“کجھیر” ایک المیہ گیت ۔۔۔ عارف خٹک

افغانستان میں جب طالبان برسراقتدار نہیں آئے تھے، اور مُجاہدین ایک دوسرے کا سر کھول رہے تھے اُس وقت روسی جنگیجہازوں کی دتہ خیل اور افغان سرحدی علاقوں پر اِکّا دُکّا بمباری  ہوتی رہتی۔ اس بمباری کی گھن گرج سے جب ہمارے گاؤں کیکھڑکیاں اور  دروازے بج اُٹھتے تو دادا ابا چارپائی پر پڑے پڑے پُرجوش آواز میںاللہ اکبرکا نعرہ بلند کرتے اور بولتے کہکفار پرمُسلمانوں کا عذاب نازل ہو رہا ہے۔

بی بی سی ریڈیو سے مُجاہدین کی کامیابی کی خبر نشر ہوتی تو چچا لوگ مسجد کی طرف دوڑ لگادیتے اور دو رکعت نفل  نماز شکرانہ تب تکادا کرتے رہتے جب تک شام کی بھری سگریٹ کی طلب محسوس نہیں ہونے لگتی۔ شام کو سب بڑے چھوٹے ایک حُجرے میں آبیٹھتے اور گفتگو بکریوں کے حمل سے شروع ہوکر دوسرے گاؤں کے خوبصورت لختئوں پر آکر رُک جاتی۔ پھر باجماعت نماز پڑھنےکے بعد رات گئے تک فحش لطیفوں کے دور چلتے رہتے۔

ہمارا گاؤں ایک لبرل اور سیکولر گاؤں تھا جہاں لوگ ایک دوسرے کی کُھل کر سُنتے اور دل کھول کر سُناتے تھے۔ ایک دفعہ دادیکی فاتحہ ہورہی تھی۔ ہمارے بڑے تایا جس نے ساری زندگی یہ بول کر نماز نہیں پڑھی کہجنت کے دلفریب نظاروں میں اگر آپکو یہی بیوی ملنی اور برداشت کرنی ہے تو اچھا ہے کہ بندہ جہنم میں بدکردار عورتوں کے جُھرمٹ میں جلے جُھلسے۔دادی کی وفاتپر وہ ہر آنے جانے والے سے تعزیت وصول کر رہے تھے۔ ہمارے علاقے کے ایک مولانا صاحب جن کو صرف چار سورتیں یادتھیں اور ہر نماز عیدین اور جنازے میں یہی پڑھتا، ان کی مسجد میں جُمعہ کی نماز اس لئے نہیں ہوتی تھی نمازی بہت کم ہوتے تھے۔مولوی صاحب ہر آنے والے کو بتاتے کہمرحومہ اول خیلہ جیسی آسان نزع ہر مسلمان کو نصیب ہو۔ میں نے جیسے ہی سورتالرحٰمن کی تلاوت شروع کی۔ اورفبائی آلاء ربکما تکذبانپر پہنچا۔ تو مرحومہ نے آخری ہچکی لی۔ بڑے تایا جو مولانا کی باتوں پر پہلےسے ہی تپے بیٹھے تھے غصے بھری آواز میں چنگھاڑتے ہوئے بولےمیری ماں کی موت کے ذمہ دار تم ہو۔ سب ہکّا بکّا حیران کہامیر اسلم خان کو کیا ہوا۔ چچا سارے مہمانوں کی پرواہ کیے بغیر اپنے جلالی لہجے میں  بات کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے کہنے لگے کہ جوسورت تم نے تلاوت کی اگر اچھے بھلے بندے کے سامنے تلاوت کرو تو وہ بھی پیر پسار کر بخوشی اپنی جان دے دے گا۔

شادیوں میں گھر کی خواتین اپنے مردوں کے ساتھ مل کر اتنڑ کرتی تھی۔ہر بیوی اپنے شوہر کے اتنڑ پر پانی کا خالی گھڑا ہوا میں بلندکرکے زمین پر دے مارتی۔ خواتین اُونٹوں پر سجے کھجاوں میں بیٹھ کر اور مرد ہاتھوں میں لمبی بندوقیں تھامے پیدل بارات  کے ساتھچل کر دلہن لے آتے۔ راستے میں بارات رُکتی۔ مرد الگ اور خواتین الگ سے اتنڑ ڈالتیں۔

ہندوؤں کے ساتھ رہتے ہوئے ہماری دادیاں بھی شادی بیاہ کے موقع پر شادی شدہ عورتوں کی مانگ میں سیندور بھرنا نہ بُھولتیں۔1990 تک یہی رواج چلتا رہا۔

جن خواتین کے بھائی، باپ یا شوہر مرجاتے وہ عورتیں اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں کان پہ رکھ کر ایک لمبی تانیا کجھیرےالاپتیں اوردس منٹ کے بعد دوسری عورت وہی کجھیر کا ادھورا تان لےکر مرحومین کی یادیں اشعار کی صورت میں بُنتیں دُہراتیں۔کجھیرپشتون عورتوں کا ایک المیہ گیت ہے جو صدیوں سے گایا جاتا تھا۔

پھر 1996 میں افغانستان میں طالبان کا بول بالا ہوا۔ اسلام قبائلی علاقوں سے نکل کر ہمارے جیسے سیکولر معاشرے میں بھی پُہنچگیا۔ ہر گلی ہر محلہ مردانہ اور زنانہ مدرسوں سے بھر گیا۔ وہ لونڈے جو ہمارے ساتھ جون جولائی کی تپتی دوپہروں میں کھوتیاں بھگاتےتھے، اب وہ  عالم بن گئے۔ بھتیجی سفید شٹل کاک پہن کر سگے چچا سے پردہ کرنے لگی۔ شادیوں میں اتنڑ کے بجائے نعتیں سُنائیجانے لگیں۔ سوچتا ہوں، شکر ہے بڑے چچا اب زندہ نہیں ورنہ کب کے سنگسار ہوجاتے۔

اب عورت کا شادی میں اپنے ہونے والے شوہر کو دیکھ کر مُسکرانا بھی کفر ہے۔ میّت پرکجھیرکی تان لگانا تو دُور کی بات، آپرو بھی نہیں سکتے کیونکہ یہ معیوب سمجھا جاتا ہے۔

ایسے میں اگر ایک اقلیت جس کو ریاست، آئین اور مذہب نے اپنا عبادت خانہ کھولنے کا حکم دیا ہے، پر محلے کی مسجدوں سےنامنظور، نامنظور کی آوازیں سُننے کو ملتی ہیں پتہ نہیں کیوں حیرت نہیں ہوتی بس کانوں میں دادی کیکجھیر  گُونجنے لگتی ہے۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”“کجھیر” ایک المیہ گیت ۔۔۔ عارف خٹک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *