڑکا تھا،روز دیکھتا تھا۔ ہماری اماں یا بڑی تائی کا تقریباً روز کا یہی معمول ہوتا تھا۔
میں اپنے گاؤں کا واحد بچہ تھا،جو 1996ء تک افسران کے بچوں کےساتھ کالج پڑھنے گاؤں سے دور شہر کے آرمی کینٹ میں رہتا تھا۔ اُس زمانے تک ہمارے گاؤں میں بجلی نہیں آئی تھی۔ میں جب اپنے گاؤں آتا،تو خود پر کسی شہزادے کا سا گُماں ہونے لگتا۔سونے پہ سُہاگہ شاہ رخ خان کی فلمیں دیکھ دیکھ کر گاؤں کی لڑکیوں میں کاجل ڈھونڈنے کو من مچلتا رہتا۔ خوابوں کا شیش محل تب دھڑام سے آگرتا،جب اگلی صبح ادئی اپنی پانچ گائیں، دس بکریاں اور دس بھیڑوں کا ریوڑ حوالے کرکے دماغ کاخناس نکال دیتیں،یہ کہہ کر کہ جا بیٹا پہاڑوں میں چرا کر لے آؤ۔ صبح سے لے کر شام تک ریوڑ چراتا رہتا۔ بُھوک لگتی،تو رومال میں بندھی سُوکھی روٹی ٹماٹر اور مرچ کے ساتھ کھاکر اپنے اندر کے غرور کا بلاتکار خود ہی کر جاتا۔
بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بیری کے درخت گاؤں میں دوپہر گُزارنے کے لئے موزوں ترین جگہیں ہوتیں۔جون جولائی کی تپتی دوپہر میں ہر بندہ اپنی چارپائی بمعۂ بیوی بچوں گھر کے سامنے بیری کے درخت کے نیچے ڈال دیتا۔ مرد سوجاتے، عورتیں “مزری” کے پتوں سے چنگیریں بناتی رہتیں ۔اور بچے درخت کےساتھ لٹکتے جُھولے پر جُھول رہے ہوتے۔
ہمارے ایک رشتے کی دادی تھیں،اللہ جنت نصیب کرے۔ گرمی کی شدت سے تنگ آکر بولتیں ۔۔
“اللہ تیرے دادا کو جہنم کا داروغہ بنائے(آخر میں ہر بار آمین کہنا نہ بُھولتیں۔جس کا گاؤں کے مولوی سے کہیں سُنا تھا،کہ آمین پر مانگنے والی دُعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی)جو سوات، مانسہرہ اور رزمک جیسے ٹھنڈےعلاقوں کو چھوڑ کر کرک کے صحرائی تندوروں میں ہمیں جیتے جی ڈال دیا۔اور پھر احتجاجاً اپنی قمیض اتار کر چنگیر بنانے بیٹھ جاتیں۔
آج بیوی کہتی ہے،کہ اللہ غارت کرے کراچی الیکٹرک والوں کو،جو ہر آدھے گھنٹے بعد بجلی بند کرکے ہمیں جہنم کی ایڈوانس میں پریکٹس کروا رہے ہیں۔اور پھر دادی کی طرح اپنی توپوں کا رُخ میری جانب کرکے مُجھے کوسنا شروع ہوجاتی ہے کہ۔۔
بےحس آدمی،تُجھے کیا کہوں؟ کہ ایبٹ آباد اور مری جیسے ٹھنڈے علاقوں کو چھوڑ کراچی جیسے خصی زدہ موسم والے شہر میں مرنے جُھلسنے واسطے لے آئے۔۔
میں ہمیشہ اُن کو اپنے گاؤں کی یہی کہانیاں سُناکر صبر کی تلقین کرتا رہتا ہوں۔ جل بُھن کر کہتی ہے کہ “آپ کیا چاہتے ہو کہ میں بھی آپ کی دادی بن جاؤں؟”۔اور جواب میں میری کمینی سی ہنسی چُھوٹ جاتی ہے۔

“چہ کیمہ دو”

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *