• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستانی شیعہ قوم کا سب سے بڑا المیہ اور اسکے تدارک کی ذمہ داری۔۔ناصر ذوالفقار

پاکستانی شیعہ قوم کا سب سے بڑا المیہ اور اسکے تدارک کی ذمہ داری۔۔ناصر ذوالفقار

SHOPPING
SHOPPING

پاکستان میں بسنے والی شیعہ قوم کا عمومی المیہ یہ ہے کہ ہم نے علما کو چھوڑ کر ذاکرین اور علما نما خطیبوں کو پکڑ لیا ہے۔جنہوں نے حوضہ علمیہ تو دور کی بات اکثر نے تو کسی دنیاوی اسکول کی شکل بھی نہیں دیکھی ہوتی۔ یہ ذاکرین عوام کے جذبات سے کھیل کر ان مراجعین و مجتہدین کو چیلنج کرتے ہیں جن کی زندگیاں حصولِ علم میں گزر جاتی ہیں۔ ایک بات تو سب تسلیم کرتے ہیں نہ کہ مسائل شریعت میں رہنمائی صرف قرآن اور احادیثِ 14 معصومینؑ سے لی جا سکتی ہے، پھر بھلا کیوں ان ذاکرین کی باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے جو قرآن و حدیث کا مفہوم تو دور اس کا اردو ترجمہ کرنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتے۔ پاکستانی شیعہ قوم کے اس المیے کی نزاکت کو سمجھانے کے لئے بہت ہی اختصار کے ساتھ پیشِ خدمت ہیں وہ علوم و مراحل جو ایک مجتہد بننے کے لئے ضروری ہیں:

1 محدث کی صداقت کا علم
2 اسناد حدیث کا علم
3 حدیث عالی کا علم
4 حدیث نازل کا علم
5 روایات موقوفہ کا علم
6 ان اسناد کا علم جس کی سند پیغمبر اسلام سے ذکر نہ ہو
7 صحابہ کے مراتب کا علم
8 احادیث مرسلہ اور ان کے سلسلے میں پیش کی جانے والی دلیلوں کی معرفت
9 تابعین سے نقل کی گئی احادیث کا علم
10 اسناد مسلسل کا علم
11 احادیث معنعنہ کا علم
12 روایات معضل کا علم
13 احادیث مدرج کی پہچان کا علم
14 تابعین کی شناخت کا علم
15 تباع تابعین کی معرفت
16 بر و اصاغر کی معرفت
17 اولاد اصحاب کی معرفت
18 علم جرح و تعدیل کی معرفت
19 صحیح و سقیم کی پہچان
20 فقہ الحدیث کا علم
21 ناسخ و منسوخ احادیث کا علم
22 متن میں جو غریب (نامانوس) الفاظ استعمال ہوں ان کا علم
23 احادیث مشہور کا علم
24 غریب اور نامانوس احادیث کا علم
25 احادیث مفرد کی پہچان کا علم
26 ان لوگوں کی معرفت جو حدیث میں تدلیس کر دیتے ہیں
27 حدیث کی علتوں کا پہچاننا
28 شاذ روایات کا علم
29 پیغمبر کی ان حدیثوں کا جانچنا جو دوسری احادیث سے معارض نہ ہو
30 ان حدیثوں کی معرفت جن کا کوئی رخ کسی رخ سے معارض نہ ہو
31 احادیث میں الفاظ زائد کی معرفت
32 محدیثین کے مذہب کی اطلاع
33 متون کی تحری غلطیوں سے آگاہی
34 مذاکرہ حدیث کا جانچنا اور مذاکرہ کرتے ہوئے راستگو کی معرفت
35 اسناد میں محدثین کی تحریری غلطیوں کی اطلاع
36 صحابہ، تابعین اور ان کے بھائیوں،بہنوں کی عصر حاضر تک معرفت
37 ان صحابہ، تابعین،تباع تابعین کی معرفت جن میں سے بس ایک راوی نے روایت کی ہو
38 ان صحابہ تابعین اور ان کے پیرئووں میں سے جو راوی ہیں عصر حاضر تک ان کے قبائل کی معرفت
39 صحابہ سے عصر حاضر تک کے محدثین کے انساب کا علم
40 محدثین کے ناموں کا علم
41 صحابہ، تابعین، تباع تابعین اور عصر حاضر تک ان کے پیروووں کی نیت کا جاننا
42 روایان حدیث کے وطن کی پہچان
43 صحابہ، تابعین، تباع تابعین کی اولاد اور ان کے غلاموں کی معرفت
44 محدثین کی عمر کی اطلاع۔ولادت سے وفات تک
45 محدثین کے القابات کی معرفت
46 ان راویوں کی معرفت جو ایک دوسرے سے قریب ہیں
47 راویوں کے قبائل، وطن، نام، کنیت اور ان کے پیشوں میں متشابہات کی پہچان
48 غزوات پیغمبر ان کے ان خطوط وغیرہ کا علم جو انہوں نے بادشاہوں کو تحریر فرمائے
49 اصحاب حدیث نے جن ابواب کو جمع کیا ہے ان کی معرفت اور اس بات کی جستجو کہ ان میں سے کون سا حصہ ضائع ہو گیا ہے
50 اس کے علاوہ احادیث کی مندرجہ ذیل اقسام کا علم بھی ہونا چاہیے۔

1صحیح
2 حسن
3 ضعیف
4 مسند
5 متصل
6 مرفوع
7 موقوف
8 مقطوع
9 مرسل
10 معضل
11 تدلیس
12 شاذ
13 غریب
14 معنعن
15 معلق
16 مفرد
17 مدرج
18 مشہور
19 مصحف
20 عالی
21 نازل
22 مسلسل
23 معروف
24 منکر
25 مزید
26 ناسخ
27 منسوخ
28 مقبول
29 مشکل
30 مشترک
31 موتلف
32 مختلف
33 مطروح
34 متروک
35 مول
36 مبین
37 مجمل
38 معلل
39 مضطرب
40 مہمل
41مجہول
42 موضوع
43 مقلوب
44 حدیث ماثور
45 قدسی
46 عزیز
47 زائد الثقہ
48 موثوق
49 متواتر

کیا ان ذاکرین اور خطیبوں کو ان علوم میں کمال حاصل ہے جو اس موضوع پر بات کر رہے ہیں؟ کیا ہم میں من حیث القوم کوئی عقل و شعور ہے جو ان کی باتوں کو مجتہدین کی باتوں پر فوقیت دے رہے ہیں؟؟
ذرا سوچیے۔۔ وقت کا ادراک فرمائیں اور پُر فتن دور میں صرف علما  اور مراجع عظام کی بات مانیں  اور پھیلائیں۔

SHOPPING

کالم نگار ریٹائرڈ سیشن جج ہیں اور اب فیصل آباد ڈویژن میں وکالت کرتے ہیں

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *