ہمارے فنکار۔۔عارف خٹک

SHOPPING
SHOPPING

پکاسو کہتے ہیں “ہر بچہ فنکار ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک بار جب ہم بڑے ہوجاتے ہیں تو اپنے اندر اس معصوم فنکار کو کیسے زندہ رکھا جائے”۔

SHOPPING

ڈاکٹر چہ کیمہ دو سکنہ میری غنڈی خانخیل کہتے ہیں کہ ” پٹھان بچوں کو ہم پشتون سنجیدہ نہیں لیتے”۔
میں بقلم خود اس بات کا قائل ہوں کہ فنکار اپنے معاشرے کا عکس ہوتا ہے۔ فنکار اسی معاشرے کی نمائندگی کرتا ہے۔ فن کار خود کو خاموشی سے تکلیف دیتا رہتا ہے تاکہ وہ بے شعور لوگوں کو شعور دے سکے،۔ کام تھکن والا ہے مگر وہ اُف تک نہیں کرتا۔
میرا دوست آسمانی خان تندر خٹک کہتے ہیں کہ “روبہ زوال معاشرہ اپنے ہی فنکار کا خون کردیتا ہے۔ یہی فنکار اس معاشرے کیلئے خود کو تھکا دیتا ہے۔ اپنا آرام اور راتوں کی نیندیں حرام کرکے خود سے بیخود ہوجاتے ہیں جیسے اپنی نیلم منیر یا نرگس کو ہی لیجیے۔ کتنی تکلیفوں کا سامنا کرکے ہمیں جھنجھوڑ رہی ہیں اور ہم ازلی بدبخت قوم ان کی بوٹیاں نوچ کھانے کے درپے ہیں”۔
میں ذاتی طور پر فن کا بہت بڑا قدردان ہوں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میں پڑھا لکھا ہوں اور تہذیب یافتہ ہوں۔ اس لئے ہر ہفتے برادر فیصل جوش کے ہاں جاکر ان کی پینٹنگز دیکھ کر اپنے اندر کے پٹھان کو مارنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔
پچھلے دنوں کراچی کے ایک معروف آرٹسٹ کی نمائش گاہ جانے کا اتفاق ہوا۔ اتفاق سے آرٹسٹ بھی وہاں موجود تھا۔ گیلری میں ان کے فن پارے آویزاں تھے۔ میرے ساتھ پشاور کے مشہور آڑھتی الحاج جمعہ خان بھی تھے جو پچھلے ایک گھنٹے سے گیلری میں گھومتے خوبصورت نازنینوں سے زیادہ خوبصورت لختئوں کو تاڑنے میں مصروف تھے۔ ایک گھنٹے بعد مجھ سے پوچھا “کیا میں زندہ ہوں؟”۔ میں حیران رہ گیا کہ کیسا بے تکا سوال پوچھا گیا ہے۔ سوالیہ نظروں سے ان کو دیکھا۔ گویا ہوئے “یہ جنت کے غلمان و حوریں یہاں کس مقصد کیلئے اکھٹے ہوئے ہیں؟”۔
دل میں آیا کہ بتادوں کہ آپ مرے ہوتے تو اس وقت تو ہم لاڑکانہ میں   پائے جاتے نہ کہ جنت میں۔ مگر عمر کا لحاظ کیا اور بتایا “یہ سب فن پارے دیکھ رہے ہیں”۔ حیرت سے مجھے دیکھا “فن پارے کیا ہوتے ہیں؟”۔ سامنے دیواروں پر آویزاں پینٹگز کی طرف اشارہ کرکے بتایا “خان صاحب یہ فن پارے ہیں”۔ حیرت سے پوچھا “یہ کیا ہے؟”۔ جواب دیا “خان صاب یہ آرٹ ہے۔ اس میں معاشرے کیلئے پیغام ہے۔فنکار اپنی محنت کرکے ان کو یہ پیغام سمجھانے کی کوشش کررہا ہے”۔ خان صاب نے عجیب نظروں سے مجھے دیکھا “ان ٹیڑھی میڑھی لکیروں اور عجیب الخلقت مخلوق کو دیکھ کر کراچی کے بچے رات کو خواب میں ڈرتے تو ہوں گے۔۔ ہمارے پشاور میں بچوں کو ایسی ڈرائنگ پر میٹرک میں فیل کردیتے ہیں۔ اور یہاں آپ لوگ اس میں پیغام ڈھونڈ رہے ہیں”۔ مجھے خان صاحب کی بیوقوفی پر شدید غصہ آنے لگا۔ “خان صاحب یہ ایک پینٹگ لاکھوں میں ہے”۔ واسکٹ سے نسوار نکالتے ہوئے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا “چھوڑو  مڑا تم بھی لمبی لمبی چھوڑتا ہے”۔ سامنے ایک پینٹنگ کی طرف اشارہ کرکے مجھ سے پوچھنے لگا۔ “اچھا یہ بتاؤ  جو سامنے ایک نمونہ بنا ہوا ہے جس کی ناک مغرب کی طرف ہے منہ مشرق کی طرف اور بال اوپر اُڑ رہے ہیں اس میں آپ کے معاشرے کیلئے کیا پیغام ہے؟”۔ خان صاحب نے گویا چیلنج دیا اور سکون سے نسوار کی پڑیا واپس جیب میں رکھ دی۔ میں نے متانت سے جواب دیا ” خان صاحب یہ ایک عورت ہے جس کو ہمارے معاشرے میں ظلم کا شکار بنایا جاتا ہے۔ اس کی حق تلفیاں کیجاتی ہیں۔۔۔” جمعہ جان نے دوسری تصویر کی طرف اشارہ کرکے پوچھا “اب اس تصویر میں اپ کا فن کار کیا پیغام دے رہا ہے جس میں ایک کتے کی دم ریڈیو انٹینا کی طرح اوپر اٹھی ہوئی ہے؟”۔ میں نے متانت سے جواب دیا “جمعہ خان یہ مرد ہے اور یہ جو انٹینا کھڑا ہے۔۔۔” غصے سے لال پیلا ہوکر گیلری سے باہر نکلنے کی ضد کرنے لگا کہ اس شہر میں اب بندہ کیا ٹھہرے جہاں عورت آپریشین کے بغیر بچہ پیدا نہیں کرسکتی۔ جہاں کتے کی دم کو مرد کی مردانگی تسلیم کیا جاتا ہو۔ دفع دور ۔۔۔۔۔چلو آؤ فرنٹیئر ہوٹل کی دنبہ کڑاہی کھا آتے ہیں”۔
پچھلے دنوں شہر کے ایک نامور آرٹسٹ سے اپنا اور اپنے بچوں کے دو پورٹریٹ بنوائیں۔ گھر لیکر آگیا۔ بیوی نے پوچھا یہ کیا ہے۔ میں نے جوش اور عقیدت سے بتایا کہ “مشہور آرٹست فیصل جوش سے پینٹنگز بنوا کر آیا ہوں”۔ بیگم نے فریم سے کاغذ اتروا کر جب بچوں کی پوٹریٹ کو دیکھا تو حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا “یہ کس کے بچے ہیں؟”۔ میں نے اس کی جہالت پر افسوس کا اظہار کیا “بے شک ہمارے بچے ہیں۔ باقی اللہ یا آپ کو پتہ ہوگا کہ اس میں میرا کتنا حصہ ہے۔”
بڑا بیٹا آیا اور حیرت سے پینٹگ کو دیکھنے لگا کہ “پاپا اس تصویر میں،میں کون سا ہوں؟۔ جواب دیا “جو بڑا بچہ ہے وہ تم ہو۔ جس نے چشمہ پہنا ہے وہ دوسرا بھائی ہے اور سب سے چھوٹا تیسرا بھائی ہے”۔ بڑا بیٹا رونی صورت بناکر گلہ کرنے لگا کہ “میرا منہ ہالوین کی طرح کیوں ہے؟”۔ جواب دیا “یہ اب فیصل جوش ہی بتا سکتا ہے کہ اس منہ سے وہ ہمیں کیا پیغام دینا چاہ رہا ہے”۔ باقی دونوں بیٹے اپنا اپنا پوچھنے لگے کہ “ابا باقی دونوں تصویروں میں ہمیں بھی بتایا جائے کہ ہم کون سے والے ہیں”۔ بالآخر مجبور ہوکر ان پر فیصلہ چھوڑا کہ دونوں بھائی آپس میں طے کریں کہ وہ کون ہیں۔”
بیگم نے دوسرا پورٹریٹ دیکھا تو پوچھنے لگی “کون ہے یہ بندہ؟”۔ میں نے اپنا سر پکڑ لیا۔ “جو عورت اپنے شوہر کو پہچاننے سے انکار کرسکتی ہو وہ کچھ بھی کرسکتی ہے۔” وہ تاسف سے پینٹنگ کو دیکھ رہی تھی۔ بڑبڑا کر خود سے کہنے لگی “جس عورت کے شوہر کا دھڑ گینڈے کا اور کان مونچھوں سے بندھے ہو ں،وہ واقعی کچھ بھی کرسکتی ہے، یہ اس کا حق ہے۔” ان کو بتایا کہ یہ دونوں پینٹگز لاکھوں کی بنوائی ہیں۔ یہ سن کر “بسم اللہ” پڑھ کر فورا ًً دیوار پر ٹانگ دی کہ ‘شاید لاکھوں کی ان پینٹنگز میں کچھ ہو نہ ہو گھر میں بد روحیں نہیں  آئیں گی’۔
جب بھی گھر میں مہمان آتے ہیں تو بچے ایک دوسرے سے لڑ کر مہمانوں کو بتاتے ہیں کہ یہ میں ہوں اور ہالوین کے منہ والا بڑا بھائی ہے۔ البتہ میرے پورٹریٹ کی طرف اشارہ کرکے کہتے ہیں کہ “اس مرد کو ہم نہیں جانتے شاید امی کا کوئی جاننے والا ہے۔۔۔۔۔”

SHOPPING

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *