معزز میتیں ۔۔۔ عارف خٹک

ہمارے علاقوں میں کینسر، ہیپاٹائٹس اور دوسرے موذی امراض کا علاج آجکل بھی تعویز گنڈوں سے کیا جاتا ہے۔ چھوٹی موٹی بیماریکو درخور اعتنا بھی نہیں سمجھا جاتا۔ ہماری ایک چچا کی بیٹی ہے اللہ اس کو حیاتی دے۔ وہ دوپہر کا لنچ چار بڑی والی خمیر کی روٹیاںاور ہر نوالے کے ساتھ ایک بڑی ہری تیکھی مرچ سے کرتی ہے۔ اب اگر ایک روٹی پچاس نوالوں کی ہے تو فی روٹی پچاس مرچیں وہچبا لیتی ہے۔ ایک دن میری بیگم نے اس سے پوچھا باجی اتنے مرچوں سے آپ کا معدہ نہیں جلتا؟۔ وہ حیران ہوکر بولیبھابھیمعدہ کیا ہوتا ہے؟۔میں نے بیگم سے کہا جب اس کو معدے کا نہیں پتہ تو جلے گا کیا خاک۔

مریض کو پہلے ہارٹ اٹیک کے بعد گاؤں کے مقامی ڈسپینسر جو کہ ڈاکٹر صاحب کہلایا جاتا ہے کو دکھایا اور ایک سٹیرائیڈ کا انجکشن لگاکر گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ اگلے دن جب مریض انتقال فرما لیتا ہے جو لواحقین تعزیت میں ہر ایک کو بڑے فخر اور عقیدت سے بتاتےرہتے ہیںاللہ کا کرم ہے مرحوم کو بڑی عزت والی موت نصیب ہوئی ہے۔ بستر پر نہیں پڑا رہا۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو ایسیآسان موت نصیب فرمائے۔ سب باجماعت آمین کہہ دیتے ہیں۔

ہمارے گاؤں میں کسی سفید پوش خاندان کا مریض جاں بلب ہوتا ہے تو سارے لواحقین سر جوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ان شاءاللہاب مریض اس پوزیشین میں آچکا ہے کہ پشاور کے کسی اچھے نجی ہسپتال میں داخل کیا جاسکے۔ باجماعت سارے لواحقین فی کسدو ہزار جمع کرکے مریض کو چارپائی پر لٹا کر بند پک اپ میں ڈال دیتے ہیں۔ سارے گاؤں میں اطلاع دی جاتی ہے کہ شیر محمد خانکو پشاور کے نجی ہسپتال RMI داخل کرانے لے کر جارہے ہیں۔ پورا گاؤں امڈ کر مرتے شیر محمد خان کو ایک یاس سے دیکھنے لگتےہیں کہ کتنا خوش نصیب ہے جو RMI میں مرنے جارہا ہے۔ سب کے دلوں میں بھی ایسی موت کی چاہ ابھرتی ہے کہ کم از کم حسینلڑکیوں (نرسز) کے جھرمٹ میں بندہ ایسی شاندار موت کی تمنا ہی کرسکتا ہے۔ جس جس کو پشاور میں ذاتی کام ہوتے ہیں وہ بھیپک اپ کے ساتھ لٹک جاتے ہیں۔ مریض کو ہسپتال داخل کرنے سے پہلے لواحقین اس بات کو یقینی بنالیتے ہیں کہ مریض کم از کمدو دن کے اندر مر جائے کیونکہ بجٹ بھی اتنا ہی ہے۔

دو دن بعد گاوں والوں کو پتہ ہوتا ہے کہ شیر محمد خان کی میت آئے گی مگر یہ نہیں معلوم کہ کس وقت۔ لہذا جیسے ہی اطلاع ملتی ہےکہ قبر تیار کریں تو گاؤں کے نوجوان سینہ پھلا کر بزرگوں کے سامنے با آواز بلند نعرہ لگاتے ہیں کہقبر تو ہم نے اس دن تیار کر لیتھی جب شیر محمد خان چچا کو پشاور لے کر جارہے تھے۔

تعزیت کے لیے آنے والے حضرات جب پوچھتے ہیں کہمرحوم کیسے مرا؟۔تو لواحقین باجماعت پکار اٹھتے ہیں کہبس اللہ کی مرضیتھی۔ بڑا علاج کرایا مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔بالآخر سینہ پھلا کر کہتے ہیں کہمرحوم RMI ہسپتال میں مرا ہے۔ سارےتعزیت کرنیوالے احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ہمارے رشتے کے ایک دادا تھے۔ 1970 میں گاؤں کے کسی بندے کو ہارٹ اٹیک ہوا تو دادا نے اپنا نیا بیڈ فورڈ ٹرک نکالا اور مریضکو لواحقین سمیٹ ٹرک میں سوار کرکے پشاور کے کسی ہسپتال لے کر گئے۔ دادا خود ٹرک کے اوپر والے باکس میں ایک فاتح کیطرح بیٹھے ہوئے تھے۔ سارے گاؤں میں دادا کی دھوم مچ گئی کہ طورگل حاجی کتنا سخی انسان ہے۔ مسکراتے ہوئے دادی سے کہاکہ اگلے الیکشن کیلئے ووٹ ایسے ہی بنائے جاتے ہیں۔

چار دن کے بعد الحمداللہ مریض اسی ٹرک کے باکس پر بیٹھا ہوا گاؤں میں داخل ہوا۔ اب کی بار چارپائی پر دادا جان کی میت پڑیہوئی تھی۔ آج تک دادی گاؤں والوں سے اپنے شوہر کی دیت مانگ رہی ہے۔ میں نے کل ان سے کہا کہ دادی کیا خیال ہے اگلےالیکشن میں دادا کے ووٹ کرک سے میں کیش نہ کرلوں؟

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *